" اسلامی سزائیں "
عدل میں تساہل ، انصاف میں مصلحت ، سزا میں نرمی اور قانون میں جھول ، وہ
برائیاں ہیں . جو کسی بھی معاشرہ کو بے امن ، غیر محفوظ اور عدم استحکام کا شکار
کر دیتی ھیں ۔ یہی وہ کیفیت ہے ، جو کسی بھی قوم کو ترقی کیطرف بڑھنے نہیں
دیتی ۔ جرائم کا بے لگام عفریت انہی خامیوں کے باعث ھمارے سروں پر منڈلاتا رہتا
ھے ۔ جنگل اور درندے بھی کچھ فطری پابندیوں کے تابع ہوتے ھیں ۔ مگر ھم نے جنگل
کے قانون سے بھی تجاوز کر لیا ۔ ھمیں نہ اخلاقی قدریں یاد ھیں ، نہ اللہ کے
احکامات کا احساس ھے ، نہ سماجی تعلقات باقی رہ گئے ھیں ۔ طاقتور پر کوئی پابندی
باقی نہیں اور غریب کی کہیں شنوائی نہیں ۔
ہم ایسے قانون کے تابع ہیں ، جو اندھا بھی ہے ، بے حس بھی ، لچکدار بھی کہ جیسے
چاہو موڑ لو۔ بند کمروں میں جج کی صوابدید اور وکیل کی مہارت ، بڑے سے بڑے
مجرم کو با عزت بریت مل جانا ، قانون نہیں سازش کہلائے گی ۔ اکثر سنگین جرائم
میں ملوث لوگوں کو جیل بھیج دیا جاتا ہے یا سالہا سال وکیل اور جج کیس کو لٹکائے
رکھتے ھیں ۔ پھر معاملات طے کر کے جرم معاف ہو جاتا ہے ۔
اسلام میں سزا کا عمل ، فیصلے کا طریق تیز ترین اور سزا کا اطلاق سر عام ہوتا ہے
۔
اسلام کی سزاؤں کو بربریت کہہ کر اپنے طرز قانون اور عدالتی نظام کو لاگو کرنے
کی اصل وجہ اب سامنے آ رہی ہے کہ ھم نے راستوں کو جرائم کی آماجگاہ بنا ڈالا۔
اور اپنے ارد گرد درندے آزاد چھوڑ دئے ہیں ۔ نہ مال محفوظ ،
نہ جان نہ عزت ۔ سر عام سزا ملے گی تو معلوم ہو گا ،
سزا کیا ہوتی ہے ۔
شکریه
آزاد ھاشمی
|
|
|
No comments:
Post a Comment