Tuesday, 4 April 2017

اسلامی معلومات


حیرت انگیز معلومات اردو میں.
کیا آپ جانتے ہیں ؟
اللہ کے حروف 4 ہیں
محمد کے حروف4 ہیں
رسول کے حروف 4 ہیں
کتاب کے حروف 4 ہیں
قرآن کے حروف 4 ہیں
مسجد کے حروف 4 ہیں
کلمہ کے حروف 4 ہیں
نماز کے حروف 4 ہیں
روزہ کے حروف 4 ہیں
زکوٰۃ کے حروف 4 ہیں
سورج کے حروف 4 ہیں
چاند کے حروف 4 ہیں
جہاد کے حروف 4 ہیں
زمین کے حروف 4 ہیں
نکاح کے حروف 4 ہیں
طلاق کے حروف 4 ہیں
دنیا کے حروف 4 ہیں
آخرت کے حروف 4 ہیں
سوال کے حروف 4 ہیں
جواب کے حروف 4 ہیں
ثواب کے حروف 4 ہیں
عذاب کے حروف 4 ہیں
بہشت کے حروف 4 ہیں (جنَّت)
دوزخ کے حروف 4 ہیں (جہنم)
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست 4 ہیں
بڑے فرشتے 4 ہیں
آسما نی کتا بیں 4 ہیں
خلفائے راشدین 4 ہیں
اِمام مجتھد       4 ہیں
(ائمہ کے حروف 4, اربعہ کے حروف 4)

       منقول

پیر کدے

" پیر کدے "
اتفاق ہے میرے خاندان کے بہت سارے لوگ ، پیر بنے بیٹھے ہیں اور زندگی کی ان آسائشوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ، جو یا تو راشی افسران کا نصیب ہیں ، یا سیاسی چوروں کا ، یا سمگلروں کا ، یا پھر حکمرانی کے مزے لوٹنے والوں کا ۔  ان کے مریدین لینے کو آتے ہیں ، اور دے کر چلے جاتے ہیں ۔ ایک دعا کی بھیک مانگنے کی قیمت چکانی پڑتی ہے ۔ عقل سے بالاتر ہے کہ ان مریدین میں نہ صرف ان پڑھ ، قدامت پرست اور مفلس طبقہ شامل ہے ، بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی دو زانو بیٹھے نظر آتے ہیں ۔ ان پیروں کی عام زندگی سے اگر واقفیت ہو جائے ، تو ان کا ہر عمل ریا ، دکھاوا ، اور تصنع کے علاوہ کچھ نہیں ۔ یہ بات میں اتنے وثوق سے اسلئے کہہ رہا ہوں کہ سب ہمارے گھروں میں رائج ہیں ، جہاں جہاں پیر کدہ بنا ہوا ہے ۔
یہ ایک پیشہ ہے جو کئی خاندان نسل در نسل کر رہے ہیں ۔ اور روز بروز اس میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ایک ایسا کاروبار ، جس میں بغیر سرمایہ کاری کے منافع ہی منافع ۔ ہمارا میڈیا ، بھی ان تک نہ رسائی کر سکتا ہے اور نہ جرات کہ ان لوگوں کو بے نقاب کرے ، جو اس راہ کے اصل محرک ، موجد اور محافظ ہیں ۔ کسی ایک چھوٹے سے ، نو آموز اور نا تجربہ کار پیر کی پگڑی تو آسانی سی اچھالی جا سکتی ہے ، مگر اصل جڑ تک رسائی ہو بھی جائے تو اس پر بولنا ، اپنی قبر خود کھودنا ہے ۔
اسی طرح کے کچھ پیر ایسے بھی ہیں ، جو مذہبی علوم سے استفادہ کئے بیٹھے ہیں ، اور مسالک کی آگ جلائے بیٹھے ہیں ۔ انکی تکریم بھی پیروں سے ملتی جلتی ہے ۔ دان انکو بھی دی جاتی ہے اور وہ اسے وصول بھی کرتے ہیں ۔ طریقہ قدرے مختلف ، بہتر مربوط اور نہایت منظم ہوتا ہے ۔ اسکا ثبوت پر آشائش گھر ، کاریں اور مالی فراوانی ہے ۔ نہ کوئی سوچتا ہے کہ معمولی تنخواہ میں یہ سب کیسے ممکن ہوا ، نہ کوئی پوچھتا ہے  کیوں کہ کافر ہونے کا خوف حائل ہو جاتا ہے ۔ یہ سب نئے نئے انداز کے پیر کدے ہیں ۔  جہان جنت بھی ملتی ہے ، مشکلات کا حل بھی نکل آتا ہے ، اور ہر گناہ بھی معافی پا لیتا ہے ۔
یہ سب کیوں ، کیسے اور کب سے شروع ہے ، کب ختم ہو گا ۔ کوئی نہیں جانتا ۔ اسکی آبیاری مسالک کے کرتا دھرتا نہ کریں ، تو شائد یہ رحجان کم ہو جائے ۔
آزاد ہاشمی