Thursday, 21 June 2018

مذہب میں جدت

" مذہب میں جدت "
اسلام کی بنیادی اساس ، قرآن اور اسوہ حسنہ پر ہے ۔ اسوہ حسنہ میں  جیسے زندگی کا عملی نمونہ آپؐ نے پیش کیا اور جیسے ضروری تشریحات کیں ، جسے سنت رسولؐ کہیں یا احادیث ، یہی سب کلیہ اور قاعدہ ہے ۔ اس پر دین کو آسان اور مزید مفصل شکل دینے کیلئے منطق ، فقہ ، تفسیر اور احادیث کے ساتھ اجماع کا بھی لازم ہو جانا ، گو ایک مثبت عمل تھا ۔ مگر اس کے منفی اثرات بھی پڑے ۔ بہت سارے معاملات متنازعہ ہوگئے اور بہت سارے واضع احکامات ابہام میں چلے گئے ۔ دین کا علم عام انسان کے شعور سے بلند سے بلند تر ہوتا گیا ۔ پھر یہ علماء کی دسترس میں چلا گیا ۔ عام انسان دور سے دور ہوتا گیا اور مسالک کے مبلغین اسے اپنے اپنے حجروں میں لیکر بیٹھ گئے ۔ پھر اسی فکر نے کئی راہیں کھول کر الگ الگ مدارس بنا ڈالے ۔ سادہ اور سطحی علم کے لوگ اپنی اپنی عقل اور علم کے مطابق ان مسالک کے ساتھ جڑتے گئے ۔ اس تحریک کے تسلسل نے عام مسلمان کو الجھا کر رکھ دیا ۔ اب اگلا مرحلہ جو آجکل زیادہ موثر ہو رہا ہے ، وہ دین میں جدیدیت کیطرف رحجان ہے ۔ سائینسی علوم کے ساتھ مذہب کو جوڑتے ہوئے کچھ جدید طرز کے فلاسفر میدان میں آگئے ہیں اور انہوں نے میڈیا کے توسط سے ہر شخص تک ایسی رسائی حاصل کر لی ہے کہ لوگ انہیں سکالر سمجھتے ہیں ۔ ان سکالرز نے مذہبی رحجان کے لوگوں کی نبض پر ایسا ہاتھ رکھا ، اوائل میں قابل فہم تعلیمات بھی عام کیں ، بے مقصد ترجیحات کی بھی حوصلہ افزائی کی ۔ جب گرفت مضبوط ہو جاتی ہے تو یہ جدیدیت کی روشنی میں مذہب کے اصولی موقف کا بھی رخ موڑنے پہ لگے ہوئے ہیں ۔ اسلامی حدود میں ، احکامات میں اور بنیادی ارکان اسلام میں بھی اپنی ضرورت کے مطابق تبدیلی کی تعلیم کو عام کیا جانے لگا ہے ۔ ان سکالرز کے سامنے دوزانو ہونے والوں میں آزاد خیال لوگوں کی اکثریت ہے ۔
ایسا کیوں ہو رہا ہے ، اسکی ذمہ داری کس پہ ہے ۔ اب یہ وہ سوال ہیں ، جس کا ایک ہی جواب ہے کہ علماء نے درست سمت کی تعلیمات دینے میں کوتاہی کی اور دین کو تنگ نظری کا شکار کر دیا ۔ لوگوں کو اصل مذہبی شعور سے دور رکھا اور قصے کہانیاں سناتے رہے تاکہ انکی دکانداری برقرار رہے ۔ اب جدیدت کے اکثر سکالر ، یورپ کی جھولی میں بیٹھ کر بے دریغ دین کی تعلیمات کو ماڈرن کر رہے ہیں ۔ انکی سپورٹ میں میڈیا انکے ساتھ ہے ۔ جبکہ دوسرے علماء ابھی بھی کافر بنانے کیلئے تحقیق پر لگے بیٹھے ہیں ۔ عام فہم شخص اس بات پہ قائل ہو گیا ہے کہ یہی جدت پسند سکالرز کی رائے اور تحقیق درست ہے ۔ ملا کو نہ دین کا پتہ ہے اور نہ دینی تعلیمات سے واقفیت ہے ۔ گویا اب اگلا میدان ان یورپ زدہ سکالرز کیلئے کھلا ہے ۔ 
آزاد ھاشمی
٢٠ جون ٢٠١٨

جنت کی موسیقی

" جنت کی موسیقی "
آج ایک کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ محترم طارق جمیل صاحب ، کو حق تبلیغ نبھاتے ہوئے دیکھا ۔ شدت سے احساس ہوا کہ اگر اسلام کی تبلیغ کا حق اگر یونہی ادا ہوتا رہا تو معلوم نہیں کہ آنے والی نسلیں کیا سیکھیں گی اور اسلام کی احیاء کا کیا عالم ہو گا ۔ موصوف کے حلقہ ارادت میں اکثریت ان راسخ العقیدہ مسلمانوں کی ہے ، جو دین کو دنیا پر فوقیت دیتے ہیں اور زندگی کے شب و روز کی آسانیاں ترک کرکے ، کمر پہ بستر باندھے نگر نگر لوگوں کو اگاہی دیتے پھرتے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے اور ہم اس میں مسافر ہیں ۔ میں اگلے گھر کی فکر لازم ہے ۔ جہاں ہمیشہ رہنا ہے ۔ یہ ایک لگن کی بات ہے ۔ ایسی لگن والوں کو طارق جمیل بتا رہے ہیں کہ جنت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ ایمان والوں کو موسیقی اور گانا سننے کا اہتمام بھی فرمائیں ۔ حوریں گانا گائیں گی اور ایک گانا ستر سال کا ہوگا ۔ اس ستر کے گانے میں اسقدر لذت ہوگی کہ سننے والا جس کروٹ بیٹھا ہوگا ،_ستر سال اسی کروٹ بیٹھا رہے گا ۔ پھر حضرت داودؑ کی آواز میں اللہ کی تمحید سنائ جائیگی ، جس کے ساتھ جنت کے درخت ، پھول پتے موسیقی کا کردار ادا کریں گے ۔ پھر سرور کائنات کی آواز میں اور آخر میں اللہ سبحانہ تعالی جنتیوں کے سامنے خود قرآن کی تلاوت فرمائے گا ۔
اس ساری کہانی کے پیچھے تحقیق کے ماخذ کیا ہیں ؟ کیا یہ روایت کبھی کسی نے پہلے سنی؟ کیا ابلاغ کیلئے ایسی کہانی سے کوئی مثبت فریضہ ادا ہو گا ؟ موسیقی کے اس درس سے اسلام کی کیا تبلیغ ہوئی ؟ کیا اس کہانی پر ایمان لانے والوں کو کوئی دوسرا ذی شعور رد کر سکے گا؟
میری ناقص عقل کی پرواز اس سے زیادہ نہیں کہ اس قسم کی بے سر و پا کہانیاں اسلام کی اصل تعلیم کو منفی سمت لے جارہی ہیں ۔ مولانا موصوف ، ایک نئی جہت کے تعین کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ارادی طور پر کر رہے ہیں تو انتہائی خطرناک کوشش ہے ۔ اگر صرف خطابت کا جادو جگا رہے ہیں تو گمراہی کیطرف پیش رفت ہے ۔ اگر اپنے پاس سے کہانیاں گھڑ رہے ہیں تو قابل سرزنش ہے ۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ ایسی کہانیوں پر خاموش نہ ہوں ورنہ یہ سب سادہ لوح مسلمانوں کے دماغ میں بیٹھ جائیں گی ۔ پھر وہ اپنے معصوم بچوں کو سنائیں گے اور انکے بچے اسے ایمان سمجھ لیں گے ۔
آزاد ھاشمی
٢١ جون ٢٠١٨

جنت میں شراب

" جنت میں شراب "
ایک محترم دوست نے ایک کلپ بھیجا ہے ۔ جس میں طارق جمیل صاحب نے جنت کی شراب کے تین درجے بیان کئے ہیں ۔ اور تینوں درجوں میں آیات کو بیان کیا ہے ۔ فرماتے ہیں کہ جنت میں جو شراب ملے گی ، پہلے درجے میں پینے والے خود جام در جام پئیں گے ، شراب کا عالم یہ ہوگا کہ اگر اسکا ایک قطرہ زمین پر گرے گا تو پوری جنت میں خوشبو پھیل جائے گی ۔ دوسرے درجے میں جنت کی " لڑکیاں " اور خادم جام پیش کریں گے اور تیسرے وی وی آئی پی درجے میں اللہ پاک خود شراب پیش کریں گے ۔ اور خود جام بھر بھر کر دیں گے ۔ جنت کی لڑکیوں کے حسن کی جو نقشہ کشی کی گئی ہے ، جس انداز سے عشوے اور حسن بیان کیا گیا ہے ، اسکی سادی سی وضاحت یہ ہے کہ انکا تھوک سمندر میں گر جائے گا تو سارے سمندر " شہد " بن جائینگے ۔
"الحفیظ الاماں "
محترم کو اتنی ساری خبریں کہاں سے ملیں ۔ یہ تو خبر نہیں ۔ بتانے والے نے " جنت میں لڑکیاں " بھی لا کر بٹھا دیں ۔ مگر یہ نہیں بتایا کہ جنت میں " شراب " نہیں ملے گی ۔ وہاں شراب کو " خمر " کہا جاتا ہے ۔ جنت کی زبان میں " شراب طہورا " پاک اور مطہر مشروب کو کہا گیا ہے ۔ شراب عربی زبان میں " مشروب " کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔
جنت میں " لڑکیوں " کو جو اصطلاع دی گئی ہے وہ " حور " ہے ۔ یا پھر " عورت " ہے ۔ اس انداز میں " حور " کا بھی ذکر نہیں ، جس انداز میں موصوف نے فرما دیا ۔ عورت کی یہ تصویر کشی " ذہنی جنسی ہیجان " کے سوا کچھ نہیں ۔ جنت کی عورت پاکبازی کی تصویر ہے ، شہوت کی بر انگیختی کا عنصر نہیں ۔ جب اس انداز سے کسی بھی شخص کے جنسی احساسات بیدار کر دئیے جائیں گے تو پھر ایسے " حسن کے حصول " کیخاطر ایک نوجوان کمر پہ بم باندھ کر بیگناہوں کی جان لے لے تو کونسا اچنبھا ہے ۔
یہ گمراہی ہے ، علم نہیں ۔ اگر کسی دوست کو مولانا کے یہ کلپ دیکھنے کا موقع ملے تو جس انداز سے وہ بیان فرماتے ہیں ۔ ایک ستر سال کا بڈھا بھی جنسی بھوک کا شکار ہو جائیگا ۔ صاحبان علم و فراست اس پر توجہ فرمائیں ۔
آزاد ھاشمی
٢١ جون ٢٠١٨

Wednesday, 20 June 2018

اے رحیم و کریم ۔ دلوں کے حال جاننے والے


اے رحیم و کریم ۔ دلوں کے حال جاننے والے ۔
میں تیرا بندہ ۔ تیرے حبیب کی امت کا ایک حقیر سا فرد ۔
عقل و شعور کے باوجود حقوق عبودیت سے نظریں چراتا رہا۔ زندگی کے بکھیڑوں میں ایسا الجھا رہا کہ تیرے احکامات سے ھی بے خبر ھو گیا ۔ بالکل بھول گیا کہ اس فانی دنیا کی ھر لذت بھی فانی ھے ۔ تیرے سامنے ھاتھ پھیلانے کا سلیقہ بھی نہیں سیکھ سکا ۔ مانگنے کا طریقہ ہی نہیں آیا ۔ جب بھی مانگا دنیا ہی مانگی ۔
سجدہ بھی کیا تو کسی نہ کسی غرض سے کیا ۔ خطا پہ خطا کی ۔ گناھوں سے سکون تلاش کیا ۔سرکشی کو اپنا اعزاز سمجھا ۔
حقوق العباد بھی احسن طریقے سے ادا نہیں کر سکا۔ اب جب منزل کے بہت قریب ھوں تو خوف سے لرزتا ھوں کہ اگر تو نے عدل کر دیا تو میرا ٹھکانا کہاں ھو گا ۔ میرے لئے تو دعاء مغفرت بھی کوئی نہیں کرے گا ۔
پھر دل کو تسلی دے لیتا ھوں کہ تو رحیم کریم ھے ۔ رحمت و در گزر تیری شان ھے ۔ تو یقین کر لیتا ھوں کہ تو اپنی شان کے مطابق ھی کرے گا ۔ اور اپنے حبیب کی امت ھونے کے اس دعویدار کو ضرور معاف کرے گا ۔
میری ادھوری دعاؤں کو قبول فرمالے ۔آمین

جا الله تجھے بے حساب اجر عطا فرمائے


جا الله تجھے بے حساب اجر عطا فرمائے
تیری زندگی بھر کی نیکیوں کا بے حساب اجر عطا فرمائے۔
تیری کوتاھیوں اور غفلتوں سے درگذر فرمائے۔
تیری مغفرت فرمائے۔
تیرے روح کو سکون اور اطمینان کی جگہ نصیب کرے۔
تجھے جنت کی ھوائین نصیب ھوں۔
تیرے جانے کا دکھ فطری ھے۔ تیرے جانے سے ایک خلاء ھے جو کوئی دوسرا پر نہیں کرے گا۔
تیرے ساتھ منسوب سب آنکھیں پر نم ھیں۔ کچھ میں سچے آنسو ھیں کچھ میں دکھاوا ھے اور کچھ رسمی ھیں۔
تم نے بہت عقلمندی کی جو منافقت بھری دنیا سے بھاگ نکلے۔
چھوڑ گئے درندون کا نگر ۔
جان چھڑا لی خودغرضی کے رشتوں سے ۔
ھم سب چند روز سچے جھوٹے ٹسوے بہائیں گے اور پھر ھنستے مسکراتے اپنی اپنی ڈگر پہ بھاگنے لگیں گے۔
تمہاری قسمت قابل رشک رھے گی کہ اپنوں کے زخم کھانے سے پہلے رخت سفر باندھ لیا ۔ الله پاک کسقدر مہربان تھا تم پر کہ اپنے پاس بلا لیا ۔
جو چلا جاتا ھے اسکی محبت میں سب سرشار نظر آتے ہیں۔ اور جو زندہ ھیں ان کو کوئی نہیں پوچھتا ۔
مرنے والے کو دیگیں کھلائی جاتی ھیں اور زندوں کو دو وقت کی روٹی دیتے ھوئے پیٹ میں بل پڑتے ھیں ۔
یہ اس جہاں کی ریت ھے ۔جہاں سے تم چلے گئے ھو ۔
جہاں تم گئے ھو ۔ وہاں کی ریت الگ ھے ۔
نہ رنج ھے نہ غم ۔ نہ طعنے نہ الزام ۔ نہ کوئی اپنا نہ بیگانہ ۔ نہ حرص نہ تمنا ۔ نہ کوئی امید نہ مایوسی ۔ نہ کوئی دوست نہ دشمن ۔
ھمارے نگر میں کچھ نہیں بدلے گا ۔ ھم اپنی دورخی جاری رکھیں گے ۔ گھر کی کسی دیوار پہ تمہاری اچھی سی تصویر لٹکا دیں گے ۔ جہاں ھر آنے والے کی نظر پڑے ۔ یہ بتانے کے لئے کہ تم ہماری یادوں میں زندہ ہو ۔
پھر یہ تصویر دیوار کا حصہ بن جائے گی ۔ گرد آلود تصویرکو ھر تہوار پہ صاف کیا کریں گے ۔ کیونکہ زندگی کی دوڑ میں وقت ھی نہیں ھوگا کہ ادھر دیکھ سکیں ۔
ایک وعدہ رہا کہ ھر سال اسی روز تمہارے نام پہ تمہارے پسندیدہ کھانے پکا کر ضرور کھایا کریں گے ۔ اسی بہانے کچھ عزیزوں کی ضیافت بھی ھو جایا کرے گی ۔
وعدہ نہیں ۔ ہاں پورے خلوص سے کوشش کریں گے کہ تیری قبر پہ کچھ پھوک چڑھا دیں ۔ اور چند اگربتیاں لگا دیں ۔
کیا ھوا کہ تمہارے زندگی کے روگ ھم سے پوشیدہ رھے ۔ یہ تمہارا قصور تھا کی تم نے بتایا نہیں ۔ ھم کیوں پوچھتے ۔اگر پوچھ لیتے تو مداواہ کرنا پڑتا ۔ جس درد سر کا ھمارے پاس کبھی وقت ھی نہیں تھا ۔
اب ھم دعائیں
کرتے رھیں گے ۔ کہ مالک کائنات اپنے کرم اور رحم سے جنت لفردوس میں جگہ عطا کرے ۔ آمین ۔
اب کچھ عرصہ تو تمہارے حصہ کی جائیداد کیلئے لڑنے میں گزرے گی ۔ اسوقت تک شائد دعا کرنے کا وقت بھی نہ ملے ۔ملال مت کرنا ۔
اچھا خدا حافظ ۔

غریبوں کے رشتے دار نہیں ہوتے



غریبوں کے رشتے دار نہیں ہوتے -
اس نے اپنی آنکھوں میں آنسووں کا ایک سمندر تھام رکھا تھا - اور حسرت بھری نگاہوں سے قربانی ہوتے جانور کو دیکھ رہا تھا - میں اس انتظار میں تھا کہ اسکی آنکھوں میں رکا ہوا سمندر بہہ نکلے تو اس سے اسکا سبب پوچھوں - قربانی ہو گئی اور اہل خانہ نے سب کچھ اٹھایا اور گھر کے اندر لے گئے - وہ ابھی بھی گم سم بیٹھا گھر کے دروازے پہ نظریں جماے بیٹھا تھا -
میرے صبر کا پیمانہ بہت کم نکلا اور میں اس کے پاس جا کے بیٹھ گیا -
" کیسے ہو بابا ! "
میری آواز سن کر وہ ایسا چونک گیا , جیسے کسی کو جھنجھوڑ کر نیند سے اٹھا دیا جاے - شائد میں نے اسکے خوابوں کا تسلسل توڑ دیا تھا -
" تم نے دیکھا ان لوگوں کو "
میرے سوال کا جواب دئیے بغیر اس نے ایک معنی خیز سوال کر دیا -
" کتنے خوش قسمت ہیں یہ لوگ - الله نے انہیں توفیق بخشی کہ ایک فرض ادا کر دیا "
" وہ سامنے جھونپڑا ہے , وہ میرا گھر ہے , میری بیٹی اور میں وہاں رہتے ہیں - میری بیٹی شادی کے قابل ہے , اور میں فالج زدہ ہوں "
" یہ جو گھر ہے, اسکا مالک بہت امیر آدمی ہے- میں اسے اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ چھوٹا سا بچہ تھا - اور جب اسکا باپ فوت ہوا تھا , میں بھی جنازے اور کفن دفن میں شامل تھا "
" چند دن پہلے میں اس کے دروازے پہ آیا تھا , میری بیٹی بیمار تھی , دوائی کے لئے تھوڑے سے پیسے مانگنے - اس کے پاس کچھ نہیں تھا , چند سکے بھی نہیں تھے اس کے گھر میں - آج یہ دو دو جانور قربانی کر رہا ہے - سوچ رہا ہوں کہ اس کا کونسا عمل ہے جو اسے قربانی کے لئے الله نے اسباب دے دیے اور ایک مستحق کے لئے چند سکے نہیں دیے "
وہ مسلسل بولے جا رہا تھا , مگر ابھی تک اسکی آنکھوں کا سیلاب باہر نہیں آیا تھا -
" پتہ ہے اب کیا ہو گا - گوشت میں سے اچھے اچھے ٹکڑے قریبی تعلق داروں میں بانٹ دیے جایں گے , اور چند ہڈیاں غریبوں میں تقسیم کر دی جایئں گی "
" یہ قربانی کا مسنون طریقه ہے "
اس نے میری طرف دیکھتے ہوۓ سوال کیا -
اور پھر آنکھوں سے نہ رکنے والی برسات ہونے لگی - وہ ایک چھوٹے سے بچے کی طرح رو رہا تھا -
" یہ میری بیٹی بہت ضدی ہے - میں اسکی وجہ سے یہاں آیا تھا - بیوقوف کہہ رہی تھی , چچا نے قربانی کی ہے - میرے لئے گوشت لے کے آؤ - میں نے انکار کیا تو کہنے لگی , میں خود جاتی ہوں اور چچا سے ڈھیر سارا گوشت لاؤں گی "
میری آنکھیں بھی نم آلود ہو رہی تھیں -
" پگلی کو کیسے سمجھاتا کہ غریبوں کے رشتے دار نہیں ہوتے - اور اگر وہ آ جاتی تو آج مر کر واپس جاتی"
میں تجسس میں تھا کہ چچا کا رشتہ کیوں دہرا رہا ہے - پیشتر اس کے کہ میں سوال کرتا - اس نے اپنی میلی سی چادر سے آنکھیں خشک کیں اور بولا -
" یہ گھر کا مالک میرا سگا بھائی ہے "
یہ سنتے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے -
"بیٹا یہ باتیں بہت پرانی ہو گئی ہیں - کبھی ہوتے تھے رشتے ناطے "
" سوچتا رہتا ہوں کہ میں مر گیا تو میری بیٹی کا کیا ہو گا - کہاں جاے گی وہ - یار ! وہ مر جاے تو مجھے بھی سکون کی موت آ جاے گی "
وہ پھر رونے لگا -
" پتہ نہیں الله غریبوں کو بیٹیاں کیوں دے دیتا ہے "
" میں اس کے سامنے کبھی نہیں رویا - ڈرتا ہوں کہ وہ بھی رونے لگے گی - کیا جھوٹ بول کر چپ کراؤں گا اسے "
وہ رو رہا تھا - کہ اتنے میں قربانی کے گوشت کی چند ہڈیاں لئے ایک بچہ سامنے کھڑا تھا - بابا نے جھولی آگے کی - اس نے جھولی میں گوشت ڈالا اور بھاگ گیا -
" یہ میرا بھتیجا ہے , بہن کے لئے گوشت دے کے گیا ہے "
پھر وہی آنکھیں وہی برسات -
آزاد ہاشمی

سکول جاتے بچوں کو دیکھے جا رہا تھا


سکول جاتے بچوں کو دیکھے جا رہا تھا
بچہ پھٹے پرانے کپڑوں , مٹی سے لتھڑے ہوۓ ہاتھ پاؤں , اداس اداس چہرے کے ساتھ , اپنی جھونپڑی کے باہر کھڑا , سکول جاتے بچوں کو دیکھے جا رہا تھا -
اسکی کی معصوم سی سوچوں میں بھی خواب ہوں گے - کہ ایک دن وہ بھی سکول جایا کرے گا - کیونکہ وہ جب بھی ماں سے پوچھتا - ماں میں کب سکول جاؤں گا - ماں ہمیشہ یہی کہتی , اب کے بیگار ملے گی تو سکول بھیجا کروں گی - اسے کبھی سمجھ نہیں آیا کہ ماں وعدہ کرنے کے بعد رونے کیوں لگتی ہے - آج اس نے ماں یہ سوال نہیں دہرایا , بلکہ سوچ کر خود ہی رونے لگا - ماں تو ماں ہوتی ہے - اولاد کا درد تو ہمیشہ اسکے اپنے سینے میں ہوتا ہے -
" ماں ! تو مت رویا کر - میں سمجھ گیا ہوں کہ ہمارے پاس پیسے نہیں - آج کے بعد کبھی سکول کا نام نہیں لوں گا - بھائی کی طرح تیرا اور ابا کا ہاتھ بٹایا کروں گا - ماں پتہ ہے عید پر سب ایک دوسرے کے گلے مل رہے تھے - ابا سے کسی نے بھی ہاتھ بھی نہیں ملایا - یہ سب لوگ ہم سے ناراض کیوں ہیں "
" اب چپ بھی کرو گے یا ماں کا جنازہ اٹھانا چاہتے ہو "
ماں معصوم بچے کو بانہوں میں سمیٹ کر رو رہی تھی - اور کر بھی کیا سکتی تھی - یہ آنسو ہی تو ہیں جو غریب کے پاس فراوانی سے ہوتے ہیں -
آزاد ہاشمی