Saturday, 1 September 2018

تہمت اور بہتان

" تہمت اور بہتان "
دین اسلام کا اعجاز ہے کہ  جس طرح یہ دین معاشرتی برائیوں کو ختم کرنے کی تعلیم دیتا ہے کوئی دوسرا نظام پیش نہیں کر سکا ۔ معاشرے کے حسن کو امن ، ہم آہنگی ، عزت نفس اور اخوت کے اعلیٰ معیار پر رکھنے کیلئے ہر اس برائی ، خرابی اور عیب کو ختم کرنے کی تعلیم دیتا ہے جو اس کے حسن کو بگاڑ سکتی ہو ۔ انفرادی اور اجتماعی حقوق کیطرف نہایت تاکید اور سختی کے ساتھ احکامات اس کی دلیل ہے ۔ ہم روزمرہ زندگی میں انسانی فطرت کے تحت بعض ایسے گناہوں اور عیوب کا حصہ بن جاتے ہیں ، جسکی قطعی اجازت نہیں ہوتی ۔ ان میں سے ایک " بہتان اور تہمت" ہے ۔
قرآن مجیدمیں تہمت کے لیے رمی کا لفظ اور حدیث میں قذف کا لفظ استعمال ہوا ہے۔  تہمت کے معنی یہ ہیں کہ انسان کسی کی طرف ایسے عیب کی نسبت دے جو اس کے اندر نہ پائے جاتے ہوں۔  درحقیقت تہمت و بہتان،  جھوٹ کی بدترین قسموں میں سے ہے اور اگر یہی بہتان ، انسان کی عدم موجودگی میں اس پر لگایا جا‏ئے تو وہ غیبت شمار ہوگی اور در اصل اس نے دو گناہ انجام دیئے ہیں۔  اسلئے اسے گناہ کبیرہ میں شامل کیا گیا ہے ۔ تہمت معاشرے کی سلامتی کونقصان  ، سماجی انصاف کو ختم  ، حق کو باطل اورباطل کو حق بناکر پیش کرتی ہے ،  انسان کو بغیر کسی جرم کے مجرم بناکر اس کی عزت و آبرو کو خاک میں ملادیتی ہے ۔ اگر معاشرے میں تہمت کا رواج عام ہوجائے اور عوام تہمت کو قبول کرکے اس پر یقین کرلیں تو حق  باطل کے لباس میں اور باطل حق کے لباس میں نظر آئے گا۔ وہ معاشرہ ، جس میں تہمت کا رواج عام ہوگا ، اس میں حسن ظن ختم ہو جاتا ہے اور  لوگوں کا ایک دوسرے سے اعتماد اٹھ جاتا ہے ۔  اور معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا یعنی پھر ہر شخص کے اندر یہ جرات پیدا ہوجائے گی کہ وہ جس کے خلاف ، جو بھی چاہے گا زبان پر لائے گا اور اس پر جھوٹ ، بہتان اور الزام لگا دے گا۔
حکم ہے کہ
‘‘جس نے کسی مومن کو کفر کی تہمت لگائی یہ ایسا ہی ہے جیسے اس نے اس کو قتل کر دیا’‘
زندگی کے معمول میں ، بہتان اور تہمت کا جس طرح استعمال شروع ہے ، کچھ بعید نہیں کہ برائی معاشرے کے امن کو فساد کی آگ میں لپیٹ دے ۔ ایسا کیوں ہے ؟  ہم نے تہمت اور بہتان کو یوں اپنی زندگیوں میں کیوں شامل کیا ؟ اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم قرآن اور اسوہ حسنہ سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ کہ طاغوت کی سوچ نے ہماری اپنی سوچ کو زیر کر لیا ہے ۔ علوم زندگی میں علوم سیاست  ، ہر علم پر حاوی ہے۔کیونکہ یہ علم اقتدار اور طاقت تک لے جاتا ہے ۔ اس میں تہمت ، بہتان ، غیبت اور جھوٹ معمول ہے ۔
آزاد ھاشمی
2ستمبر ٢٠١٨

Friday, 31 August 2018

پاکستان میں صدر کیوں ہوتا ہے؟

" پاکستان میں صدر کیوں ہوتا ہے؟  "
میرے جیسا عام عقل و فہم والا کیا جانے کہ پاکستان میں وزیر اعظم بھی ہے ، صدر بھی ۔ وزیراعظم کی کچھ کچھ سمجھ آتی ہے کہ جسے عوام منتخب کر کے لاتی ہے کہ امور سلطنت چلائے  گا ۔ یہ اب عوام کی مرضی کہ وہ کسے مسیحا سمجھ لے ۔ سنا ہے کہ کوئی کتاب لکھی ہوئی ہے ، جسے لکھنے والوں میں شاطر اور چالاک بھی شامل ہوئے تھے ، جاگیر دار بھی بیٹھے تھے ، سیاسی جانشین بھی ساتھ تھے ، کچھ ان پڑھ بھی تھے جو ہاں ہاں کرتے رہے ، کچھ غنڈے بھی تھے ۔ ان سب نے ایک کتاب لکھی تھی ، اسی کتاب کے مطابق وزیراعظم بنتا ہے ، اسکے مطابق صدر بھی بنایا جاتا ہے ۔ صدر کو عوام نہیں چنتی بلکہ یہی اسمبلیوں میں بیٹھنے والے مل جل کر چن لیتے ہیں ۔ یہ ایک گوشت پوست کا کوئی بھی شخص ہو سکتا ہے ۔ جو زندہ ہو ،کبھی کبھار بول بھی لیا کرے،  دو چار صدر ایسے بھی آئے تھے ،  انہیں لایا نہیں گیا تھا بلکہ خود ہی آ گئے تھے ۔  وہ وزیراعظم سے گھر کے ذاتی کام بھی کروا لیتے تھے مگر وہ دو چار ہی تھے ۔ جو اس کتاب کے مطابق آئے وہ بیچارے ہی تھے ۔ اس کتاب کے مطابق یہ  صدر نام والا آدمی ملک کا سربراہ ہوتا ہے اور ہر فیصلے پر آخری دستخط اسی کے ہوتے ہیں ۔ اسے فیصلے کرنے کا عملی اختیار بالکل نہیں ہوتا ۔ ہاں کسی قیدی کی موت کی سزا کو روک سکتا ہے اگر موڈ اچھا ہو ۔ اسے بہت بڑا گھر ملا ہوتا ، لاکھوں روپے غریبوں سے چھین کر اسے تنخواہ دی جاتی ہے ۔ ملک کے چند قومی دنوں پر سلام کرنے کیلئے قوم کے سامنے لایا جاتا ہے ۔ بیچارہ گھر کے اس بوڑھے کیطرح ہوتا ہے جس سے پوتے پوتیاں کھیلتے ہیں ، بہووئیں کتراتی ہیں اور بیگم ڈانٹتی رہتی  ہے ۔ جس کا کام کھانسنا اور کڑہتے رہنا ہوتا ہے ۔ جسکی نہ کوئی سنتا ہے نہ کوئی مانتا ہے مگر گھر کا سربراہ کہلاتا ہے ۔
کیا بہتر نہیں کہ وزیراعظم کو صدر کا نام دیکر منتخب کر لیا کریں ۔ یہ صدر کے کروڑوں روپے بچ جایا کریں گے اور کسی بوڑھے سے مذاق بھی بند ہو جائے کہ لکھی ہوئی کتاب کی ایک سطر بدلنے سے ملک کے ڈانوا ڈول ہونے کا اندیشہ ہے ۔ عوام ہوں شکایت کا حق تو نہیں ہے بس ایسے ہی پوچھ رہا ہوں ۔
آزاد ھاشمی
٣٠ اگست ٢٠١٨

کربلا میں شہداء کی مائیں

" کربلا میں شہداء کی مائیں"
فسق و فجور کے دنیا کی تاریخ میں بیشمار واقعات ہیں ۔ مگر جو کربلا میں ہوا اور کربلا کے بعد ہوا ، اسکی مثال کہیں نہیں ملتی ۔ اس دردناک منظر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ شہدائے کربلا میں بہت سارے شہیدوں کی مائیں کربلا میں موجود تھیں جن کی آنکھوں کے سامنے ان کے لخت جگر شہید بھی کیے گئے اور انکے جسموں پر گھوڑے اسطرح دوڑائے گئے کہ جسم مسخ ہو جائیں ۔ سلام ہے ان ماوں پر کہ آل نبیؐ پر اپنے جگر گوشے قربان کر دئیے ۔ ان عظیم اور صابر ماوں میں حضرت علی اصغر کی والدہ، حضرت رَباب۔ عون بن عبد اللہ بن جعفر کی والدہ حضرت زینب علیہا السلام ۔ قاسم بن حسن کی والدہ رملہ ۔ عبد اللہ بن حسن کی والدہ بنت شلیل جلیلیہ۔ عبد اللہ بن مسلم کی والدہ رقیہ بنت علی - محمد بن ابی سعید بن عقیل کی والدہ عبدہ بنت عمرو بن جنادہ۔ عبداللہ بن وہب کلبی کی والدہ، ام وہب۔
سلام ان ماوں پر اور سلام ان ماوں پر جو کربلا میں موجود تو نہیں تھیں مگر جنہوں نے اپنے جگر گوشے اللہ کے دین کی حرمت پر قربان کئے ۔
آزاد ھاشمی
٣٠ اگست ٢٠١٨

شیطان پکڑا گیا

" شیطان پکڑا گیا "
بابا جی کو ملے کافی روز ہو گئے تھے ، سوچا علیک سلیک کر آوں ۔ بابا جی پکوڑوں کی ریہڑی پر خراماں خراماں کچھ گنگنا رہے تھے ۔
" کہاں تھے اتنے دنوں سے ۔ ایک اچھی خبر ہے ۔ آو سناتا ہوں "
بابا جی کا تپاک عروج پر تھا ۔ ایسے لگ رہا تھا ، جیسے لاٹری نکل آئی ہو ۔ پکوڑوں کی ریہڑی سے دور جا کر بیٹھ گئے تاکہ کوئی گاہک مخل نہ ہو ۔ میرا اشتیاق بڑھتا جا رہا تھا ۔
" یار اللہ کا بڑا خاص کرم ہو گیا ۔ میں نے شیطان کی شناخت پا لی  "
بابا جی کی خبر سن کر میں سمجھا کہ بابا جی کو  کوئی نفسیاتی چکر پڑ گیا ہے ۔ بیچارے اپنی دال روٹی کما رہے تھے ۔ اب اس سے بھی گئے ۔
" پتہ ہے ، یہ میری کٹیا کے باہر روز صبح نماز کے وقت ایک چڑیا آ کر اتنا شور مچاتی ہے کہ میں کتنی بھی گہری نیند میں ہوتا ہوں ، لازمی جاگ جاتا ہوں ۔ آج بھی چڑیا اپنی ڈیوٹی کر رہی تھی اور مرے دماغ میں آواز سی آرہی تھی ۔ تھوڑا اور سو جاو ، موسم اچھا ہے ۔ میں نے سستی کا مظاہرہ شروع کر دیا ۔ پھر دماغ سے آواز آئی کہ روز نماز پڑھتے ہو ، ایک دن نہیں پڑھو گے تو کونسی قیامت آجائے گی ۔ میرا دل کیا کہ آج دماغ کی بات مانتے ہیں ۔ سونے کی تیاری شروع کردی ۔ چڑیا کی آواز بھی بری لگنے لگی ۔ ادھر وہ معصوم پرندہ کبھی کٹیا کی ایک طرف کبھی دوسری طرف بیقراری سے چیخ چہاڑ کر رہا تھا ۔ مجھے ایسے لگا جیسے کہہ رہا ہو ۔ ہوش کرو بابا ہوش کرو ۔ شیطان کے بہکاوے میں مت آو ۔ اٹھو اللہ کا حکم پورا کرو ۔ آخر میں نے چڑیا کی بات سن لی ۔ "
میں بابا جی کی بات سن رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ ساری کہانی تو عام سی بات ہے ۔ بابا جی اتنے خوش کیوں ہیں اور اس ساری کہانی میں شیطان کیسے پکڑا گیا ۔
" تم سوچ رہے ہو گے ۔ اس میں شیطان کیسے پکڑا گیا ۔ ارے پگلے مجھے ایک شیطان نہیں سارے شیطانوں کی پہچان مل گئی ہے ۔ ذرا غور کرو ۔ ہر وہ خیال جو اللہ کے حکم سے روکے ، ہر وہ شخص جو اللہ کے احکام سے بھاگنے کی راہ دکھائے ، شیطان ہے ۔ اپنے دائیں بائیں غور کرو ۔ کتنے ہیں جو اللہ سے بغاوت کی طرف لے جانا چاہتے ہیں ۔ غور تو کرو کہ کتنے ہیں جو بتاتے ہیں کہ راحت کے سارے سامان دنیا کی پرستش میں ہیں ۔ کتنے ہیں جو کہتے ہیں یہ مذہب قدامت پرستی ہے ۔ کتنے ہیں جو حرام حلال کی تمیز سے دور کرنے میں لگے ہیں "
بابا جی کی بات کا کچھ مفہوم مجھے بھی سمجھ آنے لگا ۔ مجھے تو ایسے لگا جیسے ہمارے تمام سیاسی قائدین بھی اسی زمرے میں آجاتے ہیں ۔ بہت سارے دانشور بھی یہی سکھا رہے ہیں کہ ہماری خوشحالی تو یورپ کی تقلید میں ہیں ۔ ہمارے بہت سارے ملا بھی ہماری یکجہتی کو بکھیرنے میں کوشاں ہیں ۔ بہت سارے جدت پسندوں کو اذان بھی شور لگتی ہے ۔ لہو لعب کو ترجیح دینے والے بیشمار ہیں ۔ ایسے لگا جیسے بہت سارے معاملات زندگی میں ، میں خود بھی اپنے اندر شیطنت پال چکا ہوں ۔ میرے اندر کا انسان کانپ اٹھا ۔ مجھے ایسے لگا جیسے میں بھی شیطان کی فتح میں اسکا معاون ہوں اور اپنے کریم رب کو شکست دینے میں سرگرداں ہوں ۔ میں اپنی اتنی بڑی گستاخی ، سرکشی سے اگاہ ہی نہیں تھا ۔ اس خبر پر بابا جی کی خوشی یقیناً قابل تحسین تھی ۔ یہ نفسیاتی الجھن نہیں حق شناسی تھی ۔
ازاد ھاشمی
29 اگست 2017

Thursday, 30 August 2018

سائیکل اور تیل کا دیا

"سائیکل اور تیل کا دیا "
ہماری سوچ  کی پستی کا یہ عالم ہے کہ عمران خان کے وزیراعظم بنتے ہی ، ہر شہری محتسب بن گیا ہے ۔ وہ جن کی محلے کا ممبر نہیں سنتا ، وہ بھی وزیراعظم کی مشاورت پر تلے بیٹھے ہیں ۔ سب پوچھتے ہیں کہ عمران خان نے جو کہا ہے وہ ابھی تک پورا کیوں نہیں ہوا ۔ پورے دو ہفتے گذر گئے اور کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی ۔ اسکی عیاشیوں پر آگ بگولا ہو رہے ہیں کہ گھر سے وزیراعظم ہاوس ہیلی کاپٹر کی کیا ضرورت ہے ۔ دولاکھ روپے کا پٹرول کھا جاتا ہے یہ اڑنے والا کھلونا ۔  اگر اتنے سفر میں ہیلی کاپٹر اتنا پٹرول کھا جاتا ہے تو پی آئی اے کی تباہی درست ہے ۔ کرائے سے کہیں زیادہ تو جہاز پٹرول پی جایا کرتے تھے ۔مجھے تو پتہ نہیں کہ ہیلی کاپٹر کا فیول ٹینک کتنا بڑا ہوتا ہے ، جس میں دولاکھ کا فیول ڈالا جاتا ہے ۔
یہ تھوڑا سا سفر تو سائیکل پر  بھی ممکن تھا ، چلو سائیکل نہ سہی موٹر سائیکل بھی لیا جا سکتا تھا ۔ نئی مثال بھی قائم ہو جاتی اور قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے ، قرضے بھی اتر جاتے ۔ گھر میں بجلی کے قمقمے ، وزیراعظم ہاوس میں بجلی کے بڑے بڑے بلب ، قوم کا پیسہ یوں لٹتا رہا تو ترقی کے خواب کیسے پورے ہونگے ۔ مٹی کے تیل کی لالٹین یا دئیے کی روشنی میں بھی کام چل سکتا ہے ۔ جب قوم اتنی باخبر ہوجائے تو اسے یہ مطالبہ کرنے میں دیر نہیں لگنی چاہئے کہ جس جس نے ملک کا نقصان کیا ہے ، اسکی سزا " چین " جیسی ہونی چاہئیے ۔ مگر یہ کوئی نہیں بولتا ۔
یوں لگتا ہے کہ قوم کی ابھی ایک آنکھ کھلی ہے ، جس سے عمران خان زیادہ واضع نظر آتا ہے ، دوسری آنکھ ابھی کھلی ہی نہیں کہ جانے والے حکمران بھی نظر آنے لگیں ۔
عمران خان جتنا بھی کم عقل ہو ، یہ ثابت ہے کہ میرے جیسے دانشوروں سے زیادہ فہم رکھتا ہوگا ، جو اتنے سارے بادشاہوں کو پچھاڑ کر کرسی پہ آ بیٹھا ۔ میرا اور آپکا حق ہے کہ تنقید کریں ، میرا اور آپکا فرض بھی ہے کہ بہتری نظر آئے تو اس پر شاباش بھی کہیں ۔ اسے پانچ سال کا وقت دیا گیا ہے ، چلو ایک سال میں وہ ثابت کردے کہ اس نے یہودیت کو پروان چڑھایا ہے ، ملک میں جنسی آزادی کو تقویت دی ہے ، قوم کو اسلام سے منحرف کرنے کی کوشش کی ہے ، ملک کو لوٹنے کا کام شروع کر دیا ہے ، عام شہری کے حقوق پامال ہونے لگے ہیں ۔ تو پوری جرات سے اسکا راستہ روکا جائے ۔ بلاوجہ کا پروپیگنڈہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣٠ اگست ٢٠١٨

خباب بن ارتؓ

"خباب بن ارت رضی ﷲ عنہ"
صدیوں پہ محیط عرب کے خطہ کی جہالت میں جب طلوع اسلام کی روشنی پھیلنے کا آغاز ہوا تو اس کا ادراک ہونا ،  ایک عام ذہن کیلئے قطعی نا ممکن تھا ۔ ماسوائے انکے جن کو اللہ نے اپنی خاص رحمت سے نوازا کہ وہ اللہ کے پیغامبر کی آواز پر لبیک کہہ دیں ۔ ان میں خباب ابن ارت  کا چھٹا نمبر تھا، اسی لیے "سادس الاسلام" کہلاتے تھے۔ ابو عبد اللہ کنیت،نسب میں خباب بن ارت بن جندلہ ابن سعد بن حزیمہ بن کعب بن سعد بن زید مناۃ بن تمیم۔
زمانۂ جاہلیت میں ان کے والد ارتّ بغداد کے نواحی شہر کسکر میں تھے کہ بنو ربیعہ کے لوگوں نے کسی غارت گری میں انھیں گرفتار کیا اور مکہ لے آئے۔ ارتّ کو سباع بن عبدالعزی خزاعی اور حضرت خباب کو اس کی بہن ام انمار خزاعیہ نے غلاموں کے بازار سے خریدا۔ یہ سباع وہی ہے جس نے جنگ احد میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کو دعوت مبارزت دی تھی اور مارا گیا تھا۔
حضرت خباب زمانۂ جاہلیت میں تلوار سازی کیا کرتے تھے،انھیں ام انمار نے مکہ کے ایک لوہار کی شاگردی میں دیا پھراس کام کے لیے ایک دکان لے دی۔ حضرت خباب’ السابقون الاولون‘ میں سے تھے، اپنے لڑکپن ہی میں وہ عربوں کی جہالت و ضلالت سے بیزار تھے یہی وجہ ہے کہ ا نھوں نے بعثت محمدی کے بالکل ابتدائی زمانے میں اسلام قبول کیا۔  .خبابؓ  نے اسوقت اسلام قبول کیا جب  اسلام کا اظہار تعزیرات مکہ میں ایسا شدید جرم تھا،جس کی سزا میں مال ودولت،ننگ وناموس اور ہر چیز سے ہاتھ دھونا پڑتا تھا؛لیکن خبابؓ  نے اس کی مطلق پر واہ نہ کی اور ببانگ دہل اپنے اسلام کا اظہار کیا- عرب کے اس خطے میں اونٹ ، گھوڑے اور ہر جانور کا تو خیال رکھا جاتا تھا مگر غلام کی کوئی زندگی نہیں تھی ۔ غلام پر ہونے والے جور و ستم پر انکے حق میں بولنے یا  سوچنے کا کوئی رواج نہیں تھا ۔  اسلام لانے کی پاداش میں مشرکین مکہ نے حضرت خباب پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے۔وہ ان کا بدن ننگا کر کے تپتی زمین اور آگ کی طرح دہکتے ہوئے پتھروں پر لٹا دیتے۔ ان کا سر مروڑ دیتے اور منہ کے بل گھسیٹتے ، وہ ہتھیلیوں سے اپنا چہرہ بچاتے لیکن مشرکوں کی ایک نہ مانتے،یہی کہتے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔دین حق لے کر آئے ہیں، تاکہ ہمیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے جائیں۔ حضرت خباب نے جنگ بدر اور تمام معرکوں میں حصہ لیا۔جنگ احد میں ان کی آنکھوں کے سامنے سباع بن عبدالعزی جہنم واصل ہواجو ان کی مالکن ام انمار کا بھائی تھا۔ 
   کہا جاتا ہے ،کوفہ کی پہلی اینٹ حضرت خباب بن ارت اور حضرت عبداﷲ بن مسعود نے لگائی۔
ایک روایت کے مطابق انھوں نے جنگ صِفِین اور جنگ نہروان میں حضرت علی کا ساتھ دیا ۔ خبابؓ کی وفات پر
سیدنا علی نے ان کے لیے دعا کی،اﷲ خباب پر رحم کرے،انھوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا، خوش دلی سے ہجرت کی ، جہاد کرتے ہوئے زندگی بسر کی اور کئی جسمانی تکلیفیں اٹھائیں۔
آزاد ھاشمی
٢٩ اگست ٢٠١٨

Tuesday, 28 August 2018

ہالینڈ ، سفارتی تعلقات اور انتہا پسندی

" ہالینڈ ، سفارتی تعلقات اور انتہا پسندی "
تحریک انصاف کے نمائندہ  بیرسٹر محمد علی گیلانی ، ایک پروگرام میں فرماتے ہیں کہ" ہالینڈ کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑیں گے تو انتہا پسندی ہوگی ۔ ہمیں یہ معاملہ امن کے ساتھ حل کرنا ہوگا "
درست ہے کہ دنیا میں کچھ سفارتی قواعد و ضوابط ہیں ۔ سفارتخانے انہی قواعد و ضوابط کو ملحوظ رکھتے ہیں ۔ ایک ملک میں ہونے والی بیچینی کو اپنی حکومت تک پہنچانا انہی سفارتکاروں کے فرائض منصبی میں شامل ہے ۔ پوری دنیا میں یہ قاعدہ رائج ہے کہ کسی کے مذہبی عقائد کو مشتعل نہ کیا جائے ۔ کسی ملک کی آزادی میں مداخلت نہ کی جائے ۔ کسی ملک کے رائج قوانین کے باہر کوئی کام نہ کیا جائے ۔ کسی ملک کی سلامتی سے نہ کھیلا جائے ۔ کسی ملک کے داخلی معاملات میں ٹانگ نہ اڑائی جائے ۔ کسی ملک کی سلامتی کے راز نہ لئے جائیں ۔ جاسوسی نہ کی جائے وغیرہ وغیرہ ۔
بیرسٹر صاحب چونکہ قانون دان ہیں ، بین الاقوامی قانون بھی جانتے ہیں ۔ اور  یہ بھی جانتے ہیں کہ ان قوانین میں یہ " گورے " کس حد تک مداخلت سے باز آتے ہیں ۔ کیا کبھی کسی طاقتور ملک کے خلاف اقوام متحدہ نے ایکشن لیا کہ وہ دوسرے ممالک میں مداخلت کرنے سے روکا ہو ۔ کتنی مسلمان حکومتیں اوپر نیچے کی گئیں اور اس میں یورپ کا اور امریکہ کا کیا کردار رہا ۔ کیا ان سارے واقعات میں مسلمان نشانہ نہیں تھے ؟ کیا یہ اعتدال پسندی ہے ؟ اگر یہ اعتدال پسندی ہے تو اپنے عقیدے ، اپنے مذہب ، اپنے نبیؐ کی توہین ہونے پر ایک سفارتخانہ بند کر دینا انتہا پسندی کیسے ہوگئی ۔ کیا انکو اجازت دے دیں کہ ہمارے دین کا جیسے چاہیں مذاق بناتے رہیں ۔ یہ تو ابتداء ہے اور مصالحانہ طریقہ ہے کہ سفیر کو واپس بھیج دیا جائے ۔ انتہا پسندی تو یہ ہوتی کہ ہم اپنے جائز مطالبے کی بجائے تشدد کی راہ اختیار کرتے ۔ جو ہمارے ایمانی جذبات کے تحت جائز ہے اور جہاد ہے ۔ خاکے شائع ہونا شروع ہو چکے ہیں اور ہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ ہمیں حکومتی لیول پر کیا کرنا ہے ۔ الٹا قانون پڑھایا جائے گا اور اخلاق سمجھایا جائے گا تو اختلافات ہونگے ۔ بیرسٹر صاحب نے انگریز کا سارا قانون پڑھ لیا اگر مذہب کی الف بے بھی پڑھ لی ہوتی تو اسے بین الاقوامی فورم پر لا چکے ہوتے اور حکومت کو سفارتخانے کو بند کرنے کی رائے دیتے ۔ اگر پڑھ لیا ہوتا کہ اگر کوئی ہمارے دین کی توہین کرے گا تو جہاد واجب ہو جائے گا ۔ جہاد زبان سے روکنا ، ہاتھ سے روکنا اور پھر طاقت سے روکنا ہے ۔ یہ تیسری صورت کو لوگ انتہا پسندی کہتے ہیں اور ہمارا دین اسے ایمان کا اعلیٰ درجہ قرار دیتا ہے ۔ بیرسٹر صاحب سے گذارش ہے کہ اپنے نام کی لاج رکھ لیں ۔ اور قوم کو قانون نہ پڑھائیں ۔ اپنے ایمان کی مضبوطی کا ثبوت دیتے ہوئے سفارت کار کو بتائیں کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اسکی حکومت کو یہ اختیار نہیں جو وہ کر رہی ہے ۔  اسکے ردعمل  میں جو ہوگا اسکے ذمہ دار اسکے حکومتی اہلکار ہونگے ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ اگست ٢٠١٨ 

اسوہ حسنہ کی شان

" اسوہ حسنہ کی شان"
فتح مکہ کے بعد
رسول پاکؐ جب تک مکہ میں رہے ،  کسی گھر میں مقیم نہیں ہوئے اور حجون کے مقام پر اپنے خیمے میں سکونت پذیر رہے۔  آپؐ کے مدینہ ہجرت کے بعد سے آپ کے آبائی گھر پر عقیل  نامی ایک مکہ کے باسی نے رہائش اختیار کر رکھی تھی ، یہ رہائش آپؐ کی اجازت سے نہیں تھی بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے وہ اس گھر پر قابض تھا ۔ آپؐ فاتح تھے اور گھر کے حقیقی مالک بھی ، مگر آپؐ نے اپنے گھر پر نہ حق ملکیت کا اصرار کیا اور نہ ہی عقیل کو باور کرایا ۔  جب آپؐ  سے درخواست کی جاتی کہ اپنے گھر میں تشریف لے جائیں تو آپؐ  فرماتے
"کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی گھر چھوڑا ہے؟"
دنیا کی پوری تاریخ میں ایسا حسن خلق نہ کبھی دیکھا گیا کہ ایک فاتح اپنے مفتوحہ علاقے میں بھی ، اپنے ہی گھر سے کسی سکونت پذیر کو بیدخل نہ کرے ۔ اور کوئی بستا ہوا خاندان گھر چھوڑ کر خیمے میں رہنے پہ مجبور ہو جائے ۔
اللہ کے محبوبؐ کے ہر عمل میں حکمت کے راز پوشیدہ تھے ۔ امت کیلئے سبق ہیں ۔ اس میں ایک دوسری مصلحت یہ بھی تھی ۔
مروی ہے کہ انصار ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ
"کیا رسول اللہ(ص) کو اپنی قرابت داری اور خاندان کی طرف رغبت نے مکہ کی طرف مائل  تو نہیں کیا؟ "
انصار کو خوف تھا کہ کہیں آپؐ اپنے آبائی گھر میں سکونت اختیار نہ کر لیں ۔ تو آپؐ نے فرمایا:
" اے جماعت انصار! بے شک میں خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نے خدا کی طرف اور تمہاری جانب ہجرت کی ہے میری زندگی تمہارے ساتھ ہے اور میری موت تمہارے ساتھ ہے"۔
آزاد ھاشمی
٢٦ اگست ٢٠١٨

Monday, 27 August 2018

غلطی ہوگئی

" غلطی ہوگئی "
کوئی دانشور بتائے گا کہ غنڈہ گردی کیا ہوتی ہے؟ میں چھیاسٹھ سال کی عمر میں یہی سیکھ سکا کہ کسی شریف کی سر بازار توہین کرنا ، پگڑی اچھالنا ، کسی کے بنیادی حقوق پر زور زبردستی کرنا ، غنڈہ گردی ہے ۔ کسی کمزور کو زد و کوب کر دینا ، غنڈہ گردی کی اگلی شکل ہوتی ہے ، اور اسے بدمعاشی کہا جاتا ہے ۔ کیا میری یہ سوچ درست ہے یا اس میں کوئی تبدیلی چاہئے ؟؟ پوچھنا اس لئے چاہتا ہوں کہ آئندہ محتاط رہا جائے ۔ مجھ سے ایک فاش غلطی ہوئی کہ میں نے ایک ایسے ہی شخص کو " غنڈہ " سمجھ لیا جس نے ایک شہری کے منہ پر سرعام تھپڑ مارے تھے ۔ موصوف ایک ایسی سیاسی  پارٹی کے ایم پی اے ہیں ، جو ملک میں ہر برائی کا احتساب چاہتی ہے ۔ جو انصاف کو اپنا دین ، دھرم اور سیاسی منشور سمجھتی ہے ۔ جو ہر شہری کو عزت دلانے کا دعویٰ کرتی ہے ۔ اب پتہ چلا کہ جو صاحب اقتدار ہوں انکے لوگوں کو اختیار مل جاتا ہے کہ کسی کی بھی سر عام درگت بنا سکیں اور تھوڑا بہت منہ بند کرنے کا خیرات کر دیں ۔ کیونکہ پھر بھی ووٹ لینے ہیں ۔ مجھے اپنی غلطی کا شدت سے احساس اسوقت ہوا ، جب پارٹی کے بیشمار حواریوں نے مجھے میری کم علمی اور حماقت پر " شرم " بھی دلائی اور یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں ہر پارٹی  کے عہدیدار تو یہ کچھ کرتے ہی رہتے ہیں ۔ پہلے تو قتل بھی کیا کرتے تھے ۔ اب تو بے عزتی کے بعد مضروب کے گھر جا کے معافی مانگنے کی نئی روایت ،  ہم نے ہی کی ہے ۔ اب تو جرم ، جرم نہیں رہا ۔ اس پر واویلا کیوں ۔ میرا دل کر رہا تھا کہ ایک اور جسارت کر ڈالوں کہ پوچھ لوں ، جناب دانشورو ! یہ بھی بتا دو کہ مدینہ کی ریاست میں یہ اصول رائج تھے ؟ یا ایسے غنڈوں کو عہدوں سے ہٹا دیا جاتا تھا ؟؟ یہ بھی پوچھ لوں کہ اس مزاج کے عہدیدار کے بغیر آپ کی پارٹی کے کام رک جائیں گے ؟ کیا کروں ، میری عمر میں سوچ پختہ ہو جاتی ہے ۔ اب زہر کو شہد نہیں کہہ سکتا ۔ مجبوری ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٦ اگست ٢٠١٨

یزید کے آگے پیچھے

" یزید کے آگے پیچھے "
عبد مناف کے دو بیٹے ہاشم اور عبد الشمس تھے ان میں سے ہاشم کی اولاد کو بنی ہاشم اور عبد الشمس کی نسل بنی امیہ کہلاتی ہے۔ یزید بنو امیہ کا دوسرا " خلیفہ " تھا ۔ بلکہ پہلا جانشین تھا ۔
یزید کا دادا ابو سفیان اور دادی ہند بنت عتبہ فتح مکہ سے پہلے تک پیغمبر اسلامؐ کے بہت سخت دشمن تھے ۔جنگ احد میں حضرت حمزہؓ کا جگر کھانے کی وجہ سے ہند بنت عتبہ "ہند جگر خور" مشہور ہو گئی۔یہ لفظ کنایہ کے عنوان سے انکے لئے باقی رہ گیا ۔
انہوں نے مجبوری کی بنا پر اسلام کا اظہار کیا تھا ۔ فتح مکہ کے بعد جن لوگوں کو معافی دی گئی ، جو ناقابل معافی تھے ، انہیں طلقاء کہا گیا ۔  یزید انہی طلقاء کی نسل ہے ۔  اور طلقاء  کیلئے خلافت مناسب نہیں ہے-
مآخذ کے مطابق یزید کی ماں میسون بنت بحدل عرب کے بَدؤوں سے تھی اور جب معاویہ نے اس سے نکاح کیا اور اسے شام لے آیا تو وہ وطن سے دوری برداشت نہ کر سکی لہذا معاویہ نے اسے طلاق دے دی اور وہ اپنے وطن واپس آگئ ۔تاریخ نے احتمال دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسوقت وہ حاملہ تھی یا یزید اس وقت شیر خواری کی عمر میں تھا ۔یزید نے اپنا بچپنا حُوَّارین کے قبائل میں گزارا جو اسلام سے پہلے مسیحیت اور بت پرست تھے ،اہل فصاحت اور شاعر تھے۔ ان کی رہائش کا علاقہ شام میں حمص کا منطقہ تھا۔بعض محققین معتقد ہیں کہ عیسائیت کو چھوڑ کر نئے مسلمان ہونے والوں کے ہاں پرورش پانے کی وجہ سے یزید کی شخصیت مسیحیت کی تعلیمات سے متاثر تھی ۔خلافت کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد عیسائیوں کی حمایت،انکے شعرا کا اسکے دربار میں وجود  ایسے شواہد ہیں جو اس کی شخصیت پر عیسائیت کے مؤثر ہونے کی تائید کرتے ہیں۔ ان حقائق کو سامنے رکھا جائے کہ حضرت حسینؐ سے عداوت کی وجہ اصل اور نسل دونوں تھے ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ اگست ٢٠١٨