Saturday, 31 August 2019

یزید اور یہود (3 )"

" یزید اور یہود (3 )"
  معاویہ اور یزید کے بعد کا تسلسل ، جس میں اہل بیت کے تمام امام نشانہ ستم بنائے جاتے رہے ، ظاہر کرتا ہے کہ یہود و نصاریٰ پوری طرح سے اسلام کے پیغام کو بدل دینے کے درپے تھے ۔ یہی وہ مقصد تھا ، جس وجہ سے بنو امیہ کو اقتدار میں لانے کیلئے یہود و نصاریٰ ہر طرح سے معاون تھے ۔ مسالک کی بنیاد کو دیکھ لیں ، احادیث کی بھرمار کو دیکھ لیں ، فلسفہ ، منطق اور اجتہاد کو دیکھ لیں ، اسلام پر لکھی جانے والی تاریخ کو دیکھ لیں ، یہ سب بہت تیزی کے ساتھ بنو امیہ کے بادشاہوں کے دور میں ہوا ۔ چند محققین کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ امام حسینؑ کے دور میں نصاریٰ کا ایک گروہ  جو خود کو سخت دیندار ظاہر کرتا  تھا اور اپنے دین کے لئے انتہائی متعصب تھا ، یہ وہ گروہ تھا جو عیسائیوں کی ممتاز شخصیتوں پر مشتمل تھا۔ یہ وہ گروہ تھا جو بظاہر  مسلمانوں کو آزار و اذیت نہیں پہنچاتا تھا  اور ظاہر کرتا تھا کہ وہ اللہ کے آخری نبیؐ  کا بہت احترام کرتے ہیں ۔ مگر اس گروہ کے سرکردہ افراد نے جب بھی اللہ کے رسولؐ کے پاس آنے کی خواہش کی ، آپ نے ہر بار منع فرمایا ۔ کیونکہ یہ زرق برق لباس زیب تن کرتے تھے اور اسلام کی تعلیمات پر بھی رائے دینا چاہتے تھے ۔تاکہ کوئی تضاد پیدا کر سکیں ۔
دوسرا گروہ وہ عیسائی تھے جو دنیا کے حریص تھے انہیں زیادہ تر اپنی دنیا داری سے مطلب تھا وہ اسلام کی مخالفت بھی کرتے تھے تو اپنے دنیوی مفاد کی خاطر لیکن جب ان کے دنیوی مفادات خطرے میں پڑ جاتے تو اسلام کے مقابلے سے ہاتھ کھینچ لیتے جیسے نجراں کے نصاریٰ، مباہلے میں انہوں نے جب محسوس کیا کہ اگر پیغمبر اسلامؐ کے مقابلے میں ڈٹے رہیں گے تو ان کی نابودی یقینی ہو جائے گی تو مباہلے کے بغیر فرار کر گئے۔اس گروہ میں سے کچھ افراد ایسے تھے جو مسلمانوں کے اندر گہرا نفوذ رکھتے تھے ان کا مقصد اسلام کو مٹانا نہیں تھا بلکہ اسلام میں تحریف ایجاد کرنا تھا اسلام کو اس کے اصلی راستے سے منحرف کرنا تھا اسی وجہ سے انہوں نے پیغمبر اکرمؐ کے بعض اکابر صحابہؓ کے درمیان اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنا شروع کردیا اور کربلا کا واقعہ انہی سازشوں کا نتیجہ نکلا.
تیسرا گروہ  عیسائیوں اور یہودیوں کا مشترکہ گروہ تھا۔ یہ پیغمبر اسلامؐ  کو اپنا دشمن اور یہودیت و عیسائیت کی نابودی کا باعث سمجھتا تھا۔ یہ مشرکین مکہ کو پیغمبر اکرمؐ  کے خلاف جنگوں کے لئے ابھارتے رہتے  ،  اسی گروہ کے کچھ عناصر امیر شام کے مشیر تھے جو انہیں امیر المومنین علی علیہ السلام کے خلاف بغاوت پر اکساتے اور جنگوں میں امیر شام کی پشت پناہی کرتے تھے یزید بن معاویہ کی تربیت میں ان کا گہرا کردار تھا اور اسی طرح واقعہ کربلا کے پسِ پردہ اور اصلی مہرے یہی لوگ تھے۔
چونکہ یہود و نصاری کے نزدیک قوم پرستی اور نسل پرستی کا مسئلہ اہم مسئلہ ہے۔ وہ قوم جو نسلی حکومت کی قائل ہے اور کسی دوسری  نسل کی حکمرانی کو قبول نہیں کر سکتی۔ یقینا اگر آخری پیغمبر حضرت اسحاقؑ  کی نسل سے ہوتے تو اس دور کے نسل پرست یہود و نصاریٰ دوسرے انداز میں ان تاریخی واقعات کے ساتھ پیش آتے۔ اس صورت میں وہ جنگیں اور وہ کینہ و حسد نہ ہوتا۔
قرآن کریم میں  چھ ہزار آیتوں میں سے تقریبا ۲ ہزار آیتیں یہود و نصاریٰ کے بارے میں ہیں۔  تاکہ مسلمان ان  سے محتاط رہیں ۔ پھر سوال  پیدا ہوتا ہے کہ اس ساری تاکید کے باوجود  ’سرجیوس‘ دربار معاویہ میں اہم کیوں رہا ؟ جب  پیغمبر اکرمؐ کے گرانقدر صحابی حضرت ابوذر غفاریؓ  نے اعتراض کیا تو  جلاوطن کر کے ربذہ بھیج دیا جاتا ہے؟
  معاویہ کے دور حکومت میں خزانہ دار کون شخص تھا؟
کیوں عبید اللہ بن زیاد کو سرجیوس یا سرجون کے مشورے کے مطابق کوفہ کا گورنر بنایا جاتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ ۔
یہ تاریخی وضاحت اسلئے ضروری تھی کہ کربلا کا سانحہ صرف یزید کی بیعت نہ کرنے کے سبب سے نہیں تھا بلکہ اس کے پس پردہ وہ تمام عوامل شامل تھے ، جو بعد میں اسلامی یکجہتی کو فروعی اختلافات میں الجھانے کیلئے کئے جانے تھے ۔ دو شہزادوں کی باہمی چپقلش کہنے والوں کو جہاں بیشمار ایسی احادیث مل جاتی ہیں ، جن نے اہل بیت کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو جنت واجب ہے ۔ وہاں یہ تاریخی حقائق نظروں سے اوجھل کیوں ہو جاتے ہیں ؟
آزاد ھاشمی
یکم ستمبر ٢٠١٩

Friday, 30 August 2019

یزید اور یہود (2) "

یزید اور یہود (2) "
گذشتہ تحریر میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ یزید کی کیسے ماحول میں تربیت کی جاتی ہے ۔ وہ محققین جو یہ ثابت کرنے پہ کوشاں ہیں کہ کربلا کی لڑائی دو شہزادوں کے درمیان اقتدار کی لڑائی تھی ۔ حالانکہ کربلا کا سانحہ لڑائی نہیں تھا ۔ کیونکہ آل رسولؐ کا مختصر سا قافلہ تو مسلمانوں کی گذارشات پر اسلام کی ابلاغ و اشاعت کیلئے روانہ ہوا تھا  اور بحیثیت امام کے نواسہ رسولؐ پر لازم تھا کہ جب مسلمان کسی دینی مشکل میں ہوں اور انہیں رہبری کی ضرورت ہو تو امام اس پر خاموشی سے نہ بیٹھے رہیں ۔ سالار قافلہ نے بارہا کوشش کی کہ نفاق کی اس بنیاد کو قائم نہ ہونے دیا جائے اور وہ تمام حجتیں پوری کیں ، جن سے اس خون آشام واقعہ کو روکا جا سکتا تھا ۔ مگر یزید کی تربیت کے بہت سارے ایسے پہلو ہیں ، جس بناء پر اسے سوائے آل رسولؐ کو ختم کرنے کے دوسرا راستہ نظر ہی نہیں آ رہا تھا ۔ اسکی تربیت میں  عیسائی پادریوں ’’یوحنا‘‘ اور ’’سرجیوس‘‘ کا کردار بہت اہم تھا ۔  وہ چاہتے تھے کہ یزید اسلام کا لبادہ اوڑھ کر خلافت کی مسند پر بیٹھ جائے لیکن خلافت کی اصلی لگام یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں رہے اور وہ جیسے چاہیں  خلافت  اسلامیہ کا رخ موڑتے رہیں ۔ انہوں نے جب دیکھا کہ مرگ معاویہ کے بعد اسلامی حکومت کی لگام  اہل بیت  کے ہاتھ میں جا رہی ہے اور کوفیوں نے امام  حسینؑ علیہ السلام کو اسلامی معاشرے کی رہبری کی دعوت دے دی ہے تو انہوں نے یزید کو امام حسینؑ کے قتل پر آمادہ کر دیا اور کوفے کے پرآشوب  ماحول کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے یزید کو راضی کیا گیا کہ عبید اللہ بن زیاد کو کوفے کا گورنر مقرر کرے۔ یہود اور نصرانی اسلام کے خلاف ہر سازش میں متحد رہے ہیں اور قرآن کریم کی روشنی میں مسلمانوں کے  سب سے زیادہ عداوت رکھنے والے یہودی ہیں پھر مشرک اور نصرانی یعنی عیسائی۔ یہ سب اس سازش کے محرک تھے ۔اگر نہایت مزید تحقیق کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یزید کی فوج کے تمام سالار ،  تمام اکابرین یہود اور عیسائیوں سے بہت متاثر نظر آتے ہیں ۔ انہوں امام
حسینؑ کو جس طرح قتل کیا ، آپ کے ساتھیوں پہ جو ظلم کئے ، شہداء کے جسموں کو جس طرح پامال کیا اور اسکے بعد جسطرح پردہ دار خواتین کو ننگے سر بازاروں میں گھمایا ، وہ کوئی مسلمان کر ہی نہیں سکتا ۔ عام ہوش و حواس میں اتنی درندگی کا تصور ممکن ہی نہیں ۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ یا تو اسلام سے انتہاء کی دشمنی تھی ، یا پھر اشقیاء نشے کی حالت میں تھے ۔ یہ دونوں کیفیات یہود سے گہرا تعلق اور اسلام سے گہری دشمنی ظاہر کرتی ہیں ۔
( اگلی تحریر میں ہم ان گروہوں کا ذکر کریں گے ، جو یزید کی پشت پر تھے اور  امام حسینؑ سے  دشمنی کر رہے تھے )
۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔
آزاد ھاشمی
٣٠ اگست ٢٠١٩

Thursday, 29 August 2019

یزید اور یہود(1)

یزید اور یہود "
غزوہ خیبر کے بعد ، یہود کا اصل ہدف " حضرت علیؑ " ہوگئے ۔ انہیں یہ یقین ہوگیا کہ علیؑ اور اولاد علیؑ کی موجودگی میں وہ اسلام کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ۔ اس مقصد کیلئے انہیں بنو ہاشم کے مقابل کسی ایسے قبیلے کی تلاش تھی ، جو انکے عزائم کو بہتر طریقے سے پورا کر سکے ۔ اسلام کی ابتداء سے فتح مکہ تک اللہ کے نبیؐ کی مخالفت میں پیش پیش " بنو امیہ " تھے ۔ بعض مابین جنگوں میں بنو امیہ کے کئی اکابر روساء بھی مارے گئے ۔ اور خاص کر جنگ احد میں ابوسفیان کی بیوی " ہندہ " کا حضرت حمزہؓ کا سینہ چیر کر دل چبا
ڈالنا ، کان اور ناک کاٹنا ، اور وہ بھی ایک عورت کے ہاتھوں سفاکی کی انتہاء تھی ۔ یہ وہ کردار تھا جس پر یہود نے " بنو امیہ " کا انتخاب کیا ۔ تاریخ کو کتنا بھی تبدیل کر دیا جائے ، بعض حقائق سامنے آ ہی جاتے ہیں ۔ بنو امیہ کے پہلے خلیفہ نے ایک عیسائی خاتون  ’میسون‘  سے شادی کر لی ۔  موصوفہ ہی یزید کی ماں  تھیں ۔ کہا جاتا ہے کہ معاویہ سے شادی بھی موصوفہ کے کردار کی پستی کے باعث تھی اور بعد میں معاویہ نے اسے واپس اسکے قبیلے میں بھیج دیا تھا ۔ تاریخی حقائق
سے واضع ہے کہ یزید کی پیدائش بھی اسی قبیلے میں ہوئی ، جہاں اسکی ماں " میسون " قیام پذیر تھیں ۔ یزید کی ماں کو حمل کیصورت میں معاویہ نے الگ کیوں کیا ؟ اور یزید کی پیدائش سے ابتدائی عمر کی ساری تربیت عیسائی اور یہودی ماحول میں کیوں ہونے دی ؟ ایسے بیشمار سوالات اٹھتے ہیں ۔ ہم صرف وہ ابتدائی دور دیکھ رہے ہیں ،  جس میں یزید کی پرورش ہوئی تاکہ یہ سمجھ آ سکے کہ آل رسولؐ پر مظالم صرف یزید کا حصول اقتدار ہی نہیں تھا ، بلکہ دوسرے عوامل بھی اسکا حصہ تھے ۔
یزید کی پیدائش کے وقت  دائیاں بھی عیسائی تھیں۔ میسون کا تعلق بنی کلاب قبیلے سے تھا، بنی کلاب عیسائی تھے۔ میسون ’بجدل کلبی‘ کی بیٹی تھی۔ بجدل کلبی خود بھی عیسائی تھی ۔  یزید کا معلم بھی ادبیات عرب کا ایک ماہر شخص تھا جس کا نام ’اخطل‘ تھا۔عیسائی پادریوں ’’یوحنا‘‘ اور ’’سرجیوس‘‘ نے اس کی تربیت کی تھی۔
یزید کو پورے ایک عیسائی ماحول میں تربیت ملی اور ایک خاص اہداف کے تحت اسے پالا پوسہ گیا، اسے رزم و بزم کے تمام اصول سکھائے گئے جو اسکی عادت بن گئے ۔ لیکن اسلام نام کی کوئی چیز اس نے اپنے دور تربیت میں نہ سنی اور نہ سیکھی ۔یہی وجہ تھی کہ مرگ معاویہ کے بعد جب وہ مسند خلافت پر بیٹھتا ہے تو یہی کہتا
"ماجاء نبی و لا وحی نزل"
  معاذ اللہ نہ کوئی نبی آیا اور نہ کوئی وحی نازل ہوئی۔
۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
آزاد ھاشمی
٢٩ اگست ٢٠١٩