" یہ لگن ہے یا خبط ؟ "
میرے قریبی رفقاء اکثر کہتے ہیں کہ میں جو سوشل میڈیا پہ مغز ماری کرتا رہتا ہوں ، سب فضول ہے ، خبط ہے اور کچھ تو اسے پاگل پن بھی کہتے ہیں ۔ شاید وہ درست ہی کہتے ہیں ۔ کئی بار سوچتا ہوں کہ سیاست کی بساط کی ساری گندگی میرے الفاظ کے تانے بانے سے کبھی صاف نہیں ہوگی ۔ مذہب سے دوری کو علماء حل نہیں کرنا چاہتے اسی میں انکی دوکانداری قائم ہے ، دانشور خاموش ہیں ، محفلوں میں فلسفے جھاڑنے پر مطمن ہیں ۔ دھیرے دھیرے اسلامی اقدار لبرل ازم تلے دبتی جا رہی ہیں ۔ اسلام کی بات کرنے والا ان لبرلز کے بے ربط سوال سن سن کر حواس باختہ ہو جاتا ہے اور سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ میں نے تو وہ کچھ کہا ہی نہیں ، جس کا سوال مجھ سے پوچھا جا رہا ہے ، جس نے اسلام کے بارے ایک بات کہہ دی اس پر پورے یورپ میں بیٹھے ہوئے دانشور ٹوٹ پڑتے ہیں ، جن کی نظر میں مسلمانوں کی پستی مذہبی سوچ کی وجہ سے ہی ہے ۔
کئی بار سوچتا ہوں کہ کیوں نہ میں بھی لطیفے لکھنا شروع کر دوں ، پھر کوئی نہ کوئی پخ نکل آتی ہے ۔ میرے جیسا خبطی سمجھتا ہے کہ میرا فرض ہے کہ قوم کو بہکنے سے بچانے کا جتن کروں ۔ نئی نسل کا قرض میرے ذمہ باقی نہ رہ جائے ۔ مذہب کی بات کہنے والوں کو خاموش دیکھتا ہوں ، اور مذہب سے فرار چاہنے والوں کی دھما چوکڑی دیکھتا ہوں تو پھر دل کا غبار نکالنے بیٹھ جاتا ہوں ۔ میرے ساتھ سوشل میڈیا پہ کچھ میرے جیسے خبطی ہیں ۔ حوصلہ ملتا ہے کہ میں اکیلا نہیں ہوں ۔ ابھی کچھ دیوانے باقی ہیں ، جو ہر بگڑتی بات پر بول اٹھتے ہیں اور کچھ تو چیخنے بھی لگتے ہیں ۔ محسوس کرتا ہوں کہ جن کو لوگ دانشور مانتے ہیں ، جن کو عالم ہونے کا اعزاز حاصل ہے ، جن پر لوگ یقین کر لیتے ہیں ، وہ کیوں خاموش ہیں ؟ کیا انہوں نے اپنا واجب فرض پورا کر دیا ہے ۔
سوچتا ہوں کہ شاید میرے جیسے خبطی بھی اس یلغار میں ضروری ہیں اور پھر شروع ہو جاتا ہوں ۔
آزاد ھاشمی
١٦ نومبر ٢٠١٨
Friday, 16 November 2018
یہ لگن ہے یا خبط؟
Wednesday, 14 November 2018
یہود اور مسلمان (2)
یہودی اور مسلمان (2 )
یہودیوں کی اسلام سے عداوت آغاز حضرت اسحٰقؑ اور حضرت اسماعیلؑ سے شروع ہوتا ہے ۔ انکا ایمان ہے کہ بنی اسرائیل ہی واحد قوم ہے جن کو نبوت پر اختیار ہے ۔ وہ حضرت اسحقؑ کو بنی اسرائیل کا جد امجد سمجھتے ہیں اور نہایت ہی عزت و تکریم دیتے ہیں لیکن حضرت اسماعیلؑ کو بہت ہی برے اور بھدے الفاظ سے یاد کرتے ہیں . انبیاء کی اکثریت بنی
اسرائیل سے رہی ہے ، سوائے چند انبیاء کے جو حضرت اسماعیل سے ہیں اور صاحب کتاب نبی اور رسول ہیں جیسے حضرت عیسیٰ اور حضرت محمدؐ ۔ حضرت عیسیٰ کو مصلوب کر دینا یہود اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں گرچہ یہ عمل بعد میں یہود کے تنزلی کا باعث بنا ۔
حضرت محمدؐ کے اعلان نبوت کے وقت چونکہ یہود دگرگوں حالات کا شکار تھے مگر انہوں نے اپنی رقابت میں کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا ، جس سے مسلمانوں کو اور اسلام کو زک پہنچائی جا سکے ۔ اور آج تک اسکا تسلسل جاری ہے۔
یہودی حضرت لوطؑ کو نعوذ باللہ ایک زانی کے بطور پیش کرتے ہیں ۔ جسے اسلام نے رد کیا اور لوطؑ کو معتبر نبی کے طور پر پیش کیا ۔
مسلمانوں سے عناد کی انتہا ہے کہ یہودی کسی مسلمان کے ہاتھ سے ذبح کیے ہوئے حلال جانور کو بھی یہودی کے لیے کھانا جائز نہیں سمجھتے ہیں ۔
۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔
آزاد ھاشمی
نومبر ١٤ ، ٢٠١٨
Tuesday, 13 November 2018
یہودی اور مسلمان (1)
" یہودی اور مسلمان( 1)"
مسلمانوں کا المیہ ہے کہ جذبات سے بہت جلد مغلوب ہو جاتے ہیں ۔ سطحی باتوں تک محدود رہ کر سوچتے ہیں اور یہودی ایک کینہ پرور ، شریر اور فساد کو ہوا دینے والی قوم ہے ۔ اسلامی تعلیمات کو جسطرح یہود نے ابہام سے دوچار کرنے کی سعی کی ، کسی دوسرے مذہب کے علماء نے نہیں کی ۔ یہ تو قرآن کا معجزہ ہے کہ اس میں تحریف ممکن نہیں ، ورنہ یہود علماء اسلام کے لبادے پہن کر کب سے قرآن کو بدل چکے ہوتے ۔ اب سیکولر ذہن کے مسلمان جدیدیت سے مغلوب ہو کر کہنے لگے ہیں کہ یہودیوں اور مسلمانوں کے کئی بنیادی عقائد ایک جیسے ہیں ، جیسے روزہ ، نماز
وغیرہ ۔ جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ یہود کے چند چیدہ چیدہ عقائد کچھ اسطرح ہیں ۔
١ ۔ مسلانوں کا بنیادی عقیدہ ہے کہ فرشتوں پر ایمان لایا جائے کہ وہ کسی گناہ یا برائی میں ملوث نہیں ہوتے جبکہ یہودی فرشتوں کو معصوم نہیں مانتے ۔
٢ ۔ یہودی حضرت آدمؑ سے لے کر عہد نامہ قدیم کے سب سے آخری نبی ملیکی تک ہی سب نبیوں پر ایمان لانے کے لیے اصرار کرتے ہیں ۔ انکے نزدیک ملیکی نبی کے بعد جو بھی نبوت کا دعوی کرتا ہے وہ کذاب ہے ۔
٣ ۔ حضرت زکریاؑ ، یحییٰؑ ، عیسیٰؑ اور حضرت محمد مصطفیؐ پر ایمان لانے کو گناہ سمجھتے ہیں ۔
٤ ۔ یہودیوں کے مطابق حضرت موسیٰؑ افضل الانبیاء ہیں اور حضرت ملاکی ختم الانبیاء ۔
٥ ۔ یہودی حضرت اسماعیلؑ کو نبی تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی آپ کی نسل سے کسی نبی کو مانتے ہیں بلکہ اسحقؑ کو ذبیح اللہ مانتے ہیں اور حضرت اسحقؑ کو اکلوتا بیٹا مانتے ہیں کیونکہ انکے نزدیک حضرت اسماعیلؑ ایک کنیز کے بیٹے تھے ، اسلئے انہیں حقیقی اولاد ہونے کا حق حاصل نہیں ( نعوذ باللہ )
---- تفصیل جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
١٢ نومبر ٢٠١٨
Monday, 12 November 2018
سموسے بیچنے والا فلاسفر
" سموسے بیچنے والا فلاسفر "
مغرب زدہ نوجوان , عمر کا لحاظ کئے بغیر , پوری رعونت کے ساتھ , بابا جی پر برس رہا تھا .
" سموسے بیچو بڈھے فلسفہ مت پڑھاو . سارا دن پیٹ بھرنے کیلئے آگ پر بیٹھے رہتے ہو . یہ خوشحالی محنت سے آتی ہے محنت سے . مسجد میں ٹکریں مارنے سے آتی تو سارے ملا کروڑ پتی ہوتے . یہ سب ڈھکوسلے ہیں . اللہ کا تعلق اسکی عبادت کے سوا کچھ نہیں . اگر پیسہ ہے تو مسجد بنا دو , سارے نمازیوں کے سجدوں کا ثواب مل جاتا ہے . ایک حج کرلو , ساری گذشتہ عمر کے گناہ دھل جاتے ہیں . یہ ایک ایک سجدے کا رواج غریبوں کی ضرورت ہے . ہماری نہیں .. "
بابا جی بت بنے اس نوجوان کی باتیں سنے جا رہے تھے . ارد گرد سے لوگ بھی ایک ایک کر کے جمع ہو چکے تھے . نوجوان لوگوں کو دیکھ کر اور زیادہ مچل رہا تھا . بیہودگی بتا رہی تھی کہ اسکی تربیت میں بہت کمی رہ گئی ہے .
" بھائی ! بابا جی کی عمر کا خیال نہیں تو کم از کم اپنے مذیبی فرائض کا تو احترام کرو "
ایک صاحب نے لقمہ دیا . نوجوان اور پنک گیا اور اول فول بکنے لگا . بابا جی کا پیمانہ صبر بھی بھر چکا تھا .
" بس نوجوان . جو تم بول سکتے تھے تم نے بول لیا . سجدہ وہی کام آتا ہے جو تم خود کرتے ہو . نماز وہی قبول ہوتی ہے جو تم اللہ کے خوف سے پڑھتے ہو . بھیک اللہ سے مانگی جائے تو اللہ خوش ہوتا ہے . مسجد بنا کر ثواب کی امید ,تجارت ہے . حج سے گذشتہ زندگی کے گناہ اسی کے دھلتے ہیں , جسکا حج قبول ہو جاتا ہے . حج اسی کا قبول ہوتا ہے تو صدق دل سے توبہ کیطرف لوٹتا ہے . پیسوں سے اللہ کی خوشنودی کا خواب دیکھنا چھوڑو . اللہ کو عجز پسند ہے , تکبر نہیں . تیری میری اوقات کیا ہے . کبھی سوچا . تیرے میرے سب چاہنے والے , سانس چلنے تک ساتھ ہیں . سانس رکی تو منوں مٹی اوپر ڈال دیں گے . "
بابا جی کے بدلے تیور دیکھ کر نوجوان ٹھٹک گیا .
" تیرا باپ زندہ ہے . ماں زندہ ہے "
بابا جی نے سوال کیا . جواب نہیں میں تھا .
" تم نے اپنے ہاتھوں سے انکی نعشوں پر مٹی ڈالی ہو گی . اسکے بعد کی خبر کسے معلوم . انکے ساتھ کیا ہوا . ایسا ہی تیرے اور میرے ساتھ ہو گا . دولت کا نشہ اتار دے . یہ نشہ بد بختی ہے . مسجد میں ماری ہوئی کوئی ایک ٹکر بھی قبول ہو گئی تو مٹی کے نیچے اذیت سے بچ جاو گے . میرا آگ پہ بیٹھے رہنا , اگر دوزخ کی آگ سے بچا لے تو کوئی برا سودا نہیں . مجھے اتنا ہی ملتا رہے کہ کسی کے سامنے حاجت نہ رکھنی پڑے . میں خوش ہوں . بس اپنے رب کو خوش دیکھنا میری آرزو ہے . اللہ کے ہر مقبول بندے کی یہی آرزو ہوتی ہے "
نوجوان بولنے کیلئے الفاظ کی تلاش کرتا رہ گیا . سموسے بیچنے والا فلاسفر اپنے الفاظ سے اسے ہدایت کی راہ دکھا رہا تھا . اور سننے والے کتنے اپنی اصلاح کی راہ پا رہے تھے .
ازاد ھاشمی