" یہودی اور مسلمان( 1)"
مسلمانوں کا المیہ ہے کہ جذبات سے بہت جلد مغلوب ہو جاتے ہیں ۔ سطحی باتوں تک محدود رہ کر سوچتے ہیں اور یہودی ایک کینہ پرور ، شریر اور فساد کو ہوا دینے والی قوم ہے ۔ اسلامی تعلیمات کو جسطرح یہود نے ابہام سے دوچار کرنے کی سعی کی ، کسی دوسرے مذہب کے علماء نے نہیں کی ۔ یہ تو قرآن کا معجزہ ہے کہ اس میں تحریف ممکن نہیں ، ورنہ یہود علماء اسلام کے لبادے پہن کر کب سے قرآن کو بدل چکے ہوتے ۔ اب سیکولر ذہن کے مسلمان جدیدیت سے مغلوب ہو کر کہنے لگے ہیں کہ یہودیوں اور مسلمانوں کے کئی بنیادی عقائد ایک جیسے ہیں ، جیسے روزہ ، نماز
وغیرہ ۔ جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ یہود کے چند چیدہ چیدہ عقائد کچھ اسطرح ہیں ۔
١ ۔ مسلانوں کا بنیادی عقیدہ ہے کہ فرشتوں پر ایمان لایا جائے کہ وہ کسی گناہ یا برائی میں ملوث نہیں ہوتے جبکہ یہودی فرشتوں کو معصوم نہیں مانتے ۔
٢ ۔ یہودی حضرت آدمؑ سے لے کر عہد نامہ قدیم کے سب سے آخری نبی ملیکی تک ہی سب نبیوں پر ایمان لانے کے لیے اصرار کرتے ہیں ۔ انکے نزدیک ملیکی نبی کے بعد جو بھی نبوت کا دعوی کرتا ہے وہ کذاب ہے ۔
٣ ۔ حضرت زکریاؑ ، یحییٰؑ ، عیسیٰؑ اور حضرت محمد مصطفیؐ پر ایمان لانے کو گناہ سمجھتے ہیں ۔
٤ ۔ یہودیوں کے مطابق حضرت موسیٰؑ افضل الانبیاء ہیں اور حضرت ملاکی ختم الانبیاء ۔
٥ ۔ یہودی حضرت اسماعیلؑ کو نبی تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی آپ کی نسل سے کسی نبی کو مانتے ہیں بلکہ اسحقؑ کو ذبیح اللہ مانتے ہیں اور حضرت اسحقؑ کو اکلوتا بیٹا مانتے ہیں کیونکہ انکے نزدیک حضرت اسماعیلؑ ایک کنیز کے بیٹے تھے ، اسلئے انہیں حقیقی اولاد ہونے کا حق حاصل نہیں ( نعوذ باللہ )
---- تفصیل جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
١٢ نومبر ٢٠١٨
Tuesday, 13 November 2018
یہودی اور مسلمان (1)
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment