" نبوت کی معراج "
جن احباب کو زیارت روضہ رسول صل اللہ علیہ وسلم نصیب ہوئی ہو گی . وہ جانتے ہونگے کہ آج مسجد نبوی کا احاطہ کتنا یے . شاید بہت دوستوں کو علم بھی ہو گا کہ یہی وہ کل زمین تھی , جس پر مدینہ النبی قائم تھا . جنت البقیع مدینہ کی حدود سے باہر تھی . چھوٹی سی جگہ میں مسجد بھی تھی اور رسول اللہ علیہ وسلم کا حجرہ مبارک بھی . کھجور کے پتوں سے ڈھکی ہوئی مختصر سی چاردیواری . یہ وہ جگہ تھی جس میں اسلام کی درس گاہ بھی تھی , عدالت بھی , دفاعی منصوبہ بندی کیلئے قلعہ بھی , ہر ضرورت مند کیلئے خزانہ بھی . گویا اسلام کے نظام کا سارا حدود اربعہ اتنا سا تھا . اس سارے نظام کو چلانے والا دو وقت پیٹ بھرنے کے وسائل سے بھی محروم . عرب کے سرکش سردار , قبائل کے کرتا دھرتا سب مخالف . کون یقین کرتا کہ یہ مختصر سی بستی ایک روز قیصر و کسری کی شکست کا باعث بنے گی . الحاد , شرک , یہودیت , مجوسیت , آتش پرست اور عرب کے ضدی سرداروں سے مخاصمت کیلئے ننھی سی فوج , جس کے پاس نہ تیغ و تفنگ , نہ اونٹ نہ گھوڑے , نہ تربیت کا انتظام . ایسی فوج جس کا سالار تین تین روز نان جویں تک حلق سے اتارنے کے وسائل نہ رکھتا ہو . ایک روز پوری دنیا میں کروڑوں لوگوں کا سالار بن جائے گا . جس کے ایک اشارے پر کروڑوں سر کٹنے کو تیار ہو جائیں گے .
یہ سب شان , سب مقام اور سب اسباب پر اختیار , سوائے اللہ کے پیارے حبیب کے کسی کو حاصل نہیں . نہ کسی رسول کو , نہ کسی نبی کو .
تعجب ہوتا ہے جب کوئی نا ہنجار یہ کہہ دیتا ہے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم ہمارے جیسے بشر ہیں . بشریت کی ایک حد ہے , مگر آپ کی حد عالمین کی وسعت سے بھی آگے . اللہ جن عالمین کا رب ہے , آپ انہی عالمین کے لئے رحمت ہیں . پھر دنیا میں کیا , پوری کائنات میں آپ کا تقابل کیسے ممکن . آپ وہ ہستی جس کی خاطر تخلیق آدم ہوئی . اللہ کا اعلان " کہ اے حبیب ! میں افلاک میں کچھ بھی تخلیق نہ کرتا , اگر تجھے پیدا نہ کرتا "
اللہ کی محبت کا یہ عالم کہ فرمایا
" اے حبیب ساری ساری رات عبادت کیلئے مت جاگا کر , بس رات کے پچھلے پہر عبادت کر لیا کر . اور رات کو استراحت کیا کر "
آج کوئی ایسا لمحہ نہیں , جب پوری دنیا سے آپ صل اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجا جاتا ہو . حکم ربی ہے کہ
" اللہ اور فرشتے آپ پر درود بھیجتے ہیں , تم سب بھی میرے حبیب پر درود بھیجا کرو "
وہ کون قلمکار ہے جو اس ہستی کی شان پر لکھنے کا حق ادا کر سکے . کون دانشور ہے جو آپ کی شان کا ادراک کر سکے .
ازاد ہاشمی
جن احباب کو زیارت روضہ رسول صل اللہ علیہ وسلم نصیب ہوئی ہو گی . وہ جانتے ہونگے کہ آج مسجد نبوی کا احاطہ کتنا یے . شاید بہت دوستوں کو علم بھی ہو گا کہ یہی وہ کل زمین تھی , جس پر مدینہ النبی قائم تھا . جنت البقیع مدینہ کی حدود سے باہر تھی . چھوٹی سی جگہ میں مسجد بھی تھی اور رسول اللہ علیہ وسلم کا حجرہ مبارک بھی . کھجور کے پتوں سے ڈھکی ہوئی مختصر سی چاردیواری . یہ وہ جگہ تھی جس میں اسلام کی درس گاہ بھی تھی , عدالت بھی , دفاعی منصوبہ بندی کیلئے قلعہ بھی , ہر ضرورت مند کیلئے خزانہ بھی . گویا اسلام کے نظام کا سارا حدود اربعہ اتنا سا تھا . اس سارے نظام کو چلانے والا دو وقت پیٹ بھرنے کے وسائل سے بھی محروم . عرب کے سرکش سردار , قبائل کے کرتا دھرتا سب مخالف . کون یقین کرتا کہ یہ مختصر سی بستی ایک روز قیصر و کسری کی شکست کا باعث بنے گی . الحاد , شرک , یہودیت , مجوسیت , آتش پرست اور عرب کے ضدی سرداروں سے مخاصمت کیلئے ننھی سی فوج , جس کے پاس نہ تیغ و تفنگ , نہ اونٹ نہ گھوڑے , نہ تربیت کا انتظام . ایسی فوج جس کا سالار تین تین روز نان جویں تک حلق سے اتارنے کے وسائل نہ رکھتا ہو . ایک روز پوری دنیا میں کروڑوں لوگوں کا سالار بن جائے گا . جس کے ایک اشارے پر کروڑوں سر کٹنے کو تیار ہو جائیں گے .
یہ سب شان , سب مقام اور سب اسباب پر اختیار , سوائے اللہ کے پیارے حبیب کے کسی کو حاصل نہیں . نہ کسی رسول کو , نہ کسی نبی کو .
تعجب ہوتا ہے جب کوئی نا ہنجار یہ کہہ دیتا ہے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم ہمارے جیسے بشر ہیں . بشریت کی ایک حد ہے , مگر آپ کی حد عالمین کی وسعت سے بھی آگے . اللہ جن عالمین کا رب ہے , آپ انہی عالمین کے لئے رحمت ہیں . پھر دنیا میں کیا , پوری کائنات میں آپ کا تقابل کیسے ممکن . آپ وہ ہستی جس کی خاطر تخلیق آدم ہوئی . اللہ کا اعلان " کہ اے حبیب ! میں افلاک میں کچھ بھی تخلیق نہ کرتا , اگر تجھے پیدا نہ کرتا "
اللہ کی محبت کا یہ عالم کہ فرمایا
" اے حبیب ساری ساری رات عبادت کیلئے مت جاگا کر , بس رات کے پچھلے پہر عبادت کر لیا کر . اور رات کو استراحت کیا کر "
آج کوئی ایسا لمحہ نہیں , جب پوری دنیا سے آپ صل اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجا جاتا ہو . حکم ربی ہے کہ
" اللہ اور فرشتے آپ پر درود بھیجتے ہیں , تم سب بھی میرے حبیب پر درود بھیجا کرو "
وہ کون قلمکار ہے جو اس ہستی کی شان پر لکھنے کا حق ادا کر سکے . کون دانشور ہے جو آپ کی شان کا ادراک کر سکے .
ازاد ہاشمی