Tuesday, 5 November 2019

نبوت کی معراج

" نبوت کی معراج "
جن احباب کو زیارت روضہ رسول صل اللہ علیہ وسلم نصیب ہوئی ہو گی . وہ جانتے ہونگے کہ آج مسجد نبوی کا احاطہ کتنا یے . شاید بہت دوستوں کو علم بھی ہو گا کہ یہی وہ کل زمین تھی , جس پر مدینہ النبی قائم تھا . جنت البقیع مدینہ کی حدود سے باہر تھی . چھوٹی سی جگہ میں مسجد بھی تھی اور رسول اللہ علیہ وسلم کا حجرہ مبارک بھی . کھجور کے پتوں سے ڈھکی ہوئی مختصر سی چاردیواری . یہ وہ جگہ تھی جس میں اسلام کی درس گاہ بھی تھی , عدالت بھی , دفاعی منصوبہ بندی کیلئے قلعہ بھی , ہر ضرورت مند کیلئے خزانہ بھی . گویا اسلام کے نظام کا سارا حدود اربعہ اتنا سا تھا . اس سارے نظام کو چلانے والا دو وقت پیٹ بھرنے کے وسائل سے بھی محروم . عرب کے سرکش سردار , قبائل کے کرتا دھرتا سب مخالف . کون یقین کرتا کہ یہ مختصر سی بستی ایک روز قیصر و کسری کی شکست کا باعث بنے گی . الحاد , شرک , یہودیت , مجوسیت , آتش پرست اور عرب کے ضدی سرداروں سے مخاصمت کیلئے ننھی سی فوج , جس کے پاس نہ تیغ و تفنگ , نہ اونٹ نہ گھوڑے , نہ تربیت کا انتظام . ایسی فوج جس کا سالار تین تین روز نان جویں تک حلق سے اتارنے کے وسائل نہ رکھتا ہو . ایک روز پوری دنیا میں کروڑوں لوگوں کا سالار بن جائے گا . جس کے ایک اشارے پر کروڑوں سر کٹنے کو تیار ہو جائیں گے .
یہ سب شان , سب مقام اور سب اسباب پر اختیار , سوائے اللہ کے پیارے حبیب کے کسی کو حاصل نہیں . نہ کسی رسول کو , نہ کسی نبی کو .
تعجب ہوتا ہے جب کوئی نا ہنجار یہ کہہ دیتا ہے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم ہمارے جیسے بشر ہیں . بشریت کی ایک حد ہے , مگر آپ کی حد عالمین کی وسعت سے بھی آگے . اللہ جن عالمین کا رب ہے , آپ انہی عالمین کے لئے رحمت ہیں  . پھر دنیا میں کیا , پوری کائنات میں آپ کا تقابل کیسے ممکن . آپ وہ ہستی جس کی خاطر تخلیق آدم ہوئی . اللہ کا اعلان " کہ اے حبیب ! میں افلاک میں کچھ بھی تخلیق نہ کرتا , اگر تجھے پیدا نہ کرتا "
اللہ کی محبت کا یہ عالم کہ فرمایا
" اے حبیب ساری ساری رات عبادت کیلئے مت جاگا کر , بس رات کے پچھلے پہر عبادت کر لیا کر . اور رات کو استراحت کیا کر "
آج کوئی ایسا لمحہ نہیں , جب پوری دنیا سے آپ صل اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجا جاتا ہو . حکم ربی ہے کہ
" اللہ اور فرشتے آپ پر درود بھیجتے ہیں , تم سب بھی میرے حبیب پر درود بھیجا کرو "
وہ کون قلمکار ہے جو اس ہستی کی شان پر لکھنے کا حق ادا کر سکے . کون دانشور ہے جو آپ کی شان کا ادراک کر سکے .
ازاد ہاشمی

Sunday, 3 November 2019

گمراہی کیا ہے ؟ "

" گمراہی کیا ہے ؟ "
سورہ فاتحہ میں ، ہم اللہ سبحانہ تعالی سے چند دعائِیں اور التجائیں کرتے ہیں کہ
" اے مالک یوم الدین ! ہم تیری عبادت کرتے ہیں ، اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں "
کیا مدد مانگتے ہیں ؟
" ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت فرما ، رہنمائی کر کہ ہمیں سیدھا راستہ مل جائے  "
وضاحت  کرتے ہیں کہ وہ سیدھا راستہ ، جس پر ہم چلنا چاہتے ہیں ۔
" وہ ان لوگوں کا راستہ ، جن پر تیرے انعامات ہوئے ۔ "
پھر  کہتے ہیں کہ
" ان لوگوں کے راستے پر نہیں چلنا چاہتے ، جو تیرے غضب کا شکار ہوئے اور نہ ہی انکے راستے پر جو گمراہ ہوئے "
ہم یہ ساری باتیں ایک تسلسل سے کرتے جاتے ہیں ۔ نہ معلوم ہوتا ہے کہ کیا مانگ رہے ہیں اور نہ جانتے ہیں کہ کیوں مانگ رہے رہیں ۔ گمراہ صرف ان قوموں کو سمجھتے ہیں ، جو اسلام کے حلقہ سے دور ہیں اور ان قوموں کو جو گئے وقتوں میں تھیں ۔
گمراہی ، وسیع المطلب اور نہایت آسان فہم لفظ ہے ۔ جو بھی اپنے راستے سے بھٹک گیا ، یا جو بھی اپنی منزل کو بھول گیا ، گمراہ ہے ۔ ہمارا راستہ اور ہماری منزل کیا ہے ؟ ہمارا راستہ وہی ہے ، جو اللہ نے مقرر فرمایا اور ہادئی کائنات نے اگاہی دی ۔ قرآن میں جس سے منع کیا گیا اور جو کرنے کی تاکید کی گئی ۔ جس سے دوستی سے روکا گیا اور جس سے قربت کا حکم ہوا ۔ یہی وہ راستہ ہے ، جو سیدھا بھی ہے اور فلاح کا راستہ بھی ۔ اگر ہم اپنا اپنا محاسبہ کریں تو ہم انہی کے راستے پر چل رہے ہیں ، جن کے راستے سے بچنے کی دعا مانگتے ہیں ۔ یہی گمراہی ہے ۔ مگر گمراہی سے بچنے کی بار بار دعاوں کے بعد گمراہوں کے راستے پر چلنے کو فخر سمجھتے ہیں اور راہ راست پر چلنے کو قدامت پسندی خیال کر بیٹھے ہیں ۔ اللہ پاک کے دستور کو چھوڑ کر اپنی ناقص عقل سے خود دستور بنا لیا اور اس پر چل کر ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نے صحیح راستہ تلاش کرلیا ۔ گویا ہم نے اپنا راستہ کھو دیا ، راستہ کھو دینا ، بھول جانا اور منزل کے تعین کے بغیر چلتے رہنا ، گمراہی ہے ۔ اپنے اپنے عمل پر غور و فکر کئے بغیر ، اسے زندگی کا حصہ بنا لینا گمراہی ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣ نومبر ٢٠١٩