Saturday, 10 February 2018

سوہانجنا

سوہانجنا ہمارا دیسی درخت ہے۔ پورے پاکستان میں اس کے درخت پائے جاتے ہیں۔ کراچی کے اکثر گلی کوچوں اور سڑکوں پر اس کے درخت لگے نظر آتے ہیں۔ انگریزی میں اس کو Moringa کہتے ہیں۔ جدید سائنسی ریسرچ نے یورپ اور امریکہ میں اس درخت کی دھوم مچائی ہوئی ہے۔ ماہرین غذائیات اور فوڈ سائنس کے ماہرین اس کی کرشماتی صفات پر حیران ہیں۔ اس کے پتوں کے ایکسٹریکٹ سے تیار کردہ کیپسول، گولیاں اور فوڈ سپلیمنٹ دھڑا دھڑ بک رہے ہیں۔ جاپان کی ایک معروف دودھ کمپنی عرصہ دراز سے موریناگا Morinaga کے نام سے بچوں کا دودھ بنا رہی ہے جو مورنگا کی غذائی خصوصیات سے بھرپور ہے۔ یہ کم و بیش تین سو قابل علاج اور لا علاج بیماریوں کا علاج ہے لیکن صد افسوس کہ ہمارےیہاں اسے بکریاں کھا رہی ہیں۔ اگر لوگوں کو اس کے فوائد کا پتہ چل جائے تو سوہانجنا کے درختوں پر ایک پتہ باقی نہ رہے۔

ایک بلاگ پر یہ تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا: "جس سرکاری کوٹھی میں اکتوبر 1984ء سے اگست 1994ء تک رہائش پذیر پذیر رہا۔ اس کے ساتھ 4 کنال کے قریب خالی زمین تھی جس میں سوہانجنا اور امرود کے درخت تھے۔ میں نے لوکاٹ کا ایک، آلو بخارے کے 2 اور خوبانی کے 3 درختوں کا اضافہ کیا، جو عمدہ قسم کے تھے اور دُور دُور سے منگوائے تھے۔ مجھے 1995ء میں ایک دوست کے لیے سوہانجنا کی پھلیوں کی ضرورت پڑی۔ میں وہاں پہنچا تو میدان صاف تھا۔ میرے بعد وہاں گریڈ 20 کے جو افسر آئے تھے بولے ”بہت گند تھا۔ میں نے سب درخت کٹوا دیے“۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ موصوف کو اتنا بھی فہم نہ تھا کہ سُوہانجنا ایک کمیاب درخت ہے۔ اس میں سینکڑوں امراض کا نہایت سستا اور آسان علاج ہے اور درجنوں ایسے امراض کا علاج مہیاء کرتا ہے جو ایلوپیتھک طریقہ علاج میں موجود نہیں۔ سوہانجنا کے استعمال سے کوئی بُرا ردِ عمل (reaction) بھی نہیں ہوتا۔"

سُہانجنا یا سُوہانجنا یا سوجہنی کا درخت بھارت۔ پاکستان اور افغانستان میں ہمالیہ پہاڑ کی شاخوں کے قریبی علاقوں میں اُگنے والا درخت ہے۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ سُہانجنا نامیاتی (organic) قدرتی برداشت ( endurance) اور طاقت کا ضمیمہ (energy supplement) ہے۔ اس کی پھَلیاں اور جڑیں بھی مفید ہیں لیکن سب سے زیادہ کار آمد سُہانجناکے پتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سُہانجنا 300 کے لگ بھگ بیماریوں یا صحت کے مسئلوں میں مفید ہے اور یہ کہ اس کے استعمال کے بُرے اثرات نہیں ہیں۔ یہ بچوں۔ جوانوں اور بُوڑھوں کے لیے بھی مفید ہے۔ سُہانجنا کا استعمال یاد داشت (memory) کو بھی بہتر بناتا ہے۔ اسے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) بھی پچھلی 4 دہائیوں سے بطور سَستے صحت ضمیمہ (health supplement) کے استعمال کر رہی ہے۔

سُہانجنا کے فوائد

‎1۔ جسم کی قدرتی مدافعت بڑھاتا ہے
‎2۔ دماغ اور آنکھوں کو غذا مہیاء کر کے قوت بڑھاتا ہے
‎3۔ جیو(bio) دستیاب اجزاء کے ساتھ حل کو فروغ دیتا ہے
‎4۔ جسم کے خلیے (cell) کی ساخت کو فروغ دیتا ہے
‎5۔ قدرتی صفرائے جامد رقیق مادہ (cholesterol serum) کو فروغ دیتا ہے
‎6۔ چہرے پر جھریوں اور باریک لکیروں کے بننے کو کم کرتا ہے
‎7۔ جگر اور گردے کے کام کو فروغ دیتا ہے
‎8۔ جلد کو خوبصورت بناتا ہے
‎9۔ طاقت کو بڑھاتا ہے
‎10 ہاضمہ بڑھاتا ہے
‎11۔ مخالف تکسیدی عامل (anti-oxidant) کے طور پر کام کرتا ہے
‎12۔ جسم کی قوتِ مدافعت کو بڑھاتا ہے
‎13۔ صحت مند خون کے نظام کو فروغ دیتا ہے
‎14۔ سوزش کو روکتا ہے
‎15۔ صحتمندی کا احساس دلاتا ہے
‎16۔ جسم میں شکر (Sugar) کی سطح قائم رکھتا ہے۔

جن وجوہات جن کی بِنا پر سُہانجنا کی بطور بہترین غذا تعریف کی جاتی ہے، اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے سُہانجنا کو وِٹامِنز، معدنیات اوردوسری انسانی ضروریات سے بھرا ہے

‎1۔ اس کے 100 گرام خُشک پتوں میں خوراک کی مندرجہ ذیل مُفید اشیاء پائی جاتی ہیں: پروٹین۔ دہی سے 9 گُنا، وِٹامِن اے۔ گاجروں سے 10 گُنا، پوٹاشیئم۔ کیلے سے 15 گُنا، کیلشیئم۔ دُودھ سے 17 گُنا، وِٹامِن سی۔ مالٹے سے 12 گُنا، لوہا۔ پالک سے 25 گُنا

‎2۔ اس میں مخالف تکسیدی عامل (anti-oxidant) کی بھاری مِقدار بمع بِیٹا کارَوٹِین۔ قرسِیٹِن موجود ہے

‎3۔ اس میں کلَورَو جِینِک ایسِڈ جو چینی (Sugar) جذب کرنے کی رفتار کو کم کرتا ہے۔ اس سے خون میں شُوگر کم ہوتی اور ذیابیطس کے مرض میں بہتری آتی ہے

‎4۔ پتے۔ پھلیاں اور بیج جَلَن کو کم کرتے ہیں۔ چنانچہ معدے کے الّسر کے علاج میں مُفید ہیں۔ اس کا میٹھا تیل تَلنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور سلاد میں کچا بھی کھایا جاتا ہے۔ تیل فَنگس اور آرتھرائٹس (Fungus & Arthiritis) کے علاج کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے

‎5۔ کولیسٹرول کو صحتمند حدود میں رکھتا ہے

‎6۔ سنکھیا (Arsenic) کے علاج میں بھی استعمال ہوتا ہے

صرف یہی نہیں بلکہ یہ ایسے خامرے اور کیمیائی اجزا پر مشتمل ہے جو دماغ کو بھرپور صحت، بینائی کی تیزی، یاداشت میں بہتری، دماغی سکون، ڈپریشن سے نجات دیتے ہیں۔

پرفیسر شہزاد بسرا کہتے ہیں "پوری دنیا میں سوہانجنا کو ایک کرشماتی پودے کے طور پر جانا جاتا ہے جس کے پتوں، شاخوں اور جڑوں کے ساتھ ساتھ بیجوں میں بھی اہم غذائی اجزاء شامل ہیں۔ اسی وجہ سے یہ درخت غذائی قلت کا بہترین حل ہے۔ یہ پودا اس وقت شہرت کی بلندیوں پر پہنچا اور کرشماتی پودے کے نام سے مشہور ہوا جب افریقہ (سینیگال) میں قحط کے دوران اسے غذائی کمی کوپورا کرنے والے درخت کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ اس درخت کے پتے نہ صرف انسانوں اور جانوروں دونوں کی غذائی ضروریات کو پورا کیا بلکہ اس کے بیجوں سے پانی صاف کرکے پینے کے قابل بنایا گیا۔ اس سے وہاں کے لوگ بہت سی بیماریوں سے محفوظ ہوگئے جو ناصاف پانی پینے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ بہت سی بیماریوں میں اس کے بیج اور تیل روایتی طور پرعلاج کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

"اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی ایک حدیث شریف ہے: "اگر تمہارے ہاتھ میں بیج ہے اور اس کو بونے لگے تھے کہ خبر ملی کہ قیامت آنے کو ہے اور ہر چیز فنا ہوجائے گی تو بھی اس بیج کو بو دو"(مسند احمد:13240) "جو مومن بھی درخت لگائے گا جب تک انسان، پرندے، جانور اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اس کے حق میں صدقہ جاریہ ہو گا" (بخاری:6012)

"اٹھو! نکلو دفتر سے اور اپنے پیارے نبی ﷺ کی حدیث کو زندہ کر دو۔ لگاؤ اپنے ہاتھوں سے مورنگا، عام کر دو یہ کرشماتی پودا اپنے دیس میں۔ "

جاپان سے امپورٹڈ موریناگا بے بی ملک بھی دراصل مورنگا کی صحت بخش غذائی خصوصیات سے مالا مال ہے اور اسی لیے اس کا نام مورنگا سے موریناگا رکھا گیا ہے۔

یعنی کہ اگر اس کے پتوں کا سفوف پچاس گرام کی مقدار میں کھا کیا جائے تو گویا آپ نے دن بھر کے دو وقت کھانے کے برابر غذائیت حاصل کرلی۔ غذائیت بھی متوازن اور ہر طرح کے وٹامنز اور معدنیات و امینو ایسڈز سے بھرپور۔

مورنگا کس طرح استعمال کیا جائے؟
اب آپ کو اس کے استعمال کا طریقہ بتاتے ہیں کہ جس سے آپ اس کرشماتی پودے کی تمام خوبیوں سے فوائد اٹھا سکتے ہیں۔

سوہانجنا کے درخت سے پتے یا شاخیں توڑ لیجیے۔ پتے شاخوں سے الگ کیجیے اور ان کو دھو کر خشک کر لیجیے۔ سائے میں پھیلا کر سکھا لیجیے۔ جب پتے سوکھ جائیں تو ان کو گرائنڈر میں پیس کر پاؤڈر بنا لیجیے اور کسی ایئر ٹائٹ جار میں محفوظ رکھیے۔ روزانہ صبح یا شام ایک چائے کا چمچہ پاؤڈر ڈیڑھ کپ پانی میں خوب اچھی طرح جوش دیجیے اور پھر چائے کی طرح پی لیجیے۔ چاہیں تو مٹھاس کے لیے ایک چمچ شہد بھی ملا سکتے ہیں۔ آپ اس مشروب میں گرین ٹی بھی ملا سکتے ہیں۔

شروع میں ایک چائے کا چمچ پینا شروع کیجیے بعد میں آپ دن میں دو مرتبہ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ زیادہ مقدار میں استعمال نہ کیجیے کہ یہ جسم سے زہریلے مادّے نکالنے کی طاقت رکھتا ہے اور زیادہ مقدار میں لینے کی صورت میں دست آور ہو سکتا ہے۔

جیسا کہ آپ نے پڑھا کہ اس میں تین سو بیماریوں کا علاج موجود ہے جن میں سے بیشتر ایسی بھی ہیں جو لا علاج ہیں۔

بلڈ پریشر، کولیسٹرول، سوزش، جگر کی خرابی، شوگر، اینٹی آکسیڈنٹ یعنی بڑھاپے اور جھریوں کو روکنے والا، جوڑوں میں ورم اور سوزش، موٹاپا، دل کے امراض، دماغی صحت کے لیے بہترین، یادداشت کو انتہائی تیز کرتا ہے، نظر کی کمزوری دور کرتا ہے، دیسی حکمت میں اس کے پتوں کے رس سے سرمہ بنایا جاتا ہے جس کے لگانے سے چشمہ اتر جاتا ہے، دماغ میں سیروٹونن اور ڈوپامائن کی مقدار بڑھاتا ہے جس سے ڈپریشن ختم، طبیعت ہشاش بشاش، جگر کو تمام زہریلے مادوں سے پاک کرتا ہے جس کے نتیجے میں صاف شفاف صحتمند خون، شاداب جلد اور چہرہ، اینٹی بیکٹیریل، زخموں کو جلد بھرنے کی صلاحیت، دنیا کے مہنگے سے مہنگے ملٹی وٹامن کیپسول اور ٹیبلیٹ اور فوڈ سپلیمنٹ اس کے دو چمچ کے سامنے پانی بھرتے ہیں۔ کیونکہ دماغ کو بھرپور غذائیت فراہم کرتا ہے اس لیے بالوں کی نشو و نما کے لیے بہترین۔ طبیعت میں خوشی کا احساس اور زندہ دلی پیدا کرتا ہے۔ جو بچے نحیف اور کمزور ہیں، جن کا وزن نہیں بڑھتا ان کے لیے بہترین فوڈ سپلیمنٹ ہے۔ وزن کم کرنے کے لیے ڈائٹنگ کرنے والے اس کے دو چمچے استعمال کر کے ہر طرح کی کمزوری اور پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

تو دوستو! اس درخت کو اپنے صحن، کیاری، لان، گھر کے باہر، گلی سڑک پر، پارک میں اور ہر وہ جگہ جہاں لگایا جا سکتا ہے، لگائیے۔ یہ پیغام دوسروں تک پہنچائیے۔ خود بھی سوہانجنا کی چائے پیجیے اور تمام گھر والوں کو بھی پلانا عادت بنا لیجیے۔ ان شاء اللہ فوائد آپ خود دیکھیں گے۔

Friday, 9 February 2018

بہتر ہے ، توبہ کر لیں

" بہتر ہے ، توبہ کر لیں "
ہم سب نے مل کر ، اللہ سبحانہ تعالی کے نظام کو حجروں میں قید کر دیا ۔ اسوہ حسنہ سے لاکھوں احادیث جمع کیں اور ان پر مسالک کی تشکیل کردی ۔ آسان ہو گیا کہ اسلام کے نظام سے انحراف کر لیا جائے ۔ جمہوریت سے  دل جوڑ لئے ۔ انگریز کو تہذیب کا سرچشمہ مان لیا اور اسی تہذیب میں داخل ہونے کے جتن کرنے لگے ۔ حد ہو گئی کہ جن سے توقع تھی کہ اللہ سبحانہ تعالی کے نظام کیلئے جہاد کریں گے ، انہوں نے جمہوریت کو دین مان لیا ۔ بڑے بڑے دیندار اسی جمہوریت کی راہ پر چل کر لٹیرے بن گئے ۔ اسلام کا جھنڈا پکڑے جمہوریت کی بساط بچھانے کی کوشش ہونے لگی ۔  مدارس میں دین سکھانے والے خود پرستی کرکے قیادت کیلئے متحرک ہوگئے ۔
آج چور ، لٹیرے ، زانی ، شرابی ، نماز روزے کے منکر ، قرآن کی چند آیات سے  بھی بے خبر اور ظلم کو پالنے والے حکمران بن گئے ۔ کیا تماشا ہے کہ جن کو قانون تلاش کر رہا ہے ، جو عدالت نے مجرم قرار دے دئیے ، وہ سب بریت لیکر مقننہ کے اعلی ترین مقام پر بیٹھیں گے ۔ وہ دستور بنائیں گے ، وہ قوم کی راہ کا تعین کریں گے ۔ وہ عوام کی قسمت لکھیں گے ۔
کیا یہ اللہ کی پکڑ نہیں ۔ پوری قوم جس خوف اور بدامنی کا شکار ہے ، یہ اللہ کیطرف سے تنبیہہ ہے کہ سدھر جاو ۔ امن کے نظام کی طرف لوٹ آو ، توبہ کا دروازہ ابھی کھلا ہے ۔ اللہ کے دستور اور قانون کیطرف مڑ جاو ۔ کہیں بہت دیر نہ ہو جائے اور پکڑ سخت نہ ہو جائے ۔ وقت ہے توبہ کر لو ۔
آزاد ھاشمی

زمین ہماری نہیں

یہ زمین سیارہ انسان کا نہیں ہے ، انسان اس زمین کا ایلین ہے ۔

ڈاکٹر ایلیس سِلور نے اپنی کتاب میں تہلکہ خیز دعوی کیا ہے کہ انسان اس سیارے زمین کا اصل رہائشی نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے سیارے پر تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کے اصل سیارے سے اس کے موجودہ رہائشی سیارے زمین پر پھینک دیا گیا۔

ڈاکٹر ایلیس جو کہ ایک سائنسدان محقق مصنف اور امریکہ کا نامور آرکیالوجسٹ ھے اس کی کتاب میں اس کے الفاظ پر غور کیجئیے۔ زھن میں رھے کہ یہ الفاظ ایک سائنسدان کے ہیں جو کسی مذھب پر یقین نہیں رکھتا۔

اس کا کہنا ھے کہ انسان جس ماحول میں پہلی بار تخلیق کیا گیا اور جہاں یہ رھتا رھا ھے وہ سیارہ ، وہ جگہ اس قدر آرام دہ پرسکون اور مناسب ماحول والی تھی جسے وی وی آئی پی کہا جا سکتا ھے وہاں پر انسان بہت ھی نرم و نازک ماحول میں رھتا تھا اس کی نازک مزاجی اور آرام پرست طبیعت سے معلوم ھوتا ھے کہ اسے اپنی روٹی روزی کے لئے کچھ بھی تردد نہین کرنا پڑتا تھا ، یہ کوئی بہت ہی لاڈلی مخلوق تھی جسے اتنی لگژری لائف میسر تھی ۔ ۔ وہ ماحول ایسا تھا جہاں سردی اور گرمی کی بجائے بہار جیسا موسم رھتا تھا اور وہاں پر سورج جیسے خطرناک ستارے کی تیز دھوپ اور الٹراوائلیٹ شعاعیں بالکل نہیں تھیں جو اس کی برداشت سے باھر اور تکلیف دہ ھوتی ہیں۔

تب اس مخلوق انسان سے کوئی غلطی ہوئی ۔۔

اس کو کسی غلطی کی وجہ سے اس آرام دہ اور عیاشی کے ماحول سے نکال کر زمین سیارے پر پھینک دیا گیا تھا ۔ جس نے انسان کو اس سیارے سے نکالا تھا ۔۔۔  لگتا ہے وہ کوئی انتہائی طاقتور ہستی تھی جس کے کنٹرول میں سیاروں ستاروں کا نظام بھی تھا ۔۔۔ وہ جسے چاہتا ، جس سیارے پر چاہتا ، سزا یا جزا کے طور پر کسی کو بھجوا سکتا تھا۔ وہ مخلوقات کو پیدا کرنے پر بھی قادر تھا۔

ڈاکٹر سلور کا کہنا ہے کہ ممکن ہے زمین کسی ایسی جگہ کی مانند تھی جسے جیل قرار دیا جاسکتا ھے ۔ یہاں پر صرف مجرموں کو سزا کے طور پر بھیجا جاتا ہو۔ کیونکہ زمین کی شکل۔۔ کالا پانی جیل کی طرح ہے ۔۔۔ خشکی کے ایک ایسے ٹکڑے کی شکل جس کے چاروں طرف سمندر ہی سمندر ھے ، وہاں انسان کو بھیج دیا گیا۔

ڈاکٹر سلور ایک سائنٹسٹ ہے جو صرف مشاہدات کے نتائج حاصل کرنے بعد رائے قائم کرتا ہے ۔ اس کی کتاب میں سائنسی دلائل کا ایک انبار ہے جن سے انکار ممکن نہیں۔
اس کے دلائل کی بڑی بنیاد جن پوائنٹس پر ھے ان میں سے چند ایک ثابت شدہ یہ ہیں۔
نمبر ایک ۔ زمین کی کش ثقل اور جہاں سے انسان آیا ہے اس جگہ کی کشش ثقل میں بہت زیادہ فرق ہے ۔ جس سیارے سے انسان آیا ہے وہاں کی کشش ثقل زمین سے بہت کم تھی ، جس کی وجہ سے انسان کے لئے چلنا پھرنا بوجھ اٹھا وغیرہ بہت آسان تھا۔ انسانوں کے اندر کمر درد کی شکایت زیادہ گریوٹی کی وجہ سے ہے ۔

نمبر دو ؛انسان میں جتنے دائمی امراض پائے جاتے ہیں وہ باقی کسی ایک بھی مخلوق میں نہیں جو زمین پر بس رہی ہے ۔ ڈاکٹر ایلیس لکھتا ہے کہ آپ اس روئے زمین پر ایک بھی ایسا انسان دکھا دیجئیے جسے کوئی ایک بھی بیماری نہ ہو تو میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوسکتا ہوں جبکہ میں آپ کو ھر جانور کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ وہ وقتی اور عارضی بیماریوں کو چھوڑ کر کسی ایک بھی مرض میں ایک بھی جانور گرفتار نہیں ہے ۔

نمبر تین ؛ ایک بھی انسان زیادہ دیر تک دھوپ میں بیٹھنا برداشت نہیں کر سکتا بلکہ کچھ ہی دیر بعد اس کو چکر آنے لگتے ہیں اور سن سٹروک کا شکار ہوسکتا ہے جبکہ جانوروں میں ایسا کوئی ایشو نہیں ھے مہینوں دھوپ میں رھنے کے باوجود جانور نہ تو کسی جلدی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی اور طرح کے مر ض میں مبتلا ہوتے ہیں جس کا تعلق سورج کی تیز شعاعوں یا دھوپ سے ہو۔

نمبر چار ؛ ہر انسان یہی محسوس کرتا ہے اور ہر وقت اسے احساس رہتا ہے کہ اس کا گھر اس سیارے پر نہیں۔ کبھی کبھی اس پر بلاوجہ ایسی اداسی طاری ہوجاتی ہے جیسی کسی پردیس میں رہنے والے پر ہوتی ہے چاہے وہ بیشک اپنے گھر میں اپنے قریبی خونی رشتے داروں کے پاس ہی کیوں نا بیٹھا ہوں۔

نمبر پانچ زمین پر رہنے والی تمام مخلوقات کا ٹمپریچر آٹومیٹک طریقے سے ہر سیکنڈ بعد ریگولیٹ ہوتا رہتا ہے یعنی اگر سخت اور تیز دھوپ ھے تو ان کے جسم کا درجہ حرارت خود کار طریقے سے ریگولیٹ ہو جائے گا، جبکہ اسی وقت اگر بادل آ جاتے ہیں تو ان کے جسم کا ٹمپریچر سائے کے مطابق ہو جائے گا جبکہ انسان کا ایسا کوئی سسٹم نہیں بلکہ انسان بدلتے موسم اور ماحول کے ساتھ بیمار ھونے لگ جائے گا۔ موسمی بخار کا لفظ صرف انسانوں میں ھے۔

نمبر چھ ؛انسان اس سیارے پر پائے جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف ہے ۔ اسکا ڈی این اے اور جینز کی تعداد اس سیارہ زمین پہ جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف اور بہت زیادہ ہے۔

انسان کو جس اصل سیارے پر تخلیق کیا گیا تھا وہاں زمین جیسا گندا ماحول نہیں تھا، اس کی نرم و نازک جلد جو زمین کے سورج کی دھوپ میں جھلس کر سیاہ ہوجاتی ہے اس کے پیدائشی سیارے کے مطابق بالکل مناسب بنائی گئی تھی ۔ یہ اتنا نازک مزاج تھا کہ زمین پر آنے کے بعد بھی اپنی نازک مزاجی کے مطابق ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں رھتا ھے۔جس طرح اسے اپنے سیارے پر آرام دہ اور پرتعیش بستر پر سونے کی عادت تھی وہ زمین پر آنے کے بعد بھی اسی کے لئے اب بھی کوشش کرتا ھے کہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ زندگی گزار سکوں۔ جیسے خوبصورت قیمتی اور مضبوط محلات مکانات اسے وہاں اس کے ماں باپ کو میسر تھے وہ اب بھی انہی جیسے بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ جبکہ باقی سب جانور اور مخلوقات اس سے بے نیاز ہیں۔ یہاں زمین کی مخلوقات عقل سے عاری اور تھرڈ کلاس زندگی کی عادی ہیں جن کو نہ اچھا سوچنے کی توفیق ہے نہ اچھا رہنے کی اور نہ ہی امن سکون سے رھنے کی۔ انسان ان مخلوقات کو دیکھ دیکھ کر خونخوار ہوگیا۔ جبکہ اس کی اصلیت محبت فنون لطیفہ اور امن و سکون کی زندگی تھی ۔۔یہ ایک ایسا قیدی ہے جسے سزا کے طور پر تھرڈ کلاس سیارے پر بھیج دیا گیا تاکہ اپنی سزا کا دورانیہ گزار کر واپس آ جائے ۔ڈاکٹر ایلیس کا کہنا ہے کہ انسان کی عقل و شعور اور ترقی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ایلین کے والدین کو اپنے سیارے سے زمین پر آئے ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا ، ابھی کچھ ہزار سال ہی گزرے ہیں یہ ابھی اپنی زندگی کو اپنے پرانے سیارے کی طرح لگژری بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہاہے ، کبھی گاڑیاں ایجاد کرتا ہے ، کبھی موبائل فون اگر اسے آئے ہوئے چند لاکھ بھی گزرے ہوتے تو یہ جو آج ایجادات نظر آ رہی ہیں یہ ہزاروں سال پہلے وجود میں آ چکی ہوتیں ، کیونکہ میں اور تم اتنے گئے گزرے نہیں کہ لاکھوں سال تک جانوروں کی طرح بیچارگی اور ترس کی زندگی گزارتے رہتے۔

ڈاکٹر ایلیس سِلور کی کتاب میں اس حوالے سے بہت کچھ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے دلائل کو ابھی تک کوئی جھوٹا نہیں ثابت کر سکا۔۔

میں اس کے سائنسی دلائل اور مفرو ضوں پر غور کر رہا تھا۔۔ یہ کہانی ایک سائنسدان بیان کر رہا ھے یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقی داستان ہے جسے انسانوں کی ہر الہامی کتاب میں بالکل اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ میں اس پر اس لئے تفصیل نہیں لکھوں گا کیونکہ آپ سبھی اپنے باپ آدم ؑ اور حوا ؑ کے قصے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔۔ سائنس اللہ کی طرف چل پڑی ہے ۔۔ سائنسدان وہ سب کہنے پر مجبور ھوگئے ہیں جو انبیاء کرام اپنی نسلوں کو بتاتے رہے تھے ۔ میں نے نسل انسانی پر لکھنا شروع کیا تھا۔ اب اس تحریر کے بعد میں اس سلسلے کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکوں گا۔۔

ارتقاء کے نظریات کا جنازہ اٹھ چکا ہے ۔۔ اب انسانوں کی سوچ کی سمت درست ہو رہی ھے ۔۔ یہ سیارہ ہمارا نہین ہے ۔یہ میں نہیں کہتا بلکہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیشمار بار بتا دیا تھا۔ اللہ پاک نے اپنی عظیم کتاب قران حکیم میں بھی بار بار لاتعداد مرتبہ یہی بتا دیا کہ اے انسانوں یہ دنیا کی زندگی تمہاری آزمائش کی جگہ ہے، یہ تمہارا مستقل ٹھکانہ نہیں ہے ، جہاں سے تم کو تمہارے اعمال کے مطابق سزا و جزا ملے گی ۔ اچشھے اعمال پر تم کو وہ جنت ملے گی جہاں کی زندگی انتہائی خوبصورت پرسکون اور عیاشی سے بھرپور ہوگی ۔

نبی کریم ﷺ سے کسی نے پوچھا جنت کہاں ہے تو آپ ﷺ نے جواب دیا آسمانوں میں۔۔ اس نے پوچھا جہنم کہاں ھے آپ ﷺ نے جواب دیا اسی زمین پر ۔۔۔

میرا یہ مضمون صرف میرے خاص دوستوں کے لئے ھے ۔۔میں نے اپنے فرینڈز کی تعداد وہی سات آٹھ سو ۔۔ ہی رکھی ہے کیونکہ میں صرف ان کے لئے لکھتا ھوں ۔۔۔۔۔ جن کو میری باتیں سمجھ آتی ہیں۔۔ میری باتیں سب سے ھٹ کے ہوتی ہیں سب کی سمجھ میں نہیں آتی۔

مجنوں

حسینؑ کی راہ

" حسین ؑ کی راہ "
دنیا میں جہاں جہاں مسلمان ہیں ، کسی نہ کسی عتاب کا شکار ہیں ۔ شاید کوئی ایسا خطہ ہو جہاں جبر و استبداد کی حکمرانی نہ ہو ۔ اللہ کی بارگاہ میں کتنی دعائیں اور خشییت کے کتنے آنسو قبولیت سے محروم ہیں ۔ اگر نواسہ رسولؐ بھی کعبے کی چادر تھام کر رو رو کر دعائیں مانگنے لگتے تو شاید یزیدیت کی پہچان نہ ہو پاتی ۔ حسین ؑ کا عمل دیکھیں تو راستہ نظر آتا ہے کہ یزیدیت کی راہ روکنے کیلئے میدان کا انتخاب کرنا پڑتا ہے ۔ جرات کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اللہ اور رسول کی سچی حب ہونا لازم ہے ۔ یہ تو حسینؑ نے بتایا کہ اگر کوئی  جابر ، اقتدار کا حریص ، متاع دنیا کا  پجاری اور احکام ربی کے سرکش کی بات مان لی جائے ، اسکے سامنے سر جھکا دیا جائے ، اس کی رضا پر راضی ہوا جائے تو کربلا کے دکھوں سے جان بچ جاتی ہے ، مگر دین نہیں بچتا ۔ اگر ایمان سلامت رکھنا ہے تو گردن بچانے کی بجائے کٹوانی پڑے تو کٹوا دینا رضائے ربی ہے ۔ اس راہ میں کٹی گردن ابدی زندگی ہے ۔ ایسی زندگی جسے کبھی موت نہیں آتی ۔ ایسی زندگی جس پر ایمان بھی فخر کرتا ہے  ۔ جتنے بھی سجدے کرو ، جتنی بھی ریاضت کرو اگر حسینؑ کی راہ سے فرار ہے تو جبر کا پنجہ یونہی گردن دبوچے رکھے گا ۔ اس کا مظاہرہ ایک تسلسل سے جاری ہے ۔  اور تب تک جاری رہے گا ، جب تک حسینیت کو لبیک نہیں کہا جاتا ۔
یہی وہ راہ ہے جس سے ہم پہلو تہی کئے بیٹھے ہیں ۔
آزاد ھاشمی

مشاہد حسین کے نام

" مشاہد حسین  کے نام "
محترم ! آپ کی درازئی عمر کیلئے دعا گو ہوں ۔ سنا ہے آپ سید بھی ہیں ۔ سنا ہے آپ نہایت تعلیم یافتہ بھی ہیں اور اچھے علم و دانش کے انسان ہیں ۔ یہ بھی سنا ہے کہ آپ اخلاقیات کے مالک بھی ہیں ۔ اتنی ساری خوبیوں کے ساتھ آپ کی سیاسی قلابازیاں سمجھ نہیں آرہی تھیں ، سوچا آپ سے پوچھ لیا جائے اور اپنی بدلتی رائے کا کوئی سبب تو ہاتھ میں ہو ۔ آپ کچھ عرصہ پہلے نواز شریف کی سیاست کا اہم رول تھے ، پھر آپ کو اللہ نے فکر دی کہ اقتدار کی ھما چوہدریوں کے سر پر بیٹھنے والی ہے ، آپ چوہدریوں کی گود میں جا بیٹھے ۔ اب پھر چھلانگ لگائی اور سینٹ کی ایک سیٹ کی ہوس میں پھر نواز شریف کے ساتھ آ دھمکے ۔ آپ کی ساری خوبیاں جو میرے نظر میں آپ کا سرمایہ تھیں ، ایک دنیاوی ہوس تلے دب گئیں ۔ آپ نے سادات کی لاج ہی رکھ لی ہوتی ، کہ بہت ساری کرپشن میں ثابت شدہ شخص کی ڈھارس میں کھڑے ہو جانا تو سادات کی شان نہیں ۔ یہ سارا علم و شعور آپ کو اتنا بھی نہیں سکھا سکا کہ انسان کا کردار اسطرح کی اڑانوں سے داغدار ہو کر رہ جاتا ۔ حیران ہوں کہ آپ جیسے ٹوپی بدل لوگ سینٹ میں بیٹھ کر ملک کی بھلائی میں کیا کردار ادا کریں گے ۔ محترم ! ہر انسان کو اللہ نے ضمیر نام کی حس سے نواز رکھا ہے ، جو ہر برائی پہ گھنٹی بجا دیتی ہے ۔ کیا آپ کے پاس یہ حس نہیں تھی ۔ یا اس نے گھنٹی بجانا چھوڑ دی ہے ۔ ایک مہربانی فرمائیں ، سینٹ میں بیٹھ کے اسے اللہ کی عطاء سمجھ کر سچ کے ساتھ رہنا ۔ نواز شریف کا احسان مان کر ملک دشمنی نہ کرنا ۔ قوم بہت مایوس ہے ۔
والسلام
آزاد ھاشمی