" شراب اور شرابی "
شنید ہے کہ ایک ہندو نے اسمبلی میں بل پیش کر دیا کہ شراب پینا ، ہر مذہب میں حرام ہے ۔ پاکستان میں دئیے گئے لایسنس منسوخ کر دئیے جائیں ۔
یوں لگتا ہے کہ یہ بھولا بھالا ہندو ، شرابیوں کے مزاج سے اگاہ ہی نہیں ۔ اور یہ بھی نہیں جانتا کہ اسمبلی میں بیٹھے پارساوں کی شراب کے بغیر صبح نہیں ہوتی ۔ یہ شراب اور شباب ہی تو ہے جو اسمبلی کے اکثر ممبران کا شوق ہے ۔ اسی پر تو انکی بہادری قائم ہے ۔ شراب نہیں پئیں گے تو رات کو اپنے کرتوت یاد کر کے سو نہیں سکیں گے ۔ بھڑکیں مارنے کیلئے تو جرات کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ جرات صرف شراب میں ہے ۔ اسلام میں تو بہت کچھ حرام ہے ، اگر شراب چھوٹ گئی تو وہ سارے حرام بھی چھوڑنے پڑیں گے ۔ مسلمانوں کو ایک غیر مسلم بتا رہا ہے کہ تمہارا رب اور تمہارا رسولؐ تمہیں اس " ام الخبائث " سے روکتا ہے ۔ اپنے وطن کو اس الائش سے پاک کرو ۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ اسلام کا دعوی کرنے والوں نے اللہ کی حرام کی ہوئی چیز کو حرام اور ممنوع قرار دینے کا بل اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ۔ شرابیوں نے شراب کی لاج رکھ لی ۔ اللہ کے قانون کا لحاظ رکھے بغیر ،شراب کی عزت خراب نہیں کی ۔ کیا ایسے لوگوں کی دعائیں کبھی سنی جائیں گی ؟ کیا ان خبیثوں سے کوئی محاسبہ ہو گا ؟ کیا درباری ملا ، حکمرانوں کے کان میں ادب و احترام سے پھونک ماریں گے کہ صاحب شراب اسلام میں قطعی حرام ہے ۔ ہندو سچ کہہ رہا ہے ۔ یا حکمرانوں کو چسکیاں لیتے ہوئے دیکھتے رہیں گے ۔
آزاد ھاشمی
١٢ دسمبر ٢٠١٨
Saturday, 15 December 2018
شراب اور شرابی
یہود کا فیس بک ، یہود کی پیپسی
" یہود کا فیس بک ، یہود کی پیپسی "
اگر کسی معاملے پر اسلام کا کوئی موقف دہرایا جاتا ہے تو چبا چبا کر انگریزی بولنے والے دانشور ایک مشورہ دیتے ہیں
" اگر آپ کو اسلام سے اتنا ہی پیار اور کفر سے اتنی ہی نفرت ہے تو پھر انگریز اور کفر کی ایجادات استعمال کرنا چھوڑ دیں ۔ جب آپ کی بات میں وزن ہو گا وگرنہ آپ منافق ہیں "
یہ ہے دلیل کہ اپنی زبانیں بند کر لی جائیں اور اسلام کے ساتھ ہونے والے کھلواڑ کا تماشا کیا جائے ۔ ان دانشوروں میں اکثر " ممی ڈیڈی " والے برگر ہوتے ہیں ، یا وہ جن کو انگریزوں کے در پہ نوکریاں ملی ہوئی ہیں ۔
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کا یہ رویہ کہ وہ کفار کی ایجادات کے بغیر ادھورے ہو جاتے ہیں ، تشویشناک ضرور ہے ۔ فکر کی بات ہے کہ ہم نے اسلام کو شلوار کے پائنچے ، نماز میں ہاتھ باندھنے کے طریقے اور کہانی قصوں تک محدود کر دیا ہے ۔ اسلام کو سمجھنا چاہئے تھا کہ اصل پیغام کیا ہے ۔ جس میں ہم مسلسل کوتاہی کرتے آئے ہیں اور کرتے جا رہے ہیں ۔ مگر اسکا یہ قطعی مطلب نہیں کہ اگر ہم یہود و نصاریٰ کی ایجادات استعمال کرنے کے بعد ان پر تنقید یا اپنی مدافعت کا حق کھو بیٹھے ہیں ۔ یہ تجارت ہے اور ہم انکی اشیاء کی قیمت ادا کرتے ہیں ۔ دشمن کی ترکیب کو ناکام کرنے کیلئے اسکے ہتھیار اسی کے خلاف استعمال کرنا بھی حکمت عملی ہے ۔ اچھا تو یہی تھا کہ ہم اپنے ہتھیار خود تیار کرتے۔ فیس بک ایک سماجی ہتھیار ہے جس سے ذہن تبدیل کئے جا رہے ہیں ، اس سے بے خبری ہمارے مفاد سے ٹکراو ہے ۔ اسی ہتھیار کو مدافعت کیلئے استعمال کرنا حماقت بھی نہیں اور کمزوری بھی نہیں بلکہ دانشمندی ہے ۔
ہونا یہ چاہئے کہ مسلمانوں کو اس طرف مائل کیا جائے کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی حاصل کریں ، نہ کہ یہ کہا جائے کہ اسلام کی رٹ لگانا بند کرو اور کفر کے لباس پہنتے ہو تو کفر کا عقیدہ ، عادات و اطوار بھی اختیار کر لو ۔ طاغوت کو موقع دو کہ وہ تمہاری گردن دبوچ لے ۔
آزاد ھاشمی
١٢ دسمبر ٢٠١٨
گناہ میں شراکت داری
" گناہ میں شراکت داری "
قانون ساز اسمبلی میں ایک بل پیش ہوتا ہے ، بل پیش کرنے والا ہندو ہے جو بہت سارے خداوں کو اپنا معبود مانتے ہیں ۔ وہ اقرار کرتا ہے کہ " شراب " ایک برائی ہے اور اس برائی سے اللہ بھی روکتا ہے ، رسول اللہ بھی ، قرآن بھی ۔ بائبل بھی ، گیتا بھی اور سکھوں کی گرنتھ بھی ۔ مگر اسمبلی والوں سے رائے لی جاتی ہے کہ اللہ کے قانون کو لاگو کرتے ہوئے ، اس پر پابندی لگائی جائے ۔ اسمبلی میں اللہ کے ماننے والے ، رسولؐ کی رسالت کی گواہی دینے والے ، جن کے کانوں نے پہلی آواز " اللہ اکبر " سنی تھی ۔ اللہ کے حکم کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اصل قانون " انسانوں کی اکثریت " کا ہے ۔ پس ہم انکار کرتے ہیں کہ شراب پر پابندی نہیں لگائیں گے ۔ اور یہ مان لیا جاتا ہے ۔
دیکھنا یہ ہے کہ اسمبلی میں بیٹھے لوگ ، یہاں اس اختیار کے ساتھ کس نے بٹھا رکھے ہیں ۔ ان کی طاقت کے پیچھے کونسا ہاتھ ہے کہ یہ اللہ کے حکم کو " رد " بھی کرتے ہیں اور معتبر بھی ٹھہرتے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کفر میں شراکت دار کون کون ہے ؟
میری رائے میں وہ تمام جو ان کو ووٹ دیکر یہاں لائے ہیں ، اس انکار کے مجرم ہیں ۔ میرے خیال میں وہ قانون مجرم ہے جو انکو اسلام کے منافی قانون بنانے کا اختیار دیتا ہے ۔ میری رائے میں ہر وہ شخص مجرم ہے جو اس فیصلے کی اعانت کرتا ہے ، وہ بھی اس گناہ میں شریک ہے جو خاموش رہتا ہے ۔
اگر ایسے معاشرے کو زوال آ جاتا ہے ، تو اس میں تعجب نہیں ہونا چاہئے ، کیونکہ جس نے بھی اللہ کے قانون سے ٹکر لی ہے وہ معتوب ہوا ہے ، اسے دنیا میں نشان عبرت بنایا گیا ہے ۔
اپنا اپنا احتساب کیا جانا چاہئے کہ ہم اس جرم میں شریک ہیں یا نہیں ؟ دیکھنا ہو گا کہ اگر میرا نمائندہ اس جرم میں شامل ہے تو میں بھی شریک ہوں ، کیونکہ میں بھی اسکی طاقت کا ایک حصہ ہوں ۔
آزاد ھاشمی
١٣ دسمبر ٢٠١٨
اکثریت کیا چاہتی ہے؟
" اکثریت کیا چاہتی ہے ؟ "
جمہوریت ، اکثریت کا نام ہے ، جو اکثریت چاہے گی ، وہی قانون ہے ، وہی روایت ہے اور وہی اصول ہے ۔ اگر ہم اکثریت ہی کے فیصلوں کو ماننے لگیں تو اکثریت ووٹ ہی نہیں دیتی ۔ ایک تہائی کے لگ بھگ ووٹ ڈالے جاتے ہیں اور دو تہائی ووٹ سے کوئی دلچسپی ہی نہیں رکھتے ۔ اکثریت کی رائے ہی کو مان لیا جائے تو ووٹ کا کھیل ناکام ہے ۔
جب سے انسان کا وجود ہے ، تب سے اکثریت باطل کی رہی ، اقتدار اور طاقت بھی اکثریت کے ہاتھ میں رہی ، حق ہمیشہ اقلیت میں رہا اور ہمیشہ دباو کا شکار رہا ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی اصلاح کیلئے انبیاء کا طویل سلسلہ جاری رکھا ۔ مگر کبھی نہیں ہوا کہ اکثریت انبیاء کیطرف آن کھڑی ہوئی ہو ۔ حضرت نوحؑ سینکڑوں سال حق کیطرف بلاتے رہے ، انجام کہ چند لوگ کشتی میں سوار ہوئے اور باقی سب غرق ہوگئے ۔ یہی چند کشتی والے بھی طوفان تھمنے تک ساتھ رہے ۔ حضرت عیسیٰؑ کے ساتھ کل بارہ ساتھی اور وہ بھی حکمرانوں کے خوف سے خاموش کونوں میں دبک گئے ۔ اللہ کے آخری نبیؐ کے ساتھ بھی اقلیت اور ان میں بھی زیادہ تر کسمپرسی کی حالت میں ۔ کہ کبھی آپؐ کو شعب ابی طالب میں پناہ لینا پڑی ، کبھی طائف پہ پتھر کھانے کی نوبت آئی ، حتی کہ اپنا ابائی گھر بار چھوڑنا پڑا ۔ حضرت حسینؑ کے ساتھ لگ بھگ سو لوگ اور یزید کے ساتھ ایک ان گنت افراد کا لشکر ، جانتے ہوئے بھی کہ نواسہ رسولؐ حق پہ ہیں ، عوام کی رائے یزید کے ساتھ ہوگئی بھلے وہ خوف سے تھی ، مصلحت کے تحت تھی یا سیاست کے تحت یزید نے حاصل کی ۔ گویا اکثریت ہمیشہ طاغوت کے ہاتھ میں رہی ۔ اور حق ہمیشہ امتحان میں ۔
اسوقت بھی اکثریت آزاد خیالی کے ساتھ کھڑی ہے اور اقلیت اللہ کے نظام پر تھوڑا بہت واویلا کرتی رہتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز فتح حق ہی کو نصیب ہوگی ۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ " ایک روز " کب آئے گا ۔ اگر جہد مسلسل کی بجائے معجزوں کی تلاش جاری رکھی تو شاید وہ " ایک روز " ہم بھی نہ دیکھ سکیں اور ہماری نسلوں کو بھی نصیب نہ ہو ۔
اگر جمہوریت یعنی اکثریت کی رائے کا نظام قبول کئے رکھا تو وہ دن بھی شاید زیادہ دور نہیں ، جب دین کے ہر فیصلے اکثریت رائے سے ہوا کریں گے ، آج شراب کو قبول کیا ، کل زنا پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا ، پرسوں اگر قاتل طاقتور ہے تو اسے قتل کی اجازت بھی مل جائے گی ۔ گناہ اسوقت تک گناہ ہے جب تک اللہ کا قانون لاگو ہے ، جب اکثریت کے فیصلے پر سر جھکانے کی عادت پکی ہوگئی تو گناہ ، گناہ نہیں ثواب بن جائے گا ۔ ناچ گانا ثقافت ہو جائے گا اور نماز روزہ پرانے وقتوں کی مجبوری کہلائے گا ۔
کیا ہم اس کا انتظار کرتے رہیں گے؟ یا اسے روکنے کا تردد بھی کریں گے ؟
آزاد ھاشمی
١٤ دسمبر ٢٠١٨
Tuesday, 11 December 2018
عبادت اور تفریق
" عبادت اور تفریق "
پوری امت مسلمہ اللہ احکامات کے مطابق عبادت کا فرض نبھانے کا ہر جتن کرتی ہے۔ نمازوں کو پابندی اور لگن سے ادائیگی پر توجہ دینے کو نجات کا اولین فرض خیال کیا جاتا ہے ۔ یہ بھی عقیدے کا حصہ ہے کہ نماز کی کوتاہی بخشش کی راہ میں رکاوٹ ہوگی ۔ ایسے ایسے نماز گذار بھی ہیں جن کی پیشانی پر سجدوں کے نشان واضع ہوتے ہیں ۔ اسی طرح حج اور عمرے کی ادائیگی پر بھی خصوصی توجہ رہتی ہے ۔ کچھ تو ایمان کے اس درجے پر فائز ہو چکے ہیں کہ انہیں یاد بھی نہیں کہ کتنے عمرے کر لئے ہیں اور ہر سال حج کرنے والے بھی بیشمار ہیں ۔ زکوٰة دینے والے بھی ہیں جو ایک ایک پائی کا حساب کر کے زکوٰة ادا کرتے ہیں ۔ روزہ دار بھی کمال کا حق ادا کرتے ہیں کہ فرض روزہ چھوٹنے کا سوال ہی نہیں بلکہ نفلی روزوں کا بھی فرض کیطرح اہتمام کرتے ہیں ۔ اللہ اجر عطا فرمائے ۔
یہ فرائض تو اللہ تعالیٰ کیطرف سے لگائی گئی ذمہ داریاں ہیں ۔ یہ سب اللہ اور بندے کے درمیان طے ہیں ۔ اللہ کا ہر حکم اٹل اور پورا کرنا اسی طرح ضروری ہے جس طرح ابتدائی ارکان اسلام ۔ مگر یہاں ہم نے کوتاہی کرکے اپنی تمام عبادات کی قبولیت کو مشکوک بنا لیا ۔ مسجد اللہ کا گھر تھا اور اللہ کا گھر ہے ۔ یہ وہ جگہ جہاں ہر سجدہ کرنے والے کو حق ہے کہ وہ سجدہ کر سکے ۔ مسجد کے ماتھے پر ہم نے اپنے مسلک کا نام کندہ کر کے اسے مسلک کا دفتر بنا دیا ہے ، اللہ کا گھر نہیں رہنے دیا ۔ ہم نے مساجد میں تفریق پیدا کردی ۔ ہم نے روزہ رکھنے میں بھی اوقات میں تفریق کو بنیاد بنا لیا ۔ اللہ نے حکم دیا کہ
" اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو "
کیا اس حکم عدولی کے بعد ہماری عبادات کا مقام باقی رہ جاتا ہے؟ ہم اپنے مالک کی ایک بات مانتے ہیں اور دس نہیں مانتے تو کیا مالک ہم سے خوش ہو گا ۔ اللہ نے ذخیرہ اندوزی سے منع کیا ، زائد از ضرورت اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم ہے ، تو گنتی کرکے دی گئی زکوٰة افضل تھی یا ذخیرہ اندوزی نہ کرنا ۔
ہمیں عبادات کے ساتھ ساتھ یہ تفریق بھی ختم کرنا ہوگی کہ کونسا حکم مان لیا جائے اور کونسے حکم پر آنکھیں موندھ لی جائیں ۔ من و عن احکامات ربی ماننے ہونگے وگرنہ جبیں پر پڑا ہوا نشان ، مشقت کا نشان ہے عبادت کا نہیں ۔
آزاد ھاشمی
١١ دسمبر ٢٠١٨
اھدنا الصراط المستقیم
" اھدنا الصراط المستقیم "
ہم ہر نماز میں کئی کئی بار اللہ سبحانہ تعالی سے دعا کرتے ہیں .
اے اللہ تو رب العالمین ہے . تو رحمان ہے رحیم ہے . ہماری مدد فرما کہ ہمیں صراط المستقیم پر چلا , سیدھے راستے پہ چلنے کی ہدایت فرما . صراط المستقیم دکھا .
دعا میں نہ شعور شامل نہ توجہ اور نہ ہی ارادہ . اللہ سے مانگتے ہوئے بھی دنیا داری کے مکر اور چالاکیاں . اللہ ارادوں کو جانتا ہے , دل کے بھیدوں سے اگاہ ہے . نیت سے واقف ہے . وہ جانتا ہے کہ ہماری یہ دعا ایک رسم کی طرح ادا ہو رہی ہے . یہ دعا صرف زبان کی ادائیگی تک محدود ہے . اللہ نے صراط مستقیم اور ہدایت کیلئے بالکل عام فہم , بلیغ اور آسان زبان میں اپنی کتاب نازل فرمائی جو صراط مستقیم کی کھول کھول کر وضاحت کرتی ہے . اپنے حبیب کو بھیجا , جس کے اسوہ سے ایک ایک لمحہ صراط مستقیم کو دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے . آل نبی کی زندگیاں اور شہادتیں صراط مستقیم کی پہچان کیلئے کافی ہیں . پھر وہ کونسی کمی باقی رہ گئی کہ ہمیں صراط مستقیم نظر نہیں آتی . ہم گمراہوں اور مغضوبین کو رہنما بنائے بیٹھے ہیں , انکی زندگیاں ہماری خواہشات کی اولین ترجیحات ہیں . اللہ کی دکھائی ہوئی راہ , بنائے ہوئے قوانین , عمل کے راستے اور حدود کو چھوڑ کر انسان کے علم و فکر کی راہیں اختیار کر رکھی ہیں . اس دوغلے پن سے ہم جو بھی کہتے ہیں . نہ اللہ سنتا ہے نہ قبول فرماتا ہے . یہی وجہ ہے کہ ہمارے رکوع , ہمارے سجدے ہماری دعائیں سب ایک رسم بن کر رہ گئی ہیں . نہ زہد باقی , نہ عبادت نہ ریاضت . قران نازل فرمایا پڑھنے , سمجھنے اور عمل کیلئے . ہم نے اسے طاق میں رکھا اور مسالک پر تحقیق شروع کر دی . اور صراط مستقیم کی ہدایت مانگ رہے ہیں . اس دورخی پر وہی ہونا چاہئیے تھا جو ہو رہا ہے . بیت المقدس پر یہود کا تسلط , حرمین شریفین کے خادمین پر عیسائیوں کے ارادوں کا اثر . امن کی جگہیں عبادت گاہیں ہوا کرتی تھیں اب خوف کی جگہیں بن گئیں . مساجد اللہ کا گھر , جو چاہے اللہ کی عبادت کرے , اب مساجد مسالک کی ہو گئیں . سب یہی کہتے ہیں .
" اھدنا الصراط المستقیم "
مگر کوئی نہیں پڑھتا .
" واعتصمو بحبل اللہ جمیعا و لا تفرقو "
ازاد ھاشمی
11 دسمبر 2017
Monday, 10 December 2018
ہماری ترقی کے راز
" ہمارا ترقی کے راز "
دنیا میں ایک ہی اصول کار فرما ہے کہ اپنی تجارتی منڈیاں بڑھاو ۔ تجارتی منڈیاں بڑھانے کا ایک ہی گر ہے کہ آپکی اشیاء معیاری ہوں اور قیمت میں سستی بھی ہوں ۔ تیسرا اہم اقدام یہ ہے کہ آپ اپنی مصنوعات کو منڈیوں میں متعارف کرانے میں متحرک ہوں ۔ یہی وہ گر ہیں جو ترقی یافتہ ممالک نے اپنائے ۔ ہم ناکام ہوگئے اور آہستہ آہستہ عالمی منڈیوں سے باہر نکل گئے ۔ ہم معیاری اشیاء اس لئے نہیں بنا سکے کہ کرپشن ہماری جڑوں میں بیٹھ چکی ہے ۔ چند روز پہلے پاکستان کی معروف کمپنی کا باسمتی چاول دیکھنے کا اتفاق ہوا ، بہترین پیکنگ میں " مرغیوں کی خوراک " والا ٹوٹا پھوٹا بد بو دار چاول تھا ۔ اس میں تاجر کی بد دیانتی کے ساتھ ساتھ وہ ادارے بھی شامل تھے ، جنہوں نے یہ چاول ملک سے باہر جانے دیا ۔ جہاں تک قیمت کا سوال ہے ، جب ایک صنعتکار بجلی کے بل پر بھی ٹیکس دے گا ، خام مال کی خریداری پہ ٹیکس دے گا ، برآمد کنندگان کو بیچنے پر بھی ٹیکس دے گا ، جب ہر مرحلے پر ٹیکس " اپ لوڈ " ہوتا جائے گا تو کیسے ممکن ہے کہ بین الاقوامی منڈی ہمارے ہاتھ میں رہے ۔ جہاں تک اپنی مصنوعات کو متعارف کرانے کا تعلق ہے تو ہمارے سفارتکار اپنی توہین سمجھتے ہیں کہ وہ مارکیٹ کا جائزہ لینے کیلئے خود نکلیں ۔ وہ یا تو سفارشی چودہری ہوتے ہیں یا پھر کلف زدہ گردن والے جرنیل ۔ وہ کسی بھی مقامی چپڑاسی کو مارکیٹ میں بھیج کر " نو سکوپ " کا مژدہ سنا دیتے ہیں ۔ ایکسپورٹ پرموشن والے " جھوٹی سچی " نمائش کا اہتمام کرتے ہیں اور اس میں چند مخصوص لوگ مستفید ہوتے ہیں ۔
ایک محب وطن شہری ، بولے گا ، شور مچائے گا تو اسکے اپنے لوگ اسے " چریا " کہیں گے ۔
یہ ہیں ہماری ترقی کے چند بنیادی راز ۔
" آزاد ھاشمی "
١٠ دسمبر ٢٠١٨
خسارے کا بجٹ اور ترقی کی امید
" خسارے کا بجٹ اور ترقی کی امید "
ہم جیسی بھولی بھالی قوم شاید ہی دنیا میں ہوگی ۔ جہاں تک مجھے یاد ہے کہ ہر سال بجٹ میں ہم یہی سنتے ہیں کہ اس سال خسارے کا بجٹ ہو گا ، اور پھر بجٹ میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس بجٹ میں ترقیاتی فنڈ رکھے گئے ہیں ۔ خسارے کا بجٹ اور ترقیاتی فنڈ وہ لولی پاپ ہے جو قوم کو ایک ساتھ دے کر ٹیکس لگا دئیے جاتے ہیں ۔ شاید کوئی معیشت کا ماہر سمجھا سکے کہ ہم بجلی استعمال کرتے ہیں ، بجلی کی پیداوار پر اٹھنے والے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے بجلی کی قیمت وصول کی جاتی ہے ۔ پھر اس بل پر ٹیکس کا کیا جواز ہے ؟ وغیرہ وغیرہ ۔
کیا کوئی بتائے گا کہ خسارہ پورا کرنے کیلئے جب ٹیکس لگا لئے جاتے ہیں تو پھر قرضے کیوں لئے جاتے ہیں ۔
کیا کوئی جواز ہے کہ جو ملک قرضوں پر چل رہا ہو ، ٹیکس پر بھی ٹیکس دے رہا ہو اس ملک میں وزیر کو دس پندرہ لاکھ کی مراعات کیوں دی جاتی ہیں ۔ اسمبلی میں آنے والے تو خدمت خلق کے جذبے سے انتخابات لڑتے ہیں اور سارے کے سارے خوشحال در خوشحال ہوتے ہیں ۔ پھر انکو مراعات میں اربوں روپیہ ہر سال کیوں اڑا دیا جاتا ہے ؟ کیا دستور میں ہر گریڈ کے افسر کی مراعات کا کلیہ طے نہیں ۔ کیا اکیس گریڈ کا استاد بھی اتنی ہی مراعات لیتا ہے جتنی ایک جسٹس اور جنرل کو ملتی ہیں ؟
جب خسارہ ہے تو وہ اخراجات کیوں کم نہیں کئے جاتے ، جو غیر پیداواری ہیں ؟
جو وزارتیں ، شعبے اور ادارے " شو بازی " کے سوا کچھ نہیں کرتے ، انکو ختم کر دینے میں کیا دشواری ہے ؟
یہ سرکاری سانڈ پالنے کیلئے مہنگائی کا " جن " اور ٹیکسوں کے " بھوت " کھول کر خسارہ کیسے پورا ہو گا ؟
خدا را ادھر توجہ کی جائے کہ بجٹ میں خسارے کی وجوہات کو ختم کیا جائے ۔ قرضہ از خود خسارے کی وجہ ہے کیونکہ ہم جو قرضہ لیتے ہیں ، اس پر سود اور پھر اس قرضے کو غیر پیداواری عیاشیوں پر خرچ کر دیا جاتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٠ دسمبر ٢٠١٨
Sunday, 9 December 2018
یا رحیم یا کریم
" یا رحیم یا کریم "
جانتا ہوں تیری پاک ذات سے مایوسی کفر ہے . جانتا ہوں کہ تو شہ رگ سے قریب ہے . ایمان ہے کہ تو اپنے بندوں سے ستر ماوں کے پیار سے زیادہ پیار کرتا ہے . مانتا ہوں کہ تیرا ذکر دلوں کو طمانیت دیتا ہے . سب ٹھیک سب درست . مگر انسان ہوں , کمزور ہوں , خطاکار ہوں . نہ عابد ہوں کہ عبادت کا حق ادا کر سکوں . نہ زاہد ہوں کہ زہد کے رموز سمجھ لوں . چند سجدے اور وہ بھی خشییت سے خالی ہیں انہیں بھی عبادت نہیں کہہ سکتا . شعور اور اعصاب مفلوج ہوتے جا رہے ہیں . تیری رحمتیں میری تمام عبادتوں سے کہیں بڑھ کر ہیں . حق شکر بھی ادا نہیں کر سکتا . مانگتا ہوں جو دل اور دماغ چاہتا ہے . تیری ذات کے , تیری رضا کے تیرے دینے یا نہ دینے کے اپنے پیمانے ہیں . اس پر بھی دل ملول ہو جاتا ہے کہ یہ کیوں نہیں ملا , وہ کیوں نہیں ملا . اپنے سے اوپر دیکھتا ہوں تو شکایت ہوتی ہے کہ آخر مجھے کیوں محرومی ہے . اپنے سے نیچے دیکھتا ہی نہیں . یہ اضطراب , بے چین کرتا ہے . بس اپنی رضا پر رہنے کی سوچ دے دے . جو عطا کیا ہے اس پر شکر کرنا سکھا دے . اعمال کی روش کو درست کرنے کی فکر دے دے . وہ علم دے دے جو سچائی کی راہنمائی میں کام آئے . وہ الفاظ دے دے جو کسی بھی انسان کی فلاح بن جائیں . اپنی خطاوں پر ندامت کا احساس بخش دے .
اے کریم ! جس دنیا کے حصول میں عمر گزار دی , اب باقی عمر سیدھے راستے پر چلنے کی ہمت دے دے . اے قادر مطلق ! موت کو برحق مانتا ہوں . زندگی بھی کشش رکھتی ہے . موت دے تو اپنی راہ پہ دے , زندگی دے تو اپنے بندوں کی بھلائی کی سوچ بھی دے . دل اضطراب میں ڈوب رہا ہے , جیون سے طبیعت اچاٹ ہو رہی ہے . اے قادر مطلق ! رحم فرما . جن مضبوط اعصاب سے نواز رکھا تھا ان اعصاب کی شکستگی کے عذاب میں مبتلا نہ کر . شاکر رہنے کی طاقت بخش دے . اے اللہ ! میری کمزوریوں کو نہ دیکھ اپنی شان کو دیکھ . تجھے تیری عظمت کا واسطہ . جو کہا وہ بھی سن لے جو نہیں کہہ سکا وہ بھی سن لے .
ازاد ھاشمی
10 دسمبر 2016