" راو انوار سے آسیہ مسیح تک "
ایک الجھن روز بروز بڑھتی جا رہی ہے کہ ہمارے ملک کی سپریم عدالت کا حکمران قوم کیلئے مسیحا ہے یا قوم کیلئے مصیبت ۔ وہ کسی دستور کے تابع ہے یا سارے دستور اسکی مرضی کے تابع ہیں ۔ اسے بھی کوئی پوچھنے والا ہے یا وہی سب کا محتسب ہے ۔ وہ بھی کسی کا ماتحت ہے یا سارا نظام اسکا ماتحت ہے ۔ کیا ایک عادل ہونے کے ناطے اسے یہ اختیار قانون دیتا ہے کہ جس کی چاہے اخبارات اور میڈیا پر شلوار اتار دے یا اس نے از خود اسے اپنے اختیارات کا حصہ بنا لیا ہے ؟ اسکی مرضی ہے کہ جس کو جب چاہے غلام سمجھ کر بلا لے ۔ کوئی وکیل ، کوئی قانون دان ، کوئی قانون ساز ، کوئی سینٹ اسکی حدود سے اگاہ ہے کہ وہ جو کر رہا ہے ، سب درست ہے یا سب غلط ۔ کلمہ شہادت کا جو ترجمہ چاہے فیصلے میں لکھ دے ، کیا اسے درست مان لینا ہوگا؟
آسیہ مسیح مجرم تھی یا نہیں ، اسکے خلاف ثبوت نا کافی تھے ، اسے کئی سال جیل میں رکھنے کا مجرم کون ؟ ایک عدالت کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری اور چوتھی عدالتیں سب پر احمق بٹھا رکھے تھے جو بغیر ٹھوس شواہد کے اسے مجرم کہتے رہے ؟ یہ ایک ایسی الجھن ہے جو قاضی کی نیت میں شک کو جنم دیتی ہے ؟
اس قانونی حماقت کا ذمہ دار کون ؟
کسی بیگناہ کو سزا نہیں ملنی چاہئیے ، بھلے اسکا مذہب کچھ بھی ہو ۔ یہ اسلام کا اصول اور قاعدہ ہے ۔ کسی گناہ گار کو رعایت بھی نہیں ملنی چاہئے ۔ توہین رسالت کا معاملہ ملک کی اکثریت کا جذباتی معاملہ ہے ۔ اس پر اتنی آسانی سے سارے شواہد جھٹلا دینا ، سوچ سمجھ سے بالا تر ہے ۔ اور یہ قوم کو متشدد روئیے کیطرف اکسائے گا ۔
آسیہ کا معاملہ اور راو انوار کا معاملہ عدل کے دو متضاد پہلو ہیں ۔ آسیہ کو چھوڑنے میں اتنی سرعت اور راو انوار کو پکڑنے میں اتنی ڈھیل فیصلوں پر سوال ہے ۔ شاید جسٹس صاحب کے علم میں ہوگا کہ چند روز پہلے کچھ استاد ہتھکڑیوں میں عدالت لائے گئے ۔ ان پر کسی قتل کا الزام نہیں تھا ، راو انوار اکڑ کر آیا اور چیف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی ، اس پر بیشمار قتل کا الزام تھا ۔
آسیہ پر الزام ثابت نہیں ہوا تو قوم کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا ۔ کوئی بھی مسلمان نہیں چاہے گا کہ کسی بے قصور کو سزا دی جائے اور کوئی بھی مسلمان قبول نہیں کرے گا کہ توہین رسالت کے مجرم کو چھوڑ دیا جائے ۔
اس کو کسی احسن طریقے سے نپٹا لینا چاہئے تھا ۔ قاضی کو اپنی دھونس سے اجتناب کرنا چاہئے ۔
آزاد ھاشمی
٣١ اکتوبر ٢٠١٨
Thursday, 1 November 2018
راو انوار سے آسیہ مسیح تک
اصل ضرورت کیا ہے
" اصل ضرورت کیا ہے ؟ "
قانونی سقم ہے کہ کچھ عدالتیں اس بات سے متفق تھیں اور انہوں نے سزا دی ۔ انہوں نے کن شواہد پر سزا دی ، ظاہر ہے وہ فیصلے کے ساتھ لکھے ہونگے ۔ انکے پاس ٹھوس ثبوت ہونگے ۔ اب جس عدالت نے بری کر دیا ہے ، اس کے پاس بھی ٹھوس ثبوت ہیں ۔ اب جو ثبوت سامنے آئے ہیں ، ان پر ہر جاہل اور دانا شخص قائل ہو جائے گا کہ سزا ناجائز تھی ۔ مگر وہ دلائل بھی تو سامنے آنے چاہیں جو ماتحت عدالتوں نے سزا کے ساتھ لکھے تھے ۔ تاکہ یہ فیصلہ ہو سکے غلط کون تھا اور صحیح کون ۔ یہ ساری کہانی بالکل اسی طرح ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدالت کے حاکم نے ہسپتال سے خود شراب پکڑی اور اگلے دن وہ زیتون کا تیل اور شہد تھی ۔ کہاں گئی عدالت ، کہاں گیا قانون اور کیا ہوا اس کھیل کا ؟ اس قانون کے تحت کسی بے قصور کو پھانسی اور کسی قاتل کو با عزت رہائی کوئی بڑی بات نہیں ۔
اصل مخمصہ یہ ہے کہ چیف صاحب کو آسیہ کی بریت کے ساتھ ، ماتحت عدالتوں کے غلط فیصلوں پر ججوں کو مجرم قرار دینا چاہئیے تھا ۔ یہ بات انسانی حقوق کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں ۔ قانونی سقم میں ایسا کبھی نہیں ہوتا ۔ جج جو لکھ دے اسے اختیار ہے ۔ اسی پر نہ جانے کتنے لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہیں اور کتنے مجرم آزادی سے گھوم رہے ۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ یہ قانون ، یہ نظام حکومت ، یہ عدالتیں ، یہ جج ، یہ انتظامیہ اور یہ قانون سازی کرنے والے ناکام ہو چکے ہیں ۔ اس سب کچھ کی اصلاح کیلئے نظام بدلا جانا چاہئے ۔ جب تک نظام نہیں بدلے گا ، جس کے پاس لاٹھی ہے بھینس بھی اسی کی ہے ۔ آج چیف جسٹس حکمران ہے ، جو دل میں آتا ہے کرتا ہے ۔ اسکے اثرات کیا ہونگے ، اسکی بلا سے ۔ کون ہے جو پوچھ سکے کہ جناب آپکی حدود کہاں تک ہیں ۔ یہ آپ نے ڈنڈا ہر کسی پہ کیوں اٹھا رکھا ۔ یہ پوچھنے کیلئے نظام بدلنا ہوگا ۔ اور یہ قومی طور پر سوچنا ہو گا ۔
آزاد ھاشمی
یکم نومبر ٢٠١٨
عبداللہ بن ام مکتوم
" عبداللہ بن ام مکتوم "
اللہ سبحانہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ
عبد اللہ ابن ام مکتوم کو اپنے حبیبؐ کا صحابی ہونے کا اعزاز نصیب کیا ۔ آپ مادر زاد نابینا تھے ۔ آپ نے ابتدائے بعثت میں اسلام قبول کیا ۔ آپ
حضرت خدیجہ الکبریٰ کے ماموں زاد بھائی تھے ۔ مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے والے صحابہ میں آپ دوسرے نمبر پر تھے ۔
ایک بار حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روسائے قریش کو تبلیغ فرما رہے تھے کہ ابن اُم مکتوم آ گئے۔ وہ حضور سے کچھ عرض کرنا چاہتے تھے لیکن حضور قریش کو سمجھانے میں اتنا منہمک تھے کہ توجہ نہ دے سکے ۔
اس پر سورہ عبس نازل ہوئی ۔
اللہ نے فرمایا ۔
" وہ جو محنت کرکے تمہارے پاس آیا ہے ، اور جو دل میں خوف رکھتا ہے ، اسکی طرف تم بے پرواہی برتتے ہو "
ان آیات کے نزول کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاص طور پر ابنِ اُم مکتوم کا لحاظ فرماتے۔
ہجرت کے بعد مسجد نبوی کے نائب موذن کا اعزاز ابن مکتومؓ کو نصیب ہوا ۔ جب حضور غزوہ تبوک میں جانے لگے تو علی کو اہل مدینہ کی حفاظت پر اور عبد الله ابن مکتوم کو نماز کی جماعت کرانے پر مقرر فرمایا۔ اسکے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کبھی مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو اکثر امامت کا شرف ابنِ اُم مکتوم کو حاصل ہوتا۔ یہ ایک بڑا اعزاز تھا کیونکہ آپ عملی طور صرف نماز کی امامت ہی نہیں بلکہ دوسرے امور کی نگرانی کی ذمہ داری بھی پوری فرماتے ۔
آپ قرآن مجید کے حافظ اور مدینہ منورہ میں لوگوں کوقرات سکھاتے تھے۔
آپ کے انتقال پر دو رائے ہیں ، اول یہ کہ آپ نے مدینہ میں وفات پائی ، دوم یہ کہ آپ کو جنگ قادسیہ میں شہادت نصیب ہوئی ۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے خلیفہ وقت کو یہ کہہ کر قائل کر لیا تھا کہ جنگ قادسیہ کی جنگ کے دوران جھنڈا میرے ہاتھ میں دے دیں ۔ میں جھنڈا لیکر میدان میں کھڑا ہو جاونگا ۔ میں نابینا ہوں ، مجھے کیا پتہ کون فاتح ہو رہا ہے اور کس کو شکست ہو رہی ہے ۔ میرے جھنڈے کو ایک جگہ استقامت سے کھڑے دیکھ کر کفار کی ہمت ٹوٹ جائیگی اور مسلمانوں کی فتح یقینی ہو جائے گی ۔ اور آپ اسی استقامت کے ساتھ کھڑے گھوڑوں سے کچل دئیے گئے ۔ شہادت کی طلب تھی اللہ نے قبول فرمائی ۔
آزاد ھاشمی
٣١ اکتوبر ٢٠١٨
صابر عورت
" صابر عورت "
معصوم سی شکل , مختصر سی گفتگو , ہر کسی کی تکلیف پر تڑپ جانے والا دل , پھیکی پھیکی سی مسکراہٹ - یہ تھوڑا سا تعارف ہے اس خاتون کا , جس کی شکل میں مجھے اپنی بہن دکھائی دیتی تھی - عمر میں مجھ سے بہت چھوٹی تھی مگر میں اسے آپی کہہ کے پکارتا تھا - آج وہ کچھ کہنا چاہتی تھی - میں نے پوچھا -
" کیا بات ہے میری پیاری سی بہن - آج اتنی اداس کیوں ہو "
آج اسکے چہرے پہ نہ مسکراہٹ تھی , نہ زبان پہ صبر کا تالا -
" آپ میرے بھائی ہو , میرے بڑے بھائی - سن نہیں سکو گے - میرے کرب کی کہانی بیس سال کی کہانی ہے - جب میرے گھر والوں نے اس بندے کو میرا مالک بنا دیا - میں ہر ہر روز اسکے جبر کا نشانہ بنتی رہی - ایک ایک لقمے کے بدلے میں ایک ایک گالی - ایسا تو کوئی کتے کے ساتھ بھی سلوک نہیں کرتا - میں نے ہر حال میں اسکی پرستش کی ہے - میں ان بیس سالوں میں ایک دن بھی سکھ کا سانس نہیں لے سکی - میرے ہاتھ کی ساری انگلیاں ایک ایک کر کے توڑ چکا ہے "
وہ خاموش ہو گئی -
آپ نے اسکا ذکر کبھی اپنے گھر والوں سے کیا - میں نے پوچھا -
" نہیں - میں اپنی ماں کو دکھی نہیں دیکھ سکتی - میرا باپ غریب تھا , میں جانتی تھی وہ برداشت نہیں کر سکے گا -میرے بھائی خود غرض ہیں , ویسے بھی شوہر کی عزت ہر حال میں مقدم تھی میرے لئے "
" پچھلے دس سال سے گھر میں بیٹھ کر کھا رہا ہے - میں دن میں بارہ سے چودہ گھنٹے محنت مزدوری , سلائی کڑھائی , کباب بنا کر گھر کے اخراجات چلا رہی ہوں "
میرا صبر بھی ٹوٹ رہا تھا -
" کدھر ہے کتا , اسکی دم سیدھی کرنا ہو گی- "
" نہیں بھائی جان ! الله کرے اسے ہدایت آ جاۓ - یہ گھر آج بھی اسکا ہے - اس عمر میں کہاں جاۓ گا "
میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے - خلوص , قربانی , در گزر ایک نیک عورت کا زور ہوتا ہے - اسکا اندازہ آج ہوا -
سلام تیرے جیسی تمام عورتوں کو اے میری صابر بہن -
(آزاد ہاشمی )
یکم نومبر 2015
Tuesday, 30 October 2018
نماز اور معاشرت
" نماز اور معاشرت "
قرآن کریم میں نماز سب سے زیادہ تاکید کیا جانے والا رکن ہے ۔ اللہ کی ذات کے سامنے سجدہ ریزی ، انسان کی فلاح اور اللہ کی رضا کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے ۔ اسکے ساتھ ساتھ سورہ ماعون میں اللہ نے نماز کا معاشرت کے ساتھ تعلق کو واضع کرتے ہوئے فرمایا ۔
" خرابی ہے ان نمازیوں کیلئے ، جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں ۔ جو نماز کو دکھاوے کیلئے ادا کرتے ہیں ، اور برتنے کی چیزیں کسی ضرورت مند کو نہیں دیتے "
نماز اللہ کیلئے ہے اور اللہ اور اسکے بندے کے درمیان براہ راست رابطہ ہے ۔ جو بندہ کہتا اور براہ راست اللہ سبحانہ تعالیٰ سنتا ہے ۔ بندہ مانگتا ہے اور اللہ عطا کرتا ہے ۔ پھر بھی اللہ تعالیٰ نے حقوق العباد سے چشم پوشی کرنے والے کو وعید سنا دی کہ تیری نماز ریا ہے ، دکھاوا ہے ، کیونکہ تجھے معاشرے میں ضرورت مندوں کا قطعی خیال نہیں ۔ تیرے ایمان کیلئے ضروری ہے کہ تو
" جو تجھے اللہ نے رزق دیا ہے اسے خرچ کرے "
اور اس خرچ کا بہترین ذریعہ وہ لوگ ہیں جو تیرے قریب تر ہیں ۔ جو ضرورت مند ہیں اور جن کی ضرورت پر تو بے حس ہو جاتا ہے ۔ اسلئے تیری یہ نماز ، تیرے یہ رکوع و سجود ، تیرے اعمال کی خرابی کے باعث ، قبولیت کے لائق نہیں ۔
آزاد ھاشمی
٣٠ اکتوبر ٢٠١٨
Monday, 29 October 2018
مجرم عمران خان حاضر ہو
" مجرم عمران خان حاضر ہو "
حکمرانوں کی ایسی من مانیوں پہ جو ملک اور قوم کے مفاد میں نہ ہوں ، قوم کا اعتراض کرنا ، شکایت کرنا اور احتجاج کرنا حق ہے ۔ یہ پتھر وہی مار سکتا ہے ، جسکا اپنا کردار مثبت رہا ہو ۔ ہمارے ملک کا عجیب مزاج ہے کہ جو لوگ عدالتوں کو مطلوب ہیں ، جن پر الزامات کی لمبی فہرست ہے اور جو سالہا سال حکمرانی میں رہ کر ملک اور قوم کو بیچ گئے ہیں ۔ وہ اور انکے کارکن عمران خان کو ہر وقت اپنی عدالت میں طلب کئے رہتے ہیں ۔ عمران خان سے ان سوالوں کا جواب بھی طلب کیا جاتا ہے ، جو انکے اپنے قائدین پر تھے ۔ جماعت اسلامی پانچ سال پختونخواہ میں عمران کے ساتھ اقتدار میں رہی ، اسوقت عمران نہ یہودی نواز تھا ، نہ اسرائیل سے تعلقات تھے ، نہ سیتا وائٹ سے تعلقات تھے اور نہ اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ تھا ۔ اب اس جماعت کے کارکنوں نے سوشل میڈیا پہ جس اخلاق باختگی کا مظاہرہ جاری رکھا ہوا ہے ، وہ مذہبی لوگوں سے غیر متوقع ہے ۔ کچھ یہی حال مولانا فضل الرحمٰن کا ہے ۔ ن لیگ کا دکھ تو نظر آتا ہے ، ان کی گریہ زاری کی بھی سمجھ آتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے زخم بھی ہرے ہو رہے ہیں ، مگر انکا سیاسی رویہ اتنا بیہودہ نہیں ، اچکزئی اور عوامی نیشنل پارٹی بھی بہتر رویے کے ساتھ مخالفت کر رہے ہیں ۔ لگتا ہے کہ یہ لوگ سیاسی تربیت یافتہ ہیں ۔ اختلافات نہ ہوں تو سیاسی پارٹیاں مر جاتی ہیں ۔ اختلافات کے بہانے ہی سیاست کی زندگی ہوتے ہیں ۔ مگر عدالت لگانے کا حق نہیں ہوتا ۔ روایت بن گئی ہے کہ ایک خود ساختہ کہانی گھڑ لی جاتی ہے اور اس پر " عمران خان حاضر ہو " کی آواز لگا کر عدالت لگا دی جاتی ہے ۔ قوم کو ایسے ہیجان کا شکار کر دیا ہے کہ لگتا ہے عمران سے بڑا قوم اور مذہب کا کوئی دشمن نہیں ۔ جماعت کے لوگوں کی جو تصویر سامنے آ رہی ہے وہ نہایت بھیانک ہے ۔ جعلی تصویریں بنانا اور قوم کو گمراہ کرنا ، عام سی بات ہو گئی ہے ۔ اس پر قائدین کی خاموشی سے لگتا ہے کہ یہ سب قائدین کی ایماء پر ہو رہا ہے ۔
کوئی بھی با شعور اس روایت کے حق میں نہیں کہ داروغہ شہر کو مجرم عدالت میں بلائے ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ اکتوبر ٢٠١٨