" مجرم عمران خان حاضر ہو "
حکمرانوں کی ایسی من مانیوں پہ جو ملک اور قوم کے مفاد میں نہ ہوں ، قوم کا اعتراض کرنا ، شکایت کرنا اور احتجاج کرنا حق ہے ۔ یہ پتھر وہی مار سکتا ہے ، جسکا اپنا کردار مثبت رہا ہو ۔ ہمارے ملک کا عجیب مزاج ہے کہ جو لوگ عدالتوں کو مطلوب ہیں ، جن پر الزامات کی لمبی فہرست ہے اور جو سالہا سال حکمرانی میں رہ کر ملک اور قوم کو بیچ گئے ہیں ۔ وہ اور انکے کارکن عمران خان کو ہر وقت اپنی عدالت میں طلب کئے رہتے ہیں ۔ عمران خان سے ان سوالوں کا جواب بھی طلب کیا جاتا ہے ، جو انکے اپنے قائدین پر تھے ۔ جماعت اسلامی پانچ سال پختونخواہ میں عمران کے ساتھ اقتدار میں رہی ، اسوقت عمران نہ یہودی نواز تھا ، نہ اسرائیل سے تعلقات تھے ، نہ سیتا وائٹ سے تعلقات تھے اور نہ اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ تھا ۔ اب اس جماعت کے کارکنوں نے سوشل میڈیا پہ جس اخلاق باختگی کا مظاہرہ جاری رکھا ہوا ہے ، وہ مذہبی لوگوں سے غیر متوقع ہے ۔ کچھ یہی حال مولانا فضل الرحمٰن کا ہے ۔ ن لیگ کا دکھ تو نظر آتا ہے ، ان کی گریہ زاری کی بھی سمجھ آتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے زخم بھی ہرے ہو رہے ہیں ، مگر انکا سیاسی رویہ اتنا بیہودہ نہیں ، اچکزئی اور عوامی نیشنل پارٹی بھی بہتر رویے کے ساتھ مخالفت کر رہے ہیں ۔ لگتا ہے کہ یہ لوگ سیاسی تربیت یافتہ ہیں ۔ اختلافات نہ ہوں تو سیاسی پارٹیاں مر جاتی ہیں ۔ اختلافات کے بہانے ہی سیاست کی زندگی ہوتے ہیں ۔ مگر عدالت لگانے کا حق نہیں ہوتا ۔ روایت بن گئی ہے کہ ایک خود ساختہ کہانی گھڑ لی جاتی ہے اور اس پر " عمران خان حاضر ہو " کی آواز لگا کر عدالت لگا دی جاتی ہے ۔ قوم کو ایسے ہیجان کا شکار کر دیا ہے کہ لگتا ہے عمران سے بڑا قوم اور مذہب کا کوئی دشمن نہیں ۔ جماعت کے لوگوں کی جو تصویر سامنے آ رہی ہے وہ نہایت بھیانک ہے ۔ جعلی تصویریں بنانا اور قوم کو گمراہ کرنا ، عام سی بات ہو گئی ہے ۔ اس پر قائدین کی خاموشی سے لگتا ہے کہ یہ سب قائدین کی ایماء پر ہو رہا ہے ۔
کوئی بھی با شعور اس روایت کے حق میں نہیں کہ داروغہ شہر کو مجرم عدالت میں بلائے ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ اکتوبر ٢٠١٨
Monday, 29 October 2018
مجرم عمران خان حاضر ہو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment