" کربلا والوں کی عبادت "
اللہ کی عبادت ایک انعام ہے , جو ایک بندے کے دل کو دنیا کی چکا چوند کے باوجود اپنے خالق و مالک کیطرف راغب کئے رکھتا ہے . عبادت , چند سجدوں یا چند تسبیحات کا ہی نام نہیں . بلکہ اللہ کی عبدیت کا ہر عمل سے اظہار عبادت ہے . اللہ نے جس جس برائی سے روکا , ہر اس برائی سے اسلئے رک جانا کہ اللہ کا حکم ہے , عبدیت کا عملی اظہار ہے . یہ عبادت ہے . ہر اس عمل کیلئے تن , من , دھن , تمام وسائل اور تمام تر استطاعت کے ساتھ ہمہ وقت تیار رہنا , جو اللہ کو پسند ہو . یہ عبادت ہے .
عبادت کا اصلی روپ , کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے اور آپ کے تمام ساتھیوں نے جس طرح دکھایا . وہ چشم افلاک نے نہ کبھی پہلے دیکھا نہ بعد میں کبھی دکھائی دے گا . زندگی کی تمام ضروریات کو روک لیا گیا , صرف اسلئے کہ ایک جابر , اقتدار کا بھوکا , اللہ کے احکامات میں سے اکثر احکامات کی اطاعت سے باغی شخص کی بات مان لی جائے . اسکے سامنے سر جھکا لیا جائے . اسکا بندہ ہونے کا اقرار کر لیا جائے . جو وہ کرے اس کے سامنے سر خم رکھا جائے . گویا اللہ کی
نہیں , اسکی عبدیت قبول کر لی جائے . نادان اور غافل نہیں جانتا تھا کہ جس دل نے , جس دماغ نے , جس جسم نے اور جس روح نے اللہ کی عبدیت قبول کر لی ہو , وہ کسی دوسرے کو مالک کیسے مان لے .
کربلا والوں نے بھوک , پیاس غرضیکہ ہر تکلیف برداشت کی . جانیں قربان کر ڈالیں , بندھے ہاتھوں اور ننگے سروں سے سینکڑوں میل کی مسافت قبول کر لی . مگر عبدیت کیلئے سر اللہ کے سامنے ہی جھکائے . کبھی اس سجدے کی معراج پر غور کریں . جو تیروں سے چھلنی جسم کے باوجود , کربلا کی تپتی ریت پر آخری بار شہید کربلا نے کیا . اللہ کی محبت کا اندازہ تو کریں کہ ملعون شمر کند خنجر سے سر قلم کرتا رہا . مگر امام نے سر سجدے سے نہیں اٹھایا . نہ جان کی فکر نہ سر کٹنے کی درد , اللہ کی عبادت میں حائل ہوئی . نہ زندگی کی تمنا نے سر بچانے پر آمادہ کیا . ایسا سجدہ , ایسی عبدیت بے مثل تھی , بے مثل ہے اور بے مثل رہے گی .
ازاد ھاشمی.
5 جنوری2019
Saturday, 5 January 2019
کربلا والوں کی عبادت
حکیم کی حکمتیں
" حکیم کی حکمتیں "
" کیا بات ہے بیٹا ! بہت دنوں سے غائب تھے ؟ "
بابا جی نے مجھے دیکھتے ہی پیار اور محبت کی گہرائی میں ڈوبی آواز سے پوچھا ۔
" طبیعت ٹھیک نہیں ۔ ڈاکٹروں کی سمجھ میں نہ مرض آرہا ہے اور نہ علاج تجویز کر پا رہے ہیں ۔ ٹیسٹ کروائے ہیں مگر کوئی مرض بھی ظاہر نہیں ہوا ۔ اچانک میرے سر اور جسم میں رابطہ ٹوٹ جاتا ہے ، ایسے لگتا ہے کہ کسی نے کرنٹ والا تار نکال دیا ہے ۔ پھر جلد لوٹ آتا ہے "
میری مایوسی دیکھ کر بابا جی نے ، کڑاہی کے نیچے جلتا چولہا بند کیا ۔
" چلو میرے ساتھ ۔ ایک حکیم ہے ، جس کی حکمتیں کسی اور کے پاس نہیں ۔ اسکے پاس چلتے ہیں "
بابا جی نے میرا ہاتھ نہایت محبت سے پکڑا اور مسجد کی جانب چل دئیے ۔ " "میں بچپن سے اس علاقے میں رہتا ہوں ، اچھی طرح جانتا ہوں کہ اس علاقے میں کوئی حکیم نہیں ۔ "
میں نے بابا جی سے کہا ۔
" یہی تو بات ہے بیٹا ۔ کہ ہم اس حکیم کو بھول گئے ہیں ، جو سب حکمتوں کا مالک ہے ۔ ہمارا یقین ہی تو قائم نہیں رہا ۔ "
ہم مسجد کے اندر تھے ۔
" اس حکیم کے پاس جانے کیلئے پاکیزگی ضروری ہے " وضو کرنے کے بعد بابا جی مسجد کے ایک کونے میں لے گئے ۔
" لے بیٹا ! دو نفل پڑھ اور اپنا سارا مرض سجدے میں حکمتوں کے مالک سے کہہ دے ۔ اسوقت تک کہتا رہ ، جب تک تیرا دل گواہی دے کہ تیری مرض سنی گئی ہے ۔ بھلے سجدہ کتنا ہی لمبا کیوں نہ ہو جائے ۔ بولتا رہ ، جو دل میں آئے ۔ جو جو بھی دوا چاہئے مانگ لے ۔ رونے کو دل کرے تو رو بھی لینا "
بابا جی مجھے چھوڑ کر دوسرے کونے میں جا کر نفل پڑھنے لگ گئے ۔ مجھے لمحہ لمحہ سکون ملتا رہا ۔ صرف دو سجدے اور استراحت کی عجیب کیفیت ، میرے لئے عجیب سا لمحہ تھا ۔ ہم واپس ریہڑھی پر کھڑے تھے ۔
" لے بیٹا ! اب تو جا ۔ جب پھر تکلیف محسوس کرو ، ادھر آ جانا ، اس سے بڑا ڈاکٹر کوئی نہیں "
آزاد ھاشمی
٤ جنوری ٢٠١٩
Thursday, 3 January 2019
اس سال میں
" اس سال میں "
زندگی کے شب و روز یونہی بدلتے رہتے ہیں ، کبھی خوشیاں اور کبھی غم ۔ آس اور امیدیں کبھی پوری اور کبھی ادھوری رہ جاتی ہیں ۔ گئے سال کے کئی خواب حسرتوں میں بدل جاتے ہیں ۔ یونہی لمحہ لمہ ہو کر سال بنتا ہے اور گذر جاتا ہے ۔ پھر اک نیا سال ، نئے ولولے ، نئے خواب اور نئی امیدیں لیکر آتا ہے ۔ کچھ لوگ سال کے لمحہ لمحہ گنتی کیلئے پیدا ہوتے ہیں اور جس چکی میں باپ پس رہا تھا ، اسی چکی میں پسنے کیلئے جوان ہو جاتے ہیں ۔ معاشرے میں ایسے بیشمار لوگ ملتے ہیں ، جنہیں کوئی " نیا سال مبارک ہو " بھی نہیں کہتا ۔ وہ جن کو اللہ نے فراوانی اور کشائش دی ہوتی ہے ، وہ اپنی اپنی بساط کے مطابق " نئے سال " کا اہتمام کرتے ہیں ۔
کیا ممکن ہے کہ ہم اس نئے سال پر ایک عزم کر لیں کہ اللہ نے جو بھی عطا کر رکھا ہے ، اس کا کچھ حصہ اپنے کسی بھائی کے نام کر دیں ۔ کیا ممکن ہے کہ اگر ہم کسی یتیم کی تعلیم کے اخراجات اٹھانے کی استطاعت رکھتے ہیں تو اس پر عمل کر دیں ۔ اگر ہمارے اردگرد کوئی بیوہ موجود ہو تو اسکا بھائی بن کر ، اسکا بیٹا بن کر یا اسکا باپ بن کر اسکی کفالت کا ذمہ اٹھا لیں ۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو یہ پہلا سال ہو گا ، جسکی مبارک لینے کے حقدار بن جائیں گے ۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو کیسا سال ، کیسی تبدیلی ، کیسی خوشی ۔ اگر ہم گئے سال کیطرح ہی اپنی ذات تک محدود ہیں ۔ تو اس سے نہ اللہ راضی اور نہ اللہ کی مخلوق کو فائدہ ۔
آزاد ھاشمی
٣١ دسمبر ٢٠١٨
نیا سال کیا ہوتا ہے
" نیا سال کیا ہوتا ہے "
ماں نے معصوم بچے کو سینے سے لگاتے ہوئے اشک بار آنکھوں سے بوسہ دیا ۔ بوٹ پالش کرنے کا سامان اسے تھماتے ہوئے بولی ۔
" بیٹا ! ساحل سمندر کے آس پاس چلے جانا۔ وہاں بہت رش ہوگا ، اچھی دیہاڑی مل گئی تو آج مرغی والے چاول پکا لیں گے ۔ نیا سال ہے ، پہلے دن اچھا کھانے کو ملا تو سارا سال اچھا کھائیں گے "
یہ مائیں بھی عجیب مخلوق ہوتی ہیں ، اپنے دکھ کو چھپا لینے کی جو مہارت انہیں ہوتی ہے ، کسی دوسری مخلوق کو نصیب نہیں ۔
" ماں آج چھٹی نہ کر لوں؟ بہت دل کر رہا ہے کھیلنے کو ۔ گلی کے سارے بچے پٹاخے چلا رہے ہیں ، ان کے ساتھ کھیلوں گا " بچے نے بوٹ پالش کرنے کا سامان اتارنے کی کوشش کے ساتھ کہا ۔ پھر دوبارہ کندھے پر چڑھاتے ہوئے بولا ۔
" اچھا ٹھیک ہے ماں ۔ جاتا ہوں ۔ میرے ساتھ تو محلے کے بچے کھیلتے ہی نہیں ۔ آج پپو کی ماں پپو سے کہہ رہی تھی ، نیا سال ہے کسی غریب سے دوستی نہ کرنا "
بچے کے الفاظ نے ماں کا سینا چیر دیا ۔ ماں نے اسے سینے سے بھینچتے ہوئے کہا ۔
" دیکھنا ، ایک دن تم بھی بہت امیر ہو جاوگے ۔ بس ہمت نہیں ہارنا میرے چاند "
ہر ماں کا خواب تو یہی ہوتا ہے ، مگر تقدیر تو ماں نہیں لکھتی ۔ تقدیر تو لکھنے والی کوئی اور ہستی ہوتی ہے ۔ یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ ہمت اور استقلال سے تقدیر بدل بھی جایا کرتی ہے ۔ اللہ معجزے بھی انہی کے نصیب میں کرتا ہے جو ہمت نہیں ہارتے ۔ ماں کے یہ الفاظ کانوں میں گونجتے گونجتے وہ جوان ہو گیا تھا ۔ کئی سال پہلے بوٹ پالش کیلئے جانے والا ، آج کلفٹن کی اسی جگہ کھڑا ، بوٹ پالش کرنے والے بچوں سے کھیل رہا تھا ۔ لمبی چوڑی چمکتی کار سے اتر کر وہ زمین پہ بیٹھا ، ہاتھ میں برش پکڑے بچوں کو اپنی کہانی سنا رہا تھا ۔ عزم اور ارادے کا سبق پڑھا رہا تھا ۔ تقدیر کو اپنے انداز سے بدلنے کے گر سکھا رہا تھا ۔
" بچو ! بھیک مت مانگنا اور کوئی دے تو مت لینا ۔ یہ وہ زہر ہے جو ارادوں کو قتل کر ڈالتا ہے ۔ بوٹ پالش کرنا ، نہ شرم کی بات ہے اور نہ گھٹیا پن ۔ محنت ہے اور محنت وہ درخت ہے جس پر ہر وقت پھل لگا رہتا ہے "
بجھے ہوئے ، اداس چہروں کو ہر نئے سال کے پہلے دن ، وہ اسی جگہ بچوں کو " ہمت اور استقلال " کا درس دینے آتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
یکم جنوری ٢٠١٩
زندگی کی جمع پونجی
" زندگی کی جمع پونجی "
کھولتا ہوا تیل ، بابا جی کے ہاتھ پہ گرا ، چہرے کا رنگ بتا رہا تھا کہ تکیلف کی شدت برداشت سے باہر ہے ۔
" الحمدللہ ۔ اللہ تیرا شکر ہے "
بابا جی نے ہاتھ پر بیسن کی تہہ چڑھاتے ہوئے کہا ۔ سب گاہک حیران تھے کہ اس میں شکر والی کیا بات ہے ۔ آخر ایک نوجوان نے اداس چہرے سے پوچھ ہی لیا ۔
" باباجی ! کچھ کمایا ہوتا تو نہ آپ پکوڑے بناتے اور نہ یہ ہاتھ جلتا ۔ اس میں شکر والی کیا بات ہے ؟ آپ نے اپنے ساتھ دھوکہ کیا ہے کہ ان پکوڑوں سے آگے سوچا ہی نہیں ۔ ہر تکلیف پہ شکر کی عادت خود فریبی ہے "
بابا جی نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
" بیٹا ! یہ سمجھنے کیلئے ایک عمر چاہئے ، شکر الحمدللہ کہنے کی عادت ایک ریاضت کے بعد ملتی ہے ۔ یہی میری زندگی کی پونجی ہے ۔ بس یہی کمایا ہے میں نے کہ جب بھی تکلیف ملتی ہے اس پر آزردہ نہیں ہوتا ہوں ۔ جو اتنی استراحتیں نصیب کرتا ہے ، روز رات کو مرتا ہوں اور صبح کو زندہ اٹھتا ہوں ، کیا اس سے چھوٹی چھوٹی تکلیف پہ گلہ کرنے کا حق باقی رہتا ہے ؟ "
بابا جی پانی پیا اور پھر بولے ۔
" میں بھی غفلت میں تھا ، دولت اور دھن کے پیچھے رات دن بھاگتا رہا ۔ دولت آئی تھی میرے پاس بھی ۔ میں اکڑ گیا تھا ، تکبر آ گیا تھا مجھ میں ۔ پھر میرے رب نے مجھے ایک رات میں غریب کردیا ۔ میرے اپنوں نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا ۔ میں نے گھر بار چھوڑا اور یہاں آکر پکوڑے بیچنے لگا ۔ اب میرا دل اطمینان سے بھر گیا ہے ۔ مجھے یقین ہوگیا ہے کہ سب عارضی ہے ۔ یہ یقین ہونا کہ سب عارضی ہے۔ یہ یقین میری دولت ہے ، میری زندگی کی پونجی ہے ، میرے اللہ کا انعام ہے ۔ میرا ہاتھ جلا ، تکلیف ہوئی مگر یقین ہے کہ مجھ سے انجانے میں کوئی خطا ہوئی ہے ۔ اللہ نے ہاتھ جلا کر حساب برابر کر دیا "
بابا جی ایک تسلسل سے بول رہے تھے ۔
" یہ درد شام تک کم ہو جائے گا ۔ اگر میری خطائیں آخرت میں زیادہ ہوگئیں تو ؟ وہ آگ تو اس آگ سے کئی گنا سخت ہے ۔ یہ ہے میرے شکر کی وجہ "
بابا جی مسکرائے اور نوجوان کو تھپکی دیتے ہوئے بولے ۔
" بیٹا ! صرف ایک بار اپنے ہاتھ پر جلتی ہوئی تیلی لگا کے دیکھنا اور پھر دوزخ کی آگ کا تصور کرنا ۔ سب اکڑ بھول جاوگے ۔ شکر کرنے کی عادت خود بخود آ جائے گی "
بابا جی کے الفاظ سے میرے جسم میں کپکپاہٹ تھی ۔ میں نے بھی تو کبھی اسطرح سوچا ہی نہیں تھا ۔
آزاد ھاشمی
٢ جنوری ٢٠١٩
Sunday, 30 December 2018
بڑے لوگ
" بڑے لوگ "
کبھی کبھی اپنے ناقص العقل ہونے کا یقین ہو جاتا ہے ۔ کہ جن کو اکثر " بڑے لوگ " کہا جاتا ہے ۔ سمجھ نہیں آتا کہ وہ کیا پیمانہ ہے جو کسی کو چھوٹا اور کسی کو بڑا کر دیتا ہے ۔ یہ بڑے لوگ کیا اور کیوں ہوتے ہیں ۔ شاید جس کے پاس دنیا کا مال و متاع زیادہ ہوتا ہے ، اسے " بڑے لوگ " ہونے کا اعزاز مل جاتا ہے ، یا شاید جس کے پاس کرسی اور اقتدار آجائے وہ بڑا ہو جاتا ہے ۔ میں نے تو جو سیکھا اور جو پڑھا اس میں ، قارون کے پاس اتنی دولت تھی جس تک کسی دوسرے کو رسائی نہیں ملی ، اس سے زیادہ بدبخت دنیا میں کوئی دوسرا نہیں ہوا ۔ اقتدار تو فرعون کو بھی ملا ، نمرود کو بھی ، یزید کو بھی ۔ یہ سب کے سب تو ملعون ہوئے اور آج ہر کوئی تحقیر سے یاد کرتا ہے ۔ معلوم یہ ہوا کہ دولت اور اقتدار کسی کو بڑا نہیں بناتے ۔ ہم تو پستی کے اس درجے پہ آگئے ہیں ، ہر کردار باختہ کو بھی " بڑے لوگ " کہنے لگ گئے ہیں ۔ قوم کا خون چوس کر اپنا جاہ و جلال قائم رکھنے والوں کیلئے مناسب ترین نام " لٹیرا " ہے ۔ ہم لٹیروں کو بڑے لوگ کہہ کر اپنی عقل اور فہم کا از خود مذاق بناتے ہیں ۔ اور یہ ایک گھٹیا سوچ ہے کہ ہم انہیں " بڑے لوگ " کہتے ہیں جو انتہائی " نیچ اور کمینے " ہوتے ہیں ۔
بڑا وہ ہوتا ہے جس سے اللہ خوش ہو ۔ جو اللہ کے حکم پر چلے ، جو اسوہ حسنہ سے رہنمائی لیکر زندگی کا تعین کرے ۔ بڑا وہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے کسی کو آزار نہ پہنچے ۔ بڑا وہ ہوتا ہے جو یتیم کے سر پہ ہاتھ رکھے ، جس کے اردگرد کوئی بھوکا نہ سوئے ۔ بڑا وہ ہوتا ہے جو کفر اور ایمان میں تمیز رکھتا ہو ۔ بڑا وہ ہوتا ہے جس سے عجز و انکساری نظر آتی ہو ۔ تکبر اور رعونت تو چھوٹا پن ہے ۔ بڑا وہ ہے جو خود کو چھوٹا سمجھے ۔
آزاد ھاشمی
٢٨ دسمبر ٢٠١٨