Wednesday, 22 March 2017

اللہ غریق رحمت کرے

" اللہ آپ کو غریق رحمت فرمائے "
پنتالیس سال پہلے ، وہ سہارا اللہ نے اپنے پاس بلا لیا ۔ جس کی ڈھارس پہ مجھے زندگی کی منزلیں آسان لگتی تھیں ۔ ہر باپ اولاد کا ہیرو ہوتا ہے ۔ مگر مجھے فخر ہے کہ میرا عظیم باپ ایمانداری کی مثال تھی ۔ ایک بڑا افسر ، جس کے ماتحت بنگلوں کے مالک تھے ، ساری زندگی میں دو کمروں کا ٹوٹا ہوا گھر بنا سکا ۔ جسکی دیواریں پلستر سے محروم تھیں ، چھت ٹپکتی تھی ۔
مجھے فخر ہے کہ میں ایک غریب مگر ایماندار افسر کی اولاد ہوں ۔  جو بندوں سے نہیں ، صرف اللہ سے ڈرنے کا سبق دیتے رہے ۔ جو یہی سکھاتے رہے کہ اللہ کی عبادت فرض ہے تو اسکے بندوں کی خدمت بھی عبادت ہی ہے ۔ اسے کبھی فراموش نہ کرنا ۔ میرے کندھوں پہ ایک بوجھ آگیا ، جو میری ہمت سے کہیں زیادہ تھا ، مگر اس عظیم ہستی کے دئے ہوئے سبق اور حوصلہ میری رہنمائی کے لئے کافی رہا ۔
عمر بیت گئی ، اب اپنی زندگی بھی آخری ایام کی منزل پہ آگئی ، مگر آج بھی لگتا ہے ۔
کہ میں نے جو کچھ بھی  حاصل کیا ، اسی رزق حلال کیوجہ سے ، جو مجھے کھلایا گیا ۔
سلام پیش کرتا ہوں ، اس عظیم ہستی کو ، اس دعا کے ساتھ ، اللہ میرے عظیم باپ کو اپنے جوار رحمت سے سرفراز فرمائے ۔ میرے وہ تمام عمل ، جن کو اللہ کے ہاں قبولیت ملی ، انکا اجر خیر میرے والد محترم کو عطا ہو ۔ آمین
ازاد ہاشمی

ہمارے بیوروکریٹ

وہ دوست جن کا تعلق کسی دیہات سے رہا ہو , تو انھیں یاد ہو گا کہ دیہاتوں میں تانگے ہوا کرتے تھے - تانگوں کو کھینچنے والے گھوڑے کی آنکھیں اسطرح سے بند کی ہوتی تھیں کہ وہ صرف سامنے دیکھ سکتا تھا - دائیں بائیں نہیں دیکھ سکتا تھا - کچھ ایسی ہی کیفیت ھل میں جوتے ہوۓ بیلوں کی بھی ہوا کرتی تھی , جو آپس میں سدھے ہوۓ نہیں ہوتے تھے - اس کنٹرول کو " کھوپے " کہا جاتا تھا -
یہ ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے , کہ ہمارے بیورو کریٹس کی کچھ یہی کیفیت ہوتی ہے - بیچارے جب تک ڈیوٹی پہ ہوتے ہیں تو صرف سامنے دیکھ سکتے  ہیں یا پھر بالکل دیکھ ہی نہیں سکتے - ایک چابک یا ایک سیٹی کے اشارے پہ چلتے رہتے ہیں - نہ کوئی اپنی راۓ ہوتی ہے نہ کچھ سوچنے سمجھنے کی اجازت -
اور جب نوکری کا وقت ختم ہو جاتا ہے , تو پھر سوچنے لگتے ہیں اور قوم کا درد بہت شدت سے انکے سینے میں ہونے لگتا ہے - پھر قانون بھی یاد آنے لگتا ہے , اور ایمان کے تقاضے بھی ازبر ہو جاتے ہیں -
یہ بیورو کریٹ ایسا کیوں کرتے ہیں , اسکی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان میں اکثر سفارشی ہوتے ہیں , کچھ سیاسی لوگوں کے عزیز رشتہ دار ہوتے ہیں اور کچھ راشی -
یہ ہے وہ دیمک جس نے پورے سسٹم کی بنیادیں کھوکھلی کر دی ہیں - نہ کوئی عدل ہے نہ کوئی انصاف - عدالتوں میں اکثر فیصلے قانون کی کتابوں سے نہیں ججز کی صوابدید سے ہوتے ہیں - یہی سبب ہے کہ قصور وار چھوٹ جاتا ہے اور بے قصور کو لٹکنا پڑتا ہے -
کون ہے جو اس ساری دیمک کو مٹا سکے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

اے اللہ

اے الله ! بندگی کے سارے سلیقوں سے نا آشنا ہوں - میرا ہر عمل ریا اور دکھاوا ہے - انسانوں کی نظر میں پنسدیده بننے کی تگ و دو کرتا رہتا ہوں - اپنے لباس , اپنے
چہرے , اپنے کردار پہ لبادہ شرافت اوڑھے پھرتا ہوں - لوگوں کی زبانوں سے اپنی ستائش اور تعریف میری آرزو رہتی ہے -
دنیا سے تو چھپا لیتا ہوں مگر تیری ذات سے کیسے چھپاؤں , تو سب جانتا ہے -
اے الله ! اب زندگی کا سفر مکمل ہونے کو ہے - چراغ سحری کے بھجنے کا وقت آنے والا ہے -
تیری رحمتوں پر ایمان رکھتا ہوں , دل سے مانگنے والے کو کبھی مایوس نہ کرنا تیری شان ہے -
ایمان کامل رکھتا ہوں کہ تیرے حبیب کا امتی ہوں اور تو نہیں چاہے  گا کہ روز محشر تیرے حبیب کا امتی رسوا ہو -
ایک آرزو قبول فرما -
ایک ایسا سجدہ کرنے کے توفیق دے دے , جو تجھے راضی کر دے - اور میری بخشش کا سبب بن سکے -
ایک ایسا عمل جو میری خطاؤں کا کفارہ ہو سکے - آمین -( آزاد ہاشمی )

ہمت جواں رکھنا

اے میرے وطن کے لوگو ! اپنی ہمت کو ہمیشہ جوان رکھنا - ایک روز وہ سورج ضرور طلوع ہو گا , جس کے دامن میں تمھارے خوابوں کی سنہری تعبیریں ہوں گی - ایک روز مایوسیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھٹ جائیں گے - بس تم ہمت مت ہارنا -
ایک دن کوئی مسیحا تمھارے راستوں کے سارے کانٹے چننے کے لئے ضرور پہنچے گا - تم امید کا دامن مضبوطی سے پکڑے رکھنا -
ایک روز یہ کفر کے نظاموں کے نقیب مغلوب ہو کر رہیں گے - تم اپنے رب کو یقین کے ساتھ پکارتے رہنا -
میرے وطن کے لوگو !
طاغوتی  طاقتیں تمہارے مذھب کے خلاف پوری شدت سے صف آرا ہیں - تمہارے اتحاد کا شیرازہ بکھیرنے کا سارا انتظام کیۓ بیٹھے  ہیں  , اگر تم ثابت قدم رہے اور کندھے سے کندھا ملا رہا تو فتح تمھاری ہے -
اگر ہونہار طالبعلم , محنت کش کسان , جفاکش مزدور , بہادر سپاہی , علم و دانش کے پیکر استاد , دیانتدار افسر , جہاندیدہ بزرگ , عفت کا پیکر خواتین , وطن دوست دانشور اکٹھے ہو کر پورے مصمم ارادوں سے جدوجہد کرتے رھیں تو کامیابی بہت دور نہیں - دشمن کسی بھی طاقت سے وار کرے ناکام رہے گا -
آئیے ایک قوم ہو کر , ایک جذبے کے ساتھ , دلوں کی رنجشوں کو بھلا کر , زبان اور علاقیت کے تعصب سے بچ کر , اپنے وطن کی مٹی کا قرض ادا کریں - اپنے شہیدوں کو خراج پیش کریں - ثابت کریں
کہ ہم زندہ قوم ہیں اور ١٩٤٧ کا جذبہ آج بھی زندہ ہے اور کل بھی زندہ رہے گا - پاکستان زندہ باد - یوم آزادی مبارک .( آذآد ہاشمی )

رحمتوں کا شمار

" رحمتوں کا شمار "
زندگی کے نشیب و فراز قریباً ہر ذی نفس کو آتے رہتے ہیں ۔  دکھ سکھ زندگی کے ساتھ رہتے ہیں ۔ مگر یہ سب اللہ کی رحمتیں ہیں ۔ سوچنے کا انداز مثبت ہو تو دکھ اور تنگی ، مفلسی اور بیماری بھی اللہ کی طرف ایک بلاوا ہے ۔ اللہ کو اچھا لگتا ہے کہ اسکا بندہ اس سے مانگے ۔ اس سے مانگنا ، اسکی ذات پر ایمان ، توکل اور بھروسہ ہے ۔ اس سے مانگنا ، بندگی کا اظہار ہے ۔
بہت سارے لوگوں نے مشاہدہ کیا ہو گا کہ جب مایوسی اس حد تک بڑھ جاتی ہے ، اور شکست کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا تو انسان عجیب طرز سے جیت جاتا ہے ۔ یہی وہ غیبی مدد ہے جو رب کائنات کا خاصہ ہے ۔ یہی اسکی شان ہے ۔
ایسا بھی ہوا کہ موت کے شکنجے سے انسان یوں بچ نکلتا ہے ، کہ عقل و ادراک کے سارے پیمانے ناکام ہو جاتے ہیں ۔ یہ اللہ کی قدرت اور اختیار کا بین ثبوت ہوتا ہے ۔
ہم اللہ کی رحمتوں کی گنتی کرنے بیٹھ جاتے ہیں ، جبکہ اسکا شمار ممکن ہی نہیں ۔ وہ رحمتیں ، وہ نعمتیں ، جو ہر ہر لمحہ ہماری زندگی کا حصہ ہیں ، جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں ، جن سے ہم استفادہ کرتے ہیں ، ان کا شمار بھی انسانی شعور سے بہت دور ہے ، تو پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم اللہ کی غیبی رحمتوں کا ادراک کر لیں ۔
ہم مسلمانوں پر ایک ایسی رحمت ہے ، جو کسی امت کو نصیب نہیں ہوئی اور وہ ہے اللہ کے حبیب ص کی امت ہونا ۔
ہم کتنے بد نصیب ہیں ، اللہ کے اس احسان سے منہ موڑ کر مغربیت ، لبرل ازم ، ارسطو ، سقراط ، لینن وغیرہ کی تقلید میں چل نکلے ہیں ۔
یہ اللہ کی رحمتوں سے فرار کی ایک بھیانک راہ ہے ۔ اسی کی پاداش میں ہم سے امن ، سلامتی اور  سکون چھن رہا ہے ۔  اللہ کی رحمتوں کے ثمرات پر غور کریں اور شکر کے ساتھ اللہ رضآ تلاش کریں ۔
آزاد ہاشمی

قران اور نئے مفکر

" قران اور نئے مفکر "
ایک صاحب ،  جن کا تعلق کسی مذہبی مکتبہ فکر سے ہے ۔ سوشل میڈیا پہ لکھتے ہیں کہ
" اگر قران سے مکمل استفادہ کر کے اللہ کے احکامات کو سمجھنے پر انحصار کیا جائے ، تو ہدایت سے زیادہ بہکنے کا امکان ہے "
یہ تحریر نئی نہیں ، ایسے بہت سارے خیالات دیکھنے اور پڑھنے کو ملتے ہیں ۔ قران کے بارے میں یہ رائے اسقدر پختہ ہو چکی ہے کہ ایسے الفاظ پر کوئی رائے زنی بھی نہیں کرتا ۔ اس رائے کا مسلمانوں کو ، اسلام کو اور اسلام سے ہدایت کے تصور  کو ، کیا فائدہ ہوا اور کیا نقصان ۔ بہت غور طلب ، فکر انگیز اور مذہب کا بنیادی معاملہ ہے ۔
احادیث کی اہمیت سے انکار بھی ممکن نہیں ، مگر قران کو احادیث کے طابع کر دینا بھی قران کی تعلیمات سے انحراف ہے ۔ اس بات پر ہر مسلک کے لوگ متفق ہیں کہ احادیث ضعیف بھی ہیں ، متنازعہ بھی ، مشکوک بھی ، منسوخ بھی اور مستند بھی ۔ مگر قران  کا ایک نقطہ بھی منسوخ یا مشکوک نہیں ۔  قران کی سند اللہ کی ذات دیتی ہے ، جبکہ احادیث کی سند انسان ہے ۔ جو تو اللہ کے رسول ص نے کہا ، اس سے انکار تو کفر ہے ، اور جو اللہ کے رسول سے منسوب کر دیا گیا ، اس پر یقین کر لینا بھی ایمان کے خلاف ہے ۔
قران سمجھنے کیلئے فکر کی ضرورت ہے ، قران کی معراج یہ ہے کہ قاری جیسے جیسے فکر سے کام لیتا ہے ، اسکے رموز کھلتے جاتے ہیں ، کیونکہ اللہ کا دعویٰ ہے کہ اس میں ہر ہر معاملہ کھول کھول کر بیان کر دیا گیا ہے ۔
پھر کسی انسان کی رائے پر اپنی سوچ کو تبدیل کرنا بھی قرین عقل نہیں ۔ اس تحریک کو باطل کرنا ہو گا کہ قران کو عام سوچ سے جاننے پر بہکنے کا امکان رہتا ہے ۔
ازاد ہاشمی

رقص اور فطرت

رقص اور فطرت "
ایک زیرک ، صاحب ادراک لکھتے ہیں
" رقص تو قدرت کی فطرت میں ہے۔ ساری رات چاند ستاروں کو جلو میں رقصاں رہتا ہے۔صبح سویرے ظلمت شب کے دامن کو چیر کر نور کی کرنیں اپنا رقص شروع کرتی ہیں۔ ٹھنڈی ہوا کے مست جھونکے اپنی راگنی چھیڑتے ہیں تو منجمد درخت تک جھومنے لگتے ہیں۔ تمام جانور، پرندے، درندے، چرندے سب کے سب جب وجد اور مستی میں آتے ہیں تو رقص کرتے ہیں مگر جنگل میں مور ناچا، کس نے دیکھا؟
حیا پرور و خلوتیان عفت کوش، پاک نظر را مژدہ باد کہ وقت گرمی بازار نشاط است۔۔۔
وہ بسط بساط انسباط انسان، اشرف المخلوقات۔۔۔۔ است سے بسط کو ملائے بنا کیوں رقص نہیں کر سکتا؟
رقص اگر اتنی ہی خراب شے تھی تو سب سے چھوٹے ذرے یا ایٹم میں الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران کیوں رقصاں رہتے ہیں، ہر گھڑی، ہر لمحے پھیلتی کائنات میں لاکھوں کروڑوں کہکشائیں، سیارے ستارے اور سیارچے کیوں بدمست ہو کر دھمالیں ڈالتے رہتے ہیں۔ سانس کے ردھم پر انسان کے جسم میں دل کیوں دھڑکتا رہتا ہے؟"۔
لفاظی تو کمال کی ہے ، سوچ کی آزادی کو بے لگام کرنے سے پہلے ، اتنا سوچ لیا جائے ، کون چاہے گا کہ اسکی ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی کا تھرکتا بدن لچے لفنگے دیکھیں ۔ رقص ، جس کو انسان سے منسوب کیا جاتا ہے ، اسی تھرکتے جسموں کا نام ہے ۔ ستارے ، کہکشاوں کی دھمال کا نام نہیں ۔
کیا اچھا ہوتا ، الفاظ کی مالا پرونے والے یہ صاحب ، کچھ ایسا لکھتے ، جو ہمارے ایمان کا حصہ بنتا ۔ جس سے کائنات کو رقصاں رکھنے والا رب راضی ہوتا ۔ جب موت کی ہچکی بندھنے لگتی ہے ، تو پھر رب یاد آتا ہے ، سارے رقص بھول جاتے ہیں ۔ آنے والی نسلوں کو الفاظ کا بہکاوا مت دیں ۔
آزاد ہاشمی