" رحمتوں کا شمار "
زندگی کے نشیب و فراز قریباً ہر ذی نفس کو آتے رہتے ہیں ۔ دکھ سکھ زندگی کے ساتھ رہتے ہیں ۔ مگر یہ سب اللہ کی رحمتیں ہیں ۔ سوچنے کا انداز مثبت ہو تو دکھ اور تنگی ، مفلسی اور بیماری بھی اللہ کی طرف ایک بلاوا ہے ۔ اللہ کو اچھا لگتا ہے کہ اسکا بندہ اس سے مانگے ۔ اس سے مانگنا ، اسکی ذات پر ایمان ، توکل اور بھروسہ ہے ۔ اس سے مانگنا ، بندگی کا اظہار ہے ۔
بہت سارے لوگوں نے مشاہدہ کیا ہو گا کہ جب مایوسی اس حد تک بڑھ جاتی ہے ، اور شکست کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا تو انسان عجیب طرز سے جیت جاتا ہے ۔ یہی وہ غیبی مدد ہے جو رب کائنات کا خاصہ ہے ۔ یہی اسکی شان ہے ۔
ایسا بھی ہوا کہ موت کے شکنجے سے انسان یوں بچ نکلتا ہے ، کہ عقل و ادراک کے سارے پیمانے ناکام ہو جاتے ہیں ۔ یہ اللہ کی قدرت اور اختیار کا بین ثبوت ہوتا ہے ۔
ہم اللہ کی رحمتوں کی گنتی کرنے بیٹھ جاتے ہیں ، جبکہ اسکا شمار ممکن ہی نہیں ۔ وہ رحمتیں ، وہ نعمتیں ، جو ہر ہر لمحہ ہماری زندگی کا حصہ ہیں ، جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں ، جن سے ہم استفادہ کرتے ہیں ، ان کا شمار بھی انسانی شعور سے بہت دور ہے ، تو پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم اللہ کی غیبی رحمتوں کا ادراک کر لیں ۔
ہم مسلمانوں پر ایک ایسی رحمت ہے ، جو کسی امت کو نصیب نہیں ہوئی اور وہ ہے اللہ کے حبیب ص کی امت ہونا ۔
ہم کتنے بد نصیب ہیں ، اللہ کے اس احسان سے منہ موڑ کر مغربیت ، لبرل ازم ، ارسطو ، سقراط ، لینن وغیرہ کی تقلید میں چل نکلے ہیں ۔
یہ اللہ کی رحمتوں سے فرار کی ایک بھیانک راہ ہے ۔ اسی کی پاداش میں ہم سے امن ، سلامتی اور سکون چھن رہا ہے ۔ اللہ کی رحمتوں کے ثمرات پر غور کریں اور شکر کے ساتھ اللہ رضآ تلاش کریں ۔
آزاد ہاشمی
Wednesday, 22 March 2017
رحمتوں کا شمار
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment