Saturday, 18 March 2017

رحم فرما ، اے رحیم

" رحم فرما ،  اے رحیم "
ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے ہدایت کی راہ چھوڑ کر گمراہوں کی راہ اختیار کر لی ۔ تیرے سرکشوں سے دوستی کر لی ، تیرے نظام کو چھوڑ کر یہود کے نظام کو اپنا لیا ۔ اب یہود کے ذہن والے لوگ ہم پر مسلط ہو گئے ۔
اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے تیرے حبیب کے اسوہ سے کچھ حاصل نہیں کیا ، محض میلاد مناتے رہے ۔ تیری کتاب ، جو مکمل رہنمائی ہے ، سمجھنے سے پہلو تہی کرتے رہے ۔ تیرے صالحین کی راہ کو سمجھنا بے سود خیال کیا ۔ حسینیت ، زندگی تھی اسے چھوڑ کر یزیدیت کی موت قبول کر لی ۔
ہم سے خطائیں ہو رہی ہیں ، ہم نے بے دین ، بد دیانت ، گناہ کبیرہ کے مرتکب افراد کو اپنا رہنما مان لیا ، ہم نے تیرے دین سے فرار اختیار کر کے انسانی اختراعات کو دین مان لیا ، تیرا دستور چھوڑ دیا ، اپنا دستور بنا ڈالا ، تو نے سود کو حرام کیا ہم نے اپنی معیشت کی بنیاد بنا ڈالا ، تو نے تفرقات سے منع فرمایا ہم نے تفرقات کو مذہب کی جگہ دے دی ۔ 
ہم اقرار کرتے ہیں ، کہ یہ بد امنی ، یہ خوف ، یہ قتل و غارتگری ، یہ دہشت گردی ، ہمارا اپنا لگایا ہوا بیج ہے ۔
ہم پر رحم فرما ۔ تو رحیم ہے ۔ ہم پر کرم فرما تو کریم ہے ، ہمارے نصرت فرما ، ہمیں ہدایت کی روشنی عطا فرما ۔ ہم جس دلدل میں پھنس گئے ہیں ، اس سے نکال دے ۔ ہمیں آنے والی نسلوں کا مجرم بننے سے نجات دے ۔
تجھے تیری عظمت کا واسطہ ۔
ازاد ہاشمی

Tuesday, 14 March 2017

میری تیری قبر

"بابا  ! زندگی میں کوئی ڈھنگ کا کام بھی کیا یا پکوڑے ہی بناتے رہے "
خوش پوش نوجوان , لش پش گاڑی سے اترا اور پہلی بات جو کی , وہ اس کے دماغی خلجان جاننے کے  لئے کافی تھی -
" نہیں بیٹا کوئی بھی ڈھنگ کا کام سمجھ ہی نہیں آیا - یہی کرتا رہا " بابا جی نے مسکراتے ہوے جواب دیا -
" بیٹا جی ! آپ کیا کرتے ہو "
" کچھ نہیں , جاگیردار ہوں , والد صاحب پولیس میں افسر ہیں - مجھے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں - سوچتا ہوں سیاست کروں "
بابا  جی نے قہقہ لگایا -
" شکر ہے میرا اندازہ ٹھیک نکلا - میں سمجھ گیا تھا کہ تمھاری تربیت میں کمی ہے یا پھر دولت کا نشہ ہے - تمھارے آباؤ اجداد نے ڈھنگ کا کام کیا کہ انہیں جاگیر ملی , میرے باپ دادا نہ ضمیر فروش تھے نہ دھرتی کے غدار - اپنے رزق حلال پہ زندہ رہے اور یہی میری تربیت کی - مجھے کوئی ندامت نہیں یہ بے ڈھنگا کام کر کے - میرے الله کو ہاتھ سے کام کرنے والے سے محبت ہے - میرے  لئے یہی کافی ہے - میں کسی کا حق نہیں کھاتا , کسی کی دل آزاری نہیں کرتا , جو مل جاتا ہے شکر کرتا ہوں - یہ بے ڈھنگا کام میرے ضمیر کا سکون ہے "
بابا جی فاتحانہ انداز میں خوش تھے اور امیر زادہ تلملا رہا تھا -
" یہ میری غربت میرا اعزاز ہے - الله کا کرم ہے کہ یہ غربت مجھے میرے رب سے قریب کرتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ مجھے اپنے قریب رکھے - تیری یہ دولت تجھے تکبر پہ آمادہ رکھتی ہے اور الله نہیں چاہتا کہ تو اسکے قریب ہو - الله سے توبہ کر , اپنی عاقبت کی فکر کر - تیرا پولیس افسر باپ , تیری جاگیر تجھے بہکا رہے ہیں - قبر میں تو بھی میری طرح ہو گا "
یہ کہتے ہی بابا جی نے امیر زادے کو گلے سے لگایا , دونوں کی آنکھیں نم تھیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

وی وی آئی پی کون

"وی آئ پی" یا "وی وی آئ پی " کا کلچر اصل میں غلام قوموں کی پہچان ہوا کرتا ہے - جس میں حاکم وقت کی فرعونیت کو برقرار رکھنا مقصود ہوتا ہے -اور مغلوب قوم کے افراد کو غیر اہم کر دیا جاتا ہے - سمجھ نہیں آتا کہ یہ کلچر مسلمان مملکتوں میں کیسے رواج پا گیا - چلیں مان لیا کہ جن ملکوں میں بادشاہت رائج ہے وہاں کا نظام ایسا ہوتا ہو گا , مگر جہاں محترمہ جمہوریت براجمان ہے وہاں یہ کلچر کیوں - جمہوریت میں تو حکمران کے گھر چولہا , گاڑی کا ٹائر , محل کی روشنی تو غریب کی کمائی سے چھینی جانے والی دولت سے چلتی ہے - پھر ایسے حکمرانوں کو VVIP کا درجہ کیسے حاصل ہو جاتا ہے - یہ مقام تو اس مزدور کا ہے جو دن بھر چلچلاتی دھوپ میں , یا یخ بستہ ہواؤں میں چتھڑے پہنے رزق حلال کماتے ہیں - یہ حق تو اس استاد کا ہے جو علم کی روشنی بانٹتا ہے - یہ حق تو اس محافظ کا ہے جو جان ہتھیلی پر رکھ حفاظت کی ذمہ داری نبھاتا ہے - یہ حق تو ان  ماؤں کا ہے جو  اپنے جگر گوشے سرحدوں کی حفاظت پہ بھیجے ہوۓ ہیں -
ہم مسلمان ہیں , ہم میں عزت و احترام کا حقدار وہ ہے , جو کردار میں , اخلاق میں , اطوار میں اور عمل میں بلندی پہ ہے - مگر ہمارے وطن , قوم اور معاشرے کے بدترین لوگ , ہماری سادگی , جہالت , غفلت اور بے خبری میں سیاسی چالبازیوں سے , سازش اور دھکم پیل کرتے ہوۓ حکمران بن جاتے ہیں - پھر وہ ملک کو لوٹتے ہیں , امن برباد کرتے ہیں , بنیادی حقوق چھین لیتے ہیں اور اپنی فرعونیت کو تسکین کی خاطر VVIP بن بیٹھتے ہیں -
کیا ہم غلام ہیں اور یہ بدیشی آقا -
شکریہ
آزاد ہاشمی

جا میری گڑیا

" جا میری گڑیا جا جا جا "
" مت رو ابا ۔ مت رو " سردیوں کی ٹھنڈی رات میں ہسپتال  کے فرش پر لیٹی اور ہوئی بیٹی باپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔ مقدر کا ستایا ہوا باپ بیٹی کی آخری خواہش بھی پوری کرنے سے قاصر تھا ۔ وہ کیسے آنسو روک لیتا ۔ یہی تو اسکا سارا سرمایہ تھا ۔
" میری بات سن ابا ۔ میں مر گئی تو تیری ساری مشکلیں ختم ہو جائیں گی ۔ میری دوائیں خریدنے کے پیسے نہیں تیرے پاس ۔ میرا جہیز کہاں سے لائے گا ۔ کہاں سے لائے گا میرا بر جو خالی ہاتھ مجھے قبول کرے گا ۔ تیرے پاس تو دو گز زمین بھی نہیں جو بیچ لے گا ۔ میرے کفن دفن کا فکر مت کر ، یہ تو خیراتی ہو جائے گا ۔ بس علاج کے لئے کوئی خیرات نہیں دیتا  ، کفن کے لئے مل جاتی ہے ۔ میری فکر مت کر ۔ میں تو ماں کے پاس جا رہی ہوں ۔"
وہ مسلسل روئے جا رہا تھا ، آنسووں میں دریا کی روانی تھی ۔ کبھی بیٹی کے سر پہ ہاتھ پھیرتا کبھی گال تھپتھپاتا ۔
" میں جاتے ہی بات کروں گی اللہ سے ۔ پوچھوں گی ۔ ضرور پوچھوں گی اللہ پاک سے ۔ اگر علاج کے پیسے نہیں دیتا تو بیمار کئے بغیر کیوں نہیں مار دیتا ۔ کیوں دیتا ہے غریبوں کو بچے ۔ کیوں ستاتا ہے ماں باپ کو اولاد کی موت کا دکھ دے کر ۔ پوچھوں گی ابا "
" چپ کر ۔ بولے جا رہی ہے ، بکے جا رہی ہے ۔ تجھے کچھ نہیں ہو گا ۔ میں اللہ سے تیری زندگی مانگ لونگا ۔ وہ میری سنے گا " 
باپ نے بیٹی  کو تسلی دی ۔
" دیکھی ہیں تیری دعائیں ، میرے علاج کے پیسے کب سے مانگ رہے ہو ، کیا مل گئے جو زندگی مل جائے گی ۔ بس چھوڑ اور محھے جانے دے ۔ ہاں اپنا خیال رکھنا ، اب تیری پینو نہیں ہو گی ، جو بلا بلا کر روٹی دے گی ۔ خود کھا لیا کرنا ۔ اب زیادہ مزدوری مت کرنا ۔ اب کونسا جہیز بنانا ہے ۔ اکیلے ہو دو روٹیاں تو تھوڑی محنت سے مل جایا کریں گی ۔ اچھا ابا لوری تو سنا دو ۔ وہ والی ۔ جا میری گڑیا جا جا جا ۔ وہ جو تجھے کبھی بھی سنانی نہیں آتی تھی "
بیٹی نے ہاتھوں میں دم توڑتے آخری خواہش کی تھی ۔ اب وہ ہر وقت گنگناتا رہتا ہے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

مفت کی سر درد

" مفت کی سر درد "
بہت سارے معاملات ایسے ہوتے ہیں ، جن پر اگاہی ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ یہ اور بھی اچھی بات ہے کہ ہم ان معاملات کو دوسروں تک پینچائیں تا کہ شعور بڑھے ۔ مگر کبھی کبھی فروعی معاملات زیادہ توجہ حاصل کر لیتے ہیں اور اصولی معاملات دب کر رہ جاتے ہیں ۔ یہ وہ سر درد ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ۔ بلا وجہ کی مصروفیت اور مغز ماری ۔  جیسے نواز شریف نے کرپشن کی ، زرداری لوٹ کے لے گیا ، پولیس کرپٹ ہے ، سیاستدان نا اہل ہیں ، عدالتیں بکاو ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ یہ مسلمہ حقائق ہیں ۔  ان پر دوسری رائے قائم کرنے کی تگ و دو صرف وہی کریں گے جو اسی تھالی کے چٹے بٹے ہیں ۔  ان سے مغز ماری محض وقت کا ضیاع ہے ۔ یہاں کا سارا سسٹم مراعات یافتہ ہے ، جنرل ریٹائر ہو کر بھی جنرل رہے گا ۔ طاقتور کرپشن کے بعد بھی پروٹوکول کا حقدار ہے ، جج پیسے لے کر جو بھی لکھدے اسکی صوابدید ہے ۔ ہمیں اگر توجہ دینی ہے تو اس سسٹم کو بدلنے کیطرف ۔ انقلاب کیلئے تعداد کی ضرورت نہیں ہوتی ، ایک سے جذبے کے لوگ درکار ہوتے ہیں ۔ جو اپنے مشن سے مخلص ہوں ۔ یہ لوگ عام سطح سے اٹھتے ہیں ۔ انقلاب اوپر کو نیچے لانے اور برائی کو دفن کرنے کا نام ہوا کرتا ہے ۔ اس پر توانائیاں درکار ہیں ۔  کبھی کبھی  چھوٹی سی چنگاری آگ کا ایسا الاو بن جاتی ہے ، جو بجھانا ممکن نہیں رہتا ۔ دو قومی نظریہ کی ایک سوچ آزادی کی تحریک بن گئی ۔ یہ تاریخ کی حقیقت ہے ۔ مدعا یہ ہے ، کہ بگڑے ہوئے طاقتور طبقے کو بدلنا ممکن نہیں ۔ پسے ہوئے طبقے کو ہمت دلانا ممکن ہے اور یہی حدف ہونا چاہیئے ۔ یہی لوگ متحرک ہونگے تو کاخ امراء میں جنجھلاہٹ ہو گی . یہی اٹھیں گے تو نظام بدلے گا ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

محب وطن کون غدار کون

" محب وطن کون غدار کون "
ہم نے جمہوریت کو سینے سے لگایا ، اور اسی کی آشیرباد سے عوامی لیگ اکثریت حاصل کر گئی ۔ مجیب آزاد تھا اسکی پارٹی کو حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ مل چکا تھا ، اسی سبب وہ الیکشن کے اہل تھے ۔ پھر کیا ہوا ، وہ ایسے غدار بنے کہ ملک کو توڑ کر رکھ دیا ۔  ایسا یوں  ہوا کہ انکا حق انہیں نہیں دیا گیا ۔ 
جب سے پاکستان بنا ، پاکستان کے لئے کام کرنے والوں میں سندھ  کا کردار بھی واضع تھا ، سندھی قائیدین کو غداری کی ٹوپی پہنا کر پاکستان کی تعمیر سے الگ کر دیا گیا ، کس نے کیا جو از خود محب وطن کہلاتے تھے ، اس غداری کے لقب میں جی ایم سید سر فہرست رہے ۔ ایسا ہی سلوک عبدالغفار خان سے کیا ، انکی حب الوطنی مشکوک بھی رہی اور انکی اولاد نے اقتدار میں آنے کے باوجود کسی غداری کا ارتکاب بھی نہیں کیا ۔ بلوچستان میں وہاں کے بیشتر سرداروں کو غدار بنا بنا کر پہاڑوں پہ لڑنے کے لئے چڑھا دیا ۔ اکبر بگتی وہاں اقتدار میں بھی رہے ، تب تک انکی غداری قبول رہی ، پھر اچانک انکا مار دینا لازم ہو گیا ۔ یہی حال کراچی میں ہوا  ، پوری کراچی کی آواز بلا شرکت غیرے لسانیت کی طرف مڑ گئی ، کہنا یہ تھا کہ اردو بولنے والوں کے حقوق میرٹ سے ہٹ کر  کوٹے کے نام پر غصب کئے جاتے ہیں ۔ مطالبات غلط ہوں یا درست  ، فرما رواوں کا فرض ہوتا ہے کہ مسائل کا ایسا حل ڈھونڈیں جو حق پر مبنی ہو ۔  دھونس اور دباؤ مسائل کو وقتی طور پر دبا دیتے ہیں ، جو وقت کے ساتھ پختگی اختیار کر لیتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے اگر یہ سب لوگ غدار تھے یا غدار ہیں ، تو  پھر ان سے ووٹ لیکر اقتدار کی کرسی حاصل کرنے پر مصلحت کو کیا کہا جائے گا ۔ انکو چھوٹ دئیے رکھنا غداری نہیں تو کیا ہے ۔  غداری کے محرک چند لوگ ہوا کرتے  ہیں ، ان کو سزا دینا ممکن بھی ہوتا ہے مگر پورے کے باسیوں کو غدار سمجھ کر ڈنڈا پکڑ لینا کہان کی حب الوطنی ہے ۔ اس وطن کو چند لٹیرے خاندانوں نے حب الوطنی کا تاج سر پر سجا رکھا ہے اور ہر دوسرے مکتبہ فکر کو غدار کہہ ڈالنے میں ذرہ برابر توقف نہیں کرتے ۔ وہ سب جو ملکی معیشت اور وسائل کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں ، وہ سب جو اپنے حلف سے غداری کرتے ہوئے اپنے فرائض کو ادا نہیں کر رہے ،۔ وہ سب جو اپنی نااہل اولادوں کو اہم پوسٹوں پر بٹھائے بیٹھے ہیں  ۔ کیا یہ سب محب وطن ہیں ۔ کیا یہ اصل غدار نہیں ۔ سارے بنگالی غدار نہیں تھے ، سارے مہاجر غدار نہیں ، سارے سندہی ،سارے  بلوچ  غدار نہیں ہو سکتے ۔ میں پنجابی ہوں ، پنچاب پر کبھی غداری کا الزام نہیں لگا ۔ شائد یہی سبب ہے کہ ہر کوئی پنجابی اسٹیبلشمنٹ کا طعنہ دیتا ہے ۔
وجہ کچھ بھی ہے ، ہمیں مفاہمت کی راہ نکالنا ہو گی ، غداری کا الزام لگا کر مسائل کا حل نہیں نکلے گا ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

قانون کا مذاق

" قانون اور دستور ایک مذاق "
ایک جسٹس صاحب نے فرمایا
"آرٹیکل 62-63 کا اطلاق ہواتوپارلیمنٹ میں سراج الحق کےسواکوئی نہیں بچےگا"
اور پھر معذرت کر لی کہ سچ بولنا انکی غلطی تھی ۔ انہیں شدت سے احساس ہوا کہ جس کرسی پر وہ بیٹھتے ہیں ، وہاں سچ لکھنے ، سوچنے اور بولنے کی روایت نہیں ۔ وہاں وہ بیٹھتے ہیں ، جو عقل و فہم کو گھر چھوڑ کر آتے ہیں کیونکہ فیصلے تو وکیل کی مکاری پر کرنے ہیں ، یا آقاوں کے حکم پر یا پھر دولت کی دیوی کی ایماء پر ۔  کسقدر بھونڈا مذاق ہے اس قوم سے کہ پوری کی پوری اسمبلی اس معیار پر پوری نہیں ، جو قانون اور دستور نے مقرر کر رکھا ہے ۔ جسٹس کے یہ الفاظ ایک فیصلہ ہے ، ایک ججمنٹ ہے جو اس نے اپنی کرسی پر بیٹھ کر دی ۔ قوم کی جہالت کی انتہا ہے کہ اسے محض جسٹس کی دل لگی پر محمول کر دیا ۔ شرم آنی چاہیئے  پوری قوم کو کہ ہم کس نظام کو ، کس قانون کو ، کس دستور کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں ، جس میں پوری سیاست اور سیاستدان کی نااہلی پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔  سراج الحق کی اہلیت پر بھی سوال اٹھ گیا کہ وہ جانتے ہوئے بھی اسی گندگی میں کیوں بیٹھے ہیں ۔ انہیں اس تعفن سے بد بو کا احساس کیوں نہیں ہوتا ۔ یا پھر انہیں علم ہی نہیں کہ وہ کن لوگوں کے ساتھ ہیں ۔ اگر علم ہی نہیں تو یہ انکی سیاسی بصیرت کا فقدان ہے ۔ اگر علم ہے تو اس پر آواز نہ اٹھانا قوم سے دہوکہ ہے ۔ تعجب ہے کہ الیکشن کیشن والے کہاں سوئے بیٹھے ہیں ۔ تعجب ہے کہ جسٹس کے اس بیان پر بھی عدلیہ کے دوسرے تمام کرتے دھرتے خاموش ہیں ۔ چیف جسٹس کو بھی شرم نہیں آئی ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

کیا ہم نے عہد شکنی نہیں کی

" کیا ہم نے عہد شکنی نہیں کی  "
کیا اسلام قبول کر کے ہم نے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کا اقرار نہیں کر لیا ۔ کیا ہمارے ایمان کا حصہ نہیں کہ ہم صرف اللہ کو مقتدر و مالک مانیں ۔ کیا اللہ کے احکامات سے رو گردانی کرنے کا کوئی اختیار ہمارے پاس رہ جاتا ہے ۔ کیا ہمارے تمام وسائل و اختیارات اللہ کا کرم نہیں ۔ کیا کوئی ایسا جھول باقی ہے ،  جس کے سبب ہمیں اللہ کی راہ چھوڑ کر انسان کے متعین راستے اختیار کرنے کی ضرورت باقی رہتی ہے ۔ کیا اللہ کے سوا کوئی دوسرا ہے جو زندگی اور موت ، عزت اور ذلت پر اختیار رکھتا ہے ۔ نہیں ہر گز نہیں ۔
پھر وہ کیا سبب ہے جسکی وجہ سے ہم نے اللہ کے خوف کو چھوڑ کر دنیا کے طاقتور لوگوں کے سامنے  زانو ٹیک رکھے ہیں ۔ اللہ کی زمین پر کفر و الحاد کی اجارہ داری قبول کر رکھی ہے ۔  کیا یہ ایمان کے اس عہد سے فرار نہیں ، جو ہم نے اسلام قبول کر کے اللہ سے کر رکھا ہے ۔  ہم نے اسلام کا نظام عدل ، نظام معیشت ، طرز حکمرانی ، بود و باش اور نظام تعلیم کو کلی طور پر الگ کر ڈالا ہے ۔ دستور پہ اسلام کا ذکر ،  حلف برداری میں  اقرار و عہد ، عدالتوں میں سچ بولنے کا قرآن پر حلف ، مذہب سے مذاق لگتا ہے ۔ عملی طور پر ہم نے اسلام کو اپنی زندگیوں سے الگ کر دیا ہے ۔
آفات سماوی ، خوف و ہراس  ، تنگدستی ، بدکردار حکمرانوں کا تسلط ، سب ان حماقتوں کا ثمر ہے جو ہم اللہ سے عہد شکنی کر کے کئے جا رہے ہیں ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی

پولیس کی حفاظت کرو

" پولیس کی حفاظت کرو "
ایک اور  دھماکہ ، کتنے ہی گھروں میں سوگ ، کتنے ماوں کے جھولیاں اجڑ گئیں ، وہی روایتی بیان ، وہی دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑنے کا عزم ، وہی جان سے جانے والوں کے قربانی پر چند نوٹوں کی دان ، وہی بے حسی ۔ کب تک ہوتا رہے گا یہ کھیل ۔  آخر یہ آگ کب تک یونہی جلتی رہے گی ۔ کتنے اور گھر اجاڑنے کا انتظارباقی ہے ۔ کون ذمہ دار تھا سیکورٹی کا ۔ کیسے پہنچ جاتے ہیں دہشت گرد ہر ٹارگٹ پہ ۔ کہاں ہیں وہ ذہین و فطین پولیس افسران ،  جو اپنے گھر کی حفاظت نہیں کر سکتے ۔ کون پوچھے گا ان سے ، جن کی گردنوں میں سریہ ہے ۔  وردی کی فروعنیت دماغوں سے نکلے بغیر حل سمجھ نہیں آئیگا ۔  ایسےلگتا ہے کہ وہ دن بہت قریب ہے ، جب اپیل ہو گی کہ پولیس تمہاری اپنی ہے ، اسکی حفاظت کرو ۔  یا اللہ یا رسول پولیس ساری بے قصور ، کی چاکنگ ہوا کرے گی ۔  یہ مضحکہ خیزی نہیں ، باعث شرم ہے اور سوالیہ نشان ہے پولیس کے پورے ادارے کی اہلیت پر ۔ یہ صلہ ہے ان جھوٹے مقدمات کا ، اس تشدد کا ، اس نا انصافی کا جو پولیس نے شرفاء اور بے قصور لوگوں پر روا رکھا ہے ۔  یہ اس نفرت کا اظہار ہے جو لوگوں کے دلوں میں بس چکی ہے ۔ لیکن ایک بار پھر موت ان سروں پر کھیل گئی ،  جو مجرم نہ  تھے ، پھر پھول ہی مسلے گئے ، کانٹے پھر بھی شاخوں پہ سجے ہوئے ہیں ۔ 
اگر راہ نہیں بدلی جاتی تو انتقام میں اندہے اوربھی وحشی ہوتے جائیں گے ۔ شائد یہ جسموں پہ بارود باندھنے والے کسی پولیس والے کے لگائے ہوئے زخموں کا انتقام ہوں ۔  امن،  عدل و انصاف کا پھل ہوتا ہے ۔  جبر و استبداد کا پھل قہر اور آگ ہوتا ہے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

سیاست یا بیہودگی

" سیاست یا بیہودگی "
کچھ دنوں سے ایک بحث میڈیا پہ گردش کر رہی ہے کہ ایک ممبر اسمبلی نے دوسرے ممبر اسمبلی کی بہنوں پر بہتان باندھا اور دوسرے نے اسے تھپڑ رسید کئے ۔ یہ بھی خبر ہے کہ اسمبلی کے سپیکر نے اسے سات دن کے لئے معطلی کی سزا سنا دی ۔
کسقدر اخلاقی انحطاط ہے کہ وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں قانون سازی ہے ، جو قوم کی راہ کا تعین کرتے ہیں ، اسقدر اخلاقی پستی میں گرے ہوئے ہیں ۔ ایسے شخص کو سات دن کی سزا دینے والوں کی نظر میں یہ ایک معمولی جرم ہے ۔ تف ہے ان تمام اسمبلی کے ممبران پہ ، جو واقع کو عام سی بات سمجھ کر خاموش ہیں ۔ قابل فکرٰ ہے  ان سب ووٹروں کے لئے ، جنہوں نے ایسے کردار کے شخص کو منتخب کیا ۔
کیا یہ ہماری روایات کا حصہ نہیں کہ مائیں ، بہنیں ، بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں ۔ انکا تقدس سب کیلئے برابر ہوتا ہے ۔ نواز کی بیٹی ، زید کی بیٹی ، نتھو اور فیکے کی بیٹی ، ہم سب کی بیٹی تھی ، آج اس سیاست نے الگ الگ کیسے کر دی ۔
ہم سب کو ، سیاسی وابستگی سے ہٹ کر اس رحجان کو روکنا ہو گا ۔ ایسے بے لگام لیڈروں کو لگام دینا ہو گی ۔ اپنی اقدار اور روایات کو زندہ رکھنا ہو گا ۔ میڈیا میں ایسے بیہودہ لوگوں کو لا کر انکو اہمیت دلانا ، قابل مذمت فعل ہے ۔ ایسے لوگوں کو دھتکارنا ہو گا ، وگرنہ یہ بے لگام لوگ ، شرفاء کو ننگا کرنے لگیں گے ۔ اگر یہ سیاست ہے تو نہایت بیہودہ سیاست ہے ۔  اور ہم نے کن لوگوں اپنی نمائندگی دے ڈالی ۔ ہمیں سوچنا ہو گا ۔
ازاد ہاشمی

رحمتوں کا شمار

" رحمتوں کا شمار "
زندگی کے نشیب و فراز قریباً ہر ذی نفس کو آتے رہتے ہیں ۔  دکھ سکھ زندگی کے ساتھ رہتے ہیں ۔ مگر یہ سب اللہ کی رحمتیں ہیں ۔ سوچنے کا انداز مثبت ہو تو دکھ اور تنگی ، مفلسی اور بیماری بھی اللہ کی طرف ایک بلاوا ہے ۔ اللہ کو اچھا لگتا ہے کہ اسکا بندہ اس سے مانگے ۔ اس سے مانگنا ، اسکی ذات پر ایمان ، توکل اور بھروسہ ہے ۔ اس سے مانگنا ، بندگی کا اظہار ہے ۔
بہت سارے لوگوں نے مشاہدہ کیا ہو گا کہ جب مایوسی اس حد تک بڑھ جاتی ہے ، اور شکست کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا تو انسان عجیب طرز سے جیت جاتا ہے ۔ یہی وہ غیبی مدد ہے جو رب کائنات کا خاصہ ہے ۔ یہی اسکی شان ہے ۔
ایسا بھی ہوا کہ موت کے شکنجے سے انسان یوں بچ نکلتا ہے ، کہ عقل و ادراک کے سارے پیمانے ناکام ہو جاتے ہیں ۔ یہ اللہ کی قدرت اور اختیار کا بین ثبوت ہوتا ہے ۔
ہم اللہ کی رحمتوں کی گنتی کرنے بیٹھ جاتے ہیں ، جبکہ اسکا شمار ممکن ہی نہیں ۔ وہ رحمتیں ، وہ نعمتیں ، جو ہر ہر لمحہ ہماری زندگی کا حصہ ہیں ، جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں ، جن سے ہم استفادہ کرتے ہیں ، ان کا شمار بھی انسانی شعور سے بہت دور ہے ، تو پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم اللہ کی غیبی رحمتوں کا ادراک کر لیں ۔
ہم مسلمانوں پر ایک ایسی رحمت ہے ، جو کسی امت کو نصیب نہیں ہوئی اور وہ ہے اللہ کے حبیب ص کی امت ہونا ۔
ہم کتنے بد نصیب ہیں ، اللہ کے اس احسان سے منہ موڑ کر مغربیت ، لبرل ازم ، ارسطو ، سقراط ، لینن وغیرہ کی تقلید میں چل نکلے ہیں ۔
یہ اللہ کی رحمتوں سے فرار کی ایک بھیانک راہ ہے ۔ اسی کی پاداش میں ہم سے امن ، سلامتی اور  سکون چھن رہا ہے ۔  اللہ کی رحمتوں کے ثمرات پر غور کریں اور شکر کے ساتھ اللہ رضآ تلاش کریں ۔
آزاد ہاشمی

Monday, 13 March 2017

مسجد اور عدالت

" مسجد اور عدالت "
ایک لبرل خاتون ،  جس کو نہ جانے کیوں اہمیت دے رکھی ہے  , فرماتی ہیں ۔
، "عدالت میں جج نہیں مولوی بیٹھا ہے، عدالت کو مسجد بنایا ہوا ہے، جسےامام مسجد ہونا چاہیے، وہ اعلیٰ عدلیہ کا جج بن جاتا ہے۔"
پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ عدلیہ  ، اعلیٰ کب بنتی ہے ، اور جج کا اصل کردار کیا ہونا چاہئے ۔ ہر جج ، ایک حلف اٹھاتا ہے اور وہ حلف دستور مملکت کی پوری طرح سے اطاعت ہے ۔ دستور مملکت کے مطابق ، ہمارا ملک اسلامی دستور کے تابع ہے ، اور ہم قران و سنت کی اتباع پر دستوری طور پر عمل پیرا ہو کر ہی اپنے حلف کا حق ادا کر سکتے ہیں ۔ 
حیرانی اس بات کی ہے ، کہ محترمہ نے قانون کی چند کتابیں پڑھ کر ، مخالف وکیل کو چت کرنے کے چند گر سیکھ کر کونسا تیر ما لیا کہ خود کو عقل کل سمجھے بیٹھی ہیں ۔ مسجد میں سیکھا جانے والا علم اور انگریز کی کتابوں سے سیکھا جانے والے علم کا موازنہ کیسے ممکن ہے ۔ جو محترمہ کو نالاں کر رہا ہے ۔
کیا محترمہ نے جو قانون پڑھا ، اس میں لکھا ہے کہ آپ جس کی چاہو پگڑی اچھال دو ۔ یقیناً نہیں ۔ جب کسی ایک انسان کی پگڑی اچھالنا جرم ہے تو پھر اللہ کے حبیب کی شان میں گستاخی جرم کیوں نہیں ۔
کونسا لبرل نظام ہے جو اخلاقی بیہودگی کو پروان چڑھانے کا درس دیتا ہے ۔ کیا محترمہ اپنے بچوں سے اپنی ذلت کو قبول کر لیتی ہیں ۔ کیا انکے گھر میں جنگل کی طرح آزادی کا نظام ہے یا تہذیبی اقدار کا طرز زندگی ۔ کیا گوارہ کر لیں گی کہ کوئی انکی ماں پر تہمت لگا دے ۔ یقیناً کبھی نہیں ۔ پھر شان رسول ص پر ایسی گفتگو کی پشت پناہی کیوں ۔
محض شہرت کیلئے ، اللہ سے مخاصمت ۔ اس سے شہرت نہیں ،رسوائی ہی ملے گی ۔
آزاد ہاشمی

عدالت کے محفوظ فیصلے

" عدالت کے محفوظ فیصلے "
ہو سکتا ہے کہ یہ بھی اندھے قانون کی کوئی مجبوری ہو ۔ وگرنہ ہر جرم کا تعلق معاشرے سے ہوتا ہے ، اور معاشرے کو جرم سے پاک کرنے میں جتنی جلدی کی جائے ، اتنی بہتر ہوتی ہے ۔ اگر مجرم اور جرم کا تعین ہو چکا تو فیصلے کو محفوظ کرنا ، ایک مذاق سا دکھائی دیتا ہے ۔
جج صاحبان اور متبرک عدالتوں پر ایک ایک لفظ سوچ سمجھ کر بولنے کا رواج ، اس وقت سے لاگو ہے جب سے انگریز بہادر کا راج رہا ۔ جو کہ انصاف اور عدل کی راہ میں اصل پیچیدگی ہے ۔ ہر وہ عدالت ، ہر وہ جج جو فیصلوں میں مصلحت اختیار کرے ، نہ عزت کے لائق ہے اور نہ ہی مہذب معاشرے کی ضرورت ۔
کتنے ایسے فیصلے ہوتے ہوں گے ، جن کو محفوظ کر لیا جاتا ہو گا اور اسی حفاظت میں جنات کے عمل سے تبدیل ہو جاتے ہونگے ۔ چھوٹی عدالت کی حماقت پر کبھی بڑی عدالت نے کوئی اقدام نہیں کیا ۔ یہی وہ بیج ہے ، جس سے ایک پودا پیدا ہوا اور پھر یہ بیج ہر جگہ اگ آئے ۔ پورے کا پورا معاشرہ غیر محفوظ ہو گیا ۔ حتیٰ کہ ججوں کے اپنے بیٹے اغوا ہونے لگے ۔
جرم ہے تو جرم کہو ۔ فیصلے کو محفوظ مت کرو ۔ کیا پتہ اس دوران کتنے اور دوسرے جرم سر زد ہو جائیں ۔
خون کی لذت سے آشنا یہ مجرم نہ جانے کتنے اور خون کر ڈالیں ۔
ازاد ہاشمی