ایک کمانڈر ، جرنیل ، گورنر،کو پکڑ کر لایا گیا،
مسجد نبوی میں ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا،
رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے گئے،، دیکھا، خوبصورت چہرہ، لمبا قد، توانا جسم، بھرا ہوا سینہ، اکڑی ہوئی گردن، اٹھی ہوئی نگاہیں، تمکنت، شان و شلوہ، سطوت، شہرت ہے،
حکمرانی کے جتنے عیب ہیں سارے پائے جاتے ہیں،
سرور رسولاں صلی اللہ علیہ و سلم آگے بڑھے، کہا
ثمامہ! کیسے ہو؟
ثمامہ بولا :گرفتار کرکے پوچھتے ہو کیسا ہوں،
رسول پاک نے فرمایا :کوئی تکلیف پہنچی ہو؟
کہتا ہے :نہ تمہاری تکلیف کی کوئی پرواہ، نہ تمہاری راحت کا کوئی خدشہ، جو جی چاہے کر لو،
رسول پاک نے فرمایا :بڑا تیز مزاج آدمی ہے،
اپنے صحابہ کو دیکھا، پوچھا، اس کو دکھ تو نہیں پہنچایا؟
عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! گرفتار ہی کیا ہے دکھ کوئی نہیں پہنچایا،
پیکر حسن و جمال نے فرمایا :ثمامہ ذرا میری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھو تو سہی،
ثمامہ کہتا ہے :کیا نظر اٹھا کر دیکھنے کی بات کرتے ہو، جا نہیں دیکھتا، مجھ کو مارا جائے گا تو میرے خون کا بدلہ لیا جائے گا،
جبرائیل بھی غیظ و غضب میں آ گئے ہوں گے، عمر فاروق کی پیشانی سلوٹوں سے بھر گئی، تلوار کے میان پر ہاتھ تڑپنے لگا،
اشارہ ابرو ہو اس کی گردن ہو محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے قدم ہوں، یہ کیا سمجھتا ہے،
لیکن رحمۃ للعالمین کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے، فرمایا، جتنا غصہ ہے جی چاہے نکال لو، لیکن ہمارا چہرہ تو دیکھ لو
ثمامہ نے کیا جواب دیا :اس نے مدینے والے کو دیکھا ہی نہیں تھا، اس نے کہا، تمہارا چہرہ کیا دیکھوں کائنات میں تجھ سے بد صورت کوئی نہیں ہے (نعوذباللہ)
فرمایا :کوئی بات نہیں، میری بستی کی طرف تو نگاہ ڈالو،
اس نے کہا :میں نے روم و یونان ایران و مصر کی بستیاں دیکھیں مگر تمہاری بستی کائنات کی سب سے بدصورت بستی ہے (نعوذباللہ)
اس بستی کو کیا دیکھوں؟
رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم نے کہا کوئی بات نہیں،
دوسرے دن آئے پھر وہی جواب،
تیسرے دن پاک پیغمبر آئے فرمایا :ہم تجھ سے کچھ نہیں مانگتے، ذرا دیکھ تو لو،
کہتا ہے :نہیں دیکھتا، اب؟
ہمیشہ مسکرانے والے پاک پیغمبر مسکرائے، فرمایا :جاؤ! ہم نے اسے چھوڑ دیا ہے چلے جاؤ، ہم نے ایسے رہا کر دیا ہے، ہم تجھے کچھ نہیں کہتے تو بڑا آدمی ہے، بڑے ملک کا حکمران ہے تو نہیں دیکھتا ہم تجھے کیا کہیں گے، جاؤ
اور اپنے صحابہ کرام کو جن کی تلواریں ثمامہ کی گردن کاٹنے کے لیے بے تاب تھیں، انکو کہا،
بڑا آدمی ہے عزت کے ساتھ لے جا کر اس کو مدینہ سے رخصت کر دو،
انہوں نے چھوڑا، پلٹتے ہوئے اس کے دل میں خیال آیا، بڑے حکمران بھی دیکھے، محکوم بھی دیکھے، جرنیل بھی دیکھے کرنیل بھی دیکھے، صدر بھی دیکھے کمانڈر بھی دیکھے، اتنا حوصلہ والا تو کبھی نہ دیکھا،
پھر دیکھتا ہے، دیکھ کر سرپٹ بھاگا، دوڑ لگا دی، اور پھر دگنی رفتار سے واپس پلٹ آیا،
وہ ماہ تمام ننگی زمین پہ اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا
صحن مسجد پر ننگے فرش پر
نبی کریم نے نگاہ ڈالی سامنے ثمامہ کھڑا ہے، فرمایا ہم نے تو تجھے چھوڑ دیا تھا پھر آ گئے؟
کہا، مجھ کو اپنا بنا کر چھوڑ دیا، کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے،
گیاتب تھا جب آپ کا چہرہ نہیں دیکھا تھا، اب آپ کا چہرہ دیکھ لیا، اب زندگی بھر کے لیے آپ کا غلام بن گیا ہوں،
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ میرے اس دعا کے بعد __!
اہل یمامہ کے سردار حضرتِ ثمامہ بن اثال نے ایمان لا کر کہا:" یا رسول اللہ !ﷺ میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ آج سے پہلے روئے زمین پر کوئی چہرہ مجھے آپ کے چہرے سے زیادہ مبغوص نہ تھا مگر آج وہی چہرہ مجھے روئے زمین کے سب چہروں سے زیادہ محبوب ہے۔") بخاری شریف: باب وفد بنی حنیفہ(
Thursday, 8 June 2017
اسوہ حسنہ
Monday, 5 June 2017
ایک اور جاہل محقق
" ایک اور جاہل محقق "
میڈیا پہ ایک عرصے سے جاوید غامدی نام کے ایک عالم بڑے طمطماق سے اسلام پر اپنی تحقیقات سے مسلمانوں کو اگاہی دے رہے ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ بہت ساری تحقیقی کتب بھی لکھ چکے ہیں ۔ اس میں علمیت کے لحاظ سے نہایت اعلی مواد موجود ہے ۔ انکی یہ کاوش بہت سارے پرستار پیدا کر چکی ہے ۔ اور یہی انکا مشن تھا ،
اسلام کا المیہ یہی ہے کہ تحقیق کے نام پر کام کرنے والے آہستہ ایسا زہر گھول جاتے ہیں ، جس کے اثرات پھر کبھی ختم نہیں ہوتے ۔ اسی سے کئی فرقے ، کئی گروہ جنم لے چکے ہیں ۔ اب سمجھ ہی نہیں آتا کہ اصل کیا ہے ۔ ان تمام محققین نے قران سے دور رکھنے کا ہر ممکن جتن کیا ۔ جس وجہ سے مسائل اور نئی نئی سوچ جنم لیتی رہی ۔ اب غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ رمضان کو کسی دوسرے مہینے پر منتقل کیا جا سکتا ۔ یعنی اگر بہت گرمی ہے اور روزے جون میں آجائیں تو انہیں دو تین ماہ آگے کر کے بھی روزے رکھے جا سکتے ہیں ۔ جاہل محقق کو یہ علم ہی نہیں کہ اس خیال کو قران میں سختی سے رد کیا گیا ہے ۔ یہ عبادات کے مہینے بدلتے رہنا ، بہت ساری امتوں میں رائج ہو گیا تھا اور اللہ نے ان امتوں کی سختی سے سرزنش بھی کی اور سزا بھی دی ۔ قران میں واضع حکم ہے کہ تم پہلی امتوں کی تقلید کر کے ایسا مت کرنا ۔ اور غامدی نے سراسر قران کا انحراف کیا ہے ۔
اصل مسئلہ ہی یہی ہے کہ لوگوں کو قران سے دور رکھنے اور اپنی تحقیق بیچتے رہنے والے یہ دانشور اسلام میں مسلسل رخنے ڈالتے رہتے ہیں ۔
حیرانی اس بات کی ہے کہ ایسے سنگین مسائل پر کوئی ملا ، کوئی مفتی ، کوئی علامہ اور کوئی پیر زبان نہیں کھولتا ۔ یوں لگتا سب کے سب ایک ہی مشن پر گامزن ہیں کہ اسلامی احکامات کی وہ شکل بنا دو کہ مسلمان تقسیم در تقسیم ہو جائیں ۔ یہود کے علماء کیطرح اللہ کی کتاب سے دور رکھو ،
اسے سمجھنا صرف ایک مخصوص طبقے کا حق ہے ۔
یہ تبلیغ کی بڑی بڑی جماعتیں ، اگر یہ سمجھ لیں کہ فرض تبلیغی کورس کو عام کرنا نہیں ، قران کو عام کرنا ہے ۔ قران سیکھنے اور سکھانے کا حکم ہے ۔ اگر لوگ قران جان لیں تو کوئی غامدی انکو احکامات ربی سے انحراف کی راہ نہیں دکھا سکے گا ۔
ازاد ہاشمی
اسوہ حسنہ
حضرت عائشہؓ نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ’’آپ ﷺ کی زندگی کا مشکل ترین دن کون سا تھا؟‘‘حضورﷺ نے فرمایا
والدہ نے سات دن دودھ پلایا‘ آٹھویں دن دشمن اسلام ابو لہب کی کنیز ثوبیہ کو یہ اعزاز حاصل ہوا‘ ثوبیہ نے دودھ بھی پلایا اور دیکھ بھال بھی کی‘ یہ چند دن کی دیکھ بھال تھی‘ یہ چند دن کا دودھ تھا لیکن ہمارے رسولؐ نے اس احسان کو پوری زندگی یاد رکھا‘ مکہ کا دور تھا تو ثوبیہ کو میری ماں میری ماں کہہ کر پکارتے تھے‘ ان سے حسن سلوک بھی فرماتے تھے‘ ان کی مالی معاونت بھی کرتے تھے‘ مدنی دور آیا تو مدینہ سے ابولہب کی کنیز ثوبیہ کیلئے کپڑے اور
بھجواتے تھے‘ یہ ہے شریعت۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضاعی ماں تھیں‘ یہ ملاقات کیلئے آئیں‘ دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور میری ماں‘ میری ماں پکارتے ہوئے ان کی طرف دوڑ پڑے‘ وہ قریب آئیں تو اپنے سر سے وہ چادر اتار کر زمین پر بچھا دی جسے ہم کائنات کی قیمتی ترین متاع سمجھتے ہیں‘ اپنی رضاعی ماں کو اس پر بٹھایا‘ غور سے ان کی بات سنی اور ان کی تمام حاجتیں پوری فرما دیں‘ یہ بھی ذہن میں رہے‘ حضرت حلیمہ سعدیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا‘ وہ اپنے پرانے مذہب پر قائم رہی تھیں‘ فتح
مکہ کے وقت حضرت حلیمہ کی بہن خدمت میں حاضر ہوئی‘ماں کے بارے میں پوچھا‘ بتایا گیا‘ وہ انتقال فرما چکی ہیں‘ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ روتے جاتے تھے اور حضرت حلیمہ کو یاد کرتے جاتے تھے‘ رضاعی خالہ کو لباس‘ سواری اور سو درہم عنایت کئے‘ رضاعی بہن شیما غزوہ حنین کے قیدیوں میں شریک تھی‘ پتہ چلا تو انہیں بلایا‘ اپنی چادر بچھا کر بٹھایا‘ اپنے ہاں قیام کی دعوت دی‘ حضرت شیما نے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی‘ رضاعی بہن کو غلام‘ لونڈی اور بکریاں دے کر رخصت کر دیا ‘ یہ بعد ازاں اسلام لے آئیں‘ یہ ہے شریعت۔13 جنگ بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے کفار بھی شامل تھے‘ ان کافروں کو مسلمانوں کو پڑھانے‘ لکھانے اور سکھانے کے عوض رہا کیا گیا‘ حضرت زید بن ثابتؓ کو عبرانی سیکھنے کا حکم دیا‘ آپؓ نے عبرانی زبان سیکھی اور یہ اس زبان میں یہودیوں سے خط و کتابت کرتے رہے‘ کافروں کا ایک شاعر تھا‘ سہیل بن عمرو۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں بھی کرتا تھا اور توہین آمیز شعر بھی کہتا تھا‘ یہ جنگ بدر میں گرفتار ہوا‘ سہیل بن عمرو کو
بارگاہ رسالت میں پیش کیا گیا‘ حضرت عمرؓ نے تجویز دی‘ میں اس کے دو نچلے دانت نکال دیتا ہوں‘ یہ اس کے بعد شعر نہیں پڑھ سکے گا‘ تڑپ کر فرمایا ’’ میں اگر اس کے اعضاء بگاڑوں گا تو اللہ میرے اعضاء بگاڑ دے گا‘‘ سہیل بن عمرو نے نرمی کا دریا بہتے دیکھا تو عرض کیا ’’ مجھے فدیہ کے بغیر رہا کر دیا جائے گا‘‘ اس سے پوچھا گیا ’’کیوں؟‘‘ سہیل بن عمرو نے جواب دیا ’’ میری پانچ بیٹیاں ہیں‘ میرے علاوہ ان کا کوئی سہارا نہیں‘‘ رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن عمرو کو
اسی وقت رہا کر دیا‘ یہاں آپ یہ بھی ذہن میں رکھئے‘ سہیل بن عمرو شاعر بھی تھا اور گستاخ رسول بھی لیکن رحمت اللعالمینؐ کی غیرت نے گوارہ نہ کیا‘ یہ پانچ بچیوں کے کفیل کو قید میں رکھیں یا پھر اس کے دو دانت توڑ دیں‘ یہ ہے شریعت ۔غزوہ خندق کا واقعہ ملاحظہ کیجئے‘ عمرو بن عبدود مشرک بھی تھا‘ ظالم بھی اور کفار کی طرف سے مدینہ پر حملہ آور بھی ۔ جنگ کے دوران عمرو بن عبدود مارا گیا‘ اس کی لاش تڑپ کر خندق میں گر گئی‘ کفار اس کی لاش نکالنا چاہتے تھے لیکن انہیں خطرہ تھا‘ مسلمان ان پر تیر برسادیں گے‘ کفار نے اپنا سفیر بھجوایا‘ سفیر نے لاش نکالنے کے عوض دس ہزار دینار دینے کی پیش کش کی‘ رحمت اللعالمینؐ نے فرمایا ’’میں مردہ فروش نہیں ہوں‘ ہم لاشوں کا سودا نہیں کرتے‘ یہ ہمارے لئے جائز نہیں‘‘ کفار کو عمرو بن عبدود کی لاش اٹھانے کی اجازت دے دی ‘ خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو یہودیوں کی عبادت گاہوں میں تورات کے نسخے پڑے تھے‘ تورات کے سارے نسخے اکٹھے کروائے اور نہایت ادب کے ساتھ یہ نسخے یہودیوں کو پہنچا دیئے اور خیبر سے واپسی پر فجر کی نماز کیلئے جگانے کی ذمہ داری حضرت بلالؓ کو سونپی گئی‘حضرت بلالؓ کی آنکھ لگ گئی‘ سورج نکل آیا تو قافلے کی آنکھ کھلی‘ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا ’’بلال آپ نے یہ کیا کیا‘‘ حضرت بلالؓ نے عرض کیا ’’ یا رسول اللہ ﷺ جس ذات نے آپؐ کو سلایا‘ اس نے مجھے بھی سلا دیا‘‘ تبسم فرمایا اور حکم دیا ’’تم اذان دو‘‘ اذان دی گئی‘ آپؐ نے نماز ادا کروائی اور پھر فرمایا ’’تم جب نماز بھول جاؤ تو پھر جس وقت یاد آئے اسی وقت پڑھ لو‘‘ یہ ہے شریعت۔ حضرت حذیفہ بن یمانؓ سفر کر رہے تھے‘ کفار جنگ بدر کیلئے مکہ سے نکلے‘ کفار نے راستے میں حضرت حذیفہؓ کو گرفتار کر لیا‘ آپ سے پوچھا گیا‘ آپ کہاں جا رہے ہیں‘ حضرت حذیفہؓ نے عرض کیا ’’مدینہ‘‘ کفار نے ان سے کہا ’’ آپ اگر وعدہ کرو‘ آپ جنگ میں شریک نہیں ہو گے تو ہم آپ کو چھوڑ دیتے ہیں‘‘ حضرت حذیفہؓ نے وعدہ کر لیا‘ یہ اس کے بعد سیدھے مسلمانوں کے لشکر میں پہنچ گئے‘ مسلمانوں کو اس وقت مجاہدین کی ضرورت بھی تھی‘ جانوروں کی بھی اور ہتھیاروں کی بھی لیکن جب حضرت حذیفہؓ کے وعدے کے بارے میں علم ہوا تومدینہ بھجوا دیا گیا اور فرمایا ’’ہم کافروں سے معاہدے پورے کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں صرف اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتے ہیں‘‘ نجران کے عیسائیوں کا چودہ رکنی وفد مدینہ منورہ آیا‘ رسول اللہ ﷺ نے عیسائی پادریوں کو نہ صرف ان کے روایتی لباس میں قبول فرمایا بلکہ انہیں مسجد نبویؐ میں بھی ٹھہرایا اور انہیں ان کے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت بھی تھی‘ یہ عیسائی وفد جتنا عرصہ مدینہ میں رہا‘ یہ مسجد نبویؐ میں مقیم رہا اور مشرق کی طرف منہ کر کے عبادت کرتا رہا‘ ایک مسلمان نے کسی اہل کتاب کو قتل کر دیا‘ آپؐ نے مسلمان کے خلاف فیصلہ دیا اور یہ مسلمان قتل کے جرم میں قتل کر دیا گیا‘ حضرت سعد بن عبادہؓ نے فتح مکہ کے وقت مدنی ریاست کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا‘ یہ مکہ میں داخل ہوتے وقت جذباتی ہو گئے اور انہوں نے حضرت ابو سفیانؓ سے فرمایا ’’ آج لڑائی کا دن ہے‘ آج کفار سے جی بھر کر انتقام لیا جائے گا‘‘ رحمت اللعالمینؐ نے سنا تو ناراض ہو گئے‘ ان کے ہاتھ سے جھنڈا لیا‘ ان کے بیٹے قیسؓ کے سپرد کیا اور فرمایا ’’نہیں آج لڑائی نہیں‘ رحمت اور معاف کرنا کا دن ہے‘‘۔ مدینہ میں تھے تو مکہ میں قحط پڑ گیا‘ مدینہ سے رقم جمع کی‘ خوراک اور کپڑے اکٹھے کئے اور یہ سامان مکہ بھجوادیا اور ساتھ ہی اپنے اتحادی قبائل کو ہدایت کی ’’مکہ کے لوگوں پر برا وقت ہے‘ آپ لوگ ان سے تجارت ختم نہ کریں‘‘۔ مدینہ کے یہودی اکثر مسلمانوں سے یہ بحث چھیڑ دیتے تھے ’’نبی اکرم ﷺ فضیلت میں بلند ہیں یا حضرت موسیٰ ؑ ‘‘ یہ معاملہ جب بھی دربار رسالت میں پیش ہوتا‘ رسول اللہ ﷺ مسلمانوں سے فرماتے ’’آپ لوگ اس بحث سے پرہیز کیا کریں‘‘۔ ثماثہ بن اثال نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا اعلان کر رکھا تھا‘ یہ گرفتار ہو گیا‘ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی‘ اس نے انکار کر دیا‘ یہ تین دن قید میں رہا‘ اسے تین دن دعوت دی جاتی رہی‘ یہ مذہب بدلنے پر تیار نہ ہوا تو اسے چھوڑ دیا گیا‘ اس نے راستے میں غسل کیا‘ نیا لباس پہنا‘ واپس آیا اور دست مبارک پر بیعت کر لی۔ ابو العاص بن ربیع رحمت اللعالمین ؐکے داماد تھے‘ رسول اللہ ﷺکی صاحبزادی حضرت زینبؓ ان کے عقد میں تھیں‘ یہ کافر تھے‘ یہ تجارتی قافلے کے ساتھ شام سے واپس مکہ جا رہے تھے‘ مسلمانوں نے قافلے کا مال چھین لیا‘ یہ فرار ہو کر مدینہ آگئے اور حضرت زینبؓ کے گھر پناہ لے لی‘ صاحبزادی مشورے کیلئے بارگاہ رسالت میں پیش ہو گئیں‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ابوالعاص کی رہائش کا اچھا بندوبست کرومگر وہ تمہارے قریب نہ آئے کیونکہ تم اس کیلئے حلال نہیں ہو‘‘ حضرت زینبؓ نے عرض کیا ’’ابوالعاص اپنا مال واپس لینے آیا ہے‘‘ مال چھیننے والوں کو بلایا اور فرمایا گیا’’یہ مال غنیمت ہے اور تم اس کے حق دار ہو لیکن اگر تم مہربانی کر کے ابوالعاص کا مال واپس کردو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اجر دے گا‘‘ صحابہؓ نے مال فوراً واپس کر دیا‘ آپ ملاحظہ کیجئے‘ حضرت زینبؓ قبول اسلام کی وجہ سے مشرک خاوند کیلئے حلال نہیں تھیں لیکن رسول اللہ ﷺنے داماد کو صاحبزادی کے گھر سے نہیں نکالا‘ یہ ہے شریعت۔ حضرت عائشہؓ نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ’’ زندگی کا مشکل ترین دن کون سا تھا‘‘ فرمایا‘ وہ دن جب میں طائف گیا اورعبدیالیل نے شہر کے بچے جمع کر کے مجھ پر پتھر برسائے‘ میں اس دن کی سختی نہیں بھول سکتا‘عبدیالیل طائف کا سردار تھا‘ اس نے رسول اللہ ﷺ پر اتنا ظلم کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی جلال میں آ گئی‘ حضرت جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کیا‘ اگر اجازت دیں تو ہم اس پورے شہر کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس دیں‘ یہ سیرت کا اس نوعیت کا واحد واقعہ تھا کہ جبرائیل امین نے گستاخی رسول پر کسی بستی کو تباہ کرنے کی پیش کش کی ہو اور عبدیالیل اس ظلم کی وجہ تھا‘ عبد یالیل ایک بار طائف کے لوگوں کا وفد لے کر مدینہ منورہ آیا‘ رسول اللہ ﷺ نے مسجد نبویؐ میں اس کا خیمہ لگایا اور عبد یالیل جتنے دن مدینہ میں رہا‘ رسول اللہ ﷺ ہر روز نماز عشاء کے بعد اس کے پاس جاتے‘ اس کا حال احوال پوچھتے‘ اس کے ساتھ گفتگو کرتے اور اس کی دل جوئی کرتے‘ عبداللہ بن ابی منافق اعظم تھا‘ یہ فوت ہوا تو اس کی تدفین کیلئے اپنا کرتہ مبارک بھی دیا‘ اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائی اور یہ بھی فرمایا‘ میری ستر دعاؤں سے اگر اس کی مغفرت ہو سکتی تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ بار اس کیلئے دعا کرتا‘‘ یہ ہے شریعت۔ مدینہ کی حدود میں آپ کی حیات میں نو مسجدیں تعمیر ہوئیں‘ آپؐ نے فرمایا ’’تم اگر کہیں مسجد دیکھو یا اذان کی آواز سنو تو وہاں کسی شخص کو قتل نہ کرو‘‘ یہ ہے شریعت۔ ایک صحابیؓ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں‘‘ جواب دیا ’’غصہ نہ کرو‘‘ وہ بار بار پوچھتا رہا‘ آپؐ ہر بار جواب دیتے ’’غصہ نہ کرو‘‘ یہ ہے شریعت اور اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں فرمایا ’’ پیغمبرؐ اللہ کی بڑی رحمت ہیں‘ آپ لوگوں کیلئے بڑے نرم مزاج واقع ہوئے ہیں‘ آپ تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب آپ کے گردوپیش سے چھٹ جاتے‘‘
(مسلم ، ترمذی ، سنن نسای )
منسوب روایات
" منسوب روایات "
ہمارا المیہ ہے کہ جس کا جو دل چاہتا ہے , کسی نہ کسی مسلمان مفکر کے نام سے منسوب کر کے کچھ بھی لکھ ڈالتا ہے . اس رحجان نے حقائق اور جھوٹ کے درمیان فرق ختم کر دیا ہے . بات یہاں پہ ختم نہیں ہوتی بلکہ بے شمار کتب انہی بے سروپا حوالوں سے بھری پڑی ہیں .
احادیث کے حوالوں سے بھی یہی صورت حال بنا دی گئی کہ تمام مسالک کے پاس اپنے مسلک کی ترویج کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں . اور ان ثبوتوں پر بے شمار کتب لکھ ڈالیں . ایسا بندوبست کر دیا کہ اب کسی بھی شعور اور عقل سے متصادم ثبوت کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا .
یہ سب کیوں ہوا , اسکے پیچھے کیا محرکات تھے , یہ جسارت کرنے والے علماء تھے یا کسی کی ایماء پر کرنے والے دین دشمن . کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا .
البتہ ایک بات واضع ہے کہ اس سے مسلمان گروہوں میں بٹ گئے , تفریق کی ایسی دیواریں کھڑی ہو گئیں , جن کو اب گرانا ممکنات میں سے نہیں .
ہر کوئی اپنے مکتبہ فکر کی پوجا میں لگا ہے . تحقیق کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی , کہ جانا جائے کیا غلط ہے اور کیا صحیح . حد تو یہ ہے کہ قران کو تعظیم کے غلاف میں بند کر کے اوطاق میں سجا دیا اور اختلافی کتب کی تعلیم کو ایمان کا درجہ دے ڈالا . اللہ کی کتاب سے زیادہ حضرت , علامہ , محقق , مفسر , محدث کی تحریریں اہم بن کر رہ گئیں .
سوشل میڈیا پہ تو کمال ہو گئی ہے کہ جس کا جو دل چاہتا ہے کسی بھی نام سے منسوب کر کے لکھ ڈالتا ہے . اب تو کئی علماء ایسے ایسے لیکچر دیتے ہیں , ایسی ایسی روایات دھراتے ہیں کہ الامان . سمجھ نہیں آتا کہ کس حوالے سے کہانی گڑھ لی گئی ہے . عقل و فہم سے بالاتر باتیں , دیگر مذاہب کو ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ ہم مسلمان توہمات کا شکار امت ہیں . ہم قدیم زمانے کے پسماندہ ذہن رکھنے والے لوگ ہیں . جبکہ قران ان علوم کا منبع ہے , جن کی ضرورت انسان کو قیامت تک رہے گی . حکم ربی ہے کہ قران کو فکر کے ساتھ پڑھو , یہ آسان ہے , واضع ہے , مدلل ہے اور عام فہم ہے . مگر ہمارے سامنے کیا رکھا گیا , کس نے رکھا , کیوں رکھا . انہی لوگوں نے جو من گھڑت روایات کو فروغ دینا چاہتے تھے . جو فروقوں کی ترویج کرنے میں مستعد تھے . جو امت کو پارہ پارہ کرنے کے درپے تھے . جو اللہ کے حکم کو " اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقہ بندی نہ کرو " اپنی سوچ کے تابع کرنے پر مصر تھے . ان منسوب روایات کو پورے انہماک سے پرکھنے کی ضرورت ہے . تا کہ امت کا اتحاد بن سکے .
ازاد ھاشمی
علماء کرام کے نام
" علماءکرام کے نام "
نہایت ادب و احترام سے علماء کرام سے چند گذارشات کی جسارت کر رہا ہوں ۔اگر کسی کی دل آزاری ہو ، یا کسی کی طبع پر ناگوار گزرے تو معذرت چاہوں گا ۔
چھوٹے چھوٹے فروعی اختلافات نے امت مسلمہ کو جس قدر نقصان پہنچایا ہے ، اسکی تلافی ممکن نہیں رہی ۔ اب آپ علماء کے پاس وقت ہی نہیں بچا کہ اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کی راہ روک سکیں ۔ آپ نے اپنا سارا علم مسالک کی آبیاری پر لگا رکھا ہے ۔ مساجد میں بیٹھ کر مسالک کی تقویت پر ریسرچ کو اسلام کی خدمت سمجھ لیا ہے ۔ اسلام کی پوری تعلیم کو نماز ، روزے ، حج ، زکوٰة ، جنت دوزخ کی نقشہ آرائی ، میاں بیوی کے تعلقات ، پردہ اور دیگر مسائل سے آگے نکلنے ہی نہیں دیا ۔ جمہوریت نے نظام اسلام کی جگہ لے لی ، اب اسکے حق میں فتوے دیے جاتے ہیں کہ یہ عین اسلام ہے ۔ سود نے معیشت پر قبضہ کر لیا اور اسی سود سے میں اور آپ مسفید ہو رہے ہیں ۔ میڈیا پر ثقافت کے نام پر بے حیائی عام ہے ۔ انگریز کا قانون ، انگریز کی تعلیم ہمارا مستقبل ہے ۔ اسلام پر قدامت پرستی کی مہر ثبت ہوئی ، ہر داڑھی والے کو دہشت گرد کی نظر سے دیکھا جانے لگا ۔ کیوں ؟ .
اب وہ لوگ اسلام کے سکالر ہیں ، جو سراسر لبرل ہیں ۔ جن کے نزدیک اللہ کی حدود کے تمام تعین ، تبدیل ہو سکتے ہیں ۔ جو بے سروپا کی کہانیاں سنا رہے ہیں ۔
اور آپ کیا کر رہے ہیں ؟ کیا ایسے تمام فتنوں پر آپ کی خاموشی ، ان فتنوں کی کھلی اعانت نہیں ۔ کیا اسلام کو اس سازش سے اگاہ کرنا ضروری ہے ، یا مسالک کی ترویج ضروری ہے ۔ آج ان لبرل سکالرز کے ماننے والے آپ کی بات سننے والوں سے زیادہ ہیں ۔ زہر دور تک اثر کر چکا ہے ۔
اسکا ازالہ چاہئے ، لبرل مقلدین پوچھتے ہیں کہ اگر جدید سکالر غلط ہیں تو ملا باہر آکر سامنا کیوں نہیں کرتا ۔
خدا را ان فتنوں کو روکنا بھی جہاد ہے ۔ توجہ فرمائیں ۔
والسلام
ازاد ہاشمی
Sunday, 4 June 2017
صحت کے بارے میں
السلام علیکم!
*ہم ارب پتی ہیں*
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا
’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگےتو کیا مانگے؟‘‘🌠
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’صحت‘‘۔🌠
میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں گنگ ہو کر رہ گیا‘🌠
صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جتنی محبت اور منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے نہیں کی-🌠
ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔🌠
ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں‘🌠
مثلاً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارےدل کو کمزور کر دیتے ہیں مگر ہم جب تیز چلتے ہیں‘ جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘ ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘ یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘🌠
مثلاً دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘🌠
مثلاً گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے🌠
ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑےہوتے ہیں- یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے نه اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نه نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں-🌠
سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘🌠
مثلاً ہمارا جگرجسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے‘🌠
سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘ اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘ آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں 🌠
جب کہ ہمارے بدن میں ایسےہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔🌠
ہم روزانہ سوتے ہیں‘ ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘ ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا‘🌠
صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی مگر جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘ ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘ 🌠
ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کی انگلیوں تک صحت کاتخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے‘🌠
ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں‘ 🌠
دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیےتیار ہیں‘🌠
ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسوکے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘ ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘🌠
لوگ صحت مند گردے کے لیے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہیں‘🌠
آنکھوں کاقرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘ 🌠
دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘🌠
آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لیے لاکھوں روپے دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘🌠
دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘ انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے‘🌠
قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘🌠
دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے‘🌠
آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے‘ 🌠
شوگر‘ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں🌠
اور آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کر پھریں گے مگرآپ کو شفا نہیں ملے گی‘🌠
منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں‘ ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔🌠
ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں‘ 🌠
ہم اس عظیم مہربانی پراللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے‘ ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے‘ ہم سیدھا چل سکتے ہیں‘ دوڑ لگا سکتے ہیں‘ جھک سکتے ہیں اور ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں‘ ہم آنکھوں سے دیکھ‘ کانوں سے سن‘ ہاتھوں سے چھو‘ ناک سے سونگھ اور منہ سے چکھ سکتے ہیں 🌠
تو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل‘ اس کے کرم کے قرض دار ہیں اور ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘🌠
ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں کر سکتے۔ یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔🌠
اسی لئیے ربِ کریم قرآن میں کہتے ہیں.....🌠
اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے.
طالب دعا محمد مصعب صہیب