" خزانہ خالی ہے "
یہ وہ خبر ہے ، جو ہر حکمران نے حکمرانی کی کرسی پر بیٹھتے ہی سنائی ۔ یہ خزانہ کیوں خالی ہوا ؟ کس نے خالی کیا ؟ یہ الزام ہر جانے والے پر لگتا ہے ۔ قوم عادی ہوگئی اس خبر کی ، مگر کبھی نہ دانشور جاگے ، نہ ذمہ دار ادارے ہوش میں آئے ، نہ قانون نے اقدامات کئے اور نہ قانون سازی والوں نے اس چوری کو روکنے کا سد باب سوچا ۔ ہر آنے والے نے قوم کو نچوڑنے کا طریقہ ڈھونڈھا اور جب گیا تو قوم کا نچوڑا ہوا خزانہ لیکر بھاگ نکلا ۔
اس میں ان سیاسی اور فوجی حکمرانوں کا کمال نہیں کہ انہوں نے آسانی سے قوم کو " الو " بنایا ۔ اس میں قوم کی غفلت اور دیوانگی ہے کہ وہ احتساب کی دیوار نہیں بن سکے ۔ جس قوم پر رب کی ذات راضی نہ ہو ، اس قوم سے اللہ کی پاک ذات برکتیں اٹھا لیتی ہے ۔ وہاں اگر زر و جواہر کی بارشیں بھی ہوں ، قحط کی کیفیت تبدیل نہیں ہوتی ۔ ہم نے اپنے اللہ سے نا امیدی کو اپنایا اور انسانوں سے امیدیں باندھ لیں ۔ یہ وہ خطا ہے جو ہمیں خزانوں کو لوٹنے والوں کے سپرد کرتی رہی ۔ ایسے میں اگر ہمارے پہاڑ سونے کے بھی ہو جاتے تو ہم قلاش ہی رہتے ۔ خزانے رب کی رحمتوں سے بھرا کرتے ہیں ، ٹیکس ، بھیک ، امداد ، قرضے اور دیگر انسانی جتن خزانے نہیں بھر سکتے ۔ چور ، زانی ، بد کردار ، خائن اور اللہ کی حدود کے باغی حکمران اسی لئے مسلط ہوا کرتے ہیں کہ قوم بے راہرو ہو جاتی ہے ۔ جو قوم اللہ کی طے کردہ حدود سے نکل جاتی ہے وہ اللہ کی نصرت سے محروم ہو کر رہتی ہے ۔ قانون کی گرفت کا مضبوط ہونا اسی وقت ممکن ہوتا ہے ، جب اللہ کا خوف دل میں ہوں ۔ ہم نے انسانوں سے ڈرنا سیکھ لیا اور انسان طاقت کے بل بوتے پر مسلسل لوٹتے رہے اور مسلسل لوٹتے رہیں گے ۔ خزانے خالی رہنے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہم ہر حکمران کے سامنے گردن جھکا کر کھڑے ہیں ، اپنے حقوق سے دستبردار ہو کر حکمرانوں کی لوٹ کو انکا حق سمجھ لیں ۔ ہماری پارلیمنٹ ، ہمارے وزیر اور ہمارے تمام وی آئی پی ، لوٹ رہے ہیں ۔ پھر خزانوں کے خالی ہونے پر اچنبھا کیسا ؟
آزاد ہاشمی
٤ فروری ٢٠١٩
Saturday, 9 February 2019
خزانہ خالی ہے
کسان کیا کرے؟
" کسان کیا کرے؟ "
بہت عام اور سادہ سی جمع تفریق ہے کہ زراعت وہ شعبہ ہے جو ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتا ہے ۔ کیونکہ خوردنی اشیاء کی بہتر پیداوار ، مہنگائی کے راستے کہ بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوا کرتی ہے ۔ اگر ضرورت سے زیادہ پیداوار ہو گی تو زر مبادلہ حاصل کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے ۔
اللہ نے ہمیں وہ مٹی عطا کی ، کہ جس میں ایک بیج ڈال دو تو سینکڑوں دانے واپس ملتے ہیں ۔ ایسے موسم ہمارا مقدر ہیں کہ شاید کسی ملک کو نصیب ہوں ۔ ہر طرح کی فصل ، پھل ، سبزیاں اگانے کے موافق موسم اور درجہ حرارت ۔ ہمارا کسان ، دنیا کا بہترین اور تجربہ کار کسان ہے ۔ جس کو اللہ نے ایسی ہمت اور طاقت سے نواز رکھا ہے کہ تھکن کے نام سے بھی اگاہ نہیں ۔ ہاتھ کی انگلیوں کیطرح بہتے دریا ہماری وراثت تھی جو سیاسی دھما چوکڑی میں ہم سے چھن گئے ۔
زراعت سے وابستہ محنت کش کسان ، سیاسی حماقتوں سے اسقدر متاثر ہوا کہ اس نے بچوں کو شہروں میں محنت مزدوری کیلئے بھیج دیا ۔ زمین سے دلچسپی ختم ہونے لگی اور زمینوں کی فروخت شروع ہوئی ۔ زرخیز زمینیں سکڑنے لگیں اور شہر پھیلنے لگے ۔ کسان کو لوٹنے والوں میں کھاد کا صنعتکار ، زرعی ادویات بنانے والے ، بیج کا کاروبار کرنے والے اور بجلی کا محکمہ سر فہرست ہیں ۔ ان کی لوٹ مار کے بعد کسان کو اتنے پیسے نہیں ملتے کہ وہ اپنی زندگی کو آسودگی سے گذار سکے ۔ گنے کی فصل سے جلانے والی لکڑیاں مہنگی ہیں ۔ گندم اور چاول بمشکل پیداواری اخراجات پورے کرتے ہیں ۔ برآمدات میں سیاسی لوگوں کی اجارہ داری نے دنیا کے بہترین پھلوں کی مارکیٹ تباہ کردی ۔ چاول گوداموں میں پڑا سڑنے لگا ۔ کسانوں میں اکثریت ایسی ہے جو جاگیر داروں کی زمین پر "ہاری " بن کر کام کرتے ہیں ۔ اور " زمیندار " اس کی محنت سے اپنا پیٹ بھی بھرتا ہے ، عیاشی بھی کرتا ہے اور سیاسی کشتی بھی لڑتا ہے ۔ ہاری ، مجبور ہے اور مجبوری میں لگن سے کام کرنا ممکن نہیں ہوتا ۔
ایسے بیشمار اسباب ہیں ، جس سے کسان کی حوصلہ شکنی ہوئی اور زراعت کا شعبہ زوال کیطرف بڑھنے لگا ۔ اب ہم مجبور ہیں کہ پیاز جیسی ضرورت کیلئے درآمد کا سہارا لیتے ہیں ۔ گندم درآمد کرتے ہیں ، کوکنگ آئل کیلئے خام تیل درآمد کرتے ہیں ۔ درآمدات کے اس شغل سے تاجر کی چاندی ہو جاتی ہے اور زراعت زنگ آلود ہو گئی ہے ۔ اب کسان اس مخمصے میں ہے کہ وہ کیا کرے ؟ یہ الجھن پاکستان کے ساٹھ فیصد عوام کی ہے ۔ جس پر نہ قانون ساز کو فکر ہے ، نہ پالیسی بنانے والوں کو پریشانی اور نہ حکمرانوں کو خبر ۔ اگر یہی کیفیت جاری رہتی ہے تو ہماری زمینوں پر گھاس پھونس اگے گی اور ہم اشیائے خوردنی درآمد کرتے نظر آئیں گے ۔ اے کاش ! حکمران اس پر توجہ کیلئے ، سیاسی جھگڑوں سے کچھ وقت نکال کر سوچیں ۔ اور کسان کا حوصلہ ٹوٹنے سے پہلے کوئی حل نکال لیں ۔
آزاد ھاشمی
٦ فروری ٢٠١٩
قصاب اور سیاستدان
" قصاب اور سیاستدان "
سوڈان میں جدید ترین مذبحہ دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ ہوتا یوں ہے کہ جانوروں کی بڑی تعداد ، گائے یا بھیڑ اور بکری ، جو بھی ہو ، اسے ہانک کر ایک جنگلے میں پہنچا دیا جاتا ہے ۔ جب سب اس جنگلے تک پہنچ جاتی ہیں تو ایک چھوٹا دروازہ کھول دیتے ہیں ۔ پھر ایک ایک جانور از خود اس میں یوں داخل ہوتا جاتا ہے کہ ایک قطار بن جاتی ہے ۔ اب چھوٹا دروازہ جس سے جانور داخل ہوئے تھے بند کر دیا جاتا ہے ۔ مذبحہ کا ایک مضبوط دروازہ کھلتا ہے تو ایک جانور اس میں نہایت پھرتی سے داخل ہوتا ہے ۔ جیسے ہی داخل ہوتا اسکے پاوں متوازن نہیں رہتے اور وہ گر جاتا ہے ۔ اسکی گردن از خود اس ٹوکری نما جگہ سے باہر آجاتی ہے ۔ قصاب بڑا سا چھرا گردن پہ چلاتا ہے اور جانور نہایت اطمینان سے ، کسی حرکت کے بغیر ذبحہ ہو جاتا ہے ۔ پھر اسکے بعد کے مراحل شروع ہو جاتے ہیں ، یعنی کھال اتاری جاتی ہے ، حسب منشاء ٹکڑے کئے جاتے ہیں اور پیک کر کے بیوپاری کے حوالے کر دیا جاتا ہے ۔
اس جدیدیت کا تذکرہ یوں کرنا پڑا کہ اس وقت کی سیاست ، عوام کو اسی طرح گھیر کر ذبحہ کرنے کیلئے لے آتی ہے اور پھر عوام ایک قطار میں لگ کر ذبحہ ہونے کیلئے ، نہایت اطمینان سے آگے بڑھتے رہتے ہیں ۔ جو سب سے آگے ہوتا ہے اسکا وہی حشر ہوتا ہے کہ سیاستدان ہاتھ میں چھری لئے کھڑا ہے کہ وہ گرے اور ذبحہ کیا جائے ۔
عام ذبیحہ کیلئے ، جو طریقے استعمال ہوتے تھے ، جانور مزاحمت بھی کرتے تھے ۔ پہلے جو سیاست ہوتی تھی ، عوام میں مزاحمت اور عدم دلچسپی بھی ہوا کرتی تھی وہ سیاستدان کے کردار پر نظر رکھتے تھے ، برے کو برا بھی کہتے تھے ۔ مگر اب جدید ٹیکنالوجی کیطرح سیاست کے فریب بھی جدید ہو گئے ہیں ۔ اب سیاستدان اپنی اغراض کی بھینٹ چڑھاتا ہے تو ذبحہ ہونے والے کو تڑپنے کا موقع بھی نہیں ملتا ۔ جو اندر چلا جاتا ہے ، باہر والے کو خبر نہیں ہوتی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ۔ وہ بھی داخل ہو جاتا ہے ۔ ایک قطار ختم ہوتی ہے تو دوسری شروع ہو جاتی ہے ۔ سیاسی چھری چلتی ہی رہتی ہے اور عوام کٹتے ہی رہتے ہیں ۔ کٹنے والے کی کھال تک بک جاتی ہے ۔
یوں لگتا ہے کہ جدید دور کا قصاب اور سیاستدان ایک ہی طرز پر عمل کرتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٨ فروری ٢٠١٩
Wednesday, 6 February 2019
شہید کا لقب
" شہید کا لقب "
خبر ہے کہ
" کل سوات دھماکے میں وطن کے گیارہ اور جوان وطن کی مٹی پر قربان۔۔اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند فرمائے اور شہدا کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے امین "
اللہ سبحانہ تعالی تو اپنے وعدے پورے فرماتا ہے ۔ شہداء کو بلند درجات ہی عطا فرمائے گا. ہم سفارش کریں یا دعا ، اللہ ہماری سن کر بلند درجہ نہیں دے گا ۔ وہ اپنے وعدے کے مطابق دے گا ۔
اپنےخون سے وطن کو سینچنے والوں کے ہم بھی اور وطن کی مٹی بھی مقروض ہے ۔ شہداء کے ورثاء کو شہید کے عظمت سے بہلانا محض لفاظی ہے ۔ وہ ماں کیسے صبر کرے گی جسکی گود اجڑ جائے ۔ وہ بچے صبر کے لفظ سے کیسے بہلیں گے ، جن پر یتیمی کی چادر اوڑھ دی گئی ہو ۔ جو سہاگن عین شباب میں بیوہ ہو جائے گی ، اسے صبر کی تلقین عجیب سا جملہ ہے ۔
ہم بے حس لوگ ہیں ۔ آئے دن جوانوں کے تابوت اٹھاتے ہیں ، اور سلیوٹ کرکے مٹی میں دبا دیتے ہیں ۔ اس ظلم کا ہاتھ نہیں روکتے ، جو ہمارے جوانوں کو آئے روز موت تحفے میں دیتے ہیں ۔ یہ دہشت کی لہر عام شہری سے ہٹ کر بہادر فوج کی دہلیز پر پہنچ گئی ہے ۔ لمحہ فکریہ ہے اور کھلا چیلنج ہے ، فوج کے نظام پر اور فوج کی کارکردگی پر ۔ اگر آپ قوم کی حفاظت میں کامیاب نہیں ہو سکتے تو کم از کم اپنی حفاظت کو تو یقینی بنا لو ۔ شہید کا لقب دے کر ، تابوت پر چند پھول چڑھا کر ، ایک آدھ تمغہ دے کر اور شہید ورثاء کے سر پر ہاتھ رکھ کر کیا ثابت کرتے ہیں آپ بہادر محافظ ۔ غور کریں کہ قوم کا مورال تو پہلے سے قبر میں جا چکا ۔ کم از کم فوج کا مورال تو بچا لیں ۔ آپ تو اپنے اوپر تنقید کو غداری کہہ دیتے ہیں ۔ اور تنقید کرنے والے کو ملک دشمن کہہ کر ڈرا دیتے ہیں ۔ جو ملک کے محافظوں کو بموں سے اڑا رہے ہیں ، انکے خاتمے میں کیا حائل ہے ۔ کیا وہ غدار نہیں ، کیا ہر غدار کا خاتمہ آپ کا فرض نہیں ، کیا یہ حلف آپ نے نہیں اٹھایا کہ ہر قیمت پر ملک کی حفاظت کریں گے ۔ یا یہ سمجھ لیا جائے کہ دہشت گرد فوج سے بہتر منظم ہیں ۔ کیا سمجھا جائے ۔
شہید کا لقب تو اللہ دیتا ہے ۔ آپ اپنا فرض نبھائیں ۔لقب مت بانٹیں ۔
آزاد ھاشمی
Monday, 4 February 2019
ایک سوال
" ایک سوال "
"کیا ملکی خزانہ لوٹ کر باہر منتقل ہوجانے والوں کی تیسری نسل عیسائی یا لادین ہوجاتی ہے؟"
ایک چبھتا ہوا سوال اور فکر انگیز سوچ ۔ ہم نے ایک سوچ پر پختہ یقین کر رکھا ہے کہ ہر وہ شخص مسلمان ہے ، جس نے کلمہ پڑھ لیا ، جس نے مسلمان گھر میں جنم لیا ۔ اور پختہ یقین کر رکھا ہے کہ امت محمدیہ ہونے کے ناطے سے شفاعت حبیب اللہ کے حقدار ہیں ۔ جو بھی کریں گے اللہ کی رحمت کی چادر ہمارے سروں پر رہے گی ۔ یہ سوچتے ہی نہیں کہ اللہ کے حبیب کی کونسی بات ہم نے مانی ۔ کونسا عمل اختیار کیا ۔ اللہ ستر ماوں سے زیادہ پیار کرتا ہے اپنے بندے سے ۔ مان لیا ۔ اور ایمان کا حصہ بنا لیا کہ بخشش پکی ہے ، جنت ہماری ہوئی ۔ یہ سوچنا چھوڑ دیا کہ جو رب مسلمانوں کا ہے وہی رب ہندو کا ہے ، یہودی کا ہے ، عیسائی کا ہے ، لا دین کا ہے ، آتش پرست کا ہے ۔ پھر ہم سے منفرد سلوک کی کیا وجہ ۔
ایمان کو عملی زندگی کا حصہ بنائے بغیر کچھ نہیں ملے گا ، نہ رسول کی شفاعت نہ رب کا کرم ۔
وطن کی مٹی سے بےوفائی ایمان کا کھلم کھلا انکار ہے ۔ جو ملک کو لوٹتا ہے ، وہ حقوق العباد سے انحراف کرتا ہے ، وہ حکم ربی کا منکر ہے ، وہ اسوہ حسنہ کا منکر ہے ۔ ایسا ہر شخص لا دین ہے ۔
یہ تعلیم نہ عیسائیت کی ہے ، نہ یہودیت کی اور نہ کسی دوسرے مذہب کی ۔ بہت کم ایسے عیسائی یہودی ، ہندو اور لادین ملیں گے جو اپنی دھرتی ، اپنی قوم اور اپنے ہم مذہب لوگوں سے غداری کا ارتکاب کرتے ہوں ۔ مسلمانوں میں ایسے لوگوں کی اکثریت کیوں ہے ۔ یہ ایک ایسا سوال ہے ، جسکا شاید یہی جواب ہے کہ ہم صرف نام کے مسلمان ہیں ۔ نہ اللہ کے احکامات کی پرواہ ہے نہ رسول سے کوئی انسیت ہے ۔
ملک لوٹنے میں جو لوگ ملوث ہیں صرف وہی مجرم نہیں ، جو انکا ہاتھ نہیں روکتے ، اور جو انکو منتخب کرتے ہیں وہ بھی اتنے ہی مجرم ہیں ۔ جس میں آپ بھی ہو سکتے ہیں اور میں بھی ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
Sunday, 3 February 2019
ترجیحات منزل کا پتہ دیتی ہیں
" ترجیہات منزل کا پتہ دیتی ہیں "
خبر ہے کہ موجودہ حکومت نے حج پر سبسڈی ختم کردی ہے اور گذشتہ سال حج کے اخراجات ، اس سال دگنا ہو گئے ہیں ۔ تبصرے میں ایک رائے یہ ہے کہ حج صرف صاحب استطاعت پر واجب ہے ۔ اسلئے سبسڈی حکومت کے خزانوں پر بوجھ ہے ، اس اعتبار سے یہ فیصلہ نہایت دانشمندانہ ہے ۔ مذہبی اعتبار سے کیا درست ہے اور کیا غلط ، یہ ایک الگ بحث ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر ترجیح خزانے سے بوجھ کم کرنا ہے تو اسمبلی ممبران کی مراعات ، وزراء کی فوج ظفر موج ، حکومتی اہلکاروں کے بے جا اخراجات ، سب کے سب خزانے پر بوجھ ہیں۔ حج پر ایک لاکھ افراد جاتے ہونگے اور یہ اخراجات سال میں ایک بار ہونگے ، مگر مذکورہ اخراجات تو ہر روز ، ہر ماہ اور وہ بھی کئی لاکھوں افراد پر ہو رہے ہیں ۔
حکومت کی واضع ترجیحات میں ، اسلامی جذبے کو آہستہ آہستہ دبانے کا عمل جاری ہے ۔ مدارس پر جو مہربانی کی نوید ہے اور سکولوں میں قرآن کی تعلیم کا آغاز ایک معمولی سا انداز ہے کہ عام شہری کو احساس دلایا جائے کہ ہم واقعی " ریاست مدینہ " کی منزل پر محو سفر ہیں ۔ سکولوں میں جو کلچر جنم لے رہا ہے اور اس پر جو آزاد خیال نسل آگے بڑھے گی وہ مذہب سے بہت دور جا چکی ہوگی ، کہ شاید انہیں واپس نہ لایا جا سکے ۔ نماز ، حج ، زکوٰة اور روزہ پرانے وقتوں کی بات بنائی جا رہی ہے ۔ علماء کو مذہبی معاملات پر آواز بلند کرنے پر جیلوں میں ٹھونس دینا ، اور دین کی توہین کرنے والوں کو تعاون فراہم کرنا ، اس امر کی گواہی ہے کہ ہماری منزل کچھ اور ہے ۔
محققین کیلئے عرض کرنا چاہوں گا کہ اگر کوئی حکومت اپنے عوام کو مراعات دیتی ہے تو یہ قرض نہیں ہوتا ۔ عوام کا حق ہوتا ہے اور حکومت پر فرض ہوتا ہے کہ وہ عوام کو مذہبی فرائض ادا کرنے کی ہر سہولت فراہم کرے ۔ محققین سے سوال ہے کہ ایک حاجی پر ایک دن میں رہائش ، خوراک اور آمد و رفت کیلئے کتنے پیسے وصول کرنا جائز ہے اور حکومت کتنے پیسے وصول کر رہی ہے ؟ کیا ایک دن میں پندرہ ہزار روپیہ خرچ ہو گا؟
اصل معاملہ یہی ہے کہ حج کے رحجان کی حوصلہ شکنی کی جائے ۔
آزاد ھاشمی
٢ فروری ٢٠١٩
خیانت اور حکمران
" خیانت اور حکمران "
نظام حکومت اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ ہر شخص کو بنیادی حقوق مساویانہ ملیں ، ہر کوئی تحفظ محسوس کرے اور ضروریات زندگی کا حصول آسان ہو ۔ ہر شہری کو موقع ملے کہ وہ اپنی استطاعت کو بھر پور طریقے سے استعمال کر سکے ۔ جنگل کا قانون نہ ہو کہ طاقتور جس کو چاہے لقمہ بنا ڈالے ۔ اگر ایسا کرنے میں مقتدر ناکام ہیں اور پھر بھی بضد ہیں کہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھے رہیں تو وہ خائن ہیں ۔
اگر کوئی تاجر کسی بھی شے کی مقرر کردہ قیمت سے زائد قیمت وصول کرتا ہے تو وہ خائن ہے ، یہی اصول حکومت پر بھی لاگو ہے ۔ کہ پانی ، بجلی اور گیس کی قیمت وصول کر لینے کے بعد ، اس پر کوئی بھی اضافی وصولی ، خواہ اسے کوئی بھی نام دیا جائے تو وہ خیانت ہے ۔
کسی بھی عہدے پر کسی اہل کو نظر انداز کرکے کم اہل کا تقرر بھی خیانت ہے ، خواہ وہ وزارت ہو ، عدلیہ ہو یا انتظامی امور ہوں ۔
عوام سے لیا جانے والا ٹیکس ، عوام کی بہبود پر خرچ ہونا چاھئیے ، اسے وزراء ، اسمبلیوں بیٹھے روساء ، بیوروکریٹس کی عیاشیوں ، تنخواہ لینے کے بعد مراعات دینے پر خرچ کرنا بھی خیانت ہے ۔
اگر کوئی شخص ، طے کردہ تنخواہ وصول کر لیتا ہے اور اسکے بعد اسے دیگر مراعات ،( جن کا تعلق اسکی ذاتی زندگی سے ہے) دینا خیانت ہی کی ایک بد ترین شکل ہے ۔
گویا خیانت کو بہت سارے نام دے کر ، معاشرے کے کمزور افراد کو استحصال کا شکار رکھا جاتا ہے ۔ انہیں وہ ضروریات بھی بہم نہیں پہنچائی جاتیں جو انکو زندہ رہنے کیلئے درکار ہوتی ہیں ۔ حکمرانوں کیطرف سے بد ترین خیانت ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣ فروری ٢٠١٩
انجام کی فکر
" انجام کی فکر "
نم آلود پلکوں سے وہ پورے انہماک کے ساتھ کچرا خانے کیطرف دیکھ رہا تھا ۔ ایک عجیب سی خوف کی کیفیت اور اداسی اسکے دل اور سوچ کی عکاسی کر رہی تھی ۔
" کیا دیکھ رہے ہیں بابا جی "
میرے سوال پر چونک کر بولے
" انسان کی بے بسی اور اس معاشرے کی بے حسی کا تماشہ ۔ وہ دیکھو ، ایک انسان کچرے میں سے کھانے کی چیزیں تلاش کر رہا ہے ۔ یہ کون ہے ، کہاں سے آیا ۔ کیوں اتنا بے بس ہے "
" پاگل لگتا ہے بیچارہ " میں نے بات سمیٹنے کی کوشش کی ۔ میری بات سن کر بابا جی لال پیلے ہو گئے ۔ جیسے اس کی اس حالت کا میں ذمہ دار ہوں ۔
" چلو مان لیا کہ وہ پاگل ہے ۔ ہے تو ابن آدم ۔ ہم نے اسے پاگل سمجھ لیا بس ذمہ داری ختم ہو گئی ۔ یہی تو ستم ہے ۔ پاگل ہونے سے اسکا معاشرے پر حق مزید بڑھ جاتا ہے ۔ اسکی ایک ایک ضرورت کو پورا کرنا ہمارا فرض بن جاتا ہے ۔ مگر ہم نے اپنا ہر عمل مفادات سے جوڑ رکھا ہے ۔ جس سے کسی فائدے کی امید نہیں ، وہ مرے یا جئے ، ہمیں کیا لینا دینا ۔ تف ہے ایسے معاشرے پر ، ایسے خودغرض طبقوں پر ، بھوک اور افلاس کا راج ہوا کرتا ہے ۔ ارے یہ انسان ، اس وقت جس عمل سے گذر رہا ہے ، اس عمل سے تو کتے گزرتے ہیں ۔"
بابا جی کی منطق سے اتفاق ضروری نہیں تھا ۔ مگر بات میں کچھ وزن ضرور تھا
" یہ پاگل ، ہر اس شخص کا امتحان ہے ، جس نے اسکو اس حالت میں دیکھا اور افسوس کر کے آگے کو چل پڑا ۔ یہ میری اور آپ کی آزمائش بھی ہو سکتی ہے ۔ میں نے دو آنسو بہا لئے ، تم نے بیچارہ کہہ دیا ۔ بس۔ کہانی ختم ۔ نہیں بیٹا ، اسکو اس حال سے نکالنا ہماری ذمہ داری بن گئی ہے ، اسکا سوچو "
یہ کہہ کر وہ اٹھے اور اس شخص کی طرف چل دئے ۔ میں بھی بوجھل قدموں سے بابا جی کی تقلید کر رہا تھا ۔شکریہ
ازاد ہاشمی
4 فروری 2017