" سب فریب نظر ہے "
آج سوشل میڈیا پہ ایک پوسٹ دیکھی جو کچھ یوں تھی
( "سادہ زندگی بسر کرنے کی ایک مثال "
پاکستان کی موجودہ قومی اسمبلی کا ایک میمبر یعنی ایم این اے ہے . جو 2013 کی الیکشن میں بلوچستان کے قومی اسمبلی کے حلقے سے سردار اختر مینگل کے قریبی ساتھی رئوف مینگل اور بلوچستان کے موجودہ وزیراعلئ سردار ثناءاللہ زھری دونوں کو شکست دیکر ایم این اے بنے۔ یہ اتنی سادگی سے زندگی بسر کرتے ہیں کہ ان کے پاس کوئ گاڑی نھیں ہے اور قومی اسیمبلی کے اجلاس میں آنےجانے کے لیے اپنے حلقے خضدار سے اسلام آباد کا سفر عام کوچ اور بس کے ذریعے کرتے ہیں۔ کوئ موباءل فون بھی نھیں رکھتے اور خضدار میں دو کمروں کے ایک کچے گھر میں رہتے ہیں۔ )
بہت اچھا لگا کہ چلو ایک درویش تو ایسا ہے جس نے سادگی کی تاریخی مثال قائم کر دی . سیاست کی دنیا میں اب دو ایسے ممبران تو ہوئے . جو سادگی کی مثال قائم کئے ہوئے ہیں . بس ایک سوال ہے کہ کیا یہ سادہ لوح لوگ اسمبلی سے ملنے والی لاکھوں میں تنخواہ اور کروڑوں میں مراعات بھی لیتے ہیں یا کہ نہیں . اگر نہیں لیتے تو وہ کس کھاتے میں جاتی ہیں . اگر لیتے ہیں تو پھر اس سادگی کو کیا نام دینا چاہئے . فیصلہ آپ پر ہے .
ازاد ھاشمی
Thursday, 11 January 2018
سب فریب نظر ہے
ہر خوف کا علاج
" ہر خوف کا علاج "
خوف ایک ایسی علامت ہے , جو اللہ سے ہو تو ایمان کی علامت . جو غیر اللہ سے ہو تو اللہ کی پکڑ کی نشانی ہے . جو بھی انسان اللہ کے خوف سے نا آشنا ہو جاتا ہے , اسکا دل اور دماغ حرص کے ساتھ ساتھ شیطنت کی طرف مائل ہو جاتے ہیں . پوری فرعونیت کے باوجود ایک انجانا سا خوف اسے گھیرنے لگتا ہے . آج مسلمان اسی خوف کا شکار ہیں . انسانوں کا خوف ، افلاس کا ڈر ، ناگہانی آفات کا لرزہ اور ایسے ہی بیشمار خوف زندگی کی تمام مسرتوں اور رنگینیوں کو چاٹ گئے ہیں ۔ مسلمان جہاں جہاں بھی ہیں ، خوف کے سائے ساتھ ساتھ ہیں ۔ ہم ہزار حل ڈھونڈھنے نکلیں ، کوئی حل نظر نہیں آ رہا ۔ کیوں ۔
اسکی صرف ایک وجہ ہے کہ ہم نے ہر میدان میں اللہ سے مخالفت کی ٹھان رکھی ہے ۔ اللہ کی ربوبیت سے دنیا کے فرعونوں کو اہمیت دے دی ہے ۔ جس جس فعل میں بھلائی تھی ، سکون تھا ، اللہ کی نصرت تھی سب چھوڑ دئیے ۔ اللہ پر توکل چھوڑ کر اپنی اپنی طاقت کے زعم میں مبتلا ہو گئے ۔ جس کی ذات سے مانگنا تھا اسے فراموش کر دیا اور انسانوں کے آگے ہاتھ پھیلا دئیے ۔ جس ذات کی رضا درکار تھی ، اس کے سامنے جانے سے احتراز کیا اور بندوں کی رضا میں لگ گئے ۔ اللہ نے دلوں سے اطمینان چھین لیا ، اب ہر چیز سے خوف آنے لگا ہے ۔ موت کا وقت معین ہے ، نہ ایک ثانیہ آگے نہ پیچھے ، رزق کی حد مقرر ہے ، جہاں بھی ہو گے ملے گا ۔ ہم نے موت سے چھپنا شروع کیا اور رزق کے فکر میں پاگل ہو گئے ۔ یہ سب اللہ پہ بھروسہ نہ ہونے کے خوف ہیں ۔
اگر اللہ کی بات سن لی جاتی تو نہایت آسان حل ہے ۔ کہ جب بھی کوئی دشواری آئے ، جب کوئی خوف مسلط ہو ، جب بھی انسانی ذہن وسوسوں کا شکار بنے تو حکم ربی ہے ۔
" نماز اور صبر کو وسیلہ بنا لو "
ازاد ھاشمی
شادی ، معاشرتی فعل
" شادی ، معاشرتی فعل "
کثرت ازدواج کی اجازت ، معاشرے سے بے حیائی روکنے کا ایک فلسفہ ہے ۔ جسے اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر اپنا کر ہمیں اس فلسفے کے نتائج سے اگاہ فرمایا ۔ اسی پر صحابہ کبار بھی عمل کرتے رہے ۔ اس کے پس منظر میں عربوں کی شہوت رانی تھی ۔ جس کے تحت معاشرہ پوری غلاظت سے متعفن تھا ۔ عورت ایک کھلونا تھی اور عیاش طبع کے لوگ کھلاڑی ۔ عورت کی تعظیم یہی تھی کہ اسے ایک محفوظ اور پاکیزہ ماحول دیا جائے ۔
آپ ( ص) کی تمام شادیوں میں کوئی نہ کوئی فلسفہ تھا ۔ کوئی نہ کوئی درس تھا ۔ کوئی نہ کوئی ہدایت تھی ۔
آج سیاست کے کرتا دھرتا ، اسے اپنی شہوت رانی کی غرض سے استعمال کر رہے ہیں ۔ آزدانہ اختلاط اور اسی دوران تعلقات کا استوار کر لینا ، یہ عمل یکے بعد دیگرے کرتے رہنا ، نہ کوئی فلسفہ ہے اور نہ کوئی ہدایت کی راہ ۔ اسے پاکیزگی سے مشروط بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ نکاح تو اعلان ہے ازدواج کے رشتے کا ۔ اسے پاکیزہ رہنا چاہئیے ۔ اسے تماشا نہیں بننا چاہئے ۔ عورت کی عزت نفس زندہ رہنی چاہئے اور اسے معاشرتی اشتہار نہیں بننا چاہئے ۔ نکاح رد ہے زنا کا ۔ اور حکم ہے کہ نکاح پاکیزگی کی نظر سے کیا جائے شہوت رانی کیلئے نہیں ۔ پاکیزگی کی نظر سے کیا جانے والا نکاح ایک مختصر مدت کیلئے نہیں ہوتا ، یہ وعدہ عمر کی طوالت کا ہوتا ہے ۔ اگر کوئی ٹھوس وجوہ نہ ہوں تو طلاق بد ترین فعل تصور کیا جاتا ہے ۔
یہاں کسی سیاسی نکاح اور طلاق کا قطعی تعلق نہیں ۔ لکھنے کا محض مقصد یہ ہے کہ ہمیں اسلامی اقدار کو اسکی روح کے ساتھ سمجھنا چاہئے ۔ یہ وہ معاشرتی معاملات ہیں ، جنہیں ذاتی کہہ کر ٹالنا درست سمت نہیں ۔
ازاد ھاشمی
اہل فکروتدبر کے نام
" اہل فکر و تدبر کے نام "
ہر معاشرے کے اصل معمار ، سیاستدان نہیں ہوا کرتے ۔ اہل علم و دانش ہوتے ہیں ۔ معاشرے کی اساس واحد وہ چیز ہے جو ہم اگلی نسل کو دیتے ہیں ۔ سیاسی قلابازیاں اور اقتدار کی جنگ ہر دور میں بدلتی رہتی ہیں ۔ اہل علم و دانش کسی بھی تہذہب کا رخ بدلتے ہیں ۔ لمحہ فکریہ ہے کہ سیاست کے میدان جو بیہودگی روایت بن رہی ہے ۔ اگر یہ اسی شدت سے بڑھتی رہی تو آنے والا معاشرہ کیسا ہو گا ۔ کیا ایسے معاشرے میں ہماری نسلیں کسی تہذیب سے اگاہ بھی رہ پائیں گے کہ نہیں ۔ میری نظر میں میڈیا پر بیٹھے لوگ قطعی علم و دانش والے نظر نہیں آتے ۔ یہ سب خوشامدی لوگ ہیں ، اپنی اپنی جیب کی فکر میں لگے بیٹھے ہیں ۔ نیلام گھر میں سجے یہ لوگ اسی کی جیب میں چلے جاتے ہیں ، جو زیادہ بولی لگاتا ہے ۔ یہ بازاری انداز فکر انہی میڈیا کے دانشوروں کی دین ہے ۔ اساتذہ اور علماء ، دو طبقے ہیں جو معاشرے کی تہذیب اور سوچ کو موڑتے ۔ یا پھر کوئی مسیحا آ کر انداز فکر تبدیل کرتا ہے ۔ ہمارے اساتذہ ، شریف النفس لوگ ہوتے ہیں اور اکثر بیہودگی سے کنارہ کش رہتے ہیں ۔ مگر اب ضرورت ہے کہ اساتذہ آگے بڑھیں اور زمام سیاست کا رخ بدلنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ وگرنہ علم کو جہالت کا زنگ کھا جائے گا ۔ علماء نے اگر مسالک کی لاٹھیاں اٹھائے رکھیں تو یہ راستہ بھی بے سود ہو جائے گا ۔ لکھاریوں سے بھی کچھ توقعات ہوا کرتی ہیں ، تاریخ میں اس طبقے کا بہت اہم اور مثبت کردار نظر آتا ہے ۔ بد قسمتی سے جو سچ لکھتا ہے ، جبر کی زبان اسکی قلم توڑ دیتی ہے ۔
اگر یہ تینوں طبقے خاموش رہے تو یہ بھی اتنے ہی مجرم ہونگے ، جتنے آج کے سیاستدان ۔ مجرم اس نسل کے نہیں ، بلکہ آنے والی نسلوں کے ۔ اپنا شعور قوم کو منتقل کرو ۔
ازاد ھاشمی
قران اور کہانیاں
" قران اور کہانیاں "
اللہ پاک نے حضرت موسیؑ پر تورات نازل فرمائی ، جو مختصر احکامات تھے ، حضرت داود ؑ پر زبور نازل کی چند احکامات اور طرز حکومت کے معاملات ، حضرت عیسی ؑ پر انجیل نازل ہوئی تو یہود کی سرکشی اور امت کی رہنمائی کہ راہ راست اختیار کر لیا جائے ۔ عیسائیت کی دانشوروں نے انجیل ، زبور اور تورات کے احکامات میں سے چیدہ چیدہ احکامات اور ہدایات منتخب کئے " بائیبل " کا نام دیا ۔ بے شمار معاملات پر مواد جمع کیا ، تاریخ کے واقعات کو بھی ، سائینسی تحقیق کو بھی اسی بائیبل کا حصہ بنا ڈالا ۔ آج کوئی پادری ، کوئی یہودی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ انکے رسولوں پر نازل ہونے والی کون کونسی سطر اصلی ہے اور کون کون سی شامل کی گئی ۔ حکمت اور دانائی کا جتنا بھی مواد شامل کیا گیا ، سب انسانی ذہن کی اختراع ، سوچ اور تحقیق ہے ۔
قران پاک میں تمام ایسے واقعات ، جن کی تفصیل درکار نہیں تھی ، اللہ کی ذات نے انتہائی اختصار سے نازل فرمائے ۔ ایک ایک لفظ میں ، ایک ایک آیت میں حکمت اور دانائی ہے ۔ اب ہمارے علماء نے قصے اور کہانیوں کو موضوع بنا لیا اور حکمت کیطرف توجہ ہی نہیں کی ۔ لاکھوں احادیث پر مبنی کتابیں ، قصص القران کی کتابیں ، فقہ ، فلسفہ ، منطق اور تفاسیر کا لا متناہی سلسلہ جاری ہے ۔ قران میں تحریف تو ممکن نہ ہو سکی ، مگر کہانیوں اور روایات کو اتنا فروغ دیا گیا کہ قران کی حکمت کی طرف نظر ہی نہیں جانے دی گئی ۔ یہ سوچنے کا وقت ہی باقی نہیں بچتا کہ قران کے نزول کا اصل مقصد کیا تھا ۔ اگر ہم نے قران کے تدبر سے یونہی پہلو تہی رکھی تو اسلام صرف مسالک کا نام بن کر رہ جائے گا ۔
ازاد ھاشمی
مذمت اور اپیل
" مذمت اور اپیل "
یہ وہ دو لفظ ہیں ، جو اکثر پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں ۔ بڑے سے بڑا سانحہ ہو جائے ، سیاستدان ، سماجی رہنماء اور اقتدار والے بہت زور شور سے مذمت کرتے ہیں ۔ اور یقین کر لیتے ہیں کہ اس لفظ " مذمت " سے ہم نے اپنا اپنا فرض ادا کر دیا ۔ مذمت ایک ایسی تسلی ہے اور ایسا دھوکہ ہے ، جو ہم دوسروں کو دیتے ہیں ۔ حالانکہ یہ وہ دھوکہ ہے جو ہم خود کو دے رہے ہوتے ہیں ۔ مگر نہیں جانتے ۔ برائی مذمت سے نہیں اسکی جڑ کاٹنے سے ختم ہوتی ہے ۔ افسوس ، دکھ اور ہمدردی کا احساس انسان کی اندرونی کیفیت ہے ۔ مذمت اس احساس کو سلانے کی لوری ہے ۔ اس منافقت کو معاشرے کی روایت نہیں بننا چاہئیے تھا مگر ہمارے حقوق کی بے شعوری نے اسے قبول کرلیا ۔ حقوق کا تقاضا اس " مذمت " کے لفظ سے ملتوی ہو جاتا ہے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ یادداشتوں سے محو ہو جاتا ہے ۔ ہمارے وطن میں کتنے سانحات ہوئے اور کتنے مذمتی بیان آئے ۔ کیا اس سے کوئی عملی تبدیلی ہوئی ۔ مذمت وہ لوک کرتے ہیں ، جن کو تدارک کرنا ہوتا ہے ۔
دوسرا لفظ " اپیل " ہے ۔ اپیل کو اسکے سیاق و سباق میں " بھیک " کہا جائے تو شاید موزوں ترین مطلب ہے اس لفظ کا ۔ ہم طاقتور کے سامنے اپنے حق کی اپیل کرتے ہیں ۔ جو پبلک سرونٹ ہوتے ہیں ، جن کو ہم تنخواہ دیتے ہیں ہم ان سے اپیل کرتے ہیں ۔ جو فرض ایک سرونٹ کی ذمہ داری تھی اس کو بھیک کیطرح مانگتے ہیں ۔ ہم اسے اسکی مہربانی بنا ڈالتے ہیں ۔ جج کی ڈیوٹی ہے کہ انصاف کرے اور اگر اس کے انصاف میں کوتاہی کا عنصر محسوس ہو ، تو ہمارا حق ہے کہ اسے باور کرائیں اور اسکا فرض ہے کہ اسے دیکھے ۔ اگر وہ نہ دیکھے تو اس سے اوپر والے درجے میں شکایت کریں اپیل نہیں ، اور اپنا حق لیں ۔ " اپیل " لفظ نے حاکم اور محکوم کی حدیں قائم کر رکھی ہیں ۔ یہ بظاہر غیر اہم سی بات بن چکی ہے جبکہ اس نے ہمارے ذہن غلام بنا دئیے ہیں ۔ کوئی بھی دانشور میرےاس تخیل کی اصلاح فرما سکتا ہے ۔ بہت شکریہ
ازاد ھاشمی
مقام رسولؐ اور ہم
" مقام رسولؐ اور ہم "
دنیا میں جتنے بھی نبی یا رسول مبعوث ہوئے ، سب کسی نہ کسی مخصوص قوم ، مخصوص خطہ اور مقصد کیلئے بھیجے گئے ۔ سوائے آپ ؐ کے ، سب کی تعلیمات کا دائرہ مخصوص تھا ۔ آپؐ کو پوری کائنات کی ہدایت کیلئے مبعوث فرمایا ۔ یہی وہ معراج ہے جو ہمیں آپؐ کی امت ہونا نصیب ہوئی ۔ ہم نے اس اعزاز کو کیسے سمجھا اور کیسے اپنایا ، نہایت قابل فکر ہے ۔ پہلا کام تو یہ کیا کہ لاکھوں احادیث آپ ؐ کی ذات سے منسوب کر دیں ۔ جبکہ آپؐ کو زبانی ابلاغ کا بہت ہی مختصر وقت ملا ، بعثت کے پہلے چند سال کھلے عام ابلاغ ممکن نہ ہوئی ، پھر مخالفت کی شدت اس انتہا کو پہنچی کہ آپ کو ہجرت کرنا پڑی ۔ اسکے بعد غزوات اور سرایہ میں گزارنا پڑا ۔ جو مختصر عرصہ ملا ، اس میں اصلاح معاشرہ اور دیگر معاشرتی مسائل اسقدر گھمبیر تھے اور آپ پر اسقدر فکر مندی تھی کہ ساری ساری رات اللہ کے حضور بے چینی سے دعائیں کرتے گزر جاتی ہے ۔ پھر نہ جانے اتنی احادیث بیان کرنے کا وقت کب ملا ۔ خیر ان احادیث میں کئی ایسی بھی تھیں جو ذہن تسلیم نہیں کرتا اور جو حقائق سے بہت دور تھیں ۔ اور جسے بطور ضعیف احادیث ماننا پڑا ۔ اسے اللہ کے رسول ؐ پر بہتان کہنا بھی غلط نہیں ۔ اب ایک نئی روایت نے جنم لیا ہے کہ وہ لوگ بھی کہنے لگے ہیں کہ اللہ کے حبیب ؐ انکی خواب میں آکر یہ یہ ، وہ وہ کہہ گئے ہیں ۔ جن کا عمل ، کردار، رہن سہن ، وضع قطع اور افعال آپ ؐ کی تعلیمات اور احکامات کے قطعی منافی ہیں ۔ اتنی عظیم ہستی کہ اللہ اپنا حبیب کہے ۔ ایک کردار باختہ کی خواب میں تشریف لائیں گے ۔ یہ نہ تو ممکنات میں سے ہے اور نہ ہی اس تعلیم سے مطابقت رکھتا ہے ، جو اسلام کا خاصہ ہے ۔ ہمیں اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے اسطرح کی بے سروپا باتیں اللہ کے پاک نبی سے منسوب کرتے شرم آنی چاہئیے اور سننے والوں کا ایمانی فریضہ ہے ایسے لوگوں کا احتساب کریں ۔ ورنہ یہ روایت بن جائیگی ۔
ازاد ھاشمی
زینب ، میری بیٹی
" زینب ، میری بیٹی "
درندوں کے اس جنگل میں ، جہاں طاقتور کا راج ہے ، جہاں سور کی خصلت والے شہوت پرست انسان کے لباس میں پھرتے ہیں ، جہاں آنکھوں میں ہوس کی آگ لئے چوراہوں پہ بھیڑئے کھڑے ہوں ۔ وہاں بیٹیاں بہت بڑا امتحان ہیں ۔ یہ امتحان میرا بھی ہے اور آپکا بھی ۔ ہر اس شخص کا بھی جسے اللہ نے سوچنے کو دماغ دے رکھا ہے ، بولنے کو زبان دے رکھی ہے ، دیکھنے کو آنکھ دے رکھی ۔ جو نہ سوچتا ہے ، نہ دیکھتا ہے اور نہ بولتا ہے ، کیا زینب اسکی بیٹی نہیں تھی ۔ ایسے گونگے ، اندھے اور ہونک معاشرے کو نہ جانے کب اللہ کا عذاب آ پکڑے ۔ جس معاشرے کا محافظ اپاہج ہو ، حکمران بے غیرت ہو ، انصاف اندھا ہو جائے ، اس معاشرے کو غضب کے ہاتھ دبوچ لیا کرتے ہیں ۔ اس علاقے کے ملا کو ڈوب مرنا چاہئیے کہ اس کی زبان مسلک کی بجائے ہدایت کیلئے بولتی تو شاید یہ واقعہ نہ ہوتا ۔ پولیس والا چوک پہ کھڑا رشوت کی راہ نہ ڈھونڈھ رہا ہوتا تو درندے بھاگ نہ پاتے ۔ قاضی کا قلم بکا ہوا نہ ہوتا تو زینب کو تحفظ ملا ہوتا ۔ ہم نے دوسرے کی بیٹی کو اپنی بیٹی کی نظر سے دیکھنے کی روایت زندہ رکھی ہوتی تو آج زینب کی عزت پامال نہ ہوتی اور وہ ماری نہ جاتی ۔ حرام کے رزق کے پروردہ یہ سب قاتل کسی سیاسی لیڈر کے کتے ہونگے ، یا نطفہ حرام امیر زادے ہونگے ۔ جو نہ پکڑے جائیں گے ، اگر پکڑے بھی گئے تو کوئی کالے کوٹ والا انہیں بچا لے گا ۔ عدالت ثبوت مانگنے کا ڈھونگ کرے گی اور مجرموں کو چھوڑ دیا جائے گا ۔ یہی روایت ہے اور یہی روایت جاری رہے گی ۔ اگر زینب کو ہم نے اپنی بیٹی نہ مانا اور خاموش ہوگئے تو یاد رہے کہ روز قیامت ہماری تمام نیکیاں ہمارے منہ پہ مار دی جائیں گی ۔
زینب کا ہاتھ ہوگا اور ہمارے گریبان ۔ زینب کو اپنی بیٹی سوچ کر دیکھو تو دل دھڑکنے بند ہو جائیں گے ۔
معاشرے کے ہر زانی کو ڈھونڈھ نکالو ، اور عبرت کا نشان بنا دو تاکہ پھر کوئی زینب کوڑے کے ڈھیر پہ خون میں لت پت نہ ملے ۔
اشد ضرورت ہے کہ ہم ناموس اور عزتوں کے محافظ بنیں ۔
آزاد ھاشمی
کوڑے پہ لاش پڑی ہے
" کوڑے پہ لاش پڑی ہے "
اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں ، میڈیا پہ انسانیت کا سبق پڑھانے والے دانشورو ، ضمیر بیچنے والے صحافیو ، دین سکھانے والے ملاو ، جہاد کرنے والے مجاہدو ، قانون سے کھیلنے والے وکیلو ، عدالتوں کے مالک ججو ، ملک کی حفاظت کا حلف اٹھانے والے جرنیلو ، ذرے ذرے کی خبر رکھنے والی ایجنسیو اور سڑکوں پہ سیاستدانوں کی چاپلوسی کرنے والے عوام !! سب غور سے سنو ، غور سے دیکھو اور اچھی طرح جان لو کہ ایک چیختے چلاتے ہوئے موت کے منہ میں جانے والی سات سال کی بچی ، چہرے پہ کرب سجائے اور خون میں لتھڑے کپڑوں میں ایک لاش کوڑے کے ڈھیر پر پڑی ہے ۔ اسکی شکل تم سب کی ، ہم سب کی بیٹیوں سے ملتی ہے ۔ یہ ایک معصوم بیٹی ہے ایسے معاشرے کی ، جسے مسلمان معاشرہ کہا جاتا ہے ۔ جہاں قران پڑھا جاتا ہے ، حدیثیں سنائی جاتی ہیں ۔ جہاں لمبے لمبے خطبے دئیے جاتے ہیں ۔ جہاں عوام قانون سازوں کو کروڑوں روپے کی مراعات مہیا کرتے ہیں ۔
یہ زینب کی لاش نہیں ، ہم سب کی بے حسی کا نوحہ ہے ۔ قومی حمیت کا جنازہ ہے ، ہم سب کی غیرت کا لاشہ ہے ۔ اگر اس سے پہلے لٹنے والی عزتوں پر سزا دی ہوتی ہے تو آج ایسی بے بس لاش کوڑے پہ نہ ہوتی ۔
سوچو اور اٹھو سب بیٹیوں کیلئے ۔ ایک لکیر کھینچنا ہو گی کہ پھر کبھی ایسا نہیں ہو گا ۔ اگر ہم زندہ قوم ہیں ۔
ازاد ھاشمی
زینب کے قاتل
" زینب کے قاتل "
حضرت علی ؑ کا فرمان ہے
" جس مقتول کے قاتل نامعلوم ہوں ، اسکا قاتل حاکم وقت ہوتا ہے "
زینب کئی دن غائب رہی ، گویا اغوا ہوئی ، نہ پولیس ڈھونڈھ سکی نہ باخبر ایجینسیوں کو علم ہوا ۔ بے حس محلے دار ، رشتے دار متحرک ہو جاتے تو شاید قسمت کی ماری معصوم اس بر بریت سے بچ جاتی ۔ علاقے کا ایم این اے ، ایم پی اے با خبر ہوتا تو بھونچال لا دیتا ۔ اس معصوم کو قوم کا درد رکھنے والے اپنی بیٹی سمجھتے تو خاموش کبھی نہ بیٹھتے ۔ اور قاتل کے ہاتھ قتل سے پہلے کئی بار کانپتے ۔ اگر دیکھا جائے تو اس معصوم کے قتل میں چند ہوس پرستوں کے علاوہ پورا معاشرہ قاتل ہے ۔ ہر وہ شخص قاتل ہے تو اسلام کو چھوڑ کر دوسرے قوانین کا حامی ہے ۔ ہمارا قانون قاتل ہے جو مجرم کو بچانے میں معاونت کرتا ہے ۔ ہمارے وکیل شامل ہیں جو چند کوڑیوں کے بدلے قاتلوں کو جانتے ہوئے بھی بچا لیتے ہیں ۔ اسلام کی سزاوں کو نامناسب کہنے والے قاتل ہیں ۔ مولوی قاتل ہے جس نے کردار سازی سے ہٹ کر مسلک سازی کو موضوع بنا رکھا ہے ۔ میڈیا قاتل ہے جو برائی کے راستے ہموار کرتا ہے ۔ قتل کا اصل کردار عبرت ناک سزا سے بچ گیا تو ہم سب قاتل ہیں ۔
اگر پھانسی پہ لٹک گیا تو باقی سب قاتلوں کو کیا سزا ملی ۔ ان تمام محرکات کو بھی تو کوئی سزا ملنی چاہئیے کہ ان سب کی بھی اصلاح ہو جائے ۔ یہ سزا معاشرہ تجویز کرے ۔ معاشرہ سدھارنے کا جھنڈا ہم سب کو اٹھانا ہو گا ۔ وگرنہ اگلے سانحہ کے قاتل ہم سب ہونگے ۔ ان محرکات کو روکنا ہوگا ، جن کیوجہ سے معاشرہ درندگی کیطرف جا رہا ہے ۔ ایسے وکیل کو سزا ملنا چاہئے جو ایسے مجرموں کو بچا لیتے ہیں ۔ ایسے جج کو سزا ملنی چاہئیے جو اپنے صوابدیدی اختیارات کو مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے پہ استعمال نہیں کرتے ۔ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مطابق حاکم وقت کو سزا ملنی چاہئے ۔
ہر بیٹی کو تحفظ دینا ہم سب کا فرض ہے ۔ اگر ایسا نہیں تو ہر قتل کے ہم سب قاتل ہیں ۔
ازاد ھاشمی