" مقام رسولؐ اور ہم "
دنیا میں جتنے بھی نبی یا رسول مبعوث ہوئے ، سب کسی نہ کسی مخصوص قوم ، مخصوص خطہ اور مقصد کیلئے بھیجے گئے ۔ سوائے آپ ؐ کے ، سب کی تعلیمات کا دائرہ مخصوص تھا ۔ آپؐ کو پوری کائنات کی ہدایت کیلئے مبعوث فرمایا ۔ یہی وہ معراج ہے جو ہمیں آپؐ کی امت ہونا نصیب ہوئی ۔ ہم نے اس اعزاز کو کیسے سمجھا اور کیسے اپنایا ، نہایت قابل فکر ہے ۔ پہلا کام تو یہ کیا کہ لاکھوں احادیث آپ ؐ کی ذات سے منسوب کر دیں ۔ جبکہ آپؐ کو زبانی ابلاغ کا بہت ہی مختصر وقت ملا ، بعثت کے پہلے چند سال کھلے عام ابلاغ ممکن نہ ہوئی ، پھر مخالفت کی شدت اس انتہا کو پہنچی کہ آپ کو ہجرت کرنا پڑی ۔ اسکے بعد غزوات اور سرایہ میں گزارنا پڑا ۔ جو مختصر عرصہ ملا ، اس میں اصلاح معاشرہ اور دیگر معاشرتی مسائل اسقدر گھمبیر تھے اور آپ پر اسقدر فکر مندی تھی کہ ساری ساری رات اللہ کے حضور بے چینی سے دعائیں کرتے گزر جاتی ہے ۔ پھر نہ جانے اتنی احادیث بیان کرنے کا وقت کب ملا ۔ خیر ان احادیث میں کئی ایسی بھی تھیں جو ذہن تسلیم نہیں کرتا اور جو حقائق سے بہت دور تھیں ۔ اور جسے بطور ضعیف احادیث ماننا پڑا ۔ اسے اللہ کے رسول ؐ پر بہتان کہنا بھی غلط نہیں ۔ اب ایک نئی روایت نے جنم لیا ہے کہ وہ لوگ بھی کہنے لگے ہیں کہ اللہ کے حبیب ؐ انکی خواب میں آکر یہ یہ ، وہ وہ کہہ گئے ہیں ۔ جن کا عمل ، کردار، رہن سہن ، وضع قطع اور افعال آپ ؐ کی تعلیمات اور احکامات کے قطعی منافی ہیں ۔ اتنی عظیم ہستی کہ اللہ اپنا حبیب کہے ۔ ایک کردار باختہ کی خواب میں تشریف لائیں گے ۔ یہ نہ تو ممکنات میں سے ہے اور نہ ہی اس تعلیم سے مطابقت رکھتا ہے ، جو اسلام کا خاصہ ہے ۔ ہمیں اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے اسطرح کی بے سروپا باتیں اللہ کے پاک نبی سے منسوب کرتے شرم آنی چاہئیے اور سننے والوں کا ایمانی فریضہ ہے ایسے لوگوں کا احتساب کریں ۔ ورنہ یہ روایت بن جائیگی ۔
ازاد ھاشمی
Thursday, 11 January 2018
مقام رسولؐ اور ہم
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment