Thursday, 11 January 2018

زینب ، میری بیٹی

" زینب ، میری بیٹی "
درندوں کے اس جنگل میں ، جہاں طاقتور کا راج ہے ، جہاں سور کی خصلت والے شہوت پرست انسان کے لباس میں پھرتے ہیں ، جہاں آنکھوں میں ہوس کی آگ لئے چوراہوں پہ بھیڑئے کھڑے ہوں ۔ وہاں بیٹیاں بہت بڑا امتحان ہیں ۔ یہ امتحان میرا بھی ہے اور آپکا بھی ۔ ہر اس شخص کا بھی جسے اللہ نے سوچنے کو دماغ دے رکھا ہے ، بولنے کو زبان دے رکھی ہے ، دیکھنے کو آنکھ دے رکھی ۔ جو نہ سوچتا ہے ، نہ دیکھتا ہے اور نہ بولتا ہے ، کیا زینب اسکی بیٹی نہیں تھی ۔ ایسے گونگے ، اندھے اور ہونک معاشرے کو نہ جانے کب اللہ کا عذاب آ پکڑے ۔ جس معاشرے کا محافظ اپاہج ہو ، حکمران بے غیرت ہو ، انصاف اندھا ہو جائے ، اس معاشرے کو غضب کے ہاتھ دبوچ لیا کرتے ہیں ۔ اس علاقے کے ملا کو ڈوب مرنا چاہئیے کہ اس کی زبان مسلک کی بجائے ہدایت کیلئے بولتی تو شاید یہ واقعہ نہ ہوتا ۔ پولیس والا چوک پہ کھڑا رشوت کی راہ نہ ڈھونڈھ رہا ہوتا تو درندے بھاگ نہ پاتے ۔ قاضی کا قلم بکا ہوا نہ ہوتا تو زینب کو تحفظ ملا ہوتا ۔ ہم نے دوسرے کی بیٹی کو اپنی بیٹی کی نظر سے دیکھنے کی روایت زندہ رکھی ہوتی تو آج زینب کی عزت پامال نہ ہوتی اور وہ ماری نہ جاتی ۔ حرام کے رزق کے پروردہ یہ سب قاتل کسی سیاسی لیڈر کے کتے ہونگے ، یا نطفہ حرام امیر زادے ہونگے ۔ جو نہ پکڑے جائیں گے ، اگر پکڑے بھی گئے تو کوئی کالے کوٹ والا انہیں بچا لے گا ۔ عدالت ثبوت مانگنے کا ڈھونگ کرے گی اور مجرموں کو چھوڑ دیا جائے گا ۔ یہی روایت ہے اور یہی روایت جاری رہے گی ۔ اگر زینب کو ہم نے اپنی بیٹی نہ مانا اور خاموش ہوگئے تو یاد رہے کہ روز قیامت ہماری تمام نیکیاں ہمارے منہ پہ مار دی جائیں گی ۔
زینب کا ہاتھ ہوگا اور ہمارے گریبان ۔ زینب کو اپنی بیٹی سوچ کر دیکھو تو دل دھڑکنے بند ہو جائیں گے ۔
معاشرے کے ہر زانی کو ڈھونڈھ نکالو ، اور عبرت کا نشان بنا دو تاکہ پھر کوئی زینب کوڑے کے ڈھیر پہ خون میں لت پت نہ ملے ۔
اشد ضرورت ہے کہ ہم ناموس اور عزتوں کے محافظ بنیں ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment