Saturday, 2 February 2019

یہ علم نہیں ، جہالت ہے

" یہ علم نہیں ، جہالت ہے "
بنی اسرائیل کے پاس جب بھی کوئی حکم ربی پہنچایا گیا ، انہوں نے انکار کرنے کے بہانے تلاش کئے ۔ عجیب عجیب توجیہات پیش کیں ، عجیب عجیب سوال کئے ۔ یہی ہو ضد تھی جس نے اللہ کو ناراض کیا ۔ اللہ کے احسانات سے انکاری قوم کو اللہ نے لمبی چھوٹ دی ۔ مگر وہ باز نہیں آئے ۔ پھر چھپنے کی جگہ نہیں ملتی تھی ۔ زمین تنگ ہو گئی ، شیرازہ بکھر گیا ۔ اسی روش کو انہوں نے دوسرے مذاہب میں منتقل کر دیا ۔ اب علم کے نام پر سوشل میڈیا پر ایسی بحثیں چھیڑی جا رہی ہیں ، جو اللہ کے احکامات میں ابہام کو جنم دیتی ہیں ۔ آج بھی ایک مفکر لکھتے ہیں ۔

(گویا خدائی کلام پلان کے ساتھ نازل نہیں ہوا ، ؟
جو واقعات رونما ہوتے رہے مطابقت کی آیات نازل ہوتی رہیں ؟
میثاق مدینہ بھی اتفاق تھا ؟)

کہا یہ جا رہا ہے کہ ہم علم دوست لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پہ جمع کر کے علمی بحث کر رہے ہیں ۔ حالانکہ علم یہ نہیں کہ شکوک پیدا کئے جائیں ۔ علم یہ ہے شکوک کی نفی کرکے معاملات کو عام فہم اور آسان بنایا جائے ۔ اگر کوئی شخص ایسے عالم سے یہ پوچھ لے کہ تمہارے والدین کو شادی کی اور  نکاح کی کیا ضرورت تھی ۔ تمہیں اسکے بغیر بھی تو پیدا کیا جا سکتا تھا ۔ تو یہ علمی بحث نہیں جاہلانہ بحث ہوگی اور اعتراض ہو گا ، اللہ کی قائم کردہ حدود پر  ۔ اس سوال کا کوئی جواب اس مفکر کے پاس نہیں ہوگا ۔ سوائے اسکے کہ وہ سیخ پا ہو جائے ۔
علم یہ ہے کہ نکاح اور شادی کی افادیت پر بحث ہو ۔
ایسے تمام بحثیں فساد ہیں ۔ اس میں علمیت کی قطعی ضرورت نہیں ، جہالت کی ضرورت ہے ۔
مذکورہ الفاظ پر توجہ کریں تو کوئی شک نہیں کہ یہ کھلی جسارت ہے ، اسلامی فکر میں شکوک پیدا کرنے کی ۔
آزاد ھاشمی
2 فروری 2018

Thursday, 31 January 2019

کیا ہم اجڈ ہیں ؟

" کیا ہم اجڈ ہیں؟  "
اگر طاغوت ، اسلامی اقدار کا مذاق اڑاتے ہیں تو یہ انکے مذاہب کا حصہ ہے ، کہ جتنا ممکن ہو اسلام کے خلاف تشہیر کریں ۔ وہ یہ کام اپنا فرض اور اپنی فلاح کا ذریعہ سمجھ کر کرتے ہیں ۔ اب انہوں نے یہ زہر ہمارے مسلمانوں کی رگوں میں بھی بہت آسانی سے اتار دیا اور اب یہ کام ہمارے مسلمانوں نے اپنے ذمہ لے لیا ہے  ۔ دین کی  ہر بات کا تمسخر ہمارے وہ لوگ بہت شد و مد سے اڑاتے ہیں جو کفر کی گود میں بیٹھے ، دنیا کی چکا چوند میں گم ہیں ۔ انکے نزدیک " ملا " ایک گنوار ، جاہل اور ضدی شخص ہے جو ہر مسلے کا حل قرآن اور مذہب سے ڈھونڈھتا ہے ۔ پہلے داڑھی کا تمسخر اڑایا جاتا رہا ، پھر داڑھی کو دہشت کی علامت بنا دیا گیا ۔ اب جو اللہ اور اسکے رسولؐ کی بات کرتا ہے وہ نشانے پر ہے ۔ اور اسے جاہل ثابت کیا جاتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا چاند کے سفر پر روانہ ہے اور ہمارا مذہبی طبقہ قرآن کے وظیفوں میں الجھا ہوا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ چودہ سو سال پرانے لوگوں کی تقلید سے کیا حاصل ہو گا ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اسوقت کے تقاضے  تھے اور آج کی ضرورتوں سے  بہت مختلف ہیں ۔
سوال ہے کہ کیا معاشی خوشحالی اور سائنسی ترقی ، اصل ترقی ہے اور کیا یہی اصل ضرورت ہے ؟
تاریخ کی پرانی کہانیوں کو دیکھیں تو جاہل ترین ہلاکو خان اور چنگیز خان نے دنیا کے ترقی یافتہ کو کیسے روند دیا ۔ مذہب سے وابستگی کو دیکھیں تو مسلمانوں نے قیصر و کسریٰ کو کیسے پسپا کیا ۔ اتنی دور نہ بھی جائیں تو ارادوں کے سامنے امریکہ بہادر ویتنام میں کیسے ذلت سے شکست خوردہ ہوا ۔ روس پورے جاہ و جلال سے ٹائر کی بنی جوتی اور سر پہ رکھے " پگڑ " والوں کے ہاتھوں کیسے رسوا ہوا ۔ ابھی تازہ ترین صورت حال کو دیکھیں کہ دنیا کہ ترقی یافتہ قومیں کسطرح " اجڈ ملا " کے سامنے دو زانو ہونے پر مجبور ہیں ۔ یہ اس علم اور طاقت کی بناء پر ہوا ، جسے ہم " ایمان "  کہتے ہیں ۔ ثابت ہو گیا کہ اصل جاہل وہ ہیں ، جو ٹیکنالوجی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے تھے اور بھول گئے کہ ٹیکنالوجی شعور کی محتاج ہے اور شعور کا اختیار اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ۔ شعور اور آگہی کسی بھی گوشت پوست کے انسان کو ٹیکنالوجی کی کمر توڑنے کی طاقت دے سکتی ہے ،  یہ ہو گیا اور دنیا دیکھ رہی ہے ، یہ ہوتا رہے گا اور دنیا دیکھتی رہے گی ۔ 
آزاد ھاشمی
٢٩ جنوری ٢٠١٩

Tuesday, 29 January 2019

صبر اور نماز

" صبر اور نماز "
جتنی بھی تدبیریں ، جتنی بھی دعائیں ، جتنا بھی شور و غوغا ممکن تھا ۔ درد دل رکھنے والے لوگ ایک تسلسل سے کر رہے ہیں ۔ ظلم کی آندھی رکنے کی بجائے اور تیز ہوتی جارہی ہے ۔ مجرم طاقتور ہیں اور مظلوم مجبور اور کمزور ۔ حکومت یا تو مجرموں کی پشت پناہی کرتی ہے یا قطعی بے بس ہے کہ اس لہر کو روک نہیں پا رہی ۔ ہر مجرم گرفت میں آ کر بھی آسانی سے نکل جاتا ہے ، اسکی ایک ہی وجہ ہے کہ مجرموں کی چین اہل اقتدار لوگوں سے جڑی ہوئی ہے ۔ بد قسمتی سے عدالتی نظام اسقدر فرسودہ ہے کہ مجرم اسکے شکنجے میں آ ہی نہیں سکتا ۔ وکلاء کی جیب بھر دی جائے تو وہ جج کے چیمبر میں جج کو خرید لیتے ہیں ۔ یہ جتنے جج بھڑکیں مارتے  ہیں اتنے ہی ناکارہ ثابت ہوئے ہیں ۔ انکے اپنے مفادات حکومت میں رہتے ہوئے اور کرسی سے ہٹنے کے بعد تک پیش نظر ہوتے ہیں ۔ اپنی اپنی عاقبت کی فکر میں یہ صرف شطرنج کھیلتے رہتے ہیں ۔ فوجی جرنیل بھی اس پلاننگ میں رہتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کونسی بہتر پوسٹ مل سکتی ہے ۔ اسکا ثبوت سفیروں کی شکل میں موجود ہے ۔
سوال ہے کہ اب عوام کیا کرے ۔ اللہ نے اسکا واضع حل دیا ہے کہ نماز اور صبر سے مدد طلب کرو ۔ قوم نماز سے کنارہ کش ہے ۔ ریا کے سجدے تو کرتے ہیں ، مگر ایمان کا سجدہ مفقود ہے ۔ جب نماز اور صبر کو پکڑ لیں ، اللہ ان درندوں کو زمین کی تہوں سے نکال کر عبرت کا نشان بنا دے گا
۔انسان کا قاتل کبھی نہیں بچ پاتا ۔ یہ چند دنوں کی دراز رسی پر مایوس نہیں ہونا چاہئیے ۔ اللہ سے خضوع اور خشوع سے اپنی اپنی بپتا کہنا شروع کردو اور انتظار کرو ، اللہ اپنا انصاف اسی دنیا میں دکھا دے گا ۔ اگر ہم سب چاہتے ہیں کہ ظالم کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو پورے ایمان کے ساتھ نماز پڑھو اور صبر کرو ۔ یہ حل اللہ نے بتایا ہے اور اللہ کا بتایا ہوا حل کبھی ناکام نہیں ہوتا ۔
آزاد ھاشمی
26 جنوری 2018