" کیا ہم اجڈ ہیں؟ "
اگر طاغوت ، اسلامی اقدار کا مذاق اڑاتے ہیں تو یہ انکے مذاہب کا حصہ ہے ، کہ جتنا ممکن ہو اسلام کے خلاف تشہیر کریں ۔ وہ یہ کام اپنا فرض اور اپنی فلاح کا ذریعہ سمجھ کر کرتے ہیں ۔ اب انہوں نے یہ زہر ہمارے مسلمانوں کی رگوں میں بھی بہت آسانی سے اتار دیا اور اب یہ کام ہمارے مسلمانوں نے اپنے ذمہ لے لیا ہے ۔ دین کی ہر بات کا تمسخر ہمارے وہ لوگ بہت شد و مد سے اڑاتے ہیں جو کفر کی گود میں بیٹھے ، دنیا کی چکا چوند میں گم ہیں ۔ انکے نزدیک " ملا " ایک گنوار ، جاہل اور ضدی شخص ہے جو ہر مسلے کا حل قرآن اور مذہب سے ڈھونڈھتا ہے ۔ پہلے داڑھی کا تمسخر اڑایا جاتا رہا ، پھر داڑھی کو دہشت کی علامت بنا دیا گیا ۔ اب جو اللہ اور اسکے رسولؐ کی بات کرتا ہے وہ نشانے پر ہے ۔ اور اسے جاہل ثابت کیا جاتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا چاند کے سفر پر روانہ ہے اور ہمارا مذہبی طبقہ قرآن کے وظیفوں میں الجھا ہوا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ چودہ سو سال پرانے لوگوں کی تقلید سے کیا حاصل ہو گا ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اسوقت کے تقاضے تھے اور آج کی ضرورتوں سے بہت مختلف ہیں ۔
سوال ہے کہ کیا معاشی خوشحالی اور سائنسی ترقی ، اصل ترقی ہے اور کیا یہی اصل ضرورت ہے ؟
تاریخ کی پرانی کہانیوں کو دیکھیں تو جاہل ترین ہلاکو خان اور چنگیز خان نے دنیا کے ترقی یافتہ کو کیسے روند دیا ۔ مذہب سے وابستگی کو دیکھیں تو مسلمانوں نے قیصر و کسریٰ کو کیسے پسپا کیا ۔ اتنی دور نہ بھی جائیں تو ارادوں کے سامنے امریکہ بہادر ویتنام میں کیسے ذلت سے شکست خوردہ ہوا ۔ روس پورے جاہ و جلال سے ٹائر کی بنی جوتی اور سر پہ رکھے " پگڑ " والوں کے ہاتھوں کیسے رسوا ہوا ۔ ابھی تازہ ترین صورت حال کو دیکھیں کہ دنیا کہ ترقی یافتہ قومیں کسطرح " اجڈ ملا " کے سامنے دو زانو ہونے پر مجبور ہیں ۔ یہ اس علم اور طاقت کی بناء پر ہوا ، جسے ہم " ایمان " کہتے ہیں ۔ ثابت ہو گیا کہ اصل جاہل وہ ہیں ، جو ٹیکنالوجی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے تھے اور بھول گئے کہ ٹیکنالوجی شعور کی محتاج ہے اور شعور کا اختیار اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ۔ شعور اور آگہی کسی بھی گوشت پوست کے انسان کو ٹیکنالوجی کی کمر توڑنے کی طاقت دے سکتی ہے ، یہ ہو گیا اور دنیا دیکھ رہی ہے ، یہ ہوتا رہے گا اور دنیا دیکھتی رہے گی ۔
آزاد ھاشمی
٢٩ جنوری ٢٠١٩
Thursday, 31 January 2019
کیا ہم اجڈ ہیں ؟
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment