اے کربلا کی مٹی
اے کربلا کی مٹی تجھے یاد تو ہو گا , اے
کربلا کی زمین پہ بکھرے نوکیلے کنکروں تم بھی بھول نہیں پاۓ ہو گے , فرات کے بہتے
دریا تو بھی گواہ ہو گا - کہ نبی کی بیٹی کے لخت جگر نے کس شان سے الله کے دین کی
آبرو سربلند کی - تم گواہی تو دو گے کہ اگر باغ رسول کے یہ سارے پھول خاک کی پیاس
اپنے خون نہ بجھاتے تو آج ساری دھرتی الله کے دین سے خالی ہوتی - اگر نبی کی نواسی
اپنی چادر قربان نہ کرتی تو آج ہر معصوم کے سر سے چادر چھن گئی ہوتی -
اے فلک کبھی دیکھا تو نے ایسا جس اسلام کی
شمع جلاۓ رکھنے کے لئے اپنے گھر کے سارے چراغ بھجا دئیے ہوں -
یزیدیت کے خلاف چند ماہ کے بچے کو کبھی حلق
پہ تیر کھاتے دیکھا -
اے فلک ! کبھی دیکھا تو نے حسین جیسا باپ اور
علی اکبر جیسا بیٹا , کبھی دیکھا تو نے کربلا جیسا معرکہ - کبھی دیکھا تو نے یزید
جیسا ظلم -کبھی دیکھا
تو نے سکینہ جیسا قیدی - سچ بتا کبھی دیکھا
سر کے بالوں سے پردے کی لاج رکھنے والا چہرہ -
اے تاریخ کے لکھاریو ! ہے کوئی مثال کائنات
میں کسی ایسے سجدے کی جو حسین نے کیا -
کبھی دیکھا کسی نبی کی آل کو رسیوں میں جھکڑے
ہوۓ -
کبھی دیکھی علی کی بیٹی جیسی گرج کسی ظالم کے
دربار میں -
کبھی دیکھی یزید جیسی شکست اور رسوائی -
کیا آل رسول کی بے پردہ بیبیوں کو دیکھ کر
فلک تو رویا ہو گا -
جب سکینہ کو طمانچے لگے زمین تو کانپی
ہو گی -
جب حسین کی گردن پہ خنجر چلا نبی کی بیٹی کا
کلیجہ تو کٹا ہو گا -
جب زینب آتش زدہ خیموں میں آل نبی کے پھولوں
کو ڈھونڈنے بے پردہ بھاگی فرشتوں کی آنکھیں پر نم تو ہوئی ہوں گی -
جب کٹے ہوۓ جسموں پہ گھوڑے دوڑے ہوں گے تو
خالق کائنات نے لعنت تو بھیجی ہو گی ظالموں پر –
(آزاد
ہاشمی )