" نظام حکومت کیا ہے "
اگر یہ الجھن سمجھ آ جائے کہ کسی بھی حکومت کا نظام کن اساسی بنیادوں پر قائم ہوتا ہے ، تو یہ تجزیہ آسان ہو جاتا ہے کہ کونسا نظام آسان ہے اور کونسا مبہم ۔
حکومت ایک ایسا ادارہ ہوتا ہے جو عوام کی فلاح ، حقوق ، بنیادی ضرورتوں ، حفاظت اور امن و شانتی کے ساتھ رہنے کی راہ کا تعین بھی کرتا ہے اور اسکا انتظام بھی ۔ اگر ان بنیادی امور پر بغیر کسی ذاتی مفاد کے عمل ہوتارہے ، نظام مثبت ہے ، جیسے ہی ذاتی مفادات کی سوچ جنم لے لے ، نہ عدل باقی رہتا ہے ، نہ امن ، نہ حقوق محفوظ رہتے ہیں ، نہ جان نہ مال ۔
انسانی سوچ سے مرتب کیا ہوا کوئی بھی نظام ہو ، ذاتی مفادات کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔ سیاست مفادات کے کھیل کا نام ہے ۔ اور اسوقت تمام نظام اسی سیاست کے تابع ہیں ۔ اشتراکیت ، فسطائیت ، جمہوریت ، بادشاہت یا کوئی بھی مخلوط نظام ہو ، سیاسی چالوں سے بنتا اور چلتا ہے ۔
اسلام واحد نظام ہے ، جسکی تمام حدود متعین ہیں ، تمام بنیادی اصول وضع ہیں ، قواعد میں کوئی ابہام نہیں ، حکمران کا تقرر کردار کی شرط پر قائم ہے ، انسان کی فلاح اولین اصول ہے ۔
یہ بات تو سمجھ آتی ہے ، کہ اسلام سے نا آشنا اقوام کو تو اپنے طرز ہائے حکومت کے لئے تگ و دو کی ضرورت ہے ۔ مگر یہ سمجھ نہیں آتا کہ مسلمان اقوام نے اپنے نظام کو چھوڑ کر دوسرے طریقوں پر خجل ہونے کی کیوں ٹھان رکھی ہے ۔ اسے حماقت کہیں ، جہالت کہیں یا سازش کا نام دیں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
اگر یہ الجھن سمجھ آ جائے کہ کسی بھی حکومت کا نظام کن اساسی بنیادوں پر قائم ہوتا ہے ، تو یہ تجزیہ آسان ہو جاتا ہے کہ کونسا نظام آسان ہے اور کونسا مبہم ۔
حکومت ایک ایسا ادارہ ہوتا ہے جو عوام کی فلاح ، حقوق ، بنیادی ضرورتوں ، حفاظت اور امن و شانتی کے ساتھ رہنے کی راہ کا تعین بھی کرتا ہے اور اسکا انتظام بھی ۔ اگر ان بنیادی امور پر بغیر کسی ذاتی مفاد کے عمل ہوتارہے ، نظام مثبت ہے ، جیسے ہی ذاتی مفادات کی سوچ جنم لے لے ، نہ عدل باقی رہتا ہے ، نہ امن ، نہ حقوق محفوظ رہتے ہیں ، نہ جان نہ مال ۔
انسانی سوچ سے مرتب کیا ہوا کوئی بھی نظام ہو ، ذاتی مفادات کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔ سیاست مفادات کے کھیل کا نام ہے ۔ اور اسوقت تمام نظام اسی سیاست کے تابع ہیں ۔ اشتراکیت ، فسطائیت ، جمہوریت ، بادشاہت یا کوئی بھی مخلوط نظام ہو ، سیاسی چالوں سے بنتا اور چلتا ہے ۔
اسلام واحد نظام ہے ، جسکی تمام حدود متعین ہیں ، تمام بنیادی اصول وضع ہیں ، قواعد میں کوئی ابہام نہیں ، حکمران کا تقرر کردار کی شرط پر قائم ہے ، انسان کی فلاح اولین اصول ہے ۔
یہ بات تو سمجھ آتی ہے ، کہ اسلام سے نا آشنا اقوام کو تو اپنے طرز ہائے حکومت کے لئے تگ و دو کی ضرورت ہے ۔ مگر یہ سمجھ نہیں آتا کہ مسلمان اقوام نے اپنے نظام کو چھوڑ کر دوسرے طریقوں پر خجل ہونے کی کیوں ٹھان رکھی ہے ۔ اسے حماقت کہیں ، جہالت کہیں یا سازش کا نام دیں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment