Tuesday, 5 September 2017

چائے فروش اور روساء حکمران

" چائے فروش اور روساء حکمران "
سنا ہے کہ مودی مسلمانوں کا پکا دشمن , قاتل , متعصب اور کٹر ہندو ہے . بیچارہ ایک چائے بیچنے والا غریب آدمی تھا , بس ہندو تعصب کے باعث وزیر اعظم بن گیا . سب ٹھیک , سب پتھر پہ لکیر .
آج ایک دوست نے مودی کا کلپ بھیجا . مودی صاحب فرماتے ہیں .
" قرآن پاک میں سب سے زیادہ نام اللہ کا ہے اور اسکے بعد دوسرا نام ہے علم . جو آٹھ سو بار قران میں آیا ہے . جسے مسلمان بھول گئے اور جس پر توجہ نہیں کی گئی . اگر اس پر توجہ کر لی جاتی تو کوئی مسائل نہ ہوتے . "
پھر فرمایا .
" کہ اللہ نے جس پر سب سے زیادہ زور دیا وہ ہے ' گیان ' یعنی غور و فکر " 
میری حیرانی کی انتہا نہیں رہی کہ یہ کافر , مشرک , بت پرست , مسلمانوں کا کٹر دشمن . اسلام کی تعلیمات سے کسقدر اگاہی رکھتا ہے اور ادھر ہمارے کتنے حکمران ایسے گزرے جن کو اس کی اگاہی تھی کہ علم کی کیا اہمیت ہے . کتنے ملا ایسے ہیں جو با خبر ہیں انہوں نے  اللہ کی تاکید پر کیا جہاد کیا .
یہ تھا قران کا اصل پیغام کہ اسکی تعلیمات کو اچھی طرح سمجھا جاتا . اس سے اپنے راستے کا تعین کیا جاتا .
آج اگر ہم تعلیم , ٹیکنالوجی اور جدید علمی تحقیق کو دیکھتے ہیں تو قران کا منکر اس پر عمل کر رہا ہے اور ہم سے کوسوں آگے نکل چکا ہے .
یہ مودی کی تعریف نہیں , ہماری کم نگاہی کا ماتم ہے . قابل.شرم ہے کہ جو کافر جانتا ہے ہم نہیں جانتے . جو فکر وہ رکھتا ہے ہم نہیں رکھتے . جو گیان اس نے کیا , ہم نہیں کرتے . یہ قران تو ہمارا  تھا . ہماری رہنمائی تھی اس میں . پھر ہندو کیوں یاد دلا رہا کہ مسلمانوں کا قران آٹھ سو بار علم علم کیوں پکار رہا ہے .
ازاد ھاشمی

مبارک ہو جمہوریت پرستو

" مبارک ہو جمہوریت پرستو ! "
آخر گھر کے بھیدی راز اگلنے لگے . پتہ چلا کہ سیاست کے اکثر پنڈت کسی نہ کسی حسینہ کے عشووں پر قربان ہو چکے ہیں . تعفن کی یہ بد بو پہلے تو اسمبلی کے اندر اندر تھی , اب یہ تعفن سارے ملک میں پھیلا ہوا نظر آنے لگا ہے . بے شکن لباسوں میں ملبوس یہ شرفاء بد کرداری کے شکنوں سے بھرے پڑے ہیں .
کہ ہر با کردار تھو تھو کرنے پر مجبور ہے .
کل تک ہوس زدہ ایک بازار تک محدود تھے اور رات کے اندھیرے میں منہ چھپا کر وہاں جاتے تھے کہ کوئی دیکھ نہ لے . طوائفیں کئی شریف زادوں کے راز چھپائے قبر میں چلی جاتی تھیں مگر کسی امیر زادے کا راز نہیں کھولتی تھیں . مگر اب ان قائدین کے راز میڈیا پر آگئے ہیں . حیرانی اس بات پر نہیں کہ انہیں شرم کیوں نہیں آرہی . حیرانی اس بات پر ہے کہ جو جمہوریت کا راگ الاپتے نہیں تھکتے , انکو ابھی تک ہوش نہیں آئی کہ محترمہ جمہوریت نے کیسے بدکردار بچوں کو جنم دے ڈالا . کہ تعفن پوری سیاست سے اٹھ رہا ہے . ہم نے ابھی سوچنا ہی شروع نہیں کیا کہ ایسے بد کردار قایدین سے کیا امیدیں رکھی جا سکتی ہیں . جو اپنے اللہ سے سرکشی کر رہے ہیں , انہیں میرے اور آپکے حقوق سے کیا سروکار . شاید چند لوگ بے خبر ہونگے کہ یہ قایدین کس کردار کے لوگ ہیں مگر اکثریت تو بخوبی اگاہ ہے کہ اسمبلی میں بیٹھے شرفاء کی اکثریت بازاری طبیعت کے لوگوں کی ہے . اخلاقیات سے نابلد یہ غنڈہ مزاج لوگ ہمارے لیڈر ہیں . اور ہم ان سے اپنی بھلائی کی امید لگائے بیٹھے ہیں . مبارک ہو جمہوریت کے پرستاروں کو کہ شیطان کے چیلوں کو اپنی تقدیر کا مالک بنانے میں کامیاب ہو گئے . گویا شیطنت جیت گئی . 
ازاد ھاشمی

کمال کے جج , مثال کے فیصلے

" کمال کے جج , مثال کے فیصلے "
یقین کرتے ہوئے شرم بھی آ رہی ہے اور حیرانی بھی کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ جج ایسے بھی فیصلے کیا کرتے ہیں . جیسے بینظیر کو قتل کیے جانے میں سزا ایک کمشنر کو ہو گئی . اور وہ بھی پورے سترہ سال کی . قصور کیا تھا کہ جہاں خون گرا تھا وہ جگہ کیوں دہونے کا کہا . یہ تو اللہ جانتا ہے کہ اس لاوارث کمشنر نے آرڈر دیا تھا کہ نہیں . جج نے بس گردن کا ناپ کیا ہو گا , اسکی گردن پھندے پہ فٹ  آ گئی ہو گی . بس چڑھا دیا . عدل کا بول بالا ہو گیا .
میں سوچ رہا ہوں کہ کل اسی جج کی گردن کو کوئی پھندہ فٹ آگیا تو کیا ہو گا . اس کمشنر نے بھی کرسی پر اکڑی گردن سے نہ جانے کتنے بے گناہ رگڑے ہونگے , اسے تو گنتی بھی یاد نہیں ہو گی . اب ایک ایک کا حساب یاد کر رہا ہو گا . یہی مکافات عمل ہے . ایسے کتنے فیصلے ہونگے جو ہماری  عدلیہ کی تاریخی داستانیں ہونگی . ان گنت بےقصور پھانسی پہ جھولے ہونگے, ان گنت مجرم ہوکر بھی معززین ٹھہرائے گئے ہونگے .
تعجب یوں بھی ہے کہ ایسے فیصلوں پہ بولنا بھی توہین عدالت ہے . جج جیسی بھی حماقت کر ڈالے , نہ احتساب , نہ گرفت اور نہ کوئی سوال کرنے کی اجازت . یہ اسکا صوابدیدی حق ہے . جج کی نااہلی , صوابدید , کسی بے قصور کی پھانسی اسکا نصیب , کسی طاقتور کی کاسہ لیسی مستقبل کی ترقی . یہ ہے عدل , یہ ہے نظام , یہ ہے قانون اور یہ رہے عوام .
واہ جی واہ . 
ازاد ہاشمی