Wednesday, 20 September 2017

تایخ حکمران ہندوستان

*=(تاریخِ حکمرانِ ھندوستان)=*
*غوری سلطنت سے نریندر مودی تک*
*HISTORY OF RULERS IN HINDUSTAN/FROM GORI TO NARENDRA MODI*

👈 *غوری سلطنت*
1 = 1193 محمد غوری
2 = 1206 قطب الدین ایبک
3 = 1210 آرام شاہ
4 = 1211 التتمش
5 = 1236 ركن الدين فیروز شاہ
6 = 1236 رضیہ سلطان
7 = 1240 معیزالدین بہرام شاہ
8 = 1242 الہ دين مسعود شاہ
9 = 1246 ناصرالدين محمود
10 = 1266 غیاث الدین بلبن
11 = 1286 رنگ كھشرو
12 = 1287 مذدن كےكباد
13 = 1290 شمس الدین كےمرس
*غوری سلطنت اختتام*
(دور حکومت -97 سال تقریبا)

👈 *خلجي سلطنت*
1 = 1290 جلال الدین فیروز خلجی
2 = 1292 الہ دین خلجی
3 = 1316 شھاب الدین عمر شاہ
4 = 1316 قطب الدین مبارک شاہ
5 = 1320 ناصر الدین خسرو شاہ
*خلجی سلطنت اختتام*
(دور حکومت -30 سال تقریبا)

👈 *تغلق سلطنت*
1 = 1320 غیاث الدین تغلق (اول)
2 = 1325 محمد بن تغلق (دوم)
3 = 1351 فیروز شاہ تغلق
4 = 1388 غیاث الدین تغلق (دوم)
5 = 1389 ابوبکر شاہ
6 = 1389 محمد تغلق (سوم)
7 = 1394 الیگزینڈر شاہ (اول)
8 = 1394 ناصر الدین شاہ (دوم)$
9 = 1395 نصرت شاہ
10 = 1399 ناصرالدين محمدشاہ (دوم)
11 = 1413 دولت شاه
*تغلق سلطنت اختتام*
(دور حکومت -94 سال تقریبا)

👈 *سید سلطنت*
1 = 1414 كھجر خان
2 = 1421 معیزالدین مبارک شاہ (دوم)
3 = 1434 محمد شاہ(چہارم)
4 = 1445 الہ دين عالم شاہ
*سید سلطنت اختتام*
(دور حکومت -37 سال تقریبا)

👈 *لودھی سلطنت*
1 = 1451 بهلول لودھی
2 = 1489 الیگزینڈر لودھی (دوم)
3 = 1517 ابراہیم لودھی
*لودھی سلطنت اختتام*
(دور حکومت -75 سال تقریبا)

👈 *مغلیہ سلطنت*
1 = 1526 ظہیرالدين بابر;
2 = 1530 ہمایوں
*مغلیہ سلطنت اختتام*

👈 *سوري سلطنت*
1 = 1539 شیر شاہ سوری
2 = 1545 اسلام شاہ سوری
3 = 1552 محمود شاہ سوری
4 = 1553 ابراہیم سوری
5 = 1554 پرویز شاہ سوری
6 = 1554 مبارک خان سوری
7 = 1555 الیگزینڈر سوری
*سوری سلطنت اختتام*
(دور حکومت -16 سال تقریبا)

👈 *مغلیہ سلطنت دوبارہ*
1 = 1555 همايوں(دوبارہ گدی نشین)
2 = 1556 جلال الدين اکبر
3 = 1605 جہانگیر سلیم
4 = 1628 شاہ جہاں
5 = 1659 اورنگزیب
6 = 1707 شاہ عالم (اول)
7 = 1712 بهادر شاہ
8 = 1713 پھاروكھشير
9 = 1719 ريپھد راجت
10 = 1719 ريپھد دولا
11 = 1719 نےكشييار
12 = 1719 محمود شاہ
13 = 1748 احمد شاہ
14 = 1754 عالمگیر
15 = 1759 شاہ عالم
16 = 1806 اکبر شاہ
17 = 1837 بہادر شاہ ظفر
*مغلیہ سلطنت اختتام*
(دور حکومت -315 سال تقریبا)

👈 *برطانوی راج*
1 = 1858 لارڈ كینگ
2 = 1862 لارڈ جیمز بروس یلگن
3 = 1864 لارڈ جهن لورےنش
4 = 1869 لارڈ رچارڈ میو
5 = 1872 لارڈ نورتھبك
6 = 1876 لارڈ ایڈورڈ لٹےن
7 = 1880 لارڈ جيورج ریپن
8 = 1884 لارڈ ڈفرین
9 = 1888 لارڈ هنني لےسڈون
10 = 1894 لارڈ وکٹر بروس یلگن
11 = 1899 لارڈ جيورج كرجھن
12 = 1905 لارڈ گلبرٹ منٹو
13 = 1910 لارڈ چارلس هارڈج
14 = 1916 لارڈ فریڈرک سےلمسپھورڈ
15 = 1921 لارڈ ركس ايجےك رڈيگ
16 = 1926 لارڈ ایڈورڈ ارون
17 = 1931 لارڈ پھرمےن وےلگدن
18 = 1936 لارڈ اےلےكجد لنلتھگو
19 = 1943 لارڈ اركبالڈ وےوےل
20 = 1947 لارڈ ماؤنٹ بیٹن
*برطانوی سامراج اختتام*

*🇮🇳بھارت، وزرائے اعظم🇮🇳*
1 = 1947 جواہر لال نہرو
2 = 1964 گلزاری لال نندا
3 = 1964 لال بهادر شاستری
4 = 1966 گلزاری لال نندا
5 = 1966 اندرا گاندھی
6 = 1977 مرارجی ڈیسائی
7 = 1979 چرن سنگھ
8 = 1980 اندرا گاندھی
9 = 1984 راجیو گاندھی
10 = 1989 وشوناتھ پرتاپسه
11 = 1990 چندرشیکھر
12 = 1991 پيوينرسه راؤ
13 = 1992 اٹل بہاری واجپائی
14 = 1996 ےچڈيدےوگوڑا
15 = 1997 ايل كےگجرال
16 = 1998 اٹل بہاری واجپائی
17 = 2004 منموھن سنگھ
18 = 2014 نریندر مودی
(جاری ھے)

*764 سالوں تک مسلم بادشاھت ہونے کے باوجود بھی ہندو، ھندوستان میں باقی ہیں. مسلمان حکمرانوں نے کبھی  بھی ان کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کیا*

*اور ،،،،،،،،،*
*بقول راحت اندوری*

*سبھی کاخون ھےشامل یہاں کی مٹی میں*
*کسی کے باپ کا ھندوستان  تھوڑی ھے  !!!*

🌹🌹 *#حرفےچند*🌹🌹

Sunday, 17 September 2017

قیادت کا مزاج اور احتساب

" قیادت کا مزاج اور احتساب "
ہم نظریاتی قوم بن ہی نہیں سکے . بلکہ ہم قوم ہی نہیں بن سکے . ہم گروہ در گروہ تقسیم شدہ لوگ ہیں . جن کا ایک ایک زندہ بت ہے اور اس بت کو ہم قائد , لیڈر اور امیر کہہ لیتے ہیں . اسکا مزاج , بود و باش , گفتگو , سوچ کچھ بھی ہو , اسکے بارے میں نہ سوچتے ہیں اور نہ دوسرے کو سوچنے دیتے ہیں . اسکی  تقلید فرض بنا لیتے ہیں  پھر یہی تقلید قومی خدمت کا محور ہو جاتی ہے .
ہونا یہ.چاہئیے کہ لیڈر کے مزاج کا بھی پورا احتساب کیا جائے , اسکی سوچ کو اپنی روایات کے مطابق پرکھا جائے , اسکے نظریات کی.چھانٹ پھٹک کی جائے , اسکے کردار پر توجہ کی جائے . کیسے ممکن ہے کہ دین کا باغی , قومی روایات سے نا بلد , دولت کا پجاری , غنڈہ مزاج اور بازاری زبان بولنے والا ہماری قوم کی بہتر رہنمائی کر سکے گا . مگر ہم لوگ چونکہ جانتے ہی نہیں کہ نظریہ کس بلا کا نام ہے , اسلئے ہم شخصیت کے نام پر سیاست کرتے ہیں . اکثر سیاسی جماعتوں پر خاندانوں کی اجارہ داری اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ہم نے کبھی نظریاتی سیاست کی ہی نہیں .
ہم میں اس جرات کا فقدان ہے جو قوموں کی نظریاتی اساس ہوا کرتی ہے  .
جب تک یہ تبدیلی نہیں آئے گی کہ اپنے لیڈر کی غلط بات کو غلط کہا جائے , تب تک کچھ بھی بہتر نہیں ہو گا . ہم یونہی آپس میں الجھے رہیں گے . یہی روایات اپنی نسلوں کو دے کر چلے جائیں گے . ہمارے اکثر سیاست سے وابستہ لوگ , بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ میں اس جماعت سے تیس پینتیس سال سے جڑا بیٹھا ہوں . اور اس پر حکمران نسلوں کی چمچہ گیری کر رہا ہوں .
کیا یہ مزاج کبھی بدلے گا .
ازاد ھاشمی 

اب کیا کرو گے

" اب کیا کرو گے "
اب شاہد خاقان عباسی کے سر پر وزیراعظم کا تاج سج گیا ہے , جمہوریت کی آشیر باد سے . سنا ہے جناب پر بھی اربوں روپے کی کرپشن کا الزام ہے . اب کیا کروگے . کیا جواز باقی ہے قوم کو صادق اور امین قیادت دینے کا . ایک قانون بنا ڈالو کہ خائن اسمبلی میں نہیں آئے گا . ایک تھنک ٹینک بنا لو جو انتخابات میں حصہ لینے والوں کی چھانٹ پھٹک کرے . یقینی طور پر انتخابات کے مخمصے سے جان چھوٹ جائے گی . موجودہ سیاسی نرسری میں شائد ایک آدھ ممبر بچے گا جس کا دامن صاف ہو گا .
قوم کو ایک بات سمجھ ہی نہیں آرہی کہ جو سیاستدان کسی ضرورت مند کی ہتھیلی پر ایک دھیلہ نہیں رکھتے وہ سیاست کی بساط پر کروڑوں کی سرمایہ کاری کیوں کرتے ہیں . جب سب بد دیانت اکٹھے بیٹھیں گے تو وہ دیانت کی راہ کیوں تلاش کریں گے . سیاست تجارت ہے کروڑوں لگاو اربوں کماو . اس سے بہتر دھندہ کیا ہو گا .
یہ قوم کی خدمت کا لولی پوپ ہمیشہ کا وطیرہ ہے . کیا تعجب نہیں کہ جی آئی ٹی کے علم میں ہے کہ کتنے سیاستدان نااہلیت کی بھینٹ چڑھ سکتے ہیں . انکی فہرست عدل کی کرسی پر بیٹھے حلف برداروں کو دے دی گئی مگر کیا ہوا , نواز شریف کے گلے میں پھندا پورا آگیا , بس ڈال دیا . نواز شریف نے اپنی کرسی اپنے جیسے ملزم کو دے دی . کر لو جو کرنا ہے . جنرل صاحب نے بھی اعلان کر دیا کہ گولی مارو حب الوطنی کو , جمہوریت کو بچالو .
قوم کا کام تو ناچنا ہے , بس نچانے والی انگلی زندہ رہے . سوچ سوچ کر سر درد لینے کی کیا ضرورت ہے . ہماری گذر رہی ہے آنے والی نسلوں کی قسمت پر چھوڑو . ہمارا تیار کیا ہوا عذاب انکا نصیب ہو گا . بس جمہوریت زندہ باد . کچھ دیوانے خواب دیکھ رہے ہیں کہ اب کی بار جمہوریت کی جیت ہوگی . ووٹ جیتے گا اور ہم ایک صادق اور امین کو کرسی پر بٹھا کے رہیں گے . یہ جانتے ہوئے بھی کہ ووٹ سے کب انتخاب ہوا ہے . یہ تو غیبی مدد کی کرشمہ سازی ہوتی ہے . پھر بھی امید ہے کہ اب کی بار حق سچ کی جیت ہوگی . جبکہ سارے کے سارے گھاگ ہی میدان میں ہیں اور حق سچ والے ووٹ ڈالنے ہی نہیں جاتے . چھیاسٹھ فیصد کا فیصلہ جمہوریت کے کھیل سے الگ رہنے پر ہوتا ہے اور گیارہ فیصد غیبی ووٹ لینے والا بد عنوان کرسی پر بیٹھ کر ملک کیلئے قانون سازی کرتا ہے . قانون شکن قانون بناتا ہے . اب کیا کروگے . یہ سب میرے اور آپکے اعمال کی سزا ہے . اللہ کی راہ پر نکل پڑو گے تو اللہ کی مدد سے یہ عذاب ٹل جائے گا . تھوڑی سی عقل استعمال کرنا پڑے گی .
ازاد ہاشمی 

عمران خان کے نام

" عمران خان کے نام "
کچھ عرصہ پہلے آپ کی حب الوطنی , انسانیت کی خدمت کا بے لوث جذبہ , اور نا مساعد حالات میں ہمت کو برقرار رکھنا , آپ کے اعزازی نشان تھے . بچہ بچہ آپ کو ہیرو مانتا تھا . سیاست کی بھول بھلیوں میں آ کر آپ نے جو راستہ منتخب کیا . وہ ایک دلدل تھی جس میں ہر کوئی گھسنے سے پہلے شیر ہوتا ہے اور گھس جانے کے بعد وہی چور لٹیرا بن جاتا ہے جیسے  پاکستان کا ہر لیڈر بنتا   رہا ہے .  یہ دلدل جمہوریت کی دلدل ہے . اب ایسا سمجھنا بھی شاید درست ہے کہ آپ کو اقتدار کی ہوس نے اندھا کر دیا ہے . سوچنے کی طاقت زوال کی طرف بڑھ رہی ہے . وہی چور اچکے , جن کے خلاف آپ کی جنگ تھی . اب آپ کی فوج کے جرنیل و کرنیل ہیں . غور کریں آپ کے دائیں بائیں کون کھڑے ہیں . جمہوریت سے جڑا ہوا ہر سیاستدان تاجر ہے تاجر . دس لگا کر ہزار کمانے والے تاجر . اب تو یہ بھی غلط نہیں لگتا کہ آپ کی ہسپتال کی کاوش , یونیورسٹی کا محنت بھی اسی کرسی کی تجارت تھی . آپ جس رستے کا انتخاب کر چکے تھے , وہ راستہ بھلائی اور نیکی کا راستہ تھا . اللہ کا کرم آپ کے ساتھ تھا . پھر یکا یک اللہ کے نظام کے خلاف نظام جمہوریت کی  سربلندی کے لئے یہ تگ و دو . اللہ نے آزمائش دی کہ ایک صوبے میں اپنی کوشش سے تبدیلی لانے کا تجربہ کر لو . ناکامی کا اقرار آپ نے خود کر لیا . کیا یہ سبق کافی نہیں تھا کہ ایک منظم جماعت اس کرسی کے پیچھے دوڑ رہی ہے . اللہ کے نظام کی راہ کو چھوڑ کر , کیا ملا انکو . قیامت تک کچھ نہیں ملے گا . آپ ابھی وقت ہے , اللہ کے نظام کی بات کرو . جو بولو گے  , پا لو گے . قائد اعظم بھی اگر " اسلام کا مطلب کیا , لا الہ الا اللہ " کا نعرہ نہ لگاتے تو پاکستان کبھی نہ بنتا . یہ اس اساسی نعرے کی بدولت بنا . آپ پاکستان کو عروج دینا چاہتے ہو تو اللہ کے نظام کیطرف لوٹ آو .
قطع نظر آپ کے پجاری کیا بولیں گے , کیا سمجھیں گے  . یہی سچائی ہے . یہی وہ راہ ہے جس پر کامیابی یقینی ہے . اگر آپ کو سمجھ نہیں آئی تو ایک روز انہی سڑکوں پہ , یہی پجاری تمہاری تصویروں پہ گالم گلوچ لکھیں گے . یاد رکھو , جو بھی اللہ کے نظام سے پیٹھ پھیرے گا , رسوائی اسکا مقدر رہے گی .
اے کاش کوئی پجاری یہ تحریر اس بھلے مانس تک پہنچا دے .
ازاد ہاشمی

جس نظام کی بات کرتا ہوں

" جس نظام کی بات کرتا ہوں  "
جب بھی لکھا کہ جمہوریت کے نظام سے اللہ اور اللہ کے حبیب کا نظام بہتر ہے تو جمہوریت کے شیدائی  شور مچانے لگتے ہیں . اسلامی نظام کے زوال کو نظام کی خامی کہنے میں ذرہ برابر تامل نہیں کرتے . جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اسلامی نظام کیوجہ سے اسلامی ریاست کی سرحدیں کتنی طویل ہو گئیں . تو انکے پاس کئی ایک  توجیہ ہوتی ہیں . اپنی پوری کفر نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے باور کراتے ہیں کہ اسلام ناقابل عمل نظام ہے . کل ایک پوسٹ لکھی " عمران خاں کے نام " . اس کی تنقید کرتے ہوئے ایک محقق لکھتے ہیں , کہ
"اسلامی فتوحات کو کامیابی مان لیا جائے تو سکندر اعظم اور برطانیہ کی فتوحات خلفاء سے کہیں زیادہ تھیں . اور خلفاء کی ناکامی تھی کہ سب کے سب شہید کئے گئے . اسلئے اسلام کا.نظام قابل عمل ثابت نہیں ہوتا"
اسے ایمان کی کمزوری ہی نہیں , تاریخ اور حقائق سے نا واقفیت کہا جا سکتا ہے .
سکندر اعظم , ایک جنونی شخص تھا جسے فتوحات کا خبط تھا . کوئی فلاحی سوچ نہیں تھی . برطانیہ نے کبھی کوئی علاقہ فتح نہیں کیا , ہمیشہ سازش اور مکاری سے اکھاڑ پچھاڑ کی . اسے ایک برائی کہا جا سکتا ہے . فتوحات کا نام نہیں دیا جا سکتا .
اب آتے ہیں , اسلام کے نظام کی طرف . جب اسلام کے نظام کی بات ہوتی ہے تو یہ اللہ اور اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وسلم کا نظام ہے , صحابہ کا نہیں . آپ ص کی حیات طیبہ میں اسکی کامیابی کی کوئی دوسری رائے نہیں کہ یہ ایک مثالی نظام ثابت ہوا . صحابہ کی فتوحات اسی نظام کی ترویج تھیں حکمرانی کا جنون نہیں تھا . صحابہ کے دور میں امن , معیشت , انسانوں کے بنیادی حقوق , عدل و انصاف , تحفظ , مساوات کی آج تک کوئی نظام مثال پیش نہیں کر سکا . رہ گئی شہادت کی بات , تو کسی کا اللہ کی راہ میں جان دینا اعزاز ہے , سزا نہیں . اللہ یہ اعزاز صرف اسے عطا فرماتا ہے , جس سے بہت محبت فرماتا ہے .  اور اللہ اسی سے محبت کرتا ہے جو اسکے احکامات کو من و عن تسلیم کرتا ہے . شہادتوں کے پیچھے کیا عوامل تھے , یہ ایک الگ موضوع بحث ہے . اور تاریخ سے بخوبی اگاہی ہو تو یقینی سمجھ آ جاتی ہے کہ  ان شہادتوں کے پیچھے وہی اقتدار کی ہوس تھی  , اور وہ کون لوگ تھے . کربلا کا واقعہ اس سازش کی پردہ دری کر دیتا ہے .
شکریہ
ازاد ھاشمی 

اسلام کے دشمن دانشور

" اسلام  کے دشمن  دانشور "
ایک زیرک دانشور پوچھتے ہیں .
" یہ خلافت کس مخلوق کانام ہے؟جمہوریت جو اصل ہے جو کہ دنیا کے مہذب ممالک میں ہے ماضی کے خلفائے راشدین والی صفات رکھتی ہے۔خلافت باقائدہ کوئی نظام نہیں ہے یہ نظام ہوتا تو جنگ جمل اور صفین نہ ہوتیں۔اس وقت بھی یہ خیالی پلاو ہی ہے اور فرقہ وارنہ سوچ ہے۔کوئی ایسی خلافت وجود ہی نہیں رکھتی جس پر سب فرقوں کا اتفاق ہو۔فرقے بھی اتحاد کرتےہیں تو سیکولر اصولوں پر۔"
اس سوچ کو انفرادی سوچ سمجھ کر توجہ نہ دینا , ایک حماقت ہے . کیونکہ یہ سوچ دوسروں تک پہنچا کر گمراہی کی راہ ہموار کی جانے کی ایک ارادی کوشش ہے .
جب بھی خلافت کا ذکر آتا ہے تو اس کے پیچھے اللہ کے نظام کا عمل کار فرما ہوتا ہے . اس نظام میں صاحب الرائے کا با کردار اور احسن اوصاف ہونا لازم ہے . جبکہ جمہوریت میں گنتی پوری کی جاتی ہے . ایک لچا لفنگا اپنے کردار کے لوگوں کی گنتی پوری کرتا ہے . اور مسند اقتدار پر بیٹھ جاتا ہے . جبکہ اسلامی طرز حکومت میں ایسا ممکن ہی نہیں .
جنگ جمل , جنگ صفین اور ایسے دوسرے اختلافات , انتظامی اور سازشی  مسائل تھے . اسکے پیچھے وہی عوامل تھے جو اسلام کے نظام کو سبوتاژ کرنے کے درپے تھے .  انہی لوگوں نے مسلمانوں کے اندر رخنہ اندازی پیدا کی . انہی لوگوں کی وجہ سے اسلام فتنوں کا شکار ہوا . احکامات ربی , اسلام کی حدود و  قیود , دستور اور قانون , عدل و انصاف اور مساوات پر کوئی ایک عذر موجود نہیں . پھر ہم اسلام کے نظام کو جمہوریت کے ترازو پر کیسے تول سکتے ہیں . اصل مدعا یہی ہے کہ اسلام کی حدود و قیود کو نافذ کرنے کی طرف سوچا جائے . رہا فرقوں کے الگ الگ عقائد , تو اسے ڈھال بنا کر اسلامی نظام کی کوشش کو ناکام کوشش سمجھ لینا , مغرب زدہ سوچ ہے . اسلام کا نظام , ہر عقیدے کا احترام کرتا ہے اور اسکی باقاعدہ شرائط وضع ہیں . بنیادی حدود نافذ کر دی جائیں , باقی معاملات از خود درست ہو جائیں گے . سیکولر کی رٹ لگانے والے یہ سمجھ ہی نہیں پائے کہ یہ تصور اسلام میں کہیں بہتر شکل میں موجود ہے . کسی سیکولر طرز حکومت کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی . ہر فرد , عقیدہ کچھ بھی ہو , مذہب کوئی بھی ہو , تمام بنیادی حقوق سے اسی طرح لطف اندوز ہوتا ہے , جسطرح اکثریت کے لوگ . یہ سوچ بھی کلی طور پر غلط ہے کہ اسلامی نظام کو فرقوں کی وجہ سے نافذ ہی نہیں کیا جا سکتا . اصل رکاوٹ ہی کردار ہے کیونکہ ہمارے تمام سیاستدان , وہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی , جمہوریت کو ایمان بنا بیٹھے ہیں .
ازاد ھاشمی 

آل رسول پر ستم کیوں

" آل رسول پر ستم کیوں "
علی کرم اللہ وجہہ کی شہادت  , حسن  علیہ السلام کی زہر خورانی , حسین علیہ السلام پر کربلا کی تپتی ریت پر مظالم , آل  رسول صل اللہ علیہ وسلم کی پردہ دار بیبیوں پر جبر کے پہاڑ توڑنے تک ہی بات محدود رہ جاتی . تو سمجھا جا سکتا تھا کہ ھندہ کے خاندان کو صرف آل رسول سے بدلہ چکانا مقصود تھا . انکے اندر کا کینہ اور اقتدار کی ہوس انکے حواس پر سوار تھی . وہ سب کر گذرے جو دنیا کی پوری تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا . جو نہ عربوں کی روایت تھی اور نہ مزاج . یہ کون لوگ تھے , کیوں ایسا چاہتے تھے . یہ وہ سوال ہے , جس پر کبھی دھیان نہیں گیا . تمام اماموں کی یکے بعد دیگرے شہادتیں اس بات کی عملی گواہی ہے کہ انکو اصل بیر علم سے تھا , اس روشنی سے تھا جس کا نور دنیا پہ غالب آرہا تھا . اس ہدایت سے تھا  جو اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وسلم کی آل سے ممکن تھی . اس راستے کو روکنا اسی طور ممکن تھا کہ اسلام کی نئی ترویج پر توجہ دی جائے . اسی کوشش کا نتیجہ آج ہم دیکھ رہے ہیں . جب نظام اسلام کی بات کرتے ہیں تو پہلا اعتراض یہی ہوتا ہے کہ یہ نظام کبھی کامیاب نہیں رہا . فتنہ اور فساد ہی جاری رہا  . حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ قاتلان آل رسول چاہتے ہی نہیں تھے کہ اسلام کی وہ شکل سامنے آئے , جو اللہ کے احکامات  کی اتباع میں ہو . انکے سامنے ملوکیت کا خواب تھا جو انکی نسلوں تک محدود رہتا . اگر حضرت حسین علیہ السلام کربلا کی ریت پر قربانی نہ دیتے . اور مصلحت کی راہ اختیار کر لیتے . تو آج اسلام کی شکل مختلف ہوتی . اس عظیم ہستی کی عظمت کو  سلام , کہ جس نے چودہ سو سال پہلے ملوکیت کے بانیوں کے ارادے بھانپ لئے . اور اپنی ساری  متاع عزیز قربان کر کے اللہ کے دین کو بچا لیا . میں اور آپ , میری اور آپ کی نسلیں اس احسان عظیم کی مقروض ہیں .
ازاد ھاشمی

میں نے سنا ہے

" میں نے سنا ہے "
جب سے ہوش سنبھالا ہے . ایک یقین تھا کہ ہماری قوم کی حفاظت میں فوج کا کردار بہت اہم ہے . فوجی جرنیلوں کے کارنامے بھی بہت سنے تھے . مارشل لاء میں لوگ کتنے ایماندار ہو جاتے ہیں . یہ سب اتنا سنا , اتنا سنا کہ ایمان بن گیا . جس نے فوج کے خلاف ایک لفظ کہا وہ غدار لگا . ایک دوسرا لفظ ذہن کے ہر خانے میں سرایت کر چکا ہے کہ ہماری ایجینسیاں دنیا کی نمبر ایک قابل ترین اور متحرک ایجینسیاں ہیں . جو زمین کی تہہ سے بھی مجرم اور وطن دشمن کو کھینچ لاتی ہیں . بہت فخر تھا اور ابھی بھی زعم باقی ہے .
اب سنتے ہیں کہ تھوڑے تھوڑے وقفوں سے ہمارے  انتہائی راز دار ادارے آگ کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں اور سب کچھ جل جاتا ہے . کیوں جل جاتا ہے . اسکے پیچھے کیا راز ہے . یہ آگ صرف ریکارڈ ہی کیوں جلاتی ہے . یہ آگ بڑے بڑے محلوں میں کیوں نہیں لگتی . یہ آگ سے بڑے بڑے لوگوں کے اثاثے کیوں نہیں جلاتی . ہماری بہت ہی قابل قانون نافذ کرنے والی ایجینسیاں کیوں نہیں جانتیں . ہمارے مبصرین اور میڈیا والوں کو کیوں خبر نہیں ہوتی .
سنا ہے جب محافظ چور کا ساتھی بن جائے تو چوری کے نشان کبھی نہیں ملتے . سنا ہے لنکا ڈھانے میں گھر کا بھیدی شامل ہوتا ہے . سنا ہے جب نحوست سر پر آ جائے تو گھر کے چراغ سے گھر جل جایا کرتے ہیں .
پھر یہ فیصلہ کیوں نہیں کیا جاتا کہ اب ایسی لگنے والی ہر آگ کو کیسے روکنا ہے . اور کس نے روکنا ہے . عوام نے یا نمبر ون ایجینسیوں نے , یا یہ معاملہ بنگلہ دیش جیسے دوسرے سانحہ تک التوا میں رکھنا  ہے . (  اللہ کبھی ایسا نہ کرے ) .
انحصار کرنے والی قومیں ایک دن ختم ہو جایا کرتی ہیں . اور جرات کرنے والے لوگ ایک مضبوط قوم بن کر ابھرا کرتے ہیں . یہی تاریخ  کی حقیقت ہے .
ازاد ھاشمی

کربلا اور اسلام

" کربلا اور اسلام "
وصال رسول صل اللہ علیہ وسلم , کے بعد ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو جانا باعث تعجب نہیں . اسلام سے وابستہ دو طرح کے لوگ موجود تھے . ایک وہ جن کے دلوں میں ایمان کی روشنی عروج پر تھی اور دوسرے وہ جن کے اندر اندھیرا تھا اور باہر اسلام کا لیبل . وہ بھی تھے جو ویسے ہی صاحب ایمان تھے جیسے اللہ چاہتا ہے , اور جن سے اللہ راضی تھا . دوسرے وہ جن کے اندر عربوں کا روایتی کینہ تھا . اور منافقت سے سیاہ تھے .
اسلام کی تعلیمات کے مطابق کسی بھی شخص کے ایمان پر رائے دینے کا حق کسی کو نہیں . یہ اللہ اور اسکے بندے کے درمیان کا معاملہ ہے . عمل اور کردار سے پتہ چلتا ہے کہ ہر شخص کس نہج پہ کھڑا ہے . اعمال کو اچھائی کے لبادے میں چھپائے رکھنا , منافقت کا ہنر خاص ہوا کرتا ہے .
یہی ہوا کہ جن کے اندر منافقت تھی , انہوں نے اسلام کے اوائل ہی میں فساد کی بنیادیں استوار کرنا شروع کر دیں . یکے بعد دیگرے خلفاء کی شہادتیں اور آل رسول کے خلاف نفرت  کی دیوار چننا شروع کردی . 
یہ منافقت کی آگ اس وقت پورے جوبن پر سامنے آ گئی , جب حسین علیہ السلام کو پورے اہل و عیال اور ساتھیوں کے ساتھ کربلا پر گھیر کر کھڑا کر دیا . آپ  ع نے ہر ممکن کوشش کر ڈالی کہ کلمہ گو ایک دوسرے کے خون سے ہاتھ نہ رنگیں . مگر جن لوگوں  نے  اقتدار کی ہوس میں اتنے پاپڑ بیلے تھے , وہ آل رسول کو ختم کرنے اور رسوا کرنے کے درپے تھے . سو وہ اپنی کرہیہ خواہش کی تکمیل کرنا چاہتے تھے . ادھر حسین علیہ السلام اللہ کی رضا کے تابع مجبور کھڑے تھے . وہ کسی بھی قیمت پر جبر , رعونت اور منافقت کے سامنے سر جھکانے پر آمادہ نہ تھے . انہیں جان سے زیادہ ایمان عزیز تھا . اگر ایک فاسق اور فاجر کی بیعت کر لی جاتی , جو اپنی مرضی کی حکمرانی پر تلا بیٹھا تھا تو کربلا بھی نہ ہوتی اور آج اسلام کی موجودہ شکل بھی مختلف ہوتی . لوگ آل رسول کو بھی بھول جاتے اور رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ بھی محو ہو جاتا . یوں کہہ لیا جائے کہ کربلا اور اسلام لازم و ملزوم ہو گئے تھے . تو غلط نہ ہو گا .
ازاد ھاشمی 

غریب اور امیر

" غریب اور امیر "
بوڑھی عورت  نے اس نوجوان کے آگے ہاتھ پھیلایا , جو لمبی سے لش پش کار سے اترا تھا . اس امارت زدہ کو توفیق نہیں ہوئی کہ اس  بیچاری  کی طرف دیکھ ہی لے .
" بے عقل بڑھیا , بھوکے ننگے سے مانگ رہی ہے . کسی اللہ کے نوازے ہوئے سے مانگتی تو مل بھی جاتا "
بابا جی آنسو پونچھتے ہوئے خود کلامی کر رہے تھے .
" ارے بابا جی , وہ امیر آدمی ہے بھوکا ننگا کیسے ہو گیا " میں نے حیرانی سے پوچھا .
" بیٹا ! یہی بات تو سمجھنے کی ہے . اللہ کا پیارے  نبی , میرے لاکھوں درود و سلام اس مبارک ہستی پر , نے فرمایا ہے کہ غنی وہ.جس کا دل غنی . ان دولت والوں کی تو بھوک اور ہوس کا یہ عالم ہے کہ پیٹ پھٹ بھی رہا ہو تب بھی ٹھونستے چلے جاتے ہیں . جتنی دولت کی ہوس بڑھتی جاتی ہے , انسان اتنا ہی غریب ہوتا جاتا ہے . مفلسی اسکی روح میں اتر جاتی ہے . اللہ کی ذات سے توکل اٹھ جاتا ہے اور دولت سے جڑ جاتا ہے .جب  انسان دولت کو پوجنے لگتا ہے . اس کا ایمان , دین , قبلہ و کعبہ دولت بن جاتی ہے . وہ کسی کا دوست , کسی کا رشتہ دار نہیں رہ جاتا . اندھا اور کنگلا ہو جاتا ہے . پیسہ گندگی کے ڈھیر پہ بھی پڑا ہو , چوم کر جیب میں ڈال لیتا ہے . نیکی کوڑیوں میں ملے نہیں خریدتا . "
" بابا جی ! پیسہ وقت کی اہم ضرورت ہے . اس سے آنکھیں چرانا حماقت ہے . آپ کے پاس بھی پیسہ ہوتا تو اس عمر میں پکوڑے تو نہ بناتے . کسی بڑی سی بلڈنگ کے مالک ہوتے "
میں نے لقمہ دیا تو بابا جی نے قہقہ لگایا .
" اوہ پگلے  ! تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ میری غربت نے مجھے کیا دیا . میرا ایمان روز بروز پکا ہوتا ہے . میں اللہ کے شکر کو ادا کر کے اللہ کی رضا سمیٹتا ہوں . اللہ کے رسول نے فرمایا . الکاسب حبیب اللہ . مزدور , ہاتھ سے کام کرنے والا اللہ کا دوست ہے . ارے یہ دولت کم ہے کیا . ایسی دولت جس کو زوال ہی نہیں . سکون اور اطمینان قلب اصل دولت ہے اور وہ میرے پاس ہے . الحمدوللہ . میری اس غربت نے مجھے اللہ کو بھولنے نہیں دیا . یہ پیسے کی ریل پیل والوں کو اللہ کی یاد بھی اس وقت آتی ہے جب کوئی آفت سر پر چپت لگاتی ہے . جو چیز سکون چھین لے اسے دولت تو نہیں کہا جا سکتا , زحمت کہا جاتا ہے . یہ پیسہ کی خواہش پہلے سکون ہی چھینتی ہے "
بابا جی کا فلسفہ کبھی تو سمجھ آ جاتا ہے اور کبھی ابہام بن جاتا ہے .
" مانگنے والی بڑھیا کے ہاتھ پہ وہی دو سکے رکھے گا , جس کی جیب میں اللہ نے اسکے لئے رکھے ہونگے . دعا کیا کرو اللہ وہ جیب تیری اور میری کردے , جسے وہ اپنے بندوں کی ضرورت پوری کرنے کیلئے بھرتا رہے . اور ہم اسکی رضا پر خالی کرتے رہیں . یہ تجوریوں کی دولت آگ ہے آگ "
ازاد ھاشمی