" اسلام کے دشمن دانشور "
ایک زیرک دانشور پوچھتے ہیں .
" یہ خلافت کس مخلوق کانام ہے؟جمہوریت جو اصل ہے جو کہ دنیا کے مہذب ممالک میں ہے ماضی کے خلفائے راشدین والی صفات رکھتی ہے۔خلافت باقائدہ کوئی نظام نہیں ہے یہ نظام ہوتا تو جنگ جمل اور صفین نہ ہوتیں۔اس وقت بھی یہ خیالی پلاو ہی ہے اور فرقہ وارنہ سوچ ہے۔کوئی ایسی خلافت وجود ہی نہیں رکھتی جس پر سب فرقوں کا اتفاق ہو۔فرقے بھی اتحاد کرتےہیں تو سیکولر اصولوں پر۔"
اس سوچ کو انفرادی سوچ سمجھ کر توجہ نہ دینا , ایک حماقت ہے . کیونکہ یہ سوچ دوسروں تک پہنچا کر گمراہی کی راہ ہموار کی جانے کی ایک ارادی کوشش ہے .
جب بھی خلافت کا ذکر آتا ہے تو اس کے پیچھے اللہ کے نظام کا عمل کار فرما ہوتا ہے . اس نظام میں صاحب الرائے کا با کردار اور احسن اوصاف ہونا لازم ہے . جبکہ جمہوریت میں گنتی پوری کی جاتی ہے . ایک لچا لفنگا اپنے کردار کے لوگوں کی گنتی پوری کرتا ہے . اور مسند اقتدار پر بیٹھ جاتا ہے . جبکہ اسلامی طرز حکومت میں ایسا ممکن ہی نہیں .
جنگ جمل , جنگ صفین اور ایسے دوسرے اختلافات , انتظامی اور سازشی مسائل تھے . اسکے پیچھے وہی عوامل تھے جو اسلام کے نظام کو سبوتاژ کرنے کے درپے تھے . انہی لوگوں نے مسلمانوں کے اندر رخنہ اندازی پیدا کی . انہی لوگوں کی وجہ سے اسلام فتنوں کا شکار ہوا . احکامات ربی , اسلام کی حدود و قیود , دستور اور قانون , عدل و انصاف اور مساوات پر کوئی ایک عذر موجود نہیں . پھر ہم اسلام کے نظام کو جمہوریت کے ترازو پر کیسے تول سکتے ہیں . اصل مدعا یہی ہے کہ اسلام کی حدود و قیود کو نافذ کرنے کی طرف سوچا جائے . رہا فرقوں کے الگ الگ عقائد , تو اسے ڈھال بنا کر اسلامی نظام کی کوشش کو ناکام کوشش سمجھ لینا , مغرب زدہ سوچ ہے . اسلام کا نظام , ہر عقیدے کا احترام کرتا ہے اور اسکی باقاعدہ شرائط وضع ہیں . بنیادی حدود نافذ کر دی جائیں , باقی معاملات از خود درست ہو جائیں گے . سیکولر کی رٹ لگانے والے یہ سمجھ ہی نہیں پائے کہ یہ تصور اسلام میں کہیں بہتر شکل میں موجود ہے . کسی سیکولر طرز حکومت کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی . ہر فرد , عقیدہ کچھ بھی ہو , مذہب کوئی بھی ہو , تمام بنیادی حقوق سے اسی طرح لطف اندوز ہوتا ہے , جسطرح اکثریت کے لوگ . یہ سوچ بھی کلی طور پر غلط ہے کہ اسلامی نظام کو فرقوں کی وجہ سے نافذ ہی نہیں کیا جا سکتا . اصل رکاوٹ ہی کردار ہے کیونکہ ہمارے تمام سیاستدان , وہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی , جمہوریت کو ایمان بنا بیٹھے ہیں .
ازاد ھاشمی
Sunday, 17 September 2017
اسلام کے دشمن دانشور
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment