" یزید کی دادی (٣) "
تاریخ سے واقفین فتح مکہ پر ہندہ کی بیعت کی تفصیل یوں لکھتے ہیں ۔
" جب مکہ فتح ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لینے کے لیے بیٹھے، تو مستورات میں ہند بھی آئیں، عرب کے رواج کے مطابق شریف عورتیں نقاب پہنتی تھیں، ہند بھی نقاب پہن کر آئیں جس سے اس وقت یہ غرض بھی تھی کہ کوئئ انکو پہچاننے نہ پائے ، بیعت کے وقت انہوں نے نہایت دلیری سے یہ گفتگو کی ۔
ہندہ : یا رسول اللہ! آپ ہم سے کن باتوں کا اقرار لیتے ہیں۔
رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) : خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔
ہندہ: یہ اقرار آپ نے مردوں سے تو نہیں لیا، بہرحال ہم کو منظور ہے۔
رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) : چوری نہ کرنا۔
ہندہ : میں اپنے شوہر کے مال میں سے کبھی کچھ لے لیا کرتی ہوں معلوم نہیں یہ بھی جائز ہے یا نہیں؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) : اولاد کو قتل نہ کرنا۔
ہندہ : ربینا ہم صغاراوقتلھم کبارافانت وھو اعلم، ہم نے تو اپنے بچوں کو پالا تھا، بڑے ہوئے تو جنگ بدر میں آپ نے انکو مار ڈالا، اب آپ اور وہ باہم سمجھ لیں-"
اس مکالمہ کے لب و لہجہ اور الفاظ کی ادائیگی پر کوئی ذی شعور نہیں کہہ سکتا کہ ہندہ کے دل میں رسالت کا وہ احترام موجود تھا جو ایمان کا لازمی جزو ہے ۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ بیعت کا یہ موزوں طریقہ تھا ۔ موصوفہ ابھی بھی اس زعم میں تھیں کہ وہ رسولؐ پاک کے ہم پلہ سردار کی بیوی ہونے کا شرف رکھتی ہیں ۔
اس لہجے سے تکبر کا اظہار واضع تھا اور نظر آ رہا تھا کہ اسلام کی قبولیت نہایت مجبوری کی حالت میں ہے ۔
یہ قیاس کرنا بھی شاید غلط نہ ہو کہ موصوفہ چاہتی تھیں کہ اللہ کے نبیؐ کو غصہ آئے اور فساد کا نیا راستہ کھل جائے ۔ جبکہ دوسری تمام خواتین خاموش رہیں اور کوئی سوال نہیں کیا ۔
مگر اس بے باک لہجے اور اپنے لوگوں کے قتال کی شکایت پر سخت ترین الفاظ کہنے پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہندہ سے درگزر فرمایا۔ ہندہ کے پاس اس اقرار کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا کہ اقرار کر لیں کہ
" آپ سچے پیغمبر ہیں "
اسکے ساتھ موصوفہ اپنے بغض کا اقرار بھی کیا ۔ فرمانے لگیں ۔
" یا رسول اللہ ! اس سے پہلے میرے نزدیک آپ کے خیمے سے زیادہ ناپسندیدہ خیمہ نہیں تھا اور اب آپ سے زیادہ محبوب کوئی نہیں "
تہذیب کی نظر سے دیکھا جائے تو ایک خاتون کی اسقدر بےباکی ایک عام اجنبی مرد سامنے بھی ناپسندیدہ عمل ہے ۔
چہ جائیکہ کوئی اس لہجے میں اللہ حبیبؐ کے سامنے گفتگو کرے ۔
۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٢١ ستمبر ٢٠١٩
Saturday, 21 September 2019
یزید کی دادی (٣) "
Friday, 20 September 2019
یزید کی دادی (٢)"
" یزید کی دادی (٢)"
اسلام کا درس نہیں کہ فساد کو طول دیا جائے ۔ فاتح کیلئے بہت آسان ہوتا ہے کہ وہ مفتوح کیساتھ جو چاہے سلوک کرے ۔ فتح مکہ پہ فاتح " رحمتہ اللعالمین " ہیں ۔ اور مفتوح وہ لوگ جنہوں اللہ کے نبی کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا اور ایک تسلسل کے ساتھ جنگوں میں الجھانے کی کوشش کرتے رہے ۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی فطرت میں فساد تھا اور جو اپنی سرداری کیلئے کسی بھی نیچ حرکت کیلئے دریغ نہیں کرتے تھے ۔ یہاں اسلام کو قبول کرنے والوں کو کریڈٹ نہیں جاتا کہ انہوں نے اسلام قبول کیا ۔ یہ فاتح کی عظمت ہے کہ اس نے سارے گناہ اور خطائیں معاف کر دیں ۔یہی لوگ ہیں جنہیں طلقاء کہا جاتا ہے اور یہ لقب اللہ کے نبیؐ کیطرف دیا گیا ۔
اہل سنت عالم دین حسن بن فرحان مالکی نے طُلَقَاء کو مقام و منزلت کے اعتبار سے تین گروہوں میں تقسیم کیا ہے:
پہلا گروہ ان لوگوں کا تھا جن کی درستی ایمان پر پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم مطمئن تھے لیکن انہیں مؤلفہ قلوب جیسی کوئی چیز نہ دی مثلاً عکرمہ بن ابو جہل، عتاب بن اسید اور جبیر بن مطعم۔
دوسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جنہیں رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تالیف قلوب کے لیے اموال وغیرہ دیے؛ مثلاً ابوسفیان، معاویہ، صفوان بن امیہ اور مطیع بن اسود اور اس گروہ کو طلقاء میں کم ترین مرتبہ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
یہ ایک الگ بحث ہے کہ انہیں اموال کیوں دئے گئے , جسے موضوع کی طوالت سے بچتے ہوئے ، اسکی تفصیل میں نہیں جایا جا سکتا ۔
تیسرا گروہ ان دونوں کے مابین ہے جس میں حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو اور حکیم بن حزام شامل ہیں۔
اسلام قبول کر لینا اور ایمان لے آنا دو الگ الگ صورتیں ہیں ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر فتح مکہ کی صورت حال پیدا نہ ہوتی اور مسلمان اس طاقت میں نہ آتے کہ کفار پر غلبہ حاصل کر لیں ۔ تو مکہ کے یہ سارے سردار کبھی اسلام قبول نہ کرتے ۔ ان میں ایک خوف تھا کہ اگر اب بھی اسلام کی مخالفت جاری رکھی تو انکا مستقبل خطرات سے دوچار رہے گا ۔ ایسی روشنی انکے دلوں میں نہیں تھی جو حق اور باطل میں تمیز کر کے انہیں اسلام سے قریب تر کرتی ۔ یہ جنگی نقطہ نظر سے مفتوح تھے اور عرب کے دستور کے مطابق اب فاتح چاہے تو انہیں بطور غلام رکھے یا انہیں عام شہری کیطرح آزادی دے دے ۔ اس لئے ان سب کیلئے " طلقاء " کا لفظ استعمال کیا گیا ۔ جن لوگوں کو فتح مکہ کے وقت یہ آزادی دی گئی انکی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے ۔ فتح مکہ پر مسلمان ہو جانے پر یہ دو ہزار لوگ نہ تو " رضی اللہ " ہو جاتے ہیں اور نہ ہی ان پر جنت " واجب " ہوتی ہے ۔ کیونکہ ان دونوں انعامات کا رسولؐ پاک نے نہ اسوقت اعلان فرمایا اور نہ ہی بعد میں کبھی ایسا تذکرہ فرمایا ۔
انہیں آزاد کر دیا گیا یہ بہت بڑی عنایت تھی ۔
انہی طلقاء میں ابو سفیان بھی شامل تھا اور ہندہ بھی ۔ باور رہے کہ جب ہندہ اسلام قبول کرنے کی غرض سے آئیں تو اسوقت بھی وہ بت گھر میں موجود تھا ، جسکی ہندہ عبادت گذار تھیں ۔ جو اسلام کی قبولیت کے بعد گھر جا کر توڑا گیا ۔ گویا اللہ کے نبیؐ کی مجلس میں حاضری سے پہلے تک شرک موجود تھا ۔
۔۔۔۔۔اگلی قسط میں بیعت میں ہونے والی گفتگو کا ذکر ہو گا ۔ تاکہ اسلام لانے کے وقت کے تاثرات کی وضاحت ہو سکے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
١٩ ستمبر ٢٠١٩
Wednesday, 18 September 2019
علیؑ کی بیٹی نے فرمایا (۴) "
" علیؑ کی بیٹی نے فرمایا (۴) "
یزید کے دربار میں تمام وقت پرست اور خوشامدی موجود تھے ۔ کسی میں مجال نہیں تھی کہ حق کی کسی ایک بات کو رد کر سکے ۔یہ صرف علیؑ کی بیٹی تھیں جو اس طرح مخاطب تھیں ۔ یزید جانتا تھا کہ اسکے سامنے رکھے ہوئے بہتر سر چالیس ہزار کی جری فوج اتار پائی تھی ۔ وہ بھی ہر شہید پر تیر برسا کر ، یا چھپ کر وار کرنے سے ممکن ہوا تھا ۔ یزید جانتا تھا کہ اگر یہ مختصر سا قافلہ پیاسا نہ رکھا جاتا تو شاید تیروں کی برسات بھی اسکی اس بد بختی کیطرف بلانے والی کامیابی ممکن نہ بنا سکتی ۔ زینبؑ نے قرآن کی آیت پڑھی ۔
" اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں انہیں مردے نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے ہاں سے رزق دیے جاتے ہیں۔"
اس آیت کا تذکرہ واضع کرتا ہے کہ حسینؑ کی شہادت اقتدار کیلئے نہیں بلکہ اللہ راہ میں تھی ۔ آج کے یزید نوازوں کی اس بحث کا دوسرا رد تھا جو کہتے ہیں کہ کربلا دو شہزادوں کی جنگ تھی ۔ بلکہ یہ حق اور باطل کا معرکہ تھا ۔ بی بی نے مزید فرمایا
”افسوس تو اس بات پر ہے کہ شیطان کے ہمنوا اور بد نام لوگوں نے رحمان کے سپاہیوں اور پاکباز لوگوں کو تہہ تیغ کر ڈالا ہے۔ اور ابھی تک اس شیطانی ٹولے کے ہاتھوں سے ہمارے پاک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ ان کے ناپاک دہن ہمارا گوشت چبانے میں مصروف ہیں اور صحرا کے بھیڑیے ان پاکباز شہیدوں کی مظلوم لاشوں کے ارد گرد گھوم رہے ہیں اور جنگل کے نجس درندے ان پاکیزہ جسموں کی بے حرمتی کر رہے ہیں“
”تو (یزید) جتنا چاہے مکر و فریب کر لے اور بھر پور کوشش کر کے دیکھ لے مگر تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ تو نہ تو ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی وحی الٰہی کے پاکیزہ آثار محو کر سکتا ہے۔ تو یہ خیال خام اپنے دل سے نکال دے کہ ظاہر سازی کے ذریعے ہماری شان و منزلت کو پا لے گا۔ تو نے جس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کا بد نما داغ اپنے دامن سے نہیں دھو پائے گا۔ تیرا نظریہ نہایت کمزور اور گھٹیا ہے۔ تیری حکومت میں گنتی کے چند دن باقی ہیں۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ تیرے پاس اس دن کی حسرت و پریشانی کے سوا کچھ بھی نہیں بچے گا۔ جب منادی ندا کرے گا کہ ظالم و ستم گر لوگوں کے لیے خدا کی لعنت ہے۔"
آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ جاہ و جلال میں غرق تمام شیاطین کا کیا حال ہوا ۔ آج آل رسولؐ کے کسی دشمن کا نشان باقی نہیں ۔ یزید کی قبر ایک تنگ گلی میں ہے جہاں پر کتوں کی جائے حاجت بنی ہوئی ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٨ ستمبر ٢٠١٩
یزید کی دادی (١)"
" یزید کی دادی (١)"
ہادیئ برحق حضرت محمدؐ کے اعلان نبوت کے ساتھ ہی عرب کے کفار اور مشرک مشتعل ہوگئے ۔ ان سب کو شہ دینے میں وہاں کے سردار پیش پیش تھے ۔ بتوں کو چھوڑ کر ایک خدائے واحدہُ لاشریک کی عبادت انہیں قبول نہیں تھی ، کیونکہ انکی سرداری ہی ان الگ الگ بتوں پر ایمان رکھنے کیوجہ سے قائم تھی ۔ یہ سردار اخلاقی اور کردار کی پستی کے ساتھ اقتدار کی ہوس کا بھی شکار تھے ۔ انہی سرداروں میں عتبہ بن ربیعہ بھی شامل تھا ۔ یہ شخص اسلام کے دشمنوں کی ہراول فہرست میں تھا ، جسے غزوہ بدر میں حضرت حمزہؓ نے واصل جہنم کیا ۔ اسکے ساتھ ہی اسکے دو بیٹے بھی واصل جہنم ہوئے ۔ یہ تینوں افراد ، ہندہ بنت عتبہ کے والد اور بھائی تھے ۔ اس تمہید کی ضرورت یوں محسوس ہوتی ہے کہ کسی بھی فرد پر رائے قائم کرنے سے پہلے ، اسکے کردار کا احاطہ اور عادات و اطوار کو جاننا ضروری ہوتا ہے ۔ بیشتر اس سے کہ دیگر پہلووں پر رائے قائم کی جائے کہ ہندہ کے کردار کا نہایت اہم پہلو یہ بھی ہے کہ موصوفہ کینہ پروری میں اس انتہا پہ تھیں کہ جب غزوہ احد میں حضرت حمزہ شہید ہوگئے تو انگا سینہ چاک کیا گیا ، دل کو سینے سے نکالا گیا ، چبا کر نگلنے کی کوشش کی گئی ۔ کسی لاش کی اسقدر بے حرمتی اور وہ بھی ایک خاتون کے ہاتھوں ، کوئی ایسا واقعہ نہیں تھا کہ اسے جنگی چال کہا جا سکے ۔ یہ نہ بھولنے والی بربریت تھی ، جس وجہ سے موصوفہ کو " ہندہ جگر خور " کی پہچان مل گئی ۔ کیونکہ " ہندہ یا ہند " عربوں میں عام مستعمل نام تھا ۔ تو یہ پہچاننے کیلئے کہ کس ہندہ کی بات ہو رہی ہے ، عام زد زبان جو نام موصوفہ کی پہچان بن گیا ، وہ یہی " ہندہ جگر خور " تھا ۔
ہندہ کے معتقدین انکی عظمت میں اور اس کریہہ جرم کی معافی کے حق میں چند دلائل پیش کرتے ہیں اور موصوفہ کو رضی اللہ عنھا کہتے بھی ہیں اور انکے جنتی ہونے پر قائل بھی کرتے ہیں ۔ اور ہندہ کو رضی اللہ نہ کہا جائے تو نہ کہنے کے ایمان پر شک بھی رکھتے ہیں ۔ دلائل ملاحظہ ہوں ۔
١۔ چونکہ موصوفہ فتح مکہ میں مسلمان ہوگئیں ، اسلئے زمانہ جاہلیت کا جرم معاف ہو گیا ۔
٢۔ چونکہ اللہ کے نبی پاک نے معاف کر دیا ، اسلئے یہ جرم ختم ہو جاتا ہے ۔
٣۔ چونکہ موصوفہ کی بیٹی ازدواج مطہرات میں شامل ہیں ، اس اعتبار سے رسولؐ پاک سے خاص نسبت بن جاتی ہے اورنبی کی ساس ہونے کے شرف کی بناء پر رضی اللہ عنہا ہونا انکا حق ہو جاتا ہے ۔
۴۔ چونکہ موصوفہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام کیلئے کئی جنگوں میں حصہ لیا ، لہذا جہاد کی بنا پر انہیں جنت میں جانے کا استحقاق ملتا ہے ۔
ان تمام دلائل کے جواب میں ایک طویل بحث ناگزیر ہے ، مختصر دلائل کو چند حصوں میں تقسیم کریں گے تاکہ موضوع واضع ہوجائے ۔ واضع کردینا چاہوں گا کہ مجھے اس موضوع پر تحریر کیلئے ایک محقق نے مجبور کیا ، کیونکہ انکی رائے میں اگر ہندہ کے رضی اللہ عنہا ہونے اور انکے جنتی ہونے کا اقرار نہ کیا جائے تو کفر لازم ہے ۔ اسلئے یہ تحریر لکھنا پڑی ۔
۔۔۔ انشاء اللہ اگلی قسطوں میں درج بالا دلائل کی روشنی میں لکھوں گا ۔۔۔
آزاد ھاشمی
١٦ ستمبر ٢٠١٩
انا اعطینک الکوثر
" انا اعطینک الکوثر "
اللہ سبحانہ تعالی نے اپنے نبیؐ کو مخاطب کرتے ہوئے اسوقت فرمایا ، جب مشرکین مکہ کہتے تھے کہ آپؐ کے ہاں نورینہ اولاد نہیں ، جو ہوئی وہ وصال فرما گئی ، اب آپؐ کی نسل نہیں چلے گی ، اور آپ کا نام لینے والا کوئی نہیں ہو گا ۔ تو اللہ نے فرمایا ، یہ طے شدہ امر ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ آپ کو " کوثر " یعنی ایسی کثرت عطا کر دی ہے ، وہ نسل کی ہو ، امت کی ہو یا ناموری کی ہو ، جسکا پیمانہ ہی نہیں کہ کتنی ہوگی ۔ اب تو
" فصل الربک " اپنے رب کی نماز پڑھ
اور
" وانحر " قربانی دے ۔
دیکھ لینا کہ
تیرے دشمن کا نام لینے والا بھی کوئی نہ ہوگا ۔ آج اس صداقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے جیسی آل اولاد اپنے حبیبؐ کو نصیب کی ویسی آل اولاد کائنات میں کسی کو نصیب نہیں ہوئی ۔ جس آل نے اپنے رب کی نماز بھی ایسی پڑھی کہ ایسی نماز نہ پہلے کسی نے پڑھی اور نہ بعد میں کوئی پڑھے گا ۔ قربانی بھی ایسی دی کہ مثال نہیں ۔ آج دنیا کا وہ کونسا کونہ ہے جہاں نبیؐ اور آل نبیؐ کا نام نہیں ۔ لاوارث تو وہ رہ گئے ، "ابتر " تو وہ ہوگئے جو رسولؐ پر طعنہ زن تھے ۔ اللہ نے جیسی اولاد اپنے حبیبؐ کو دی ، ویسی کس کو ملی؟ کس کے نصیب میں تھا حسنؑ ، کس کے نصیب میں تھا حسینؑ ؟ کہاں ہیں جو آل نبی کا نام مٹانا چاہتے تھے ۔ اللہ کا وعدہ ہے رسولؐ سے ، جو اج مکمل نظر آتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٨ ستمبر ٢٠١٨
Tuesday, 17 September 2019
علیؑ کی بیٹی نے فرمایا (٣)
علیؑ کی بیٹی نے فرمایا (٣)
اگر ہم بے لاگ ہو کر صرف حضرت زینبؑ کے خطبہ کا ایک ایک پہلو دیکھتے جائیں تو آج کے بیشمار ابہام خود بخود ختم ہو جاتے ہیں ۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ اسداللہ الغالب کی بہادر بیٹی نے جو جو کہا ، وقت نے ثابت کیا کہ وہ سب یزید اور اسکے حواریوں کے ساتھ ہوا ۔ یزید کا جاہ و جلال تین ساڑھے تین سال میں ختم ہوا اور اپنے انجام کی طرف لوٹ گیا ۔ پاک و اطہر بی بی نے اپنے خطبہ کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرمایا تھا ۔
”اے یزید! یاد رکھ کہ خدا، آل رسول کا تجھ سے انتقام لے کر ان مظلوموں کا حق انہیں دلائے گا۔ اور انہیں امن و سکون کی نعمت سے مالا مال کر دے گا۔ "
پھر فلک نے دیکھا کہ جبر و استبداد کا یہ نشان کس بے بسی کی موت مرا ۔ ایک سلطنت کی بادشاہت کے بادشاہ کو گمنام سے گاوں میں لے جایا گیا ، تاکہ اسکی جان کنی کا تماشا پوشیدہ رہے ۔ تاریخ کا کوئی قاری اور یزید کی حمایت میں تحقیق کرنے والا کوئی محقق یزید کی موت پر نہ کوئی مدلل رائے دے پاتا ہے اور نہ اس سوال کا جواب ہے کہ اسے اسی گاوں میں دفن کیوں کیا گیا جہاں وہ پیدا ہوا تھا ۔ اسکی تو اپنی حکمرانی میں موت ہوئی تھی ، جاہ و جلال اور شاہانہ وقار کے ساتھ پایہ تخت میں تدفین میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں تھی ۔ یہ ایک نشان ہے جو قیامت تک آل رسولؐ کے حق کی گواہی دیتا رہے گا ۔
یہی وہ راز تھا ، جس کا تذکرہ علیؑ کی بیٹی نے فرما دیا تھا ۔
۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ہاشمی
١٧ ستمبر ٢٠١٩
Monday, 16 September 2019
علیؑ کی بیٹی نے فرمایا (٢) "
علیؑ کی بیٹی نے فرمایا (٢) "
عظمت اور شجاعت کا جو مظاہرہ علیؑ کی لخت جگر نے یزید کے سب درباریوں کے سامنے شروع کیا ۔ اسے جاری رکھتے ہوئے فرمایا ۔
" اے یزید !تو خلافت کے ہمارے مسلمہ حقوق کو غصب کر کے خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے۔ اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور هوش کر ۔ کیا تو نے خدا کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے یہ نہ سمجھیں کہ ہم جو انہیں مہلت دیتے ہیں یہ ان کے حق میں بھلائی ہے، ہم انہیں مہلت اس لیے دیتے ہیں کہ وہ گناہ میں زیادتی کریں، اور ان کے لیے خوار کرنے والا عذاب ہے۔"
ان چند الفاظ میں اس حقیقت کیطرف اشارہ ملتا ہے کہ خلافت آل رسولؐ کا حق تھا اور یزید اس پر اسلام کے تمام اصولوں کے برخلاف لایا گیا ۔ دوسری تاریخی تصحیح کیلئے حقیقت بیان کی گئی کہ یزید خوشی اور سرود کی کیفیت میں تھا ۔ نہ کہ غم کی حالت میں اور نہ ہی اسے افسوس تھا ۔ اہل بیت پر ظلم کو اپنی فتح سے تعبیر کئے بیٹھا تھا ۔
بی بی نے اپنے خطبہ کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا ۔
"اے طلقاء کے بیٹے! کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کر کے پردے میں بٹھا رکھا ہے جبکہ رسول زادیوں کو سر برہنہ در بدر پھرا رہا ہے۔ تو نے مخدرات عصمت کی چادریں لوٹ لیں اور ان کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا۔ تیرے حکم پر اشقیاء نے رسول زادیوں کو بے نقاب کر کے شہر بہ شہر پھرایا۔"
کس قدر دکھ کا مقام ہے کہ یزید کی لونڈیوں کو پردہ نصیب ہے اور جنہوں نے عرب کی بے حیائی میں پردہ متعارف کرایا ۔ جن کے سر کا بال فلک نے کبھی نہیں دیکھا تھا ، انہیں کوفہ اور شام کی مسافت کے دوران ہر ہر منزل پہ لوگوں نے دیکھا ۔ ایسے فاسقین کو اسلام میں کس درجے پہ رکھا جا سکتا اور انسانیت کے کس مقام پر؟
--- جاری ہے ۔۔۔
آزاد ھاشمی
١٦ ستمبر ٢٠١٩
Sunday, 15 September 2019
علیؑ کی بیٹی نے فرمایا (١) "
علیؑ کی بیٹی نے فرمایا (١) "
کربلا کے بعد پردہ دار بیبیوں کی اسیری کا لمبا سفر ، جس میں ہاتھ رسیوں سے جکڑے ہوئے تھے ۔ بھوک اور پیاس کی مشقت کے ساتھ ساتھ ننگے سر بازاروں میں گھمایا جانا ، ساتھ ساتھ نیزوں پر شہداء کے سروں کا تماشا دکھانا ، تاریخ کی بد ترین مثال تھی ۔ جو دنیا نے دیکھی ۔ کچھ ایسی ہی کیفیت معصوم بچوں کی بھی تھی جو نہ لڑنے کے قابل تھے اور نہ کسی مزاحمت کے لائق ۔ ایک بدبخت حکمران کے سامنے یہ قیدی اس رسولؐ کی اولاد اور اہل خانہ تھے , جس نے فتح مکہ کے وقت ان کے اجداد کو معاف کیا اور آزاد کیا تھا ۔ جب قافلہ کے سالار کے سر کی توہین کی غرض سے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ تخت پر بیٹھے متکبر بادشاہ نے ہونٹوں پر چھڑی ماری۔ ان مبارک ہونٹوں پر جن کو بیشمار بار اللہ کے حبیبؐ نے بوسے دئیے تھے ۔ یہ سالار علیؑ کا بیٹا تھا ۔ہر بہن کا دل پھٹ جاتا ہے ، جب کوئی اسکے بھائی کی توہین کرے ۔ علیؑ کی بیٹی ، اسداللہ الغالب کی بیٹی تھیں ۔ وہ بیٹی جسکی رگوں میں دوڑنے والے خون کا خمیر ہی شجاعت سے ہو ۔ اسے کون ہے جو خوفزدہ کر سکتا ہے ۔ اس عظیم بیٹی کو " زینبؑ " کہا جاتا ہے ۔ اس وقت بی بی زینبؑ نے یزید کو مخاطب کیا ۔ اور ایک خطبہ دیا ۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو قیامت تک یزید کو جرم سے بری کرنے کی ہر کوشش کا رد ہیں ۔ اللہ کی تمحید و تقدیس ، رسولؐ اور اہلبیت پر درود کے بعد فرمایا
" بالآخر ان لوگوں کا انجام برا ہے جنہوں نے اپنے دامن حیات کو برائیوں کی سیاہی سے داغدار کر کے اپنے خدا کی آیات کی تکذیب کی اور آیات پروردگار کا مذاق اڑایا"
باب العلم کی عظیم بیٹی کے یہ الفاظ کھلی وضاحت ہے کہ اقتدار کے حریص ان لوگوں نے آیات اور حکم ربی کا تمسخر کیا ۔ پھر یزید کا نام لیکر مخاطب کیا.
"اے یزید! کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے تنگ کر دیے ہیں اور رسولؐ کی آل کو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر در بدر پھرانے سے تو خدا کی بارگاہ میں سرفراز ہوا اور ہم رسوا ہوئے ہیں؟ کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہو کر ذلیل ہو گئے اور تو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے؟ کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے خدا کی بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہو گیا ہے؟۔ آج تو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سرمست ہے، مسرت و شادمانی سے سرشار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اترا رہا ہے "
پاک بی بی کے الفاظ اس تاریخی حقیقت کوبے نقاب کرتے ہیں کہ یزید نہایت خوش و خرم تھا ۔ بغض علیؑ میں غلطان محقق یہ باور کرانے کی جتنی بھی کوشش کریں کہ یزید کربلا میں ہونے والے واقعہ سے خوش نہیں تھا ، یہ کہنا سارسر غلط ہے کہ یہ سب کیا دھرا ابن زیاد کا تھا ۔ بی بی کے یہ جملے یزید کے جرم پر مہر ہیں جسے قیامت تک اسکا کوئی بھی فعل دھو نہیں سکتا ۔ جو لوگ یزید کو کسی جنگ میں شرکت میں شمولیت پر " جنتی " ثابت کرتے ہیں ۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اہل بیت کا مجرم کبھی سرخروئی نہیں پا سکتا ۔ اور جس کو علیؑ کی بیٹی نے مجرم قرار دے دیا ہو وہ مجرم ہی ہے ۔ بھلے کتنی من گھڑت تاویلات ہی کیوں نہ بنا لی جائیں ۔۔۔
( جاری ہے )
آزاد ھاشمی
١۵ ستمبر ٢٠١٩