Saturday, 22 June 2019

اسلامی تاریخ کی اگاہی کیوں نہیں

" اسلامی تاریخ کی اگاہی کیوں نہیں ؟"
16 رمضان کو سرور کائنات نے ایک انتہائی کٹھن دور کے بعد مکہ پر فتح حاصل کی - یہ اسلام کی وہ اساسی کامیابی تھی , جس سے پورے کرہ ارض پہ الله کی وحدانیت کا پیغام پھیلنا شروع ہونے جا رہا تھا - ہم میں سے کتنے لوگ اس دن سے آگاہ ہیں - کتنے لوگ اس عظیم روایت سے واقف ہیں , جو اس روز الله کے حبیب نے قائم فرمائی - در گزر اور معافی کی مثال کو کتنے لوگ جانتے ہیں جو اس روز عملی شکل میں سامنے آئ - رحمت العالمین کے عملی نمونے کو مفصل طور پر کتنے لوگ جانتے ہیں - کتنے میڈیا چینلز پہ مذاکرے ہوے اس دن کے حوالے سے - کتنے کالم لکھے گئے اس تاریخ ساز دن پر -
کیا ہمارے لئے لمحہ فکریہ نہیں کہ ہمیں اہل کفر کے سارے ڈے یاد ہوتے ہیں اور انکی تشہیر میں میڈیا کسقدر مستعد نظر آتا ہے - ہم سوشل میڈیا پر کتنے متحرک ہو جاتے ہیں -
ہم رفتہ رفتہ اپنے اسلاف کی تاریخ بھول رہے ہیں اور ایک روز , ہمیں کچھ بھی یاد نہیں ہو  گا - یہ ہے وہ شکست جس کے بعد کوئی فتح ہمارے نصیب میں نہیں ہو گی -ہماری نسلیں نا  واقف ہو جاینگی اسلامی تاریخ سے , اسلامی تہوار سے , اسلامی اقدار سے - 
ہمیں مذھب سے وابستہ لوگوں نے پوری جانفشانی سے , پوری تحقیق کر کے اور اپنا اولین فرض سمجھتے ہوے , وہ سارے مسائل از بر کروا دیۓ ہیں , جن سے ہم کسی بھی مسلمان بھائی کو دلیل سے کافر قرار دے سکتے ہیں - مگر نہ ہمیں اسلام کو سمجھنے دیا اور نہ قران کے قریب جانے دیا - نہ ہمیں مشاہیر اسلام کی آگاہی دی اور نہ کافروں کی سازشوں کو روکنے کے اقدام کیے - اب اگر کوئی ایسی حقیقتوں پہ زبان کھولے تو مریدین طبل جنگ بجانے میں توقف نہیں کرتے -
چلو اگر مذہبی رہنماؤں کے پاس وقت نہیں تو دانشور ہی اپنی ذمہ داری سمجھ لیں - اگر دانشور دوسری راہوں پہ نکل پڑے ہیں , تو میں اور آپ ہی قدم اٹھا لیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
٢١ جون ٢٠١٦

Wednesday, 19 June 2019

ماں کی یاد

" ماں کی یاد "
اسکی آنکھیں ڈبڈبا گئیں - اور بھرائی ہوئی آواز میں کچھ کہتے کہتے رک گیا - میں نے کبھی اس روپ میں اسے نہیں دیکھا - میرے اسرار پہ بولا -
" یار آج ماں کو دیکھے آٹھ سال ہو گئے ہیں - کیا کرنا ایسی عید کا جو ماں کے گلے لگے بغیر گزرے "
میری آنکھیں بھی بھیگ گیں - تریسٹھ سال کی عمر میں ماں کی یاد کا یہ عالم -
" آج کا دن ہی ایسا ہے کہ اپنوں کی بہت یاد آتی ہے "
میں نے فلسفہ جھاڑنے کی کوشش کی "
تو وہ چھوٹے سے بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا -
" آٹھ سال کا کوئی بھی دن تو ایسا نہیں کہ ماں کے بغیر جو سو سال سے کم تھا - یار تو سوچ تو سہی کہ میری ماں کے دل کا کیا حال ہو گا - اس کے حلق سے سویاں کیسے اتری ہوں گا - وہ دل ہی دل میں کتنا روئی ہوں گی - کیسے دروازے کی طرف بار بار دیکھا ہو گا - کیسے خیالوں ہی خیالوں میں مجھے گلے لگایا ہو گا "
وہ ٹھیک کہ رہا تھا - پردیس کتنا بھی پر فریب کیوں نہ ہو - عید اگر ماں کے گلے سے لگے بغیر گزرے تو درد کا احساس ہونا فطری سا عمل ہے -
آزاد ھاشمی

Tuesday, 18 June 2019

بیٹا اسکول جانا چاہو گے

" بیٹا ! اسکول جانا چاہو گے "
بہت پیارا سا بچہ , جس کی عمر سات آٹھ سال ہو گی - سڑک کے کنارے بیٹھا جوتے پالش کر رہا تھا - میرا سوال سن کر بولا -
" نہیں انکل "
میں حیران تھا کہ اسکا جواب اتنا تلخ کیوں ہے - چہرے پہ بچپن کے کوئی آثار نہیں تھے - اس عمر میں سنجیدگی سے بھر پور چہرہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا - سوچا چلو بوٹ پالش کراتا ہوں اور " نہیں " کا راز پوچھتا ہوں -
میں سوچ رہا تھا ان ہاتھوں میں کتابیں اور قلم ہونا چاہیے تھا - جو برش پکڑے ہوے ہیں -
" بیٹا ! کیوں نہیں اسکول جانا چاہتے "
اس نے میری بات ان سنی کر دی اور مشین کی طرح برش چلانے لگا - میں  نے پھر سوال دہرایا - تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا -
" انکل میرے ابو ایک ماہ پہلے فوت ہو گئے تھے - میری امی بیمار ہیں , روز دوائی نہ ملی تو وہ بھی مر جائیگی - میں دوائی کے لئے جوتے پالش کرتا ہوں- اور جو بچ جاتے ہیں , اسکی روٹیاں لے جاتا ہوں - روٹیاں نہیں لے کے جاؤں گا تو میرا بھائی اور بہن مر جائیگی - سب مر گئے تو پھر میں جی کے کیا کروں گا - اسکول میرے سب کو مار دیگا جی "
اس کی بات نے میرا سینہ کاٹ دیا - میں سوچ میں پڑ گیا - کیا ہم اتنے بے حس ہو گئے ہیں - آخر یہ لوگ جہاں رہتے ہیں ,ان کے اڑوس پڑوس میں لوگ رہتے ہوں گے - الله کا نام لینے والے مسلمان ہوں گے - صوم و صلات کی پابندی کرنے والے بھی ہوں گے - محبت اور اخوت کے مبلغ بھی ہوں گے - سماجی بہبود کے ٹھیکدار بھی ہوں گے - سیاسی مداری بھی ہوں گے - ملا بھی ہوں گے -
ایسے کتنے  یتیم ہوں گے , کتنی بیوہ ہوں گی , کتنے معصوم ہوں گے - جو آنکھیں کھولتے ہی درد کی بھٹی کا ایندھن بن جائیں گے -
کیا میری اور آپکی ذمہ داری نہیں کہ ان کو جینے کا , علم کا حق دیں اور دلائیں -
کیا ہم سب اپنی ذمہ داری سے بے خبر نہیں ہیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

برات کی رات

آج برات کی رات ہے - الله اپنے بندوں کی آرزوؤں , تمناؤں اور خواہشات کی قبولیت پہ اپنی رحمتوں اور بخششوں کے دروازے کھولے ہوے ہے -
کائنات  کا مالک ہر مانگنے والے کی مرادیں پوری کرنے پر راضی ہے - ہر گناہگار کی توبہ , ہر زاہد کا زہد , ہر عابد کی عبادت قبول کرنے کا وعدہ کیے ہوے ہے -
آج مالک مطلق کی رحمتوں کا سمندر موجزن ہے - آئیے اپنے رحیم و کریم کے سامنے خالی جھولی پھیلائیں اور رحمتوں سے بھر لیں - اپنی خطاؤں کو بخشوانے کا سما ہے - آج دنیا کے طلبگار دنیا مانگیں گے , اور الله کے بندے الله کی رضا کی بھیک کے طلبگار ہونگے - دینے والا وہ سب دے گا , جو کسی کی تمنا ہو گی -
کیوں نہ الله کی رضا مانگ لیں , کیوں نہ اسکی محبت مانگ لیں , کیوں نہ اسکے حبیب کی لگن مانگ لیں , کیوں نہ اسکا ذکر کرنے والی زبان مانگ لیں , کیوں نہ اسی سے ڈرنے والا دل مانگ لیں , کیوں نہ اسکے دامنے جھکنے والا سر مانگ لیں , کیوں نہ اسکی راہ میں چلنے والے قدم مانگ لیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

ڈھنگ کا کام

"بابا  ! زندگی میں کوئی ڈھنگ کا کام بھی کیا یا پکوڑے ہی بناتے رہے "
خوش پوش نوجوان , لش پش گاڑی سے اترا اور پہلی بات جو کی , وہ اس کے دماغی خلجان جاننے کے  لئے کافی تھی -
" نہیں بیٹا کوئی بھی ڈھنگ کا کام سمجھ ہی نہیں آیا - یہی کرتا رہا " بابا جی نے مسکراتے ہوے جواب دیا -
" بیٹا جی ! آپ کیا کرتے ہو "
" کچھ نہیں , جاگیردار ہوں , والد صاحب پولیس میں افسر ہیں - مجھے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں - سوچتا ہوں سیاست کروں "
بابا  جی نے قہقہ لگایا -
" شکر ہے میرا اندازہ ٹھیک نکلا - میں سمجھ گیا تھا کہ تمھاری تربیت میں کمی ہے یا پھر دولت کا نشہ ہے - تمھارے آباؤ اجداد نے ڈھنگ کا کام کیا کہ انہیں جاگیر ملی , میرے باپ دادا نہ ضمیر فروش تھے نہ دھرتی کے غدار - اپنے رزق حلال پہ زندہ رہے اور یہی میری تربیت کی - مجھے کوئی ندامت نہیں یہ بے ڈھنگا کام کر کے - میرے الله کو ہاتھ سے کام کرنے والے سے محبت ہے - میرے  لئے یہی کافی ہے - میں کسی کا حق نہیں کھاتا , کسی کی دل آزاری نہیں کرتا , جو مل جاتا ہے شکر کرتا ہوں - یہ بے ڈھنگا کام میرے ضمیر کا سکون ہے "
بابا جی فاتحانہ انداز میں خوش تھے اور امیر زادہ تلملا رہا تھا -
" یہ میری غربت میرا اعزاز ہے - الله کا کرم ہے کہ یہ غربت مجھے میرے رب سے قریب کرتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ مجھے اپنے قریب رکھے - تیری یہ دولت تجھے تکبر پہ آمادہ رکھتی ہے اور الله نہیں چاہتا کہ تو اسکے قریب ہو - الله سے توبہ کر , اپنی عاقبت کی فکر کر - تیرا پولیس افسر باپ , تیری جاگیر تجھے بہکا رہے ہیں - قبر میں تو بھی میری طرح ہو گا "
یہ کہتے ہی بابا جی نے امیر زادے کو گلے سے لگایا , دونوں کی آنکھیں نم تھیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

روزہ ایک عمل

روزہ ایک ایسا عمل ہے جو الله کے لازم فرائض میں سے ایک ہے - جو مسلمان کے کردار کی اصلاح کا بہترین عمل ہے - صرف بھوکا اور پیاسا رہنا روزہ نہیں - ہر اس عمل سے اجتناب کرنا , جو الله کو نا پسند ہے , جو کبیرہ یا صغیرہ گناہ کی صف میں آتا ہو , روزہ ایسے تمام کاموں سے روکنے کا سبق ہے - عبادت کا رحجان بھی روزے سے ملنے والی تحریک ہے.
اسکے ساتھ ساتھ ایک ایسا احساس جگانے والی عبادت , جو بہترین معاشرے کی اساس ہوتا - اپنے قرب و جوار میں کسی مفلوک الحال گھرانے کی تکلیف کا احساس ملتا ہے - یہ روزے کا ایک فلسفہ ہے , جسے ہم میں سے اکثر اس پر توجہ ہی نہیں دیتے -  بڑے بڑے دستر خواں سجا کر اپنی آنا کی تسکین تلاش کرتے ہیں - الله سے قبولیت مانگتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے الله کو راضی کر لیا - حالانکہ اگر کسی زاہد و عابد کا ہمسایہ رات کو بھوکا سویا ہے تو اس عبادت گزار کی ساری عبادت , ساری ریاضت , تمام سجدے اور رکوع قبولیت سے محروم ہو جاتے ہیں -
ہم اس مبارک مہینے میں  ان اہم معاملات پر خصوصی توجہ دےکر  نیکیاں بھی کما سکتے ہیں اور ایک قابل ستائش معاشرے کا آغاز بھی کر سکتے ہیں -
وہ دوست , عزیز , رشتہ دار جو ہم سے دور ہیں یا جن کو ہماری مدد کی ضرورت نہیں , انکے لئے الله سے تندرستی , امن , خوشحالی   اور تمام دینی و دنیاوی کامیابی مانگنا بھی ایک بہترین تحفہ ہے - ایک بہترین  امداد ہے اور ایک بہترین عمل ہے -
آئیے , ایک اچھے معاشرے کی بنیاد رکھیں - اپنے الله اور الله کے حبیب کی رضا حاصل کریں -
آمین
آزاد ہاشمی

متاثرین بیگمات یونین

" متاثرین بیگمات یونین "
شہر کے تمام پبلک مقامات پر ، گرلز کالجوں کے سامنے ، کارٹون زدہ پوسٹر چسپاں تھے ۔ کارٹونوں میں بیگمات کے تشدد کے نئے نئے طریقے واضع تھے ۔ چند " بیگمات کے ستائے " ہوئے شوہروں کے نعرے درج تھے ۔ جلی حروف میں لکھا تھا ۔
" شہر سے اکثریت ہماری ممبر بن چکی ہے "
اسکے ساتھ ہی درج تھا ۔
" یہ پوسٹر مذاق نہیں ۔ ایک درد کی آواز ہے ۔ اسلئے دانت نکالنے کی نہیں سوچنے کی گھڑی ہے "
احتجاج کی تاریخ ، وقت اور جگہ بھی درج تھی ۔ سرخ رنگ سے نوٹ لکھا ہوا تھا ۔
" خواتین کا داخلہ ممنوع ہے "
شہر کا شاید ہی کوئی شیر شوہر ہو گا ، جس نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ اچھی بات نہیں ۔ صد فی صد اس یونین کے ہم آواز تھے ۔ ہم خیال دوستوں کے اجلاس جاری تھے ، تجاویز پر تجاویز آ رہی تھیں ۔ کچھ خوش تھے کہ چلو اب پکا پکایا کھانے کو ملے گا ۔ کچھ بغلیں بجا رہے تھے کہ اب گھر میں حکمرانی کی کرسی انکا نصیب ہو گی ۔ اب وہ ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے آواز لگائیں گے ۔
" کہاں مر گئی ہو ۔ چائے لے آو " تو کچن سے کانپتی آواز آئے گی ۔
" جی ابھی لا رہی ہوں "
ایسے بہت سارے خواب جاگتی آنکھوں سے دیکھے جا رہے تھے ۔ ہر کوئی خوش تھا کہ بس چند روز بعد ہر گھر میں مردوں کے دھاڑنے کی آوازیں آیا کریں گی ۔ کوئی بیوی فرمائش کرنے سے پہلے سو سو بار سوچے گی ۔ شوہر کے موڈ کو دیکھے گی ۔ شہر کا داروغہ بھی خوش مزاج سا نظر آنے لگا تھا ۔
آخر وہ دن آگیا ۔ سٹیج سج گیا ، کرسیاں لگ گئیں ۔
کون جانے کہ تقدیر ابھی ساتھ دینے کو تیار نہیں ۔ کون جانے کہ ہر گھر کی اسٹیبلشمنٹ پوری طرح باخبر بھی ہے اور منظم بھی ۔ کسی کو خبر بھی نہیں تھی اور وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے چند بیگمات کرسیوں پر آکر بیٹھ گئیں ۔ اب دھیرے دھیرے بیگمات جلو در جلو کرسیوں پر براجمان تھی ۔ یونین بنانے کے بہادروں میں سے کوئی قریب قریب نہیں تھا ۔ کوئی نہیں تھا تو آگے بڑھ کے بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے ۔ تھوڑی دیر میں " تنظیم تحفظ حقوق خواتین " کا نام تجویز ہوا ، اور " متاثرین بیگمات یونین " کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے ۔
آزاد ھاشمی
١٨ جون ٢٠١٨

Monday, 17 June 2019

اسلامی نظام کیوں اور کیسے؟ 16

" اسلامی نظام کیوں اور کیسے ( 16 )
ہم گذشتہ اقساط میں جمہوریت کے ناقص طرز انتخاب اور نظام حکومت نہ ہونے کی دلیل ، شوریٰ کی ضرورت اور شوریٰ کا قیام ، شوریٰ کی حدود اور سربراہ کے انتخاب میں شرائط کا جائزہ لے چکے ہیں ۔ جو ناقدین اس رائے پر قائم ہیں کہ جمہوریت کے بغیر اسلامی نظام قائم نہیں ہو سکتا ۔ انہیں دعوت بھی دی گئی کہ وہ گذشتہ اقساط پر دلیل سے اعتراض لکھیں ۔ تاکہ جو کمی رہ گئی اسکا ازالہ کیا جا سکے ۔ تاحال کوئی سوال یا اعتراض سامنے نہیں لایا گیا گیا ۔ اب ہم چند ایسے اہم موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں ۔ جن سے اسلامی نظام کی افادیت ظاہر ہوتی ہے
جمہوری نظام میں سربراہ کو اپنی ٹیم کے انتخاب کیلئے ، منتخب ممبران کی مقبولیت کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے پڑتے ہیں ۔ بسا اوقات اہلیت اور کردار کو نظر انداز کر کے نا اہل اور کردار باختہ وزراء کا انتخاب عمل میں آ جاتا ہے ۔ مروجہ سیاسی کھیل میں یہ طریقہ عام ہے جبکہ اخلاقی طور پر یہ ایک ایسی بد دیانتی ہے جو ریاست  سے بھی کی جاتی ہے اور  شہریوں  سے بھی ۔
ایسے لوگوں کا انتخاب سربراہ کی کارکردگی اور  بدنامی کاسبب ہوتا ہے اور وہ اپنے صائب فیصلے بھی مصلحت کے تحت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ حکومت عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہے اور ریاست کے تمام ترقیاتی اور معاشی منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ۔  اسلامی طرز حکومت میں کردار اور اہلیت اولین ترجیح ہوتی ہے ۔ حضرت علیؑ نے سربراہ کیلئے فرمایا۔
"  اپنا قریبی رابطہ اہل تقوی اوراہل صداقت  سےرکھے  اورانہیں بھی اس امر کی تربیت دے کہ بلاسبب سربراہ کی تعریف نہ کریں اورکسی ایسے بے بنیاد عمل کا غرورنہ پیدا کرائیں جو  انجام نہ دیا گیا ہو"۔
اگر ہم دیانتداری سے تجزیہ کریں تو ہمارے حکمران مذکورہ کردار کے حامل نظر آئیں گے ۔
رہبر کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اردگرد رہنے والے لوگ سب برابر نہیں ہونے چاہییں بلکہ نیک اوربد میں فرق ہونا چاہیے اس کی رفتار ،اس کے کردار وغیرہ میں یہ چیز ظاہر ہونی چاہیے۔  اور اسلامی نظام کا خاصہ ہے ۔۔۔
۔۔۔ ملاحظہ ہو قسط ١٧ ۔۔
آزاد ھاشمی
١٦ جون ٢٠١٩

Sunday, 16 June 2019

میں بھی بکتا ہوں

میں بھی بکتا ھوں ۔ توبھی بکتا ھے
دام ھوں تو سارا جہاں بکتا ھے
خریدنے تو نکلو ۔ دنیا کے بازار میں
انمول تھا جو ۔ وہ بھی انسان بکتا ھے
بکتی ھیں اخلاص کے نام سے ساری وفائیں
چاھت بکتی ھے یہاں ۔ ایمان بکتا ھے
پنڈت بھی دوکان سجائے بیٹھا ھے
آؤ خرید لو کہ ۔ بھگوان بکتا ھے
سب بک رہا ھے ملاء کی دوکان پر
دعا لے لو ۔ اقوال لے لو ۔قرآن بکتا ھے
بول دے گا جو چاھوگے واعظ سر مجلس
کلام بکتاھے۔ وعظ بکتی ھے۔ بیاں بکتا ھے
رھزنوں نے پہن لیا ھے سیاست کا پیرھن
وطن بکتا ھے کہ زمین و آسمان بکتا ھے
بک رھے ھیں رشتوں کے سارے تقدس
کیا بتاوں کہ یہ سب کہاں کہاں بکتا ھے

حیرت کی دنیا

♣ حیرت کی دنیا ♣

1۔ مغل بادشاہ اکبر اعظم دنیا کا واحد انسان تھا جس نے اپنے مقبرے اور قبر کا ڈیزائن خود تیار کیا تھا۔
2۔ مصر وہ واحد اسلامی ملک ہے جس کا ذکر قرآنِ پاک میں موجود ہے۔
3۔ بلا شبہ سُکھ چین، نیم اور دیگر مفید درختوں کی مسواک میں اللہ کی طرف سے ہمارے دانتوں کی حفاظت کیلئے بے شمار فائدے پوشیدہ ہیں، لیکن اگر آپ انار کے درخت کی ٹہنی سے مسواک کریں گے تو کچھ ہی دِنوں میں آپکے دانت کمزور ہو کر گِرنا شروع ہو جائیں گے۔
4۔ "کیمونسٹ پارٹی آف چائینہ" سیاسی اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہے، جس کے ممبران کی تعداد ایک اندازے کے مطابق کم و بیش 86.7 ملین ہے۔
5۔ سانپ کے کاٹے کے لیے تیار کی جانے والی تریاق کو جلد مؤثر بنانے کیلئے اُس میں گھوڑے کا خون شامل کیا جاتا ہے۔
6۔ دنیا کے 72 فیصد لوگ ترقی پذیر ممالک میں رہائش پذیر ہیں۔
7۔ اگر کسی چیز کا وزن زمین پر 120 کلو گرام ہے تو اُسی چیز کا وزن چاند پر صرف 20 کلو گرام رہ جائے گا۔
8۔ سویا ہوا انسان کبھی چھینک نہیں مار سکتا، اور اگر وہ چھینک مار رہا ہے تو سویا نہیں ہوا۔
9۔ شہد کی مکھی اور کتے کو سرخ رنگ نظر نہیں آتا۔
10۔ چیونٹی خدا کی وہ واحد مخلوق ہے جو کبھی نہیں سوتی۔
11۔ افریقہ کے جنگلات میں ایسی چمگادڑیں بھی پائی جاتی ہیں، جو اپنے شکار کے جسم میں غیر محسوس انداز میں سوراخ کر کے اُسکا سارا خون پی جاتی ہیں اور وہ بیچارا تکلیف کا احساس کیئے بغیر ہی موت کی وادی میں پہنچ جاتا ہے۔
12۔ فرانس میں مردہ کتوں کو بھی دفن کیا جاتا ہے، "ایمنی ریس" نامی قبرستان میں اِس وقت کم و بیش 40 ہزار کتے دفن ہیں۔
13۔ بھارت کی ریاست "پرتاب گڑھ" کے ہندو مہاراجہ نے ایک جنگ میں ریاست "گروارا" کے ہندو راجہ کو شکست دینے کے بعد وہاں کی رعایا کو ذلیل کرنے کیلئے 12 سال تک ایک گیدڑ کو وہاں کا راجہ مقرر کیے رکھا تھا۔
14۔ انڈونیشیا میں دنیا کی سب سے بڑی چھپکلی موجود ہے جس کا نام "مورڈریگون" ہے اِس کی لمبائی ساڑھے تین میٹر اور وزن 135 کلو گرام ہے۔
15۔ جنوبی امریکہ میں بندروں کی ایک نایاب قسم پائی جاتی ہے، جن کی لمبائی محض پانچ انچ اور وزن صرف 250 گرام ہوتا ہے۔
16۔ "لوبسٹر" ایک کیڑا ہے، اگر کسی حادثے میں اِس کی آنکھ ضائع ہو جائے تو قدرتی طور پر نئی آنکھ پیدا ہو جاتی ہے۔
17۔ پرندوں کی دنیا میں "سارس" وہ واحد پرندہ ہے جو بالکل نہیں بولتا اور عام طور پر اِسے "گونگا پرندہ" بھی پکارا جاتا ہے۔
18۔ خوشاب شہر کا نام سلطان محمود غزنوی نے رکھا تھا جب وہ ہندوستان جاتے ہوئے سرگودھا، ملتان، میانوالی سے گزرے تو سرگودھا سے کچھ آگے کے علاقے کا پانی اُنہیں بہت پسند آیا اور انہوں نے بے ساختہ کہا "یہ تو خوش آب ہے۔۔!" تب سے اِس علاقے کا نام "خوشاب" پڑ گیا۔
19۔ پاکستانی لوگ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے عموماً جس فقرے پر بات ختم کرتے ہیں وہ ہے "چلو ٹھیک ہے۔۔!"
====================================
آپ کے خیال میں کونسا نمبر سب سے زیادہ حیرت انگیز تھا؟؟

جا اللہ تجھے

جا الله تجھے
تیری زندگی بھر کی نیکیوں کا بے حساب اجر عطا فرمائے۔
تیری کوتاھیوں اور غفلتوں سے درگذر فرمائے۔
تیری مغفرت فرمائے۔
تیرے روح کو سکون اور اطمینان کی جگہ نصیب کرے۔
تجھے جنت کی ھوائین نصیب ھوں۔
تیرے جانے کا دکھ فطری ھے۔ تیرے جانے سے ایک خلاء ھے جو کوئی دوسرا پر نہیں کرے گا۔
تیرے ساتھ منسوب سب آنکھیں پر نم ھیں۔ کچھ میں سچے آنسو ھیں کچھ میں دکھاوا ھے اور کچھ رسمی ھیں۔

تم نے بہت عقلمندی کی جو منافقت بھری دنیا سے بھاگ نکلے۔
چھوڑ گئے درندون کا نگر ۔
جان چھڑا لی خودغرضی کے رشتوں سے ۔

ھم سب چند روز سچے جھوٹے ٹسوے بہائیں گے اور پھر ھنستے مسکراتے اپنی اپنی ڈگر پہ بھاگنے لگیں گے۔
تمہاری قسمت قابل رشک رھے گی کہ اپنوں کے زخم کھانے سے پہلے رخت سفر باندھ لیا ۔ الله پاک کسقدر مہربان تھا تم پر کہ اپنے پاس بلا لیا ۔
جو چلا جاتا ھے اسکی محبت میں سب سرشار نظر آتے ہیں۔ اور جو زندہ ھیں ان کو کوئی نہیں پوچھتا ۔
مرنے والے کو دیگیں کھلائی جاتی ھیں اور زندوں کو دو وقت کی روٹی دیتے ھوئے پیٹ میں بل پڑتے ھیں ۔
یہ اس جہاں کی ریت ھے ۔جہاں سے تم چلے گئے ھو ۔
جہاں تم گئے ھو ۔ وہاں کی ریت الگ ھے ۔
نہ رنج ھے نہ غم ۔ نہ طعنے نہ الزام ۔ نہ کوئی اپنا نہ بیگانہ ۔ نہ حرص نہ تمنا ۔ نہ کوئی امید نہ مایوسی ۔ نہ کوئی دوست نہ دشمن ۔

ھمارے نگر میں کچھ نہیں بدلے گا ۔ ھم اپنی دورخی جاری رکھیں گے ۔ گھر کی کسی دیوار پہ تمہاری اچھی سی تصویر لٹکا دیں گے ۔ جہاں ھر آنے والے کی نظر پڑے ۔ یہ بتانے کے لئے کہ تم ہماری یادوں میں زندہ ہو ۔
پھر یہ تصویر دیوار کا حصہ بن جائے گی ۔ گرد آلود تصویرکو ھر تہوار پہ صاف کیا کریں گے ۔ کیونکہ زندگی کی دوڑ میں وقت ھی نہیں ھوگا کہ ادھر دیکھ سکیں ۔
ایک وعدہ رہا کہ ھر سال اسی روز تمہارے نام پہ تمہارے پسندیدہ کھانے پکا کر ضرور کھایا کریں گے ۔ اسی بہانے کچھ عزیزوں کی ضیافت بھی ھو جایا کرے گی ۔
وعدہ نہیں ۔ ہاں پورے خلوص سے کوشش کریں گے کہ تیری قبر پہ کچھ پھوک چڑھا دیں ۔ اور چند اگربتیاں لگا دیں ۔
کیا ھوا کہ تمہارے زندگی کے روگ ھم سے پوشیدہ رھے ۔ یہ تمہارا قصور تھا کی تم نے بتایا نہیں ۔ ھم کیوں پوچھتے ۔اگر پوچھ لیتے تو مداواہ کرنا پڑتا ۔ جس درد سر کا ھمارے پاس کبھی وقت ھی نہیں تھا ۔
اب ھم دعائیں
کرتے رھیں گے ۔ کہ مالک کائنات اپنے کرم اور رحم سے جنت لفردوس میں جگہ عطا کرے ۔ آمین ۔
اب کچھ عرصہ تو تمہارے حصہ کی جائیداد کیلئے لڑنے میں گزرے گی ۔ اسوقت تک شائد دعا کرنے کا وقت بھی نہ ملے ۔ملال مت کرنا ۔
اچھا خدا حافظ ۔