Monday, 17 June 2019

اسلامی نظام کیوں اور کیسے؟ 16

" اسلامی نظام کیوں اور کیسے ( 16 )
ہم گذشتہ اقساط میں جمہوریت کے ناقص طرز انتخاب اور نظام حکومت نہ ہونے کی دلیل ، شوریٰ کی ضرورت اور شوریٰ کا قیام ، شوریٰ کی حدود اور سربراہ کے انتخاب میں شرائط کا جائزہ لے چکے ہیں ۔ جو ناقدین اس رائے پر قائم ہیں کہ جمہوریت کے بغیر اسلامی نظام قائم نہیں ہو سکتا ۔ انہیں دعوت بھی دی گئی کہ وہ گذشتہ اقساط پر دلیل سے اعتراض لکھیں ۔ تاکہ جو کمی رہ گئی اسکا ازالہ کیا جا سکے ۔ تاحال کوئی سوال یا اعتراض سامنے نہیں لایا گیا گیا ۔ اب ہم چند ایسے اہم موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں ۔ جن سے اسلامی نظام کی افادیت ظاہر ہوتی ہے
جمہوری نظام میں سربراہ کو اپنی ٹیم کے انتخاب کیلئے ، منتخب ممبران کی مقبولیت کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے پڑتے ہیں ۔ بسا اوقات اہلیت اور کردار کو نظر انداز کر کے نا اہل اور کردار باختہ وزراء کا انتخاب عمل میں آ جاتا ہے ۔ مروجہ سیاسی کھیل میں یہ طریقہ عام ہے جبکہ اخلاقی طور پر یہ ایک ایسی بد دیانتی ہے جو ریاست  سے بھی کی جاتی ہے اور  شہریوں  سے بھی ۔
ایسے لوگوں کا انتخاب سربراہ کی کارکردگی اور  بدنامی کاسبب ہوتا ہے اور وہ اپنے صائب فیصلے بھی مصلحت کے تحت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ حکومت عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہے اور ریاست کے تمام ترقیاتی اور معاشی منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ۔  اسلامی طرز حکومت میں کردار اور اہلیت اولین ترجیح ہوتی ہے ۔ حضرت علیؑ نے سربراہ کیلئے فرمایا۔
"  اپنا قریبی رابطہ اہل تقوی اوراہل صداقت  سےرکھے  اورانہیں بھی اس امر کی تربیت دے کہ بلاسبب سربراہ کی تعریف نہ کریں اورکسی ایسے بے بنیاد عمل کا غرورنہ پیدا کرائیں جو  انجام نہ دیا گیا ہو"۔
اگر ہم دیانتداری سے تجزیہ کریں تو ہمارے حکمران مذکورہ کردار کے حامل نظر آئیں گے ۔
رہبر کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اردگرد رہنے والے لوگ سب برابر نہیں ہونے چاہییں بلکہ نیک اوربد میں فرق ہونا چاہیے اس کی رفتار ،اس کے کردار وغیرہ میں یہ چیز ظاہر ہونی چاہیے۔  اور اسلامی نظام کا خاصہ ہے ۔۔۔
۔۔۔ ملاحظہ ہو قسط ١٧ ۔۔
آزاد ھاشمی
١٦ جون ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment