|
انقلاب کربلا - انسانی تاریخ
تحریکوں اور انقلابات سے بھری پڑی ہے - جب جب گمراہی , ظلم , نا انصافی ,
جہالت اور جبر نے قدم مضبوط کیے - قدرت نے کسی نہ کسی مسیحا کو بھیجھا اور
انسانیت کی مدد فرمائی - کبھی کبھی کسی جابر نے اقتدار کے حصول کے لئے خون
کی ہولی بھی کھیلی اور اخلاقیات کی حدود پار کر ڈالیں -
ایک انقلاب دنیا کے نقشے پر ایسا
بھی آیا جس نے قیامت تک جبر اور ظلم , جہالت اور گمراہی کی راہیں مسدود کر دیں -
یہ انقلاب تھا اسلام کا انقلاب -
مگر سازش اور شیطنت اپنے وار کرنے
پہ زیادہ متحرک ہو گئی - اسلام کا لبادہ اوڑھے شیطان اپنی جنگ جاری رکھے ہوۓ تھا
-
اس انقلاب کے ثمرات کو بچانے کے لئے
ایک اور انقلاب کی ضرورت تھی -
یہ انوکھا انقلاب کربلا کی
تپتی ریت پر وارد ہونے والا تھا -
ایسا انقلاب جو تاریخ کی آنکھوں نے
نہ پہلے کبھی دیکھا اور نہ قیامت تک کبھی دیکھے گی - یہ انقلاب لانے
والے چند بے سر و سامان مختصر سا قافلہ , جس میں چند پردہ دار
بیبیاں , چند معصوم بچے , چند نوجوان اور چند بوڑھے الله کی رضا پر
الله کے دین کے استحکام کے لئے نکلے -
ایک طرف اسلام کے لبادے میں لپٹی
ہوئی شیطنت , اپنی طاقت کے بل بوتے پر اترائی بیٹھی ہے اور دوسری طرف شجاعت بے
سرو سامانی کا فکر کیے بغیر انقلاب لانے کا مصمم ارادہ لئے کھڑے ہیں - ایسا
انقلاب کہ یزیدیت پھر کبھی پنپ نہ پاۓ - ایک طرف تیز دھار تلواروں کے ساتھ لشکر
کثیر ہے - تیر ہیں بھالے ہیں - دوسری طرف سر ہیں ردائیں ہیں -
وہ انقلاب , جس کی نظیر کبھی نہیں
ملے گی -
پھر یہ انقلاب آیا اور آج سینکڑوں
سال کے بعد بھی پھر کبھی یزیدیت نہیں اٹھ پائی -
حبیب خدا کے نواسے نے اپنے گلشن کا
ہر پھول اس انقلاب کی نذر کر دیا -
اپنے جگر کے ٹکڑے دے کر دین کی حرمت
بچانے کی یہ مثال صرف اسی انقلاب کی شان ہے -
اپنی ردائیں دے کر امت مسلمہ کا
پردہ بچانے کی مثال صرف اسی انقلاب میں نظر آیا -
سجدے میں سر کٹا کے سجدے کو دوام
اسی انقلاب کا طرہ امتیاز ہے -
جب بھی کوئی یزید ظلم کے لئے بڑھتا
ہے , حسینیت رستہ روک لیتی ہے -
یہ ہے انقلاب جس نے شہادت کو
عروج دیا -
(آزاد ہاشمی )
|