Saturday, 25 February 2017

اے حسین تیرے قافلے کو ہمارا سلام ہو




اے حسین تیرے قافلے کو ہمارا سلام ہو




جب نواسہ رسول اپنے چھوٹے سے قافلے کو لے کر چلے ہونگے , تو ایک بار زمین بھی کانپی ہو گی اور آسمان بھی رویا ہو گا - کچھ لمحوں کے لئے گردش دوران بھی رکی ہو گی - شیطان مردود بھی پشیمان ہوا ہو گا - کہ جس آدم کو محض مٹی سمجھا تھا , اس خمیر میں رضاے الہی پہ قربان ہونے والا ایسا قافلہ بھی ہو گا -
اے حسین تیرے قافلے کو ہمارا سلام ہو - ہماری آل کا سلام ہو - ہماری اولاد کا سلام ہو -
آزاد ہاشمی

انقلاب کربلا


انقلاب کربلا  - انسانی تاریخ تحریکوں اور انقلابات سے بھری پڑی ہے - جب جب گمراہی , ظلم  , نا انصافی , جہالت اور جبر نے قدم مضبوط کیے - قدرت نے کسی نہ کسی مسیحا کو بھیجھا اور انسانیت کی مدد فرمائی - کبھی کبھی کسی جابر نے اقتدار کے حصول کے لئے  خون کی ہولی بھی کھیلی اور اخلاقیات کی حدود پار کر ڈالیں -
ایک انقلاب دنیا کے نقشے پر ایسا بھی آیا جس نے قیامت تک جبر اور ظلم , جہالت اور گمراہی کی راہیں مسدود کر دیں - یہ انقلاب تھا اسلام کا انقلاب -
مگر سازش اور شیطنت اپنے وار کرنے پہ زیادہ متحرک ہو گئی - اسلام کا لبادہ اوڑھے شیطان اپنی جنگ جاری رکھے ہوۓ تھا -
اس انقلاب کے ثمرات کو بچانے کے لئے ایک اور انقلاب کی ضرورت تھی -
یہ انوکھا انقلاب کربلا کی  تپتی ریت پر وارد ہونے والا تھا -
ایسا انقلاب جو تاریخ کی آنکھوں نے نہ پہلے کبھی دیکھا اور نہ  قیامت  تک کبھی دیکھے گی - یہ انقلاب لانے والے چند بے سر و سامان  مختصر سا قافلہ , جس میں چند  پردہ  دار بیبیاں  , چند معصوم بچے , چند نوجوان  اور چند بوڑھے الله کی رضا پر الله کے دین کے استحکام کے لئے نکلے -
ایک طرف اسلام کے لبادے میں لپٹی ہوئی شیطنت , اپنی طاقت کے بل بوتے پر اترائی بیٹھی ہے اور دوسری طرف شجاعت بے سرو سامانی کا فکر کیے بغیر انقلاب لانے کا مصمم ارادہ لئے کھڑے ہیں - ایسا انقلاب کہ یزیدیت پھر کبھی پنپ نہ پاۓ - ایک طرف تیز دھار تلواروں کے ساتھ لشکر کثیر ہے - تیر ہیں بھالے ہیں - دوسری طرف سر ہیں ردائیں ہیں -
وہ انقلاب , جس کی نظیر کبھی نہیں ملے گی -
پھر یہ انقلاب آیا اور آج سینکڑوں سال کے بعد بھی پھر کبھی یزیدیت نہیں اٹھ پائی -
حبیب خدا کے نواسے نے اپنے گلشن کا ہر پھول اس انقلاب کی نذر کر دیا -
اپنے جگر کے ٹکڑے دے کر دین کی حرمت بچانے کی یہ مثال صرف اسی انقلاب کی شان ہے -
اپنی ردائیں دے کر امت مسلمہ کا پردہ بچانے کی مثال صرف اسی انقلاب میں نظر آیا -
سجدے میں سر کٹا کے سجدے کو دوام اسی انقلاب کا طرہ امتیاز ہے -
جب بھی کوئی یزید ظلم کے لئے بڑھتا ہے , حسینیت رستہ روک لیتی ہے -
یہ ہے انقلاب جس نے شہادت کو  عروج دیا -
(آزاد ہاشمی )

Friday, 24 February 2017

ماں یاد آتی ہے "


" ماں یاد آتی ہے "
پارک کے کونے میں ، معصوم سا بچہ گم سم بیٹھا ، ایک ہی سمت میں ٹکٹکی لگائے دیکھ رہا تھا ۔ نہ بچوں والی شرارت ، نہ جھولوں سے دلچسپی ، نہ لوگوں سے کوئی تعلق ۔  اس عمر میں یہ سکوت عجیب سا لگتا ہے ۔ میرے دل میں ایک بے نام سی کشش ، مجھے بچے کی طرف کھینچ رہی تھی ۔ جیسے ہی میں اسکے پاس پہنچا ، بچے نے نہایت ادب سے سلام کہا اور بنچ کی ایک طرف کھسک گیا ۔
" کیا بات ہے بیٹا ، کچھ گم ہو گیا ہے جو اتنے اداس بیٹھے ہو "
میں نے پوچھا ۔ بچہ خاموشی سے میری طرف دیکھنے لگا ۔ میں نے پھر اپنا سوال دھرایا ۔ تو بچے بے بلک بلک کر رونا شروع کر دیا ۔ اسکے رونے میں جو درد تھا ، آنسووں کی بارش میں جو سیلابی کیفیت تھی ۔ اپنی کہانی کہہ رہی تھی ۔
" لوگ کہتے ہیں ، میری ماں کو اللہ نے بلا لیا ہے ۔ لوگ جھوٹ بولتے ہیں ، اللہ پاک تو بہت اچھے ہیں ، کسی بھی بچے کی ماں کو نہیں بلاتے ۔ یہ مائیں بچوں سے ناراض ہو کر خود مر جاتی ہیں ۔ میری ماں مر گئی ہیں انکل ۔ میں ضد کرتا تھا ، بہنوں سے لڑائی کرتا تھا ۔ بس وہ میری وجہ سے مر گئی ہیں "
" ماوں کو اتنا غصہ نہیں کرنا چاہئے نا ۔ انکو تو پتہ ہوتا ہے نا کہ بچے انکے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ پھر یہ مرنے پر کیوں تیار ہو جاتی ہیں ۔ اللہ سے پوچھا ہے کہ اس نے میری ماں کیوں بلا لیا ۔ کوئی کام تھا تو مجھے بلا لیتا ، میری منی بھی روتی ہے ، آپی بھی ۔ ماں ہوتی تھی تو وہ نہیں روتی تھیں "
" آپ کیوں رو رہے ہیں انکل ۔ آپ کی ماں بھی مر گئیں کیا ۔ آپ بھی ضد کرتے تھے ۔  آپ تو بڑھے ہو گئے ہیں ، میں تو چھوٹا ہوں "
معصوم سی سوچ کا ایک ایک لفظ میری روح کو چیر رہا تھا ۔ 
میں نے اسے اپنے سینے سے لگایا ۔
" بیٹا جس کی بھی ماں مر جائے ، وہی چھوٹا ہو جاتا ہے - تم بھی رو لو ،  مجھے بھی رو لینے دو "
شکریہ
ازاد ھاشمی




ماں اور جنت


" ماں اور جنت "
سنا کرتے تھے کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہوتی ہے ۔ یہی سمجھتے رہے کہ اسکا مطلب ماں کی خدمت ہے ۔ یعنی اگر اللہ کو راضی کرنا ہے تو ماں کو راضی کرنا ہوگا ۔ اگر کچھ مقام چاہئے تو ماں کے قدموں میں تلاش کرنا ہو گا ۔ ماں کی خدمت ایسی عبادت جس کی قبولیت کا ضامن اللّہ بھی اور اللہ کا حبیب بھی ۔ یہ ایک ایمانی حقیقت ، جس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ۔
چند روز پہلے اللہ نے یہ وجود ہم سے واپس لے لیا ۔ اب سمجھ آیا کہ جنت کا ماں کے وجود سے رشتہ کیا ہے ۔ ماں کی آغوش وہ پناہ گاہ ، جہاں دنیا کا ہر دکھ  ، ھر فکر ، ہر غم ، ہر پریشانی راستہ بدل لیتی ہے ۔ سکون اور اطمینان کی  جو دولت ماں کے قرب سے ملتی ہے ، دنیا کی ہر نعمت سے ممتاز اور منفرد ہوتی ہے ۔ ماں کے ہاتھ جو مٹھاس انسان کو عطا ہوتی ہے ، اسکا تصور دنیا کی ہر مٹھاس سے بالاتر ۔  جس کا الفاظ سے احاطہ ممکن نہیں ۔
پوری عمر کا رنج و غم ، بے سکونی اور اضطراب ، مایوسی اور ملال ،  ایک طرف ، ماں سے بچھڑنے کے یہ چند دن ایک طرف ۔ 
اب سمجھ آیا ان قدموں کا مقام ۔ اب پتہ چلا ماں کے وجود کی شان ۔ اللہ نے اپنی رحیمی کی صفت سے ہر ماں کو نواز رکھا ہے ۔ یہ اب سمجھا ہوں ۔
شکریه
ازاد ھاشمی




سچ کیا ہے


سچ کیا ہے
پاکستان کے  بہترین کارکردگی کے حامل افسر نے چند ماہ پہلے ایک ایسا تیر مارا کہ پورے معاشرے میں بلے بلے ہو گئی  ۔ دنیا میں ملک کی گرتی ہوئی ساکھ بچ گئی ۔ جعلی ڈگریاں ایک ایسا جرم جو نا قابل قبول تھا۔ جو ملک لوٹنے ، ملک کو مردہ باد کہنے اور مردہ باد کرنے کی کوششوں سے بھی سنگین جرم ہے ۔ ان جرائم سے کیا ملک کی عزت اور توقیر میں اضافہ ہوتا ہے ۔  ایسے معاملات میں یہ آفیسر کہاں چلے جاتے ہیں ۔
ایک عام درجے کا آدمی اپنی قابلیت پر ترقی کر جائے ، تو وہ نا کردہ گناہ پر بھی گرفت میں آ جاتا ہے ۔ اگر وہ مجرم تھا اور ساری تحقیقات درست تھیں تو پھر عدالت مجرم ہے ، جس نے ایسے گناہ گار کو چھوڑ دیا ۔ اگر عدالت کا فیصلہ درست ہے تو اس اعلیٰ کارکردگی والے آفیسر کے خلاف کیا کاروائی ہو گی ۔  کیا وہ یوں ہی جاھل حکمرانوں کے اشاروں پر جبر کا ڈنڈا  تھامے رہے گا ۔ دنیا کی روایت یے کہ ہر جابر کو اسکی رعونت کی سزا ملتی ہے اور بالآخر وہ ذہنی قرب کا شکار ہو کر زندگی بھر کے تکبر کا حساب چکاتا ھے۔  جو بھی کرسی کے فریب کا شکار ھوا اسے خمیازہ بھی بھگتنا پڑا۔ یہی سچ ہے کہ کرسی کے تکبر نے ایک ترقی کیطرف بڑھتے ھوئے نوجوان کو رسوائی دینا چاہی ، نہیں دے سکا ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ایک خود سر افسر نے اپنی انا کی تسکین کی خاطر ایک قابل اور ذہین نوجوان کی حوصلہ شکنی کی کوشش کی ۔  نہ صرف یہ کہ کئی گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر ڈالے۔ کیا اسکا حساب نہیں ہو گا ۔ الله حساب لینے پہ قادر ہے۔ جو بھی غلط تھا ، ابھی حساب باقی ہے ۔شکریہ
آزاد ہاشمی