Friday, 24 February 2017

کیکر پر انگور نہیں لگتے





" کیکر پر انگور نہیں لگتے "
ھم وہ لوگ  ہیں جو عقل و شعور سے کام لینے کو قدامت پرستی  سمجھتے ہیں ۔ اس بات پر ایمان کی حد تک یقین کر چکے ہیں کہ دنیا کی چکا چوند ہی ترقی اور انسان کی ضرورت ہے ۔ کفر کی بے راہروی کو تہذیب سمجھ کر اسکا ہر طرز اپنی زندگی کا راستہ بنا لیا ۔ ایک بات پر یقین کر لینا چاہئے کہ یہ سر زمین کبھی وجود میں نہ آتی اگر جذبہ ایمانی نہ ھوتا۔ دس  قائد اعظم بھی کچھ نہ کر پاتے اگر پاکستان کی اساس " لا الہ  الااللہ " نہ ہوتی ۔  ہم نے جمہوریت کواسلئے اپنا لیا کہ اسی راستے پر ترقی ملتی ھے ، یہ دیکھا ہی نہیں کہ ترقی پانے والے سب کے سب عملی طور پر اسلام کے طریقے اپنائے بیٹھے ہیں ۔ ھم سوچ رہے ہیں ، حکمران بدلنے سے ہمارے حالات بدل جائیں گے ۔ جس قوم میں حکمران بدلنے کا اختیار گلو بٹ ، لنگڑا، کانا ، انڈا چور جیسے ھاتھوں میں آ جائے گا ، وہاں حکمران بھی ویسے ہی آئیں گے ۔
ھم نے سود پر معیشت کی بنیاد رکھ کر ، اللہ سے جنگ چھیڑ لی ، اسلام کے نظام پر جمہوریت کو ترجیح دی ، بے حیائی کو ثقافت بنا لیا ، اللہ کے گھروں کو مسالک کے گھر بنا ڈالا ۔ گویا ھم نے کانٹوں کے درخت لگا ڈالے ، اب سوچ رہے ھیں کہ فلاں حکمران آگیا تو ان درختوں پہ سیب اور انگور  لگا دے گا۔
یہ سب احمقوں کا خواب یے۔
جب تک اللہ راضی نہیں ، کچھ نہیں ھو گا۔ کچھ نہیں بدلے گا۔
شکریہ
ازاد ھاشمی





No comments:

Post a Comment