Thursday, 28 March 2019

یہود کا چیلنج

" یہود کا چیلنج "
اسرائیل کے وزیراعظم نے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا ۔
" ہم دنیا کی بہترین اور ناقابل شکست فوجی طاقت ہیں ۔ ہم معیشت میں عروج پر ہیں ۔ دنیا کی تمام تجارتی کمپنیاں ، بنک اور سوشل میڈیا کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی پہ پورا کنٹرول ہمارا ہے ۔ پیٹرول کی تجارت میں سب سے بڑی کمپنی ہماری ہے ۔ اب ہم زراعت کے شعبے پر کنٹرول کیطرف بڑھ رہے ہیں ۔ ہم ناقابل تسخیر قوم ہیں "
یہ چیلنج صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کیلئے ہے ۔ اس سارے دعوے میں کوئی بات بھی غلط نہیں ۔ اس نے جو کہا حقائق اور دلیل سے کہا ۔ اسرائیل کے سربراہ کا یہ دعویٰ دنیا کے دو ارب سے زائد مسلمانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ دنیا کے ساٹھ اسلامی ممالک کیلئے فکر انگیز اعلان ہے ۔
سوال یہ نہیں کہ ہم اس بارے میں کیا سوچتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے ؟ اور ہمارے سامنے کیا اہداف رکھ دئیے گئے ہیں ۔ سوال یہ بھی ہے کہ ہم نے اسطرف  توجہ نہ دے کر کونسی اسلام کی خدمت کردی ہے ؟ سوال یہ بھی ہے کہ ہمارا قرآن تو تسخیر کائنات کا سبق دیتا ہے پھر ہم نے یہ سبق کیوں نہیں پڑھا ؟ سوال یہ بھی ہے کہ دنیا کے تمام بنیادی سکالر تو مسلمان تھے ۔ ریاضی دان مسلمان تھا ، طبیعات کا ماہر مسلمان تھا ، طب و جراحت مسلمانوں کی تحقیق تھی ۔ پھر یہ شعبے ہماری دسترس سے باہر کیوں ہوگئے ؟
سوال یہ ہے کہ ہم نے وہ منزل کیسے کھو دی ، جو ہماری پہچان تھی ؟ ہم کس راستے پہ نکل گئے کہ نہ اللہ کے احکامات پر چل سکے اور نہ اپنی راہ از خود بنا سکے ؟ اور آج یہود کی جمہوریت کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا ۔
کیا دو ارب مسلمانوں میں ایک بھی ایسا نہیں ، جو انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کچھ اچنبھا کر جاتا ۔ کیا کوئی ایسا تاجر نہیں جو اسرائیل کے بنک سے بڑا بنک بنا لیتا ۔
آخر ہم اسرائیل جیسے چھوٹے سے ملک سے آنکھیں ملا کر بات کرنے کے قابل کیوں نہیں ہوئے ؟ کیا ہم میں سے کوئی ایک ہے جو اسرائیل کے سربراہ کو جھٹلا کر کہہ سکے کہ ہم اس شعبے میں بہتر ہیں ، جسکا تم دعویٰ کرتے ہو ؟
ان سب سوالوں کا آسان سا جواب ہے کہ ہم مسلمان بن جاتے تو دنیا کی بہترین قوم ہوتے ۔ ہم شیعہ ، سنی ، وہابی ، حنفی ، حنبلی ، بریلوی اور نہ جانے کتنے مسالک میں بٹ گئے ۔ ایک دوسرے کو مسلمان اور کافر بنانے میں گم ہوگئے ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ راستہ بھی ہمیں یہود نے ہی سکھایا اور ہم اس پر بھگٹٹ بھاگ رہے ہیں ۔ 
آزاد ھاشمی
٢٨ مارچ ٢٠١٩