" بھوک ہی بھوک "
" بابا جی ! کل میرے گھر میں افطاری ہے ، قریباً سو احباب ہونگے ۔ مجھے سموسے اور پکوڑے چاہئیں ، کتنے پیسے دے جاوں "
میں نے پوچھا ، بابا جی نے میری طرف دیکھا اور سوالیہ نظروں سے مسکرائے ۔
" کتنے پیسے دے سکتے ہو " مجھے ایسے لگا ، جیسے بابا جی نے میری توہین کی ہے ۔ مجھے ایک عرصے سے جانتے ہوئے بھی یہ سوال بے محل اور تضحیک تھی ۔
میں نے اصل قیمت سے زیادہ پیسے نکالے اور بابا جی کے سامنے رکھ دئیے ۔ بابا جی نے پیسے اٹھائے اور مجھے دیتے ہوئے بولے ۔
" وہ سامنے سڑک کے اس پار اس بوڑھی عورت کو دے دو ۔ کل آ کر اپنے سموسے پکوڑے لے جانا ۔ میری پریشانی تم نے حل کر دی ۔ افطاری کا وقت قریب تھا اور میرے پاس اتنے پیسے جمع نہیں ہو رہے تھے . اب بیچاری چند دن سحری اور افطاری کی فکر سے آزاد ہو جائے گی ."
میرے جسم میں ٹھنڈی سی لہر دوڑ گئی ۔
" وہ کون ہے آپکی " میرے منہ سے بے اختیار سوال نکلا ۔ بابا جی تپ گئے ۔
" وہ میری ماں ہے ، بیٹی ہے اور بہن ہے ۔ تم پیسے والے کیا جانو ، رشتے کیا ہوتے ہیں ۔ جنہیں انسانیت کی پہچان نہیں رہی انہیں رشتوں کا بھرم کیسے ہو گا . پچھلے تین گھنٹے سے کھڑی ہے ، نہ مانگ رہی ہے اور نہ کوئی دے رہا ہے ۔ تم لوگ بھوکا رہنے کو روزہ سمجھتے ہو اور پیٹ بھرے رشتوں کو افطار کرا کے سمجھتے ہو ثواب کما لیا ۔اگر روزہ رکھ کے بھی احساس نہیں جاگا تو یہ روزہ نہیں ، صرف بھوک ہے بھوک "
میں بوجھل قدموں سے اس بڑھیا کی طرف جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا ، اپنے ایمان کا وزن کر رہا تھا ۔ یہ میرے ہاتھ میں پیسے میرے نہیں تھے بابا جی کے تھے ۔ میرے پیسے تو رشتوں کو استوار کر رہے تھے ۔ بابا جی کے پیسے اللہ کی رضا کو حاصل کرنے جا رہے تھے ۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس بڑھیا میں ماں ، بہن اور بیٹی مجھے کیوں دکھائی نہیں دی ۔ اے کاش میں بھی بابا جی کی آنکھ سے دیکھتا ۔ اے کاش تمام صاحبان حیثیت بھی اسی آنکھ کے مالک ہوتے ۔ اے کاش ، کے ساتھ بیشمار تمنائیں میرا پیچھا کر رہی تھیں ۔
ازاد ہاشمی
Thursday, 5 April 2018
بھوک ہی بھوک
پہاڑوں کی معلومات
.
دنیا کے 8000 میٹر سے بلند 14 پہاڑوں کی
دلچسپ معلومات۔
دنیا میں 8000 میٹر سے اونچے 14 پہاڑ ہیں۔ ان میں سے 8 نیپال میں 5 پاکستان میں اور 1 تبت چین میں ہے۔ ان میں 10 پہاڑ کوہ ہمالیہ اور 4 پہاڑ کوہ قراقرم میں واقع ہیں۔ کوہ ہمالیہ کے 10 میں سے 8 نیپال اور ایک ایک پاکستان و چین میں ہے جبکہ کوہ قراقرم کے چاروں پہاڑ پاکستان میں ہیں۔ ان تمام 14 پہاڑوں کی مختصر معلومات ان کی بلندی طول بلد عرض بلد کیا ہے۔ سب سے پہلے کس نے کب سر کیا۔ اب تک کتنے کوہ پیما سر کرچکے ہیں اور کتنے کوہ پیما اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
1-ماؤنٹ ایورسٹ۔ Mount Everest
دنیا کا سب سے اونچا پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ ہے۔ جس کی بلندی 8848 میٹر طول بلد 27.59.18 اور عرض بلد 86.55.33 ہے۔
ماؤنٹ ایورسٹ نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع ہے اور دونوں طرف سے سر کیا جاسکتا ہے۔
ماؤنٹ ایورسٹ کو سب سے نیوزی لینڈ کے ایڈمنڈ ہلیری اور نیپال کے شرپا تنزنگ نورگے نے 29 مئی 1953 کو سر کیا تھا۔
ماؤنٹ ایورسٹ کو سردیوں میں پہلی بار 17 فروری 1980 میں پولش کوہ پیماؤں Krzysztof Wielicki اور Leszek Cichy نے سر کیا تھا۔
ماؤنٹ ایورسٹ کو اب تک 7001 کوہ پیما سر چکے ہیں جبکہ 223 کوہ پیما سر کرتے ہوئے یا واپس آتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں۔
2-کےٹو۔ K2
دنیا کا دوسرا اونچا پہاڑ کےٹو ہے
جسکی بلندی 8616 میٹر
طول بلد 35.52
عرض بلد 76.30 ہے۔
کےٹو پاکستان میں واقع ہے۔
کےٹو کو سب سے پہلے اٹلی کے Achille Compagnoni اور Lino Lacedelli نے 31 جولائی 1954 میں سر کیا تھا۔
کےٹو کو ابتک سردیوں میں سر نہیں کیا جاسکا۔
کےٹو کو اب تک 355 کوہ پیماؤں نے سر کیا ہے۔
جبکہ 81 کوہ پیما سر کرتے ہوئے یا واپس آتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں۔
3-کنچن چنگا۔ Kanchenjunga
کنچن چنگا دنیا کا تیسرا اونچا پہاڑ ہے جس کی بلندی 8586 میٹر طول بلد 27.42 عرض بلد 88.08 ہے۔
کنچن چنگا نیپال اور انڈیا کی سرحد پر واقع ہے لیکن صرف نیپال کی طرف سے ہی سر ہوسکتا ہے۔
کنچن چنگا کو سب سے پہلے برطانیہ کے George Band اور Joe Brown نے 25 مئی 1955 کو سر کیا تھا۔
کنچن چنگا کو سردیوں میں پہلی بار 11 جنوری 1986 میں پولش کوہ پیماؤں Krzysztof Wielicki اور Jerzy Kukuczka نے سر کیا تھا۔
اب تک کنچن چنگا کو 332 کوہ پیماؤں نے سر کیا ہے۔
جبکہ 40 کوہ پیما سر کرتے ہوئے یا واپس آتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں۔
4-لوٹسے۔ Lhotse
دنیا کا چوتھا اونچا پہاڑ لوٹسے ہے جس کی بلندی 8516 میٹر طول بلد 28.57 عرض بلد 86.56 ہے۔
لوٹسے نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع ہے۔
لوٹسے کو سب سے پہلے برطانیہ کے Fritz Luchsinge اور Ernst Reissr نے 18 مئی 1955 کو سر کیا تھا۔
لوٹسے کو سردیوں میں پہلی بار 31 دسمبر 1988 میں پولش کوہ پیما Krzysztof Wielicki نے سر کیا تھا۔
اب تک لوٹسے کو 604 کوہ پیماؤں نے سر کیا ہے۔
جبکہ 13 کوہ پیما سر کرتے ہوئے یا واپس آتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں۔
5-مکالو۔ Makalu
دنیا کا پانچواں اونچا پہاڑ مکالو ہے جس کی بلندی 8485 میٹر طول بلد 27.53 عرض بلد 87.05 ہے۔
مکالو نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع ہے۔
لوٹسے کو سب سے پہلے فرانس کے Jean Couzy اور Lionel Terray نے 15 مئی 1955 کو سر کیا تھا۔
لوٹسے کو سردیوں میں پہلی بار 9 فروری 2009 میں اٹلی کے کوہ پیما Simon More اور قازقستان کے Denis Urubko نے سر کیا تھا۔
اب تک مکالو کو 434 کوہ پیماؤں نے سر کیا ہے۔
جبکہ 31 کوہ پیما سر کرتے ہوئے یا واپس آتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں۔
6-چویو۔ Cho Oyu
دنیا کا چٹھا اونچا پہاڑ چویو ہے جس کی بلندی 8188 میٹر طول بلد 28.05 عرض بلد 86.39 ہے۔
چویو نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع ہے۔
چویو کو سب سے پہلے آسٹریا اور نیپال کے Josef Jöchler, Herbert Tichy, Pasang Dawa Lama نے 19 اکتوبر 1954 کو سر کیا تھا۔
چویو کو سردیوں میں پہلی بار 12 فروری 1985 کو پولینڈ کے Maciej Berbeka اور Maciej Pawlikowski نے سر کیا تھا۔
اب تک چویو کو 3331 کوہ پیماؤں نے سر کیا ہے۔
جبکہ 44 کوہ پیما سر کرتے ہوئے یا واپس آتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں۔
7-دھولاگیری۔ Dhaulagiri
دنیا کا ساتوں اونچا پہاڑ دھولاگیری ہے جس کی بلندی 8167 میٹر طول بلد 28.41 عرض بلد 83.29 ہے۔
دھولاگیری نیپال میں واقع ہے۔
دھولاگیری کو سب سے پہلے مختلف ملکوں کی ایک مشترکہ ٹیم نے 13 مئی 1960 کو سر کیا تھا۔
جس میں
Kurt Diemberger، Peter Diener, Ernst Forrer, Albin Schelbert, Nawang Dorje Nima Dorje شامل تھے۔
دھولاگیری کو سردیوں میں پہلی بار 21 جنوری 1985 کو پولینڈ کے Andrzej Czok اور Jerzy Kukuczka نے سر کیا تھا۔
دھولاگیری کو 469 کوہ پیماؤں نے سر کیا ہے۔
جبکہ 69 کوہ پیما سر کرتے ہوئے یا واپس آتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں۔
8-مناسلو۔ Manaslu
دنیا کا آٹھواں اونچا پہاڑ مناسلو ہے جس کی بلندی 8163 میٹر طول بلد 28.33 عرض بلد 84.33 ہے۔
مناسلو نیپال میں واقع ہے۔
مناسلو کو سب سے پہلے جاپان اور نیپال کے Toshio Imanishi, Gyalzen Norbu نے 9 مئی 1956 کو سر کیا تھا۔
مناسلو کو سردیوں میں پہلی بار 12 جنوری 1986 کو پولینڈ کے Maciej Berbeka اور Ryszard Gajewski نے سر کیا تھا۔
اب تک مناسلو کو 903 کوہ پیماؤں نے سر کیا ہے۔
جبکہ 65 کوہ پیما سر کرتے ہوئے یا واپس آتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں۔
9-نانگاپربت۔ Nanga Parbat
نانگا پربت دنیا کا نواں اونچا پہاڑ ہے جس کی بلندی 8126 میٹر طول بلد 35.14 عرض بلد 74.35 ہے۔
نانگاپربت پاکستان میں واقع ہے۔
نانگا پربت کو سب سے پہلے جرمنی کے
کوہ پیما Hermann Buhl نے 3 جولائی 1953 کو سر کیا تھا۔
نانگاپربت کو سردیوں میں پہلی بار 26 فروری 2016 میں اٹلی کے کوہ پیما Simon More پاکستان کے علی صدپارہ اور سپین کے Alex Txikon نے سر کیا تھا۔
نانگا پربت کو 335 کوہ پیماؤں نے سر کیا ہے۔
جبکہ 68 کوہ پیما سر کرتے ہوئے یا واپس آتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں۔
10-ایناپرنا۔ Annapurna
دنیا کا دسواں اونچا پہاڑ ایناپرنا ہے جس کی بلندی 8091 میٹر طول بلد 28.35 عرض بلد 83.49 ہے۔ ایناپرنا نیپال میں واقع ہے۔
اس کو سب سے پہلے فرانس کے Maurice Herzogاور Louis Lachenal نے 3 جون 1950 کو سر کیا تھا۔
ایناپرنا کو سردیوں میں پہلی بار 3 فروری 1987 کو پولینڈ کے Jerzy Kukuczka اور Artur Hajzer نے سر کیا تھا۔
اب تک ایناپرنا کو 211 کوہ پیماؤں نے سر کیا ہے۔
جبکہ 61 کوہ پیما سر کرتے ہوئے یا واپس آتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں۔
11-گاشربرم ون۔ Gasherbrum 1۔
گاشربرم دنیا کا گیارہواں اونچا پہاڑ ہے جس کی بلندی 8080 میٹر طول بلد 35.43 عرض بلد 76.41 ہے۔
گاشربرم ون پاکستان میں واقع ہے۔
گاشربرم ون کو سب سے پہلے امریکہ کے Andrew J. Kauffman اور Peter K. Schoening نے 5 جولائی 1958 کو سر کیا تھا۔ گاشربرم ون کو پہلی بار سردیوں میں 9 مارچ 2012 کو Adam Bielecki اور Janusz Golab نے سر کیا تھا۔
گاشربرم ون کو 334 کوہ پیماؤں نے سر کیا ہے۔
جبکہ 29 کوہ پیما سر کرتے ہوئے یا واپس آتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں۔
12-براڈ پیک۔ Broad Peak
براڈ پیک دنیا کا بارہواں اونچا پہاڑ ہے جس کی بلندی 8051 میٹر طول بلد 35.48 عرض بلد 76.34 ہے۔
براڈ پیک پاکستان میں واقع ہے۔
براڈ پیک کو سب سے پہلے آسٹریا کے Hermann Buhl, Kurt Diemberger, Marcus Schmuck, Fritz Wintersteller
نے 9 جون 1957 کو سر کیا تھا۔
براڈ پیک کو پہلی بار سردیوں میں 5 مارچ 2013 کو پولینڈ کے Maciej Berbeka, Adam Bielecki, Tomasz Kowalski, Artur Małek نے سر کیا تھا۔
براڈ پیک کو اب تک 404 کوہ پیماؤں نے سر کیا ہے۔
جبکہ 21 کوہ پیما سر کرتے ہوئے یا واپس آتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں۔
13-گاشربرم ٹو۔ Gasherbrum 2۔
گاشربرم ٹو دنیا کا تیرہواں اونچا پہاڑ ہے جس کی بلندی 8035 میٹر طول بلد 35.45 عرض بلد 76.39 ہے۔
گاشربرم ٹو پاکستان میں واقع ہے۔
گاشربرم ٹو کو سب سے پہلے آسٹریا کے Josef Larch, Fritz Moravec, Johann Willenpart نے 7 جولائی 1956 کو سر کیا تھا۔
گاشربرم ٹو کو پہلی بار سردیوں میں 2 فروری 2011 کو اٹلی کے Simone Moro اور قازقستان کے Denis Urubko اور امریکہ کے Cory Richards نے سر کیا تھا۔
گاشربرم ون کو 930 کوہ پیماؤں نے سر کیا ہے۔
جبکہ 21 کوہ پیما سر کرتے ہوئے یا واپس آتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں۔
14-شش پنگماں۔ Shish Pangma۔
دنیا کا چودہواں اور آخری 8000 میٹر اونچا پہاڑ شش پنگماں ہے جس کی بلندی 8027 میٹر طول بلد 28.33 عرض بلد 84.33 ہے۔ شش پنگماں تبت میں واقع ہے۔
شش پنگماں کو سب سے پہلے چین کے Hsu Ching, Chang Chun-yen, Wang Fu-zhou, Chen San, Cheng Tien-liang, Wu Tsung-yue, Sodnam Do نے 2 مئی 1964 کو سر کیا تھا۔
شش پنگماں کو سردیوں میں پہلی بار 14 جنوری 2005 کو پولینڈ کے Piotr Morawski اور اٹلی کے Simon More نے سر کیا تھا۔
اب تک شش پنگماں کو 302 کوہ پیماؤں نے سر کیا ہے۔
جبکہ 25 کوہ پیما سر کرتے ہوئے یا واپس آتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں
قران رب سے باتیں
" قران رب سے باتیں "
باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ۔
" میں جب چاہتا ہوں کہ رب سے باتیں کروں تو میں نماز پڑھتا ہوں اور جب چاہتا ہوں کہ رب مجھ سے بات کرے تو قرآن پڑھتا ہوں "
نماز کا مفہوم اور قرآن کی بلاغت کا اس سے بہتر اظہار ، صرف باب العلم ہی فرما سکتا ہے ۔ عام فلسفی کے بس کی بات نہیں ۔ ہم نے ایسی نماز نہ پڑھی اور نہ سیکھی کہ نماز میں اتنا انہماک ہو جائے کہ ہم اللہ سے باتیں کریں ۔ ہم نے تو نماز کو ایک ڈیوٹی کیطرح اپنا لیا ۔ یہی تعلیم ملی کہ نماز فرض ہے اور ایسا فرض کہ جسکی ادائیگی لازم ہے ۔ یہ کسی نے بتایا ہی نہیں کہ یہ وہ فرض ہے جس میں اللہ سے باتیں کی جاتی ہیں ۔ اگر یہ تعلیم مل جاتی کہ ہم اللہ کے حضور حاضری دینے کیلئے ہی نہیں اللہ سے باتیں کرنے کیلئے کھڑے ہوتے ہیں ۔ تو خضوع و خشوع از خود حاصل ہو جاتا ۔ پھر اللہ کی پاک ذات بھی قریب ہو کر سنتی ۔ جب ہم کہتے کہ اے اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلا تو یقینی طور پر سیدھا راستہ مل جاتا ۔ جب کہتے کہ ان کے راستے پر چلا جن پر تو نے انعامات کئے تو یقینی طور پر حسینیت کی راہ نظر آ جاتی ۔ آج ہم جس الجھن کا شکار ہیں اس الجھن میں نہ ہوتے ۔ ہم گمراہوں اور مغضوبین کی راہ پر نہ چل رہے ہوتے ۔
ہم نے کبھی چاہا ہی نہیں کہ اللہ ہم سے باتیں کرے ، بلکہ ایک ڈھونگ رچا لیا کہ قران سمجھ نہیں آتا ، مولوی بتائے گا تو قران سمجھ آئے گا ۔ قران کہتا ہے کہ بلیغ ہوں ، عام فہم ہوں ۔ قران کو پڑھنے لگو تو بلا شک ایسے ہی لگتا ہے کہ اللہ ہمیں طفل مکتب کیطرح ایک ایک بات بار بار کہہ کر سمجھاتا ہے ۔ ہم تو صرف وہ وظیفے از بر کرتے رہتے ہیں ، جس سے دنیاوی حاجات پوری ہوتی رہیں ۔ وہ اسم ڈھونڈھنے میں عمر گذار دیتے ہیں جس سے ہر آسانی مل جائے ۔ صرف ثواب کی تلاش اصل مدعا بن کر رہ جاتی ہے ۔
اے کاش ہم نماز کو ایسے ادا کر سکیں جیسے امام علیؑ نے فرمایا اور قران کو ایسے ہی پڑھیں جیسے باب العلم نے پڑھا ۔
آزاد ھاشمی
Tuesday, 3 April 2018
معذرت کے ساتھ
" معذرت کے ساتھ "
پوچھنا چاہوں گا کہ غدار کی تعریف کیا ہے ۔ کیا ہر وہ شخص غدار نہیں جو ملکی مفاد کیخلاف کام کرے ۔ اگر یہ مختصر تعریف کافی ہے تو کتنے سیاستدان ہیں جنہوں نے قومی مفادات کے خلاف کام نہیں کیا ۔ کتنے بیورو کریٹ ہیں جو ملک کی اساس کو کھوکھلا نہیں کر رہے ۔
کیا قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا ، غداری ہے کہ نہیں ؟ اگر ہے تو مذہب کے نام پر کن لوگوں نے یکجہتی کو نقصان پہنچایا ۔ ہم جو اس عمل میں تعاون کرتے ہیں ، کیا ہم بھی غداری ہی نہیں کررہے ہوتے ۔
کیا حلف کے خلاف عمل غداری نہیں ؟ اگر غداری ہے تو کتنے اداروں کے سربراہ اس حلف شکنی کے مرتکب ہیں ۔ اگر یہ ادارے اپنے اپنے فرائض کما حقہُ پورے کرتے تو ملک کے سرمائے سے آف شور اثاثے کیسے بنتے ۔
کیا عدالت کی کرسی پر بیٹھا جج ، جرائم کی بیخ کنی کررہا ہے ؟ اگر نہیں تو کیا حلف سے غداری نہیں ۔
کیا قانون ساز کونسی قانون سازی کرتے ہیں ۔ اگر نہیں کرتے تو مراعات لینا غداری نہیں ؟
ملکی سرحدیں غیر محفوظ نہ ہوتیں تو پڑوسی دشمن اپنے دہشتگرد ہمارے سکون کو برباد کرنے کیسے حدود کے اندر فساد برپا کرتے ۔ اسکا مطلب ہے سرحدوں کے ذمہ دار غافل رہے ۔ یہ غفلت بھی غداری ہے .
ہمارا سفارتی شعبہ کس قدر مفلوج ہے کہ ساری دنیا میں ہماری ساکھ ختم ہوگئی ، کیا یہ غداری نہیں ۔
معذرت کیساتھ سندھی حقوق کی شکایت کرتے ہیں ، بلوچ بھی شاکی ہیں ، پختون بھی گلہ کرتے ہیں ، مہاجر بھی کہتے ہیں کہ انکے حقوق سلب کیئے جاتے ہیں ۔۔ انکے حقوق نہ دینا ، کونسی سی حب الوطنی تھی ۔ وہ حقوق مانگیں تو غداری کا سرٹیفیکیٹ دے کر انہیں آمادہ پیکار کرنا بھی غداری ہی ہے ۔ انہیں سننا چاہئیے تاکہ شکایات کا ازالہ ہو ۔
مجیب الرحمن غدار تھا ، اسے چھوڑ دینا کونسی حب الوطنی تھی ۔ جس نے چھوڑا اسے کسی نے پوچھا کہ
غداری کیوں کی ۔
پوری قوم کے سامنے ایک تصویر بنا کر رکھ دی جاتی ہے ۔ جس کو دل چاہا اچھوت بنا دیا ۔ نہ ہی اسے بولنے کا موقع دیا جاتا ہے ۔ کہ وہ مفروضہ غدار اپنا مافی الضمیر بیان کر سکے ۔
ہمیں عقل اور شعور سے کام لینا ہوگا ۔ سچ بولنے تک محدود نہیں رہنا چاہئیے ، سچ سننے کی بھی عادت ڈالنی چاہئیے ۔ جو غدار ثابت ہو جائے اس سے مصلحت اختیار کرنا بھی غداری ہی کہلائے گا ۔ غداری ثابت ہو تو سزا نہ دینا بھی غداری ہے ۔
آئیے ! جمع تفریق کرتے ہیں اور غداروں کو شمار کرتے ہیں اور محب وطن کو بھی ۔ پھر انصاف کریں گے تو پہلی غداری میرے اور آپکے اوپر ثابت ہو جائے گی ۔ ہم نے غداروں کو پنپنے دیا ، مطلب یہ ہوا کہ ہم نے بھی غداری کی ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
اسلام اور معیشت
" اسلام اور معیشت "
سورہ بقرہ میں حکم ربی ہے کہ
" لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ ( اللہ کی خوشنودی کیلئے ) کیا خرچ کریں ۔ آپ کہہ دیجئیے جو تمہاری ضرورت سے زائد ہو "
ارتکاز دولت ، بہت سارے مسائل کا باعث بنتا ہے ۔ جب سرمایہ ضرورت سے زاید جمع کرنے کا رحجان عام ہو جائے تو معاشرتی تفریق عام ہو جاتی ہے ، اشیائے ضرورت تک پہنچ مشکل سے مشکل ہوتی جاتی ہے ۔ وہ سرمایہ جو مرتکز ہو جاتا ہے ، عملی طور پر " مردہ " زر میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔
اصل نیکی
" اصل نیکی "
سورہ بقرہ میں ارشاد باری تعالی ہے کہ
" نیکی بس یہ ہی نہیں کہ مشرق یا مغرب کیطرف منہ کر لیا جائے ۔ نیکی یہ ہے کہ اللہ پر ، یوم آخرت پر ، فرشتوں پر ، انبیاء پر اور اللہ کی کتابوں پر ایمان لایاجائے ۔ اور اپنا مال رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، سوال کرنے والوں اور مسافروں کو دیں ۔ اور غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کریں ۔ اور نماز قائم کریں اور زکواة دیں ۔ اور جب کوئی عہد کر لیں تو اسکو پورا کرنے کے عادی ہوں ۔ اور تنگی اور تکلیف میں ، نیز جنگ کے وقت صبر اور استقلال سے کام لیں ۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں "
اللہ سبحانہ تعالی کی روشن اور پر دلیل کتاب میں ، جو رہنمائی فرمائی گئی ، اسکا سارا فلسفہ صرف عبادت تک محدود نہیں ۔ رکوع و سجود کی اپنی ایک اہمیت ہے ، مگر نیکی کا معیار مختلف مقرر کیا گیا ۔ جس کی درجہ بندی بالکل واضع اور عام فہم ہے ۔ کوئی مغالطہ نہیں رہ جاتا کہ تقوی کا اصل معیار کیا ہے ۔ نیکی کی تشریح جسطرح فرمائی گئی اس میں حقوق العباد کی واضع درجہ بندی فرما دی گئی ہے ۔ عبادات کو بھی واضع فرما دیا ، ایمان کے اہم پہلو بھی بتا دئیے ۔ جو چیز بہت واضع ہے کہ اللہ کی عطا کردہ تمام استطاعتیں ، تمام وسائل اور تمام ثمرات صرف میرے یا آپکے نہیں ہیں ۔ ان میں کن کن لوگوں کے حقوق شامل ہیں ۔ اس آیت مبارکہ میں کھول کھول کر بیان ہوئے ہیں ۔ اگر ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ اپنی ذات کو عبادات تک محدود کر کے ہم نے تقوی کا مقام حاصل کر لیا ، اور ہم صداقت کے معیار کو پورا کر رہے ہیں تو یہ خام خیالی ہے ۔ تقوی کے درجہ تک پہنچنے کے شرائط اس آیت میں ایک ایک کر کے بیان فرما دی گئی ہیں ۔ ہمارے اوپر فرض ہو گیا کہ ہم ان سب پر ایک ایک کر کے عمل کریں ۔
آزاد ھاشمی
احسان کا حکم
" احسان کا حکم "
سورہ النساء میں ، اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔
" اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو شریک نہ ٹھہراو ۔ اور والدین کے ساتھ احسان کے سلوک سے پیش آو ۔ رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، قریب اور دور والے پڑوسیوں ، اور ساتھ بیٹھے یا کھڑے شخص ، اور راہگیر اور اپنے غلام اور باندیوں کے ساتھ احسان کرو ۔ بیشک اللہ اترانے والے اور شیخی باز کو پسند نہیں کرتا "
کتنی خوبصورت تعلیم معاشرت ہے جسکا اللہ سبحانہ تعالی نے جس کا حکم دیا ۔ اللہ کی عبادت اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانے کے حکم کے ساتھ ، حسن خلق کو احسان کی شکل میں پیش کرنے کی تعلیم دی ۔ ماں اور باپ کا مقام مسلم ہے ۔ اسکے بعد جس جس سے احسان کے سلوک کا حکم ہوا ہے ۔ اگر اسے عملی زندگی کا حصہ بنا لیا جائے تو معاشرے کی ہر تلخی از خود دم توڑ دیتی ہے ۔ اقرباء اولیت میں ہیں ، مساکین ، یتٰمیٰ ، حتی کہ پڑوسی کے رشتے کو صرف قریبی پڑوسی تک محدود نہیں رکھا ، بلکہ دور کر پڑوسی کو بھی شامل فرمایا ۔ جب ہم دور کے پڑوسی کو دیکھتے ہیں تو پوری پوری آبادیاں شامل ہو جاتی ہیں ۔ اس سے اور آگے دیکھیں تو ہمارے احسان کے حقدار وہ سب لوگ ہیں جو ساتھ بیٹھے ہوں ، جیسے کسی سفر میں ، جیسے کسی محفل میں اور جیسے کسی تقریب میں لوگ ایک ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں ۔ سب کے حقوق لاگو ہو جاتے ہیں کہ ان پر کوئی چیز گراں نہ گذرے ۔ اللہ کی ذات کسقدر کریم ہے اور کسقدر معاشرت کو خوبصورت دیکھنا مقصود ہے ۔ یہاں تک فرما دیا کہ جو تمہارے ساتھ کھڑے ہوں ان پر بھی احسان کرو ۔ یہ ساری تعلیم اس لئے بھی اہم ہے کہ ذاتیات کو اولیت دینے سے دوسرے حقوق پامال ہو سکتے ہیں ۔ جو کسی بھی معاشرے کے بگاڑ کا باعث بنتا ہے ۔ خود بینی اور خود ستائش اکثر دوسروں پر جبر کو جنم دیتی ہے ۔ یہی وہ عیب ہے جو تکبر کیطرف مائل کرتا ہے اور یہی تکبر معاشرے میں اونچ نیچ کی تمیز پیدا کرتا ہے ۔ اسی لئے نے واضع کر دیا کہ اللہ کسی شیخی باز کو ، اور سترانے والے کو پسند نہیں کرتا ۔
ہم ان احکامات پر عمل کریں تو بیشمار مسائل از خود حل ہو جاتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
کفار کا راستہ اور ایمان
" کفار کا راستہ اور ایمان "
سورہ النساء میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ایک دعوے کی تصحیح فرمائی ہے ۔
" جن کو کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا ، کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ، کہ وہ بتوں اور شیطان کی تصدیق کر رہے ہیں ۔ اور کافروں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ مومنوں سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے پھٹکار ڈال رکھی ہے اور جس پر اللہ پھٹکار ڈال دے اسکا کوئی مدد گار نہیں پاو گے "
ہمارے معاشرے میں ایک دلیل
بہت شد و مد سے دی جاتی ہے کہ اگر کفار کے روزمرہ معاملات کو دیکھا جائے ، انکے لین دین اور طریق بود باش کو دیکھیں تو وہ معاملات میں مسلمانوں سے بدرجہا بہتر ہیں ۔
انصاف کے ساتھ تجزیہ کرتے ہیں کہ اس تقابل میں کتنی حقیقت ہے ۔ جب ہم مسلمان کی بات کرتے ہیں تو ہر اس شخص کو مسلمان مان لیتے ہیں جس کا نام مسلمانوں والا ہے ۔ جو کلمہ پڑھ لیتا اور اپنے جیسے مسلمانوں کے ساتھ رہتا ہے ۔ وہ تمام لوگ جو دین سے بہت دور ہیں ، جو زنا بھی کرتے ہیں ، شراب بھی پیتے ہیں ، جوا بھی کھیلتے ہیں ، ہر بڑی چھوٹی برائی میں کوئی عار نہیں سمجھتے ۔ اللہ کے کسی حکم کی اطاعت نہیں کرتے ۔ ہم انکو مسلمان مان کر تقابل کرتے ہیں ۔ یہ اکثر برائیاں کفار میں بھی ہیں ۔ انسانی حقوق کی جو پامالی کفار اور طاغوت نے کی اسکا عشر عشیر بھی مسلمانوں نے نہیں کیا ۔ دنیا کے کتنے خطے ہیں جو ان لوگوں نے سالہا سال غصب کئے رکھے ۔ کتنی لوٹ مار کی کہ اپنے محکوموں کی نسلیں تباہ کر دیں ۔ بنی نوع انسان کی بربادی پر جتنی بھی تحقیق کی انہی شیطنت کے ذہن والوں نے کی . دنیا کے مہذب ترین کہلائے جانے والے ممالک میں انسانیت کی کتنی تضحیک ہو رہی ہے ۔ کمزور قوموں اور طاقتور قوموں کے ساتھ روئیے مختلف ہیں ۔ اسے کونسی تہذیب کہاجائے گا ۔ کتنے ممالک کے کرپٹ لوگوں کی دولت کے انبار ان لوگوں نے چھپا رکھے ہیں ۔ کئی قوموں کے غداروں کو پناہیں ان مہذب لوگوں نے دے رکھی ہیں ۔ ایسی تہذیب کو چوری ، فراڈ ، دہوکہ دہی اور جرائم کی آماجگاہ کا نام دینا غلط نہیں ۔ اسلام کی تعلیم کو اپنایا جاتا تو وہ کونسی برائی تھی جو باقی رہتی ۔ بجائے اسکے کہ ہم اسلامی تعلیمات کو اجاگر کریں ، انکو اپنے اوپر لاگو کریں ، ہم کفار کی مدح سرائی میں زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں ۔ اللہ کا حکم یاد نہیں رہتا کہ ایسی مدح سرائی والوں کیلئے اللہ پاک کا کیا فیصلہ ہے ۔
آزاد ھاشمی
لعنت اور مذمت کافی نہیں
" لعنت اور مذمت کافی نہیں "
جب ہم مذہب کو سامنے رکھتے ہوئے ، لفظ قوم استعمال کرتے ہیں تو اسکا مطلب جغرافیائی حدود سے الگ ہوتا ہے ۔ پھر ہم نہ افغانی ہیں ، نہ پاکستانی ، نہ عرب ، نہ ایرانی اور نہ ہی کوئی دوسری شناخت لازم ہوتی ہے ۔ یہ وہ ضرورت تھی جو ہم نے بھلا دی ۔ جب ایک مسلمان بچے کو ، کافر مارے گا تو اس نے میرا بچہ مارا ہے ۔ ہر مسلمان کا بچہ مارا ہے ، ہر کلمہ گو کا بچہ مارا ہے ۔ مارنے والا ہر اس مسلمان کا دشمن ہے جو کلمہ پڑھتا ہے ۔ یہ وہ سوچ تھی جو ہم مسلمانوں میں پروان نہیں چڑھ سکی ۔ آج سو حفاظ کرام کو امریکی جارحیت نے شہید کر دیا ۔ اگر مسلمان ، حقیقی مسلمان ہوتے تو امریکہ سے پوچھ لیتے کہ تمہیں دوسرے ممالک کے اندر خونریزی کا اختیار کس نے دیا ۔ مگر ہم کیا کریں گے ، پرزور مذمت ، چند جلسے و جلوس اور لعنت بر امریکہ کے دیاوروں پہ پوسٹر لگا دیں گے ، مسلمان اتنی طاقت میں ہیں کہ ایسی جارحیت پر امریکہ کے خلاف دیوار کھڑی کر سکتے تھے ۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔ کیونکہ ہمارے حکمرانوں کی اکثریت امریکہ کے پٹھو ہیں ۔ چلیں ! اگر حکمران غیرت نام کی چیز سے ناآشنا ہوہی گئے ہیں ، تو امت مسلمہ ایک آواز بن جائے تو دنیا کی کوئی طاقت جارحیت کا سوچ بھی نہیں سکتی ۔ ستم یہ ہے کہ ہم نے مسلمان بن کر سوچنا چھوڑ دیا ۔ ہم اللہ کے احکامات سے غافل ہو گئے ، اللہ سے ڈرنا چھوڑ دیا تو اللہ نے طاغوت کا خوف ہم پر مسلط کر دیا ۔ اللہ کی حکمرانی کو زندگیوں سے نکال دیا ، کفر عملی حکمرانی کرنے لگا ہے ۔
آزاد ھاشمی