Sunday, 1 April 2018

ہمارا زوال

" ہمارا زوال "
ارشاد ربانی:تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کیلئے بھیجھی گئی ہو۔تم نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور اللّه تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔(آل عمران )
اللہ نے ابلیس کو بہت اعلیٰ مقام دے رکھا تھا اور فرشتوں کی سرداری پر معمور تھا ۔ اسکا تکبر اسے ملعون کر بیٹھا ۔ ہمیں اللہ نے تمام امتوں میں بہترین امت بنایا اور رحمت العالمین کی امت ہونے کا شرف بخشا ۔ ہمیں دوسروں کی بھلائی کرنے کا حکم ہوا ۔ مگر ہم نے سینوں پہ بم باندھ لئے ، زبانوں میں آگ بھر لی ، کسی دوسرے کی عزت و آبرو کو خاک میں ملانے کا ہنر سیکھ لیا ۔ ہم نے شیطان کے انتقام کا شکار ہو کر شیطان کے کام اپنا لئے ۔ 
ہمارا اعزاز یہ تھا کہ ہم نیکی کی طرف بلانے والی امت تھے ، گمراہوں کو راہ راست پر لانا ، ہمارا امتیاز تھا ۔ مگر ہم نے کیا کرنا تھا ، بھول گئے ۔  ہمارے شعار میں ہونا چاہئے تھا کہ ہم برے کاموں سے روکیں ۔ لیکن ہم نے تمام گناہ کبیرہ و صغیرہ کی راہ از خود اختیار کر لی ۔ 
اللہ پر ایمان ، اللہ کے احکامات کی تعمیل ، اللہ کے راستے پر عملی زندگی کی بنیاد رکھنے کی بجائے  متوازی اور مخالف سمت اختیار کر لی ۔
یہی زوال ہے ۔ آج دنیا کے کونے کونے میں رسوائی ، جس کا دل چاہتا ہے ہمارے گلے میں رسی ڈال لیتا ہے ، جس کے من میں آتا ہے بھیڑوں کی طرح ہانک کر مقتل میں لے جاتا ہے ۔ ہماری بیٹیوں کو جیلوں میں ڈال کر عبرت کی تصویر بنا دیا جاتا ہے ۔ اللہ نے ہمیں امت بنایا ، بہترین امت ۔ مگر ہم گروہ بن گئے ۔ ایک دوسرے کو بد زبانی کرنے والے ، کفر کے فتوے بانٹنے والے ۔ در در سے بھیک مانگنے والے ۔ کفر کی دہلیز پر سجدے کرنے والے ۔ یہی زوال ہے ۔
ہمیں اپنا اعزاز برقرار رکھنا ہے تو وہی کرنا ہو گا ۔ جس کا اللہ نے اعلان فرمایا ۔
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment