Wednesday, 28 March 2018

بے اثر دعائیں

" بے اثر دعائیں "
عراق میں جو ہوا ، شاید کوئی ہاتھ ہو جو دعا کیلئے نہ اٹھا ہو ۔ ایسے لگا جیسے اللہ نے کوئی ایک دعا نہیں سنی ۔ برما میں مسلمانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح کاٹا جا رہا ہے ، کونسا اللہ کا گھر ہے جہاں سے دعائیں نہیں مانگی گئیں ۔ شام میں جو ہو رہا ہے ، کروڑوں ہاتھ دعا کیلئے اٹھ رہے ہیں ، اللہ کے گھر میں دعائیں مانگی گئیں ۔ مساجد میں دعاوں کا اہتمام ہو رہا ہے ۔ دعائیں بے اثر کیوں ہو گئیں ۔ کیا ان کروڑوں لوگوں میں ایک بھی ایسا ہاتھ باقی نہیں رہا ، جو اٹھے اور اللہ کی رحمت جوش میں آ جائے ۔
چھوٹا سا اسرائیل ، چند لاکھ یہودی اتنی ساری دعائیں مانگنے والوں پر حاوی ۔ ہندو نے اس سرزمین پر بت لا کر رکھنا شروع کر دئیے ، جہاں سے چودہ سو سال پہلے بت توڑنے کا آغاز ہوا تھا ۔
آخر اللہ کو مسلمانوں کی حالت زار پر رحم کیوں نہیں آ رہا ۔ اللہ تو فرماتا ہے کہ میں شہ رگ سے قریب ہوں ، آخر اتنی ناراضگی کا کیا سبب ہو گیا کہ اللہ کی وحدانیت پر ایمان رکھنے والوں پر کفار اور مشرکین فتح مند ہونے لگے ہیں ۔ وہ شہ رگ سے قریب ہو کر بھی کوئی زاری ، کوئی دعا نہیں سن رہا ۔ ضرور کوئی ایسی بات ہے ، ضرور کوئی ایسی خطا ہے ، ضرور کوئی ایسی سرکشی ہے ، جس پر اللہ سبحانہ تعالی مسلمانوں سے راضی نہیں ۔
بہت سیدھی سی اور عام فہم بات ہے ، کہ ہم اللہ کے نہیں رہے ، اللہ ہمارا نہیں رہا ۔ جب تک ہم اللہ کے نہ ہوگئے ، تب تک یہ رسوائی ہوتی رہے گی ۔ جب اللہ کے احکامات مان لیں گے ، اسکی نصرت ہمارے ساتھ ہو گی ۔ ہم  اسلام کا لبادہ اوڑھ کر شرک کی راہ پر چل نکلے ہیں ۔ ہم نے اللہ سے مانگنے کی عادت کو رسمی بنا لیا ہے ، دل اور دماغ سے غیر اللہ کو مانتے ہیں ۔ ہم کافروں کی دہلیز پر دو زانو ہو گئے ہیں ۔ ہم کافروں سے مراسم کو نجات سمجھنے لگے ہیں ۔ اب انہی کے ہاتھوں رسوا بھی ہو رہے ہیں ۔
دعائیں کیسے سنی جائیں گے ۔ اور کیوں سنی جائیں گی ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment