" اللہ کے فیصلے "
اللہ سبحانہ تعالی ، جب کسی انسان پر آزمائش کا بوجھ ڈالتا ہے ، تو انسان کو بتدریج پرکھتا ہے اور اس بوجھ کو اس حد تک بڑھاتا ہے ، جس تک کسی سے کام لینے کا ارادہ فرما لیتا ہے ۔ ان آزمائش کے لمحوں میں اگر اللہ کی محبت بڑھتی رہے تو سمجھ لیں ، کہ امتحان کامیابی سے ادا ہو رہا ہے ۔ جسے چھوٹ دیتا ہے ، تو یہ کوئی عنایت نہیں ، پکڑ کی تیاری ہو رہی ہوتی ہے ۔ انسان کو پورا اختیار مل جاتا ہے کہ وہ اپنی منزل کا تعین از خود کر لے ۔ نمرود کو چھوٹ دی کہ اللہ کے خلیل ؑ کو آگ میں ڈال دے ۔ فرعون کو ڈھیل دی کہ خدا بن بیٹھا ، یزید کے ہاتھ کھولے کہ آل رسولؐ کو صفحہ ہستی سے مٹانے پہ تل گیا ۔ ایسے بیشمار واقعات تاریخ کے صفحات پہ محفوظ ہیں ۔ پھر اللہ نے ان تمام سرکشوں کی قسمت میں وہ رسوائی لکھ ڈالی ، کہ ایک ایک رسوائی مثال ہے ۔
آج ہم اگر کھلی آنکھ سے دیکھیں تو کتنے ہیں ، جو دوسروں کی عزت تار تار کرنے میں قادر تھے ، پھر در در پر دھتکارے گئے ۔
لوگ پریشان ہیں کہ مجرم چھوٹ جاتے ہیں ۔ کیونکہ انسانوں کی عدالت میں وہ طاقت رکھتے ہیں ، وسائل رکھتے ہیں ، تعلقات رکھتے ہیں اور انکے پیچھے طاقتور ہاتھ انہیں بچا لیتے ہیں ۔ یہ سب ایک مدت تک ہوتا ہے ، مگر اللہ ہر سرکش کو ، حقوق العباد کے قاتل کو اور تکبر میں اکڑے ہر فرعون کو اسی جہان میں رسوا کرتا ہے ، اسی دنیا میں عبرت کا نشان بناتا ہے ۔
ایمان لازم ہے کہ اللہ اپنا فیصلہ جلد یا بدیر ضرور سناتا ہے ۔ اگر ہم اپنے فیصلے اللہ سبحانہ تعالی کی عدالت میں لے جائیں ۔ تو عدل ضرور ملتا ہے ۔ یہ ہی مکافات عمل ہے ۔ یہی اللہ کے فیصلے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
Wednesday, 28 March 2018
اللہ کے فیصلے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment