" ووٹ اور خیانت "
ووٹ کو عام فہم لفظوں میں " رائے " کہا جا سکتا ہے ۔ جو کوئی شخص دوسرے شخص کے حق میں استعمال کرتا ہے ۔ اس رائے کو قومی امانت بھی کہا جاتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ہر شخص کو اپنی رائے استعمال کرنا لازم ہے کہ ملکی مفاد میں کون شخص ہے ۔ رائے استعمال کرنے والے کا صاحب الرائے ہونا لازم ہے ۔ یعنی اس میں یہ شعور ہونا چاہئیے کہ وہ جس کے حق میں اپنی رائے استعمال کر رہا ہے ۔ وہ عملی طور پر مسلمان ہے ۔ کسی بھی حکم ربی سے سرکشی تو نہیں کرتا ۔ اس پیمانے پر پورا اترتا ہے ، جو دین نے اور قانون و دستور نے قائم کر رکھے ہیں ۔ کردار کے اعتبار اس قابل ہے کہ جو امانت اسے دی جائے گی ، قوم کو جاتے وقت اسی طرح واپس کرے گا ۔ عادی مجرم تو نہیں وغیرہ وغیرہ ۔ ہر وہ شخص جو ان باتوں سے بخوبی اگاہ ہے ، اسی کو صاحب الرائے کہا جا سکتا ہے ۔ دوسرا کوئی بھی شخص اس قابل نہیں کہ وہ رائے دے ۔ کیا ہماری مروجہ جمہوریت میں یہ معیار قائم ہے ؟ اگر نہیں تو ہمارا ووٹ قوم کی امانت نہیں ، قوم سے خیانت کے زمرے میں آئے گا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار کتنے لوگ خیانت کرتے ہیں اور کتنے اسے امانت ثابت کرتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
Wednesday, 28 March 2018
ووٹ اور خیانت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment