" محمود خاں اچکزئی کے نام
"
محترم اچکزئی صاحب ! آپ کا فلسفہ ایمانی سوچ کے متضاد ہے ۔ آپ نے بیان کیا ہے کہ
“عوام کی طاقت کے بغیر پیغمبر بھی آگے نہیں بڑھ سکتا”
معلوم ہوتا ہے کہ سیاست کے زعم میں آپ نے خود کو فلاسفر سمجھ لیا ہے ۔ جبکہ یہ بیان اس بات کی غماضی ہے کہ آپ دین کے معاملے میں جہالت کا ثبوت دے رہے ہیں ، آپ کو پتہ ہی نہیں کی پیغمبر کے طاقت تائید خداوندی ہوتی ہے ۔ اگر آپ کو تاریخ کا علم ہوتا ، تو آپ یقینی طور پر جانتے کہ ہر پیغمبر کے خلاف اکثریت ہوا کرتی ہے ۔ کسی ایک پیغمبر کے ساتھ عوام کی طاقت نہیں تھی ۔ عوام کی طاقت سے فرعون نہیں بچ پایا ، نمرود ایک طویل عرصے تک دماغ میں گھسے مچھر کیلئے عوام سے جوتے کھاتا رہا ۔ ایسے لگتا ہے کہ آپ نے سکول میں بھی سیاست ہی پڑھی یا شاید سکول جانے کی زحمت نہیں کی ۔ آپ گمراہوں کے ایک مخصوص ٹولے کے ہمراہی ہیں ۔ آپ کو مبارک ہو ۔ کچھ سال بعد ، قبر کا بلاوا آ جائے گا ، تو یہی عوام کندھوں پر ڈال کر منوں مٹی تلے دبا آئیں گے ۔ اپنی عاقبت کو یاد کر لیا کرو ۔ خود ہی عقل آ جائے گی کہ کیا کہنا ہے اور کیا نہیں ۔
کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ نے عوام کیلئے کیا کیا ؟ وطن کیلئے کیا کیا؟ انسانیت کی کیا خدمت کی ؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ اپنے علاقے میں کتنے ووٹ لیتے ہیں ؟ یہی دس پندرہ فیصد ۔ کبھی بولتے ہوئے سوچا بھی کریں کہ آپ کے کردار کا کوئی مثبت پہلو بھی ہے یا تخریب ہی تخریب ہے ۔ یہ کردار تو ایک میراثی کا ہے کہ چوہدری کی چمچہ گیری کرکے اپنے مفادات حاصل کئے جائیں ۔ کیا آپ کا کردار بھی ایسا ہی نہیں ؟ اگر آپ نے اپنا جائزہ لے لیا تو شاید پھر کبھی ایسے احمقانہ بیانات نہیں دیں گے ۔ امید ہے آپ ضرور غور فرمائیں گے ۔
آزاد ھاشمی
Wednesday, 28 March 2018
محمود خان اچکزئی کے نام
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment