Wednesday, 28 March 2018

محمود خان اچکزئی کے نام

" محمود خاں اچکزئی کے نام
"
محترم اچکزئی صاحب ! آپ کا فلسفہ ایمانی سوچ کے متضاد ہے ۔ آپ نے بیان کیا ہے کہ
‏“عوام کی طاقت کے بغیر پیغمبر بھی آگے نہیں بڑھ سکتا”
معلوم ہوتا ہے کہ سیاست کے زعم میں آپ نے خود کو فلاسفر سمجھ لیا ہے ۔ جبکہ یہ بیان اس بات کی غماضی ہے کہ آپ دین کے معاملے میں جہالت کا ثبوت دے رہے ہیں  ،  آپ کو پتہ ہی نہیں کی پیغمبر کے طاقت تائید خداوندی ہوتی ہے ۔  اگر آپ کو تاریخ کا علم ہوتا ، تو آپ یقینی طور پر جانتے کہ ہر پیغمبر کے خلاف اکثریت ہوا کرتی ہے ۔ کسی ایک پیغمبر کے ساتھ عوام کی طاقت نہیں تھی ۔ عوام کی طاقت سے فرعون نہیں بچ پایا ، نمرود ایک طویل عرصے تک دماغ میں گھسے مچھر کیلئے عوام سے جوتے کھاتا رہا ۔ ایسے لگتا ہے کہ آپ نے سکول میں بھی سیاست ہی پڑھی یا شاید سکول جانے کی زحمت نہیں کی ۔ آپ گمراہوں کے ایک مخصوص ٹولے کے ہمراہی ہیں ۔ آپ کو مبارک ہو ۔ کچھ سال بعد ، قبر کا بلاوا آ جائے گا ، تو یہی عوام کندھوں پر ڈال کر منوں مٹی تلے دبا آئیں گے ۔ اپنی عاقبت کو یاد کر لیا کرو ۔ خود ہی عقل آ جائے گی کہ کیا کہنا ہے اور کیا نہیں ۔
کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ نے عوام کیلئے کیا کیا ؟ وطن کیلئے کیا کیا؟ انسانیت کی کیا خدمت کی ؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ اپنے علاقے میں کتنے ووٹ لیتے ہیں ؟ یہی دس پندرہ فیصد ۔ کبھی بولتے ہوئے سوچا بھی کریں کہ آپ کے کردار کا کوئی مثبت پہلو بھی ہے یا تخریب ہی تخریب ہے ۔ یہ کردار تو ایک میراثی کا ہے کہ چوہدری کی چمچہ گیری کرکے اپنے مفادات حاصل کئے جائیں ۔ کیا آپ کا کردار بھی ایسا ہی نہیں ؟  اگر آپ نے اپنا جائزہ لے لیا تو شاید پھر کبھی ایسے احمقانہ بیانات نہیں دیں گے ۔ امید ہے آپ ضرور غور فرمائیں گے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment