Monday, 9 October 2017

پانی کے عجائبات


پانی کے عجائبات : دم کرنے سے پانی میں شفا کیسے آتی ہے, سائینسی تحقیق.
پانی کا اپنا نہ کوی رنگ ہے نہ بو, اور نہ ہی کوئ ٹھوس ماہیت. بلکہ پانی ہر چیز کے اثرات کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور جس چیز میں ڈالو وہی ماہیت اختیار کر لیتا ہے.

ایک جاپانی سائنس دان Dr. Masaru Emoto نے پانی پر مختلف تجربے کیے جس کا احوال ان کی کتاب The hidden message in water میں بیان کیا گیا ہے، جس کا اردو ترجمہ محمد علی سید نے اپنی کتاب ’’پانی کے عجائبات‘‘ میں بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے، جسے پڑھ کر ہمیں شکر اور ناشکری کے الفاظ کے حیران کن اثرات کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس جاپانی سائنس دان نے پانی کو اپنی لیبارٹری میں برف کے ذرات یعنی کرسٹلزکی شکل میں جمانے کا کام شروع کیا۔ اس مقصد کے لیے اس نے ڈسٹلڈ واٹر، نلکے کے پانی اور دریا اور جھیل کے پانیوں کے نمونے لیے اور انھیں برف کے ذرات یعنی Crystals کی شکل میں جمایا۔

اس تجربے سے اسے معلوم ہوا کہ پانی، اگر بالکل خالص ہو تو اس کے کرسٹل بہت خوبصورت بنتے ہیں لیکن اگر خالص نہ ہو تو کرسٹل سرے سے بنتے ہی نہیں یا بہت بدشکل بنتے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ ڈسٹلڈ واٹر سے (جو انجکشن میں استعمال ہوتا ہے) خوبصورت کرسٹل بنے، صاف پانی والی جھیل کے پانی سے بھی کرسٹل بنے لیکن نلکے کے پانی سے کرسٹل بالکل ہی نہیں بنے کیوں کہ اس میں کلورین اور دوسرے جراثیم کش اجزا شامل تھے۔

اس نے ایک اور تجربہ یہ کیا کہ ایک ہی پانی کو مختلف بوتلوں میں جمع کیا اور ہر بوتل کے سامنے مختلف قسم کی موسیقی بجائ. موسیقی کی ہر قسم سے کرسٹلز کی ایک نئی شکل بنتی گئی. مطلب پانی ہر موسیقی کا مختلف اثر لیتا گیا.

اس کے بعد اس نے ایک اور تجربہ کیا جس کے نتائج حیران کردینے والے تھے۔ اس نے شیشے کی سفید بوتلوں میں مختلف اقسام کے پانیوں کے نمونے جمع کیے۔

ڈسٹلڈ واٹر والی بوتل پر اس نے لکھا “You Fool” اور نلکے کے پانی والی بوتل پر لکھا “Thank You” یعنی خالص پانی کو حقارت آمیز جملے سے مخاطب کیا اور نلکے کے پانی کو شکر گزاری کے الفاظ سے اور ان دو بوتلوں کو لیبارٹری میں مختلف مقامات پر رکھ دیا۔ لیبارٹری کے تمام ملازمین سے کہا گیا جب اس بوتل کے پاس سے گزرو تو You Fool والی بوتل کے پانی کو دیکھ کر کہو “You Fool” اور “Thank You” والی بوتل کے پاس ٹھہرکر سینے پر ہاتھ رکھ کر جھک جاؤ اور بڑی شکر گزاری کے ساتھ اس سے کہو “Thank You”۔

یہ عمل 25 دن جاری رہا۔ 25 ویں دن دونوں بوتلوں کے پانیوں کو برف بنانے کے عمل سے گزارا گیا۔ نتائج حیران کن تھے۔ ڈسٹلڈ واٹر سے (جو خالص پانی تھا اور اس سے پہلے اسی پانی سے بہت خوبصورت کرسٹل بنے تھے) کرسٹل تو بن گئے لیکن انتہائی بدشکل۔ ڈاکٹر اموٹو کے کہنے کے مطابق یہ کرسٹل اس پانی کے کرسٹل سے ملتے جلتے تھے جن پر ایک مرتبہ انھوں نے “SATAN” یعنی شیطان لکھ کر رکھ دیا تھا۔

نلکے والا پانی جس سے پہلے کرسٹل نہیں بنے تھے، اس مرتبہ اس پر ’’تھینک یو‘‘ لکھا ہوا تھا اور کئی لوگ 25 دن تک اس پانی کو دیکھ کر ’’تھینک یو‘‘ کہتے رہے تھے، اس پانی سے بہترین اور خوب صورت کرسٹل بن گئے تھے۔

اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ پانی باتوں کا بھی اثر لیتا ہے اور ویسی ہی ماہیت اپنا لیتا ہے. اچھی باتوں سے اچھی ماہیت اور بری باتوں سے بری.

Thank you اور you fool
والا تجربہ کھانے کی چیزوں کے ساتھ بھی کیا گیا. ایک کیک کے دو پیس کاٹے گئے اور ایک کو Thank you کہا گیا اور دوسرے کو You fool. ایک بار پھر نتیجہ یہ نکلا کہ برے الفاظ والا کیک پیس اپنے نارمل وقت سے بھی بہت پہلے خراب ہو گیا جبکہ اچھے الفاظ والا کیک پیس اپنے نارمل وقت سے کافی زیادہ وقت تک تازہ اور زائقہ دار رہا.

مطلب کھانے پینے کی ہر چیز الفاظ اور سوچ کا اثر لیتی ہے. ان تجربات سے ہمیں یہ بات سمجھ آئ کہ

جب ہم پانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہیں تو اس میں کس طرح برکت پیدا ہوتی ہے

کھانے پینے کی چیزوں پر سورت فاتحہ یا کوی بھی کلام پاک پڑھتے ہیں تو پانی کی ماہیت کس طرح تبدیل ہو کر پینے والے کو شفا دیتی ہے.

جب ہم روٹی کے ہر لقمے پر اللہ کا نام یا واجد پڑھ کر کھاتے ہیں تو وہ کس طرح ہمارے اندر نور پیدا کرتا ہے. سبحان اللہ

لیکن یہاں ایک اور تجزیہ بھی سامنے آتا ہے کہ ہم کھانے پینے کی اشیاء سامنے رکھ کر جو جو بولتے ہیں اور جو جو سوچتے ہیں ہمارے کھانے اس کا بھی اثر لیتے ہیں. منفی سوچ اور منفی باتوں کا برا اثر اور اچھی باتوں کا اچھا اثر. کھانے کے دوران لوگوں کی غیبت کریں گے تو کھانا برا اثر لے کر ہمارے پیٹ میں جاۓ گا. اگر ٹی وی ڈرامے یا فلمیں دیکھتے ہوے کھانا کھائیں گے تو وہ کھانا ہمارے پیٹ میں جا کر بھی ویسا ہی اثر دکھاۓ گا. اگر پانی کے سامنے موسیقی بجے گی تو ہمارے پیٹ میں بھی وہی موسیقی کے مضر اثرات جائیں گے. اور اگر ہمارا کھانا اور پانی اللہ کا کلام جذب کریں گے تو شفا کا سبب بنیں گے.

کھانا پینا انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہے کیونکہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ کھانے کو اگر ہم اسلامی آداب اور سنت کے مطابق کھائیں گے تو ہمیں بے شمار برکتوں کے علاوہ ثواب بھی ہاتھ آئے گا۔

کھانے کے درج ذیل آداب ہیں۔

* اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے “کھاؤ پیو مگر فضول خرچی نہ کرو۔“ (الاعراف 31)
* سیدالانبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔
* آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کا دستور تھا کہ جب تک بھوک نہ لگے نہ کھاتے، اور تھوڑی بھوک رہنے پر کھانے سے ہاتھ کھینچ لیتے۔ (زاد المعاد)
* آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ انسان کو چند لقمے جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھ سکیں، کافی ہیں۔
* کھانے سے مقصود راہ آخرت کیلئے قوت ہے۔ اس کی صورت یہ ہونی چاہئیے کہ (1) حرص نہ ہو (2) وجہ حلال ہو (3) آداب طعام ملحوظ ہو۔
* احیاء العلوم میں ہے، کہ مسلمان جب حلال کا پہلا لقمہ کھاتا ہے اس کے پہلے کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
* مردار، بہایا ہوا خون اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا حرام ہے۔ (البقرہ)

کھانے سے پہلے کے آداب و سنن

* رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھانے سے قبل دونوں ہاتھوں کو دھونا اور کلی کرنا برکت کا سبب ہے۔ (احیاء العلوم)
*اگر چھوٹے بچے ساتھ ہوں تو پہلے ان کے ہاتھ دھلا لیں۔
* زمین پر سرخ دسترخوان بچھا کر کھایا کریں۔ (شمائل ترمذی)
* کھانے سے پہلے جو ہاتھ دھوئیں تو حکم ہے کہ ان ہاتھوں کو تولیہ یا رومال سے نہ پونچھیں۔ (شمائل الرسول)
* آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بھوکے سونے سے منع فرماتے۔ (زاد العماد)
* فرمایا کہ ساتھ مل کر کھانے سے اپنے ساتھی کا خیال رکھو۔
* سب مل کر کھانے میں برکت ہے۔
* میوہ اور کھانا اگر جمع ہو تو فرمایا کہ پہلے میوہ کھایا جائے اولہ الطفہ (جامع صغیر سیوسطی)
* علی الصبح کچھ نہ کچھ مختصر کھا لینے کو بہتر فرمایا۔ (جامع صغیر)

کھانے پر بیٹھنے کا طریقہ

* کھانے کے وقت الٹا پاؤں بچھا دیں اور سیدھا کھڑا رکھیں یا سرین پر بیٹھ جائیں اور دونوں گھٹنے کھڑے رکھیں یا دو زانو بیٹھ جائیں تینوں میں سے جس طرح بیٹھیں سنت ادا ہو جائے گی۔

کھانے کے دوران کے آداب

* رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے پہلے اور بعد میں نمک استعمال فرماتے۔
* اگر اتفاقاً ابتدا میں بسم اللہ کہنا بھول جائیں تو بسم اللہ اولہ واخرہ۔ (شمائل الرسول)
* بسم اللہ وعلی برکت اللہ کچھ بلند آوام سے پڑھیں۔ (حوالہ مذکور)
* سیدھے ہاتھ سے چھوٹا لقمہ (تین انگلیوں کی مدد سے) بنائے اور اپنے سامنے سے کھائیں۔ (زاد المعاد)
* ہر نوالہ کو خوب چبا چبا کر کھائیں۔
* سالن یا چٹنی کی پیالی روٹی پر نہ رکھیں۔
* گرم گرم کھانے اور اس پر پھونک لگانے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
* آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے میں عیب نہ نکالتے، پسند نہ ہو تو چھوڑ دیتے۔
* آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کے دوران سوائے شدید ضرورت کے پانی نہ پیتے۔ (احیاء العلوم)
* کھانے کے فوری بعد میں پانی پینے کی عادت نہ تھی۔
* آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بھوک رہنے پر ہاتھ کھینچ لینے کی تاکید فرماتے۔
* فرماتے کہ اگر اپنے ساتھیوں سے پہلے کھا چکو تو تب بھی آہستہ آہستہ کھاتے رہو تا کہ تمہارے ساتھی بھوکے نہ رہ جائیں۔ اگر ضرورت ہو تو ساتھی سے اجازت لیکر اٹھ سکتے ہو۔
* آپ صلی اللہ علیہ وسلم مہمان کو بار بار فرماتے “اور کھائیے اور لیجئے“ اور جب وہ آسودہ ہو جاتا اور انکار کرتا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اصرار نہ فرماتے۔
* آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کی تقسیم اپنی سیدھی جانب سے شروع فرماتے اور اپنے سے زیادہ دوسروں کا خیال فرماتے۔
* اپنے کھانے کے برتن کو خوب خوب صاف کرتے اور اپنی انگلیوں کو بھی چوس لیتے تھے۔ روٹی کے ریزے بھی چن کر کھاتے۔ کھانے کے برتن میں ہاتھ دھونا معیوب سمجھتے۔ (شمائل الرسول)
* فرمایا کھانے پینے کی چیز کسی کے پاس لے جایا کرو تو ڈھانک کر لے جایا کرو۔ (متفق علیہ)
* کھانے کے دوران مختصراً عمدہ گفتگو بھی کی جائے۔ (چونکہ یہود خاموش کھاتے ہیں) اس لئے ان کے خلاف کرنے کا حکم ہے۔ (جامع صغیر)

کھانے کے بعد کے احکام

* آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کھانے کے بعد دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوتے اور فرماتے کہ اپنے ہاتھوں کو کھانے کی بو سے پاک کر لیں تاکہ لوگ اس کی بو سے ایذا نہ پائیں۔ (اس لئے اشنہ یا صابن وغیرہ کا استعمال کر لیں) اور اس کے بعد کپڑہ وغیرہ سے ہاتھ پونچھ لیں۔ (طبرانی)
* پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کے بعد خلال فرماتے اور ارشاد فرماتے میری امت میں جو لوگ وضو میں مسواک اور کھانے کے بعد “خلال“ یعنی دانتوں میں کاڑی کرتے ہیں وہ خوب ہیں۔ (طبرانی)
* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو کھانے کے فوری بعد سو جانے کی ممانعت فرمائی اور دوپہر کے وقت قیلولہ (تھوڑی دیر لیٹ جانے کا) حکم فرمایا۔ (شمائل الرسول)

کھانے کے بعد یہ دعا فرماتے۔

الحمدللہ الذی اطعمنا وسقانا وجعلنا من المسلمین ہ

پانی پینے کے آداب

پانی بیٹھ کر ، اجالے میں دیکھ کر ، سیدھے ہاتھ سے بسم اللہ پڑھ کر اس طرح پئیں کہ ہر مرتبہ گلاس کو منہ سے ہٹا کر سانس لیں ، پہلی اور دوسری بار ایک ایک گھونٹ پئیں اور تیسری سانس میں جتنا چاہیں پئیں ۔ حضرت سیدناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا:”اونٹ کی طرح ایک ہی گھونٹ میں نہ پی جایا کرو بلکہ دو یا تین بار پیا کرو اورجب پینے لگو تو بسم اللہ پڑھا کرو اورجب پی چکو تو الحمد للہ کہا کرو۔” (سنن ترمذی،کتاب الاشربۃ،باب ماجاء فی التنفس فی الاناء،الحدیث۱۸۹۲،ج۳،ص۳۵۲)

حضرت سیدناانس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ،فیض گنجینہ ، راحتِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم پینے میں تین بار سانس لیتے تھے اور فرماتے تھے :”اس طرح پینے میں زیادہ سیرابی ہوتی ہے اور صحت کے لئے مفید وخوش گوار ہے۔ (صحیح مسلم،کتاب الاشربۃ ،باب کراھۃ التنفس فی الاناء …الخ،الحدیث ۲۰۲۸،ج۳،ص۱۱۲۰)

حضرت سیدناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے پیارے محبوب ،دانائے غیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے برتن میں سانس لینے اور پھونکنے سے منع فرمایاہے ۔ (سنن ابو داؤد ،کتاب الاشربۃ ،الحدیث ۳۷۲۸،ج۳،ص۴۷۵)
حضرت سیدناانس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ،فیض گنجینہ راحتِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے کھڑے ہوکر پانی پینے سے منع فرمایاہے۔

(صحیح مسلم،کتاب الاشربۃ ،باب کراھۃ الشرب قائما ،الحدیث ۲۰۲۴،ص۱۱۱۹)

اللہ پاک ہم سب کو اسلامی آداب کے مطابق کے مطابق کھانا پینا نصیب فرماے اور کھانے اور پانی پر مضر اثرات ڈالنے والے غلط اعمال سے بچنے کی توفیق عطا فرماے. آمین.

نوٹ : ڈاکٹر اموٹو نے آب زم زم پر بھی تجربہ کیا اور اقرار کیا کہ آب زم زم میں قدرتی طور پر صحت افز اور شفا بخشنے والی کمپوزیشن موجودہے. سبحان اللہ

Sunday, 8 October 2017

منکر اور کافر

" منکر اور کافر "
حکم ربی ہوا , فرشتوں کی سرداری پر بیٹھے ہوئے , فرشتوں کی قبا میں ایک جن کو کہ آدم کو سجدہ کرو . اس نے انکار بھی کیا , حجت بھی پیش کی اور دلیل بھی سامنے رکھ دی . اس پر لعین بھی ہو گیا , ابلیس بھی , شیطان بھی اور مردود بھی .
اس نے اللہ کی وحدانیت , عبادت اور ریاضت سے انکار نہیں کیا .
یہ ثبوت ہے کہ حکم ربی سے انکار کے بعد , تمام عبادت , تمام ریاضت اور تمام نیکیاں اکارت ہو جاتی ہیں . پھر ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے کہ  توبہ کا دروازہ کھٙکھٹایا جائے .
اب ذرا محاسبہ کیا جائے کہ ہم اللہ کے کتنے احکامات سے سر کشی کرتے ہیں . اپنی سرکشی کی کتنی توجیہات پیش کرتے ہیں . کتنے دلائل دیتے ہیں اپنی سر کشی کے جائز ہونے پر . توبہ کیطرف لوٹے بغیر اللہ سے اپنی دعاوں کی قبولیت بھی مانگتے ہیں . اور دعوی بھی کرتے ہیں کہ ہم اللہ کی پسندیدہ امت سے ہیں . دعوی کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں .
ایک زانی اللہ کے حکم کی سرتابی کرتا ہے , ایک شرابی اللہ کے حکم سے بغاوت کرتا ہے , ایک جواری اللہ کے حکم کا انکار کرتا ہے . پھر بھی خود کو مسلمان کہنا , کس حد تک جائز ہے . پھر کفر کیا ہے , منکر کون ہے .
اللہ کی حاکمیت کو مانتے ہیں , مگر اسکی حدود سے عملی طور پر منکر ہیں . جو خود شیطان کیطرح سرکش ہے , شیطان کی پیروی کرتا ہے , وہ دوسروں کو فروعی مسائل پر کافر کہنے سے دریغ نہیں کرتا . کیا اسے اللہ سے مکر کرنا نہیں کہیں گے .
  اللہ نے حکم دیا کہ میری رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو . کیا ہم نے اس حکم سے انحراف نہیں کیا . اللہ نے فرمایا کہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جاو . مگر ہم صرف نماز پڑھ کے , حج کر کے , روزہ داری کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے اطاعت کا حق ادا کر دیا . اطاعت تب ہے جب ہر حکم ربی کو لاگو کر لیا جائے , نہیں تو اللہ کے ساتھ مکر ہے .
ازاد ہاشمی

یزید کے رشتہ دار

" یزید کے رشتے دار "
سمجھ نہیں آتا کہ کچھ مکاتب فکر اس کوشش میں کیوں ہیں . کہ یزید کو معتبر نام دیا جانا چاہئے . اسکی دلیل یہ ہے کہ اسکے ہاتھ پر کچھ صحابہ کرام نے بیعت کی . پہلے یہ تو ثابت ہو جائے کہ یزید انسان تھا یا درندہ . اس نے کونسا ایسا کام کیا کہ اسے معتبر سمجھا جائے . کونسا ایسا فعل ہے جس کی بنا پر اسے اسلام سے وابستہ مان لیا جائے .
چند لمحوں کیلئے آل رسول کے مقام سے ہٹ کر انسانی قدرومنزلت کے اعتبار ہی سے سوچ لیا جائے . کہ جو اس نے کربلا میں کیا , ظلم کی ایسی مثال کو کیا نام دیا جائے گا . ایسے شخص کو کون ہے جو انسان سمجھے گا .
کوئی حق کی بات کرنے والا کہہ سکتا ہے , دشمن کو زیر کر کے , پانی روک کے تہہ تیغ کر دینا , جنگ کا اصول ہے . جسموں کو گھوڑوں کے قدموں تلے روندنے والی بربریت یزید سے پہلے کسی نے سنی یا دیکھی . ایسے شخص کا تو انسان ہونا بھی مشکوک ہے . چہ جائیکہ اسے مسلمان مان لیا جائے .
کون انسان ہے جو شیر خوار بچوں کے حلق میں تیر گاڑھ کر خوشی محسوس کرے گا . کون انسان ہے جو دشمن کے معصوم بچوں کو رسیوں سے باندھ کر , خواتین کے سروں سے چادریں چھین کر میلوں سفر کرائے گا . اپنی طاقت کے مظاہرے کیلئے  اسیر خواتین کو بازاروں میں گھمانے کو  انسانیت کیسے سمجھ  لیا جائے .
یزید کے رشتے داروں میں کوئی ایک , جو ثابت کر سکے کہ وہ درندہ نہیں انسان تھا .
آل  رسول سے مودت تو اللہ کا انعام ہے . یزید کو حق ثابت کرنے والوں
کو یہ انعام نصیب ہی نہیں . شاید اسی لئے انکے شعور میں آل رسول کا مقام بھی آل معاویہ جیسا ہے , اور یہی بد بختی انہیں گمراہی پر آمادہ رکھتی ہے .
ازاد ھاشمی

حسین علیہ السلام کی خدمات

" حسین علیہ السلام کی خدمات "
ایک چھوٹے سے سیاسی مفکر نے یہ سوال کیا ہے . 
" میری تمام ماتمیوں,ذاکران اور امامی و دیگر علما اکرام صاحبان کی خدمت میں نہایت ھی مودبانہ انداز سے سوال ھے کہ کربلا کے اس واقعہ میں حضرت حسین رضی اللہ تعالی عن ھو کے کردار کے علاوہ امت مسلمہ اور اسلام کیلیے آپکی اور کیا کیاخدمات ھیں اور آپکے ذریعہ معاش کیا تھیے. "
کوئی کتنا بھی آل رسول سے بغض رکھے . کربلا میں حسین علیہ السلام کے کردار کی نفی نہیں کر سکتا . کربلا میں جو کردار حسین نے امت مسلمہ کیلئے کر دیا , وہ کام انبیاء کرتے ہیں . اللہ کے دین کو بچانے کا کردار کوئی معمولی کردار نہیں تھا . یزید کا مسند پر براجمان ہو جانا , اگر حسین اس پر مصلحت کا شکار ہو جاتے تو آج اسلام میں حق اور باطل کی پہچان ختم ہو جاتی . اسلام کی وہی شکل ہوتی جو بنو امیہ اور بنو عباس چاہتے . تاریخ میں کوئی ایک ایسا نام تو بتایا جائے جس نے اسلام کیلئے حسین علیہ السلام سے بڑھ کر اسلام کی خدمت کی ہو . کیسا مہمل سوال ہے  کہ اسلام اور امت مسلمہ کیلئے حسین کی کربلا کے علاوہ اور کیا خدمات ہیں . جب شعور کی آنکھ بینائی کھو دے تو کربلا معمولی سا کردار نظر آتا ہے . اگر شعور کی آنکھ سلامت ہو تو کربلا میں حسین کا کردار بےمثال اور لازوال نظر آئے گا .
سوال کا دوسرا حصہ کہ آپ ع کا ذریعہ معاش کیا تھا . یہ وہ سوال ہے جو  اہل بیت  کے بغض  کا عروج ہے . چلیں ! اگر تاریخ پہ نظر دوڑائی جائے , تو کتنے شہداء , صالحین , انبیاء , صحابہ اور رسولوں کے ذرائع معاش واضع ہیں .  جو کی روٹی , کجھور کی چٹائی , بکری کا  دودھ , اور کھجور کی چند گٹھلیوں پر الحمدوللہ کہنے والوں کو کتنے بڑے روزگار کی ضرورت ہو گی . چند بھیڑ بکریاں , دو چار درخت کھجور کے , اور چھوٹا سا کھیت جو کا , بہت کافی ہوتا ہے ایک قانع پر , ایک توکل کرنے والے پہ . یہی کائنات تھی جو آل رسول کی ضرورت تھی . یہی سرمایہ تھا , جس پر کبھی کوئی مانگنے والا خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹا .
سوال کی زحمت اٹھانے والے کو ایمان ہوتا تو سمجھنا کافی تھا کہ جو اللہ کا ہو جاتا ہے . اسکی ساری ضرورتیں اللہ کے ذمہ ہو جاتی ہیں . جسکا کفیل اللہ ہو گا , اسکا معاش ہمیشہ با برکت ہو گا . اب یہ سوال اللہ سے پوچھو کہ ان کے در سے سوالی کیا مانگنے آتے تھے , کیونکہ انکا تو ذریعہ معاش نظر نہیں آتا .
ازاد ھاشمی 

تیس بتیس سال کا قاتل.چھوکرا

" تیس بتیس سال کا قاتل چھوکرا "
اسلام کا نظام کوئی کھیل نہیں تھا . کفر , شرک , الحاد اور بغض و کینہ اگانے والے خطہ پہ بہت مشکل سے اسلام کی روشنی پھیلی تھی . ہدایت کے طرز بود و باش کو برقرار رکھنے کیلئے اللہ کے نبی اور اسکے ساتھیوں نے کیا کٹھن وقت گزارا . الفاظ کے احاطے سے بہت باہر ہے .
معاویہ کی ضد کہ اسی کا بیٹا خلافت کی مسند پر بیٹھے گا , خواہ اسلام کو کوئی بھی قیمت کیوں نہ چکانا پڑے . بنو ہاشم پر بنو عبد شمس کی برتری کا خواب اصل  فساد تھا , جس بنا پر آپ صل اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ تانا بانا بننا شروع ہوا . عدم استحکام کی صورت پیدا کی جاتی رہی , خلفاء کی شہادتیں اسی کشمکش کی کڑی تھی . حضرت علی کرم اللہ وجہہ , حضرت حسن علیہ السلام  نے کبھی حق جتا کر مخاصمت کی راہ اختیار نہیں کی . جہاں جہاں ضرورت پڑی , خلیفہ وقت کے ساتھ کھڑے ہوتے رہے . مفاہمت کی کوشش ہی اصل ضرورت تھی , اسے اہل بیت اور آل رسول نے اپنائے رکھا . اقتدار کی بھوک , صرف بنو امیہ کو تھی , اسکے پیچھے  کفر کے وقت کی وہ ضد تھی . حضرت امام حسین علیہ السلام نے  بھی ہر ممکن کوشش کی کہ کربلا کی زمین خون سے نہ رنگی جائے . مگر کھلنڈری طبیعت , شکار اور لہو لعب کا شوقین , بنو امیہ کا نوجوان یزید . اس  پر بضد تھا کہ بنو ہاشم کا سورج غروب کر کے رہے گا . آل رسول کا عبرت ناک انجام اسکے اقتدار کی ضرورت تھی . سو وہ کربلا کی زمین کو آل رسول کے خون سے رنگ کر رہا . بربریت کا یہ کھیل , یزید کی امنگ کے مطابق مثبت رہا کہ اسکے بعد اسلام کا نظام بنو امیہ کے ہاتھ میں آگیا . آل رسول میں جو بھی علم و عمل کی شمع روشن ہوئی , بنو امیہ اسے بجھاتے  رہے . نئے نئے فقہ , نئی نئی منطق , اپنی مرضی کا اجتہاد , اور اپنی ضرورت کی احادیث اسی دور کی ایجاد ہیں . جس سے مسلمان فرقوں میں بٹ گئے . مسالک کی  کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ شروع ہو گئی . جس سے اسلام کا نام لینے والے کمزور سے کمزور ہوتے چلے گئے .
آج اس کھلنڈرے قاتل کو حق ثابت کرنے کی سعی کا آغاز بھی ہو چکا ہے . ثبوت میں وہی تحریریں ہیں , جو بنو امیہ اور بنو عباس کے دور میں لکھی گئیں . وہی تصور تقویت پکڑ چکا ہے کہ قران کو سمجھنے کیلئے انہی تحریروں کا سہارا لیا جائے . جو بنو امیہ کو تقویت دیتی ہیں .
کیا قصور تھا کربلا کے شہیدوں کا , کیا جرم تھا آل رسول کے اماموں کا . آخر  انکی تعلیمات کو ختم کرنے کی کوشش کیوں کی گئی .
ہے کوئی مفکر جو ثابت کر سکے کہ آل رسول نے کبھی فساد کیا . پھر انکا قتل کیوں .
ازاد ھاشمی

رونا فطرت انسانی

" رونا فطرت انسانی "
دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں , جو حقیقت میں انسانی جبلت سے آراستہ ہو , اور رویا نہ ہو . احساس کی انتہائی حد آنسو ہے . اللہ کے نبی اور رسول بھی روئے , اولیاء اور اصفیاء بھی روتے ہیں . عابد خضوع و خشوع کی حالت میں روتے ہیں . سجدوں میں گرنے والے آنسو اللہ کو محبوب ترین ہیں . مختصر یہ کہ رونا عیب کبھی نہیں تھا , ہر حال میں خوبی ہی تھا . انسان ہمیشہ عاجز رہے گا , عجز کا بہترین اظہار رونا ہے . اللہ سے مانگنے کا بہترین طرز رونا ہے .
کربلا , جبر و استبداد کا وہ نمونہ ہے کہ  کوئی بھی  باپ اسے  اپنی اولاد پر رکھ کر سوچے تو روئے بغیر نہیں رہ سکے گا . کونسا دل ہے جس پر یہ قیامت ٹوٹے گی اور وہ روئے گا نہیں . 
بات صرف احساس کی ہے , کہ کربلا کو ہم مسالک کی آنکھ سے دیکھتے ہیں . یہ نہیں سوچتے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی آل پی کیا گزری . کون ماں نہیں روئے گی , کون باپ نہیں روئے گا , کون بہن نہیں روئے گی . جب اسکا بھائی , اسکا بیٹا , اسکا باپ اسکی آنکھوں کے سامنے چھلنی کر دیا جائے , گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالا جائے . کون نہیں روئے گا , جب اسکے گھر کی پردہ داروں کو بازاروں میں رسیوں سے جکڑ کر گھمایا جائے گا . اس بے بسی پہ اگر آنکھیں پر نم نہیں ہونگی - تو کسی یزید کی نہیں ہونگی , کسی ہلاکو کی نہیں ہونگی , کسی شیطنت سے اٹے ہوئے ذہن کی نہیں ہونگی .
جس دل میں درد ہو گا, احساس ہو گا , انسانیت ہو گی , حب رسول ہو گی , وہ دل ضرور تڑپے گا . وہ آنکھ ضرور برسے گی .
میری نظر میں , وہ آنسو جو آل رسول کے درد میں بہتے ہیں , اللہ کے ہاں محبوب آنسو ہیں . دعا کرو کہ اللہ ایسے ہی آنسو نصیب کرے جو آل رسول کے درد پہ بہیں . ایسے آنسووں سے پناہ مانگو جو اپنے درد پر بہانے پڑیں .
ازاد ھاشمی