" ہم سب جھوٹ بولتے ہیں "
ہم مذہب کے نام پر کٹ مرنے کے دعوے تو کرتے ہیں . لبیک اللھم لبیک تو کہتے ہیں . لبیک یا رسول اللہ بھی بولتے ہیں . لبیک یا حسین کے نعرے بھی لگاتے ہیں . اللہ کے حضور " ایاک نعبدو " بھی کہتے ہیں , " اھدنا الصراط المستقیم " کی دعا بھی مانگتے ہیں . اللہ کے انعام پانے والوں کی راہ کی آرزو کا اظہار بھی کرتے ہیں . گمراہوں اور مغضوبین کی راہ سے بچنے کی گریہ زاری بھی کرتے ہیں .
یہ سب کچھ حلق سے اوپر اوپر کرتے ہیں . دل کی گہرائی اور عمل کرنے کی نیت سے نہیں کرتے .
جہاں موقع ملتا ہے , اللہ کے احکامات سے سرکشی کرتے ہیں . گمراہوں کے عمل کی پیروی کرتے ہیں . گمراہی کو تقویت دینے میں لگے رہتے ہیں . مغضوبین کو ترقی یافتہ مانتے ہیں . لبیک لبیک کا شور مچاتے ہیں اور جب اللہ بلاتا ہے کہ میری راہ پر آ جاو تو ہم اسے پتھر کے زمانے کی سوچ کہتے ہیں . اللہ کا رسول جس سے محبت کرنے کا کہتا ہے , اس سے عداوت مول لیتے ہیں . جس سے عداوت کا حکم ملتا ہے اس سے دوستی کرتے ہیں .
کیا اس جھوٹ سے اللہ اور اللہ کے رسول کی رضا مل جائے گی . جس نصرت کی امید لگائے بیٹھے ہیں , کیا وہ پہنچے گی . کبھی نہیں , جو اللہ سے مکر کرتا ہے , اللہ اس سے مکر کرتا ہے . جو اللہ کی طرف ایک قدم بڑھاتا ہے اللہ دس قدم اسکی طرف بڑھاتا ہے .
ہم نے اللہ کا نام ورد اور تسبیح تک محدود کر دیا ہے . وظیفے بنا لئے ہیں اپنی ضروریات کے مطابق .
آئیے اپنی اپنی ذات کا احتساب کریں کہ کیا یہ سچ نہیں , کہ ہم لبیک کہتے ہیں , لیکن چلتے اپنی اپنی راہ پر ہیں . لبیک یا رسول اللہ کہتے ہیں اور رسول اللہ کی توہین کرنے والوں سے دوستی کرتے ہیں . لبیک یا حسین کہتے ہیں , ساتھ یزید کے چلتے ہیں . کیا یہ منافقت نہیں ہوتی . کیا ہم اپنی روش بدلنے کی کوشش کرنے پر آمادہ ہیں . یا یونہی جھوٹ بولتے رہیں گے .
ازاد ھاشمی
Sunday, 8 October 2017
ہم سب جھوٹ بولتے ہیں.
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment