" حسین علیہ السلام کا نام "
عجیب سا مشاہدہ ہے , جو نہایت حیران کن ہے . کہ جیسے ہی علی کرم اللہ.وجہہ , آل رسول صل اللہ علیہ وسلم , کربلا کے شہداء کی بات کرو . بہت سارے عالم سیخ پا ہو جاتے ہیں . یہ رائے قائم کرنے میں دیر نہیں کرتے کہ جو آل رسول کی بات کرتا ہے . وہ صحابہ کرام کا گستاخ ہے . اسلئے اسے جیسے بھی ہو , سنے اور پڑھے بغیر کافروں کی فہرست میں ڈال دو .
وہ جو دہشتگردی کی علامت بن گئے ہیں , حسین علیہ السلام کا نام لینے کو فساد کہنے میں , دقیقہ بھر تامل نہیں کرتے .
اصل مدعا یہ ہوتا ہے کہ ذکر کربلا کسی طرح سے محو ہو جائے . میرا ایمان ہے کہ جو بھی ذکر آل رسول سے گریزاں ہے یا نالاں ہے , وہ کسی علمیت کی بنا پر نہیں . منافقت کی بنا پر برداشت نہیں کر پاتا کہ حسینیت کی اگاہی کو فروغ ملے .
میں ان نادان لوگوں کو بھی مورد الزام ٹھہراتا ہوں , جنہوں نے حسینیت کے درس کو پھیلانے سے زیادہ , صحابہ پر تنقید اور غیر مہذب طرز تکلم اپنا رکھا ہے .
حسین ع کا کربلا میں پورے گھر کو قربان کرنے کا مقصد صحابہ سے کسی عداوت کی وجہ سے ہر گز نہیں تھا . صرف ایسے اصول کی وجہ سے تھا , جس سے اسلام کے پیغام کو گہنانے والے ہر ظالم کا ہاتھ روکنا تھا . آپ ع کی قربانی کے مقصد کو سامنے رکھنا ہی اصل حب اہل بیت ہے .
یزیدیت کا رد اسی صورت ممکن ہے کہ حسینیت کے پیغام پر توجہ دی جائے . یزید کے فعل کے پیچھے جو عوامل کار فرما تھے , انہیں مدلل اور مہذب طریقے سے بیان کیا جائے . نہ کہ تہذیب سے فرار اختیار کر لیا جائے . اس رویے نے یزید کے پیروکاروں کو تقویت دی ہے . اب نہ وہ خود بات سنتے ہیں اور نہ دوسروں کو سننے دیتے ہیں .
حسین ع کی حب ہر انسان کا ایمانی حصہ ہے . جس کو آل رسول سے کل بغض تھا , اسے اور اسکی نسلوں کو قیامت تک بغض ہی رہے گا . اسکی اصلاح پر حواس کھونے سے بہتر ہے کہ گفتار تہذیب کے دائرے میں رہے . اس سے حسینیت کا مقصد بہتر طور پر پورا ہو گا . اور یزیدیت اپنی موت آپ مر جائے گی .
ازاد ھاشمی
Sunday, 8 October 2017
حسین علیہ السلام کا نام
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment