Wednesday, 1 November 2017

ایمان اور عمل

" ایمان اور عمل "
ایک شخص نماز باقاعدگی سے ادا کرتا ہے , روزے میں کوتاہی بھی نہیں کرتا , حج کا فرض بھی پورا کرتا ہے . مگر ان تمام فرائض کے ساتھ گناہ کبیرہ کا مرتکب بھی ہے , پیمانے میں بھی جھول مارتا ہے , یتیم کا مال بھی کھا جاتا ہے , سوال کرنے والے کو دھتکارتا بھی ہے , غیبت کا شوق بھی پورا کرتا ہے ...
ایسے شخص کے ایمان کے بارے میں کیا رائے دی جا سکتی ہے . اسکے ایمان پر کیا دلیل ہو گی . اسکی نمازیں , روزے اور حج اسکے ایمان کی مکمل دلیل ہو گی . ہر گز نہیں . اللہ نے جتنے بھی احکامات انسان پر فرض کئے , سب کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی فلسفہ تھا . اور وہ تھا انسان کی اصلاح . جب اصلاح ہی مفقود ہے تو عبادات لا حاصل ہیں . حکم ربی سے انکار عزازیل کو شیطان بنا دیتا ہے . تو گناہ کبیرہ کا ارتکاب بھی اللہ کے حکم سے انکار ہی ہے اور اطاعت سے سرکشی بھی . کیسے سوچ لیا جاتا ہے کہ گناہ کبیرہ کے ساتھ بخشش مل جائے گی .
آجکل سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا موضوع " تعظیم رسالت اور توہین رسالت  " ہیں . تعظیم رسالت ہر مسلمان پر اسی طرح فرض ہے جسطرح اللہ کی وحدانیت پر ایمان . توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والوں کو شدت سے روکنا بھی ایمان کا حصہ ہے .   دیکھنا یہ ہے تعظیم رسالت کا عمل ہمارے کردار سازی میں بھی شامل ہے کہ نہیں . کیونکہ محض حب رسول کے نعرے مارتے پھرنا , دیواروں پہ اشتہار لگاتے پھرنا . سوشل میڈیا پر جہاد کرتے رہنا کافی نہیں . اصل تعظیم رسول یہ ہے کہ آپ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی ہر ممکن کوشش کریں . اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وسلم , مکمل اخلاق کی تصویر ہیں . پھر مخالف عقائد اور مذاہب کو گالیاں دینا , طرح طرح کے نام دینا کونسی تعلیم ہے . اصلاح اخلاقیات کی محتاج ہوا کرتی ہے . متشدد سوچ فساد کی بنیاد بنتی ہے . اللہ کے حبیب ص کو جسطرح آزار پہنچائے گئے , اور آپ نے جس تحمل سے کفر کی نفی کی . یہی تعلیم اختیار کرنا اسوہ حسنہ کی پیروی ہے اور یہی تعظیم ہے .
ازاد ھاشمی

سیاست کی ابجد

" سیاست کی ابجد "
سیاست کو علم کہنے والوں کی فکر شائد درست ہو گی . حکمرانی کے اسلوب کو سیاست کہا جاتا ہو گا اور سمجھا بھی جاتا ہو گا . میں نے تو صرف یہی دیکھا کہ سیاست اقتدار تک رسائی کیلئے کھیلا جانے والا مکروہ کھیل ہے . جس کا نہ کلیہ ہے نہ قاعدہ . نہ اخلاق نہ آداب .  جب سے دنیا وجود میں آئی اقتدار کی رسہ کشی شروع ہو گئی . مکار کھلاڑی جیتتا رہا اور راہ راست کی تقلید کرنے والے ہارتے رہے . اسی سیاست کے مکار کھلاڑیوں نے جب دیکھا کہ انبیاء لوگوں کو حق کی اگاہی دینے کیلئے بھیجے جاتے ہیں تو انبیاء کو کبھی آگ میں ڈالا , کبھی سولی پر چڑھا دیا اور کبھی گھر بار سے ہجرت پر مجبور کر دیا . اسی اقتدار کے بھوکے نے ایسی سیاست کھیلی کہ آل رسول صل اللہ علیہ وسلم کو روکنے کیلئے ہر وہ جبر کیا جو ممکن تھا . کربلا کے شہید , شام کے قیدی اور امامین کو یکے بعد دیگرے زہر دے کر شہید کر دینا , اسی مکاری کا کریہہ رخ ہے . سیاست کبھی بھی نہ علم تھا نہ اسلوب . آج بھی پوری دنیا میں جمہوریت کے نام پر سیاست کے پجاری , مکاری ہی کر رہے ہیں . کہاں پر انتخابی مہم میں عوام کو گمراہ نہیں کیا جاتا . کون سیاست دان ہے جو عوام کے سامنے آکر کہتا ہے کہ میرا سارا جتن اقتدار کی کرسی کیلئے ہے . سب یہی کہتے ہیں کہ میرے پیٹ میں ملک کی خدمت کا درد ہے . مجھے عوام کی فلاح کا روگ ہے . کونسا ملک ہے جہاں مقتدر لوگ عوام کی جیبوں سے نکلے ہوئے پیسے سے عیاشی نہیں کرتے . کونسا خطہ ہے جہاں مخالفین کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جاتا . کونسی قوم ہے جو مخالف کی کردار کشی نہیں کرتی . سیاست اور مذہب دو متضاد راستے ہیں . مذہب اللہ کے احکامات کی پیروی ہے . اصلاح کی ڈگر ہے . پردہ پوشی کا سبق ہے . برائی کا خاتمہ ہے . کردار سازی کا نام مذہب ہے . تہذیب ہے رواداری ہے . دین کو چھوڑ کر جو بھی راہ چنی جائے , وہ بربریت ہے , انسانیت کی موت ہے . مگر شاطر لوگوں نے اسے ایک علم قرار دے دیا . علم کی آماجگاہیں اسے باقاعدگی سے پڑھاتی ہیں اور پیشہ ور سیاسی گھرانے اس میں عبور حاصل کرتے ہیں .
تعجب اسوقت ہوتا ہے جب مذہبی قائدین خود کو سیاستدان کہلا کر خوش ہوتے ہیں اور اس مکاری کو اعزاز سمجھتے ہیں .
عوام کو باور کرایا جاتا ہے کہ ہم اس کھیل سے اسلام کے نظام کی منزل تک جانا چاہتے ہیں . جس سفر کا آغاز مکاری سے ہو اس کی منزل اسلام کبھی نہیں ہو گی . کاش ! ہم لوگوں کو سمجھ آ جائے .
ازاد ھاشمی

" سیاست کی ابجد "
سیاست کو علم کہنے والوں کی فکر شائد درست ہو گی . حکمرانی کے اسلوب کو سیاست کہا جاتا ہو گا اور سمجھا بھی جاتا ہو گا . میں نے تو صرف یہی دیکھا کہ سیاست اقتدار تک رسائی کیلئے کھیلا جانے والا مکروہ کھیل ہے . جس کا نہ کلیہ ہے نہ قاعدہ . نہ اخلاق نہ آداب .  جب سے دنیا وجود میں آئی اقتدار کی رسہ کشی شروع ہو گئی . مکار کھلاڑی جیتتا رہا اور راہ راست کی تقلید کرنے والے ہارتے رہے . اسی سیاست کے مکار کھلاڑیوں نے جب دیکھا کہ انبیاء لوگوں کو حق کی اگاہی دینے کیلئے بھیجے جاتے ہیں تو انبیاء کو کبھی آگ میں ڈالا , کبھی سولی پر چڑھا دیا اور کبھی گھر بار سے ہجرت پر مجبور کر دیا . اسی اقتدار کے بھوکے نے ایسی سیاست کھیلی کہ آل رسول صل اللہ علیہ وسلم کو روکنے کیلئے ہر وہ جبر کیا جو ممکن تھا . کربلا کے شہید , شام کے قیدی اور امامین کو یکے بعد دیگرے زہر دے کر شہید کر دینا , اسی مکاری کا کریہہ رخ ہے . سیاست کبھی بھی نہ علم تھا نہ اسلوب . آج بھی پوری دنیا میں جمہوریت کے نام پر سیاست کے پجاری , مکاری ہی کر رہے ہیں . کہاں پر انتخابی مہم میں عوام کو گمراہ نہیں کیا جاتا . کون سیاست دان ہے جو عوام کے سامنے آکر کہتا ہے کہ میرا سارا جتن اقتدار کی کرسی کیلئے ہے . سب یہی کہتے ہیں کہ میرے پیٹ میں ملک کی خدمت کا درد ہے . مجھے عوام کی فلاح کا روگ ہے . کونسا ملک ہے جہاں مقتدر لوگ عوام کی جیبوں سے نکلے ہوئے پیسے سے عیاشی نہیں کرتے . کونسا خطہ ہے جہاں مخالفین کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جاتا . کونسی قوم ہے جو مخالف کی کردار کشی نہیں کرتی . سیاست اور مذہب دو متضاد راستے ہیں . مذہب اللہ کے احکامات کی پیروی ہے . اصلاح کی ڈگر ہے . پردہ پوشی کا سبق ہے . برائی کا خاتمہ ہے . کردار سازی کا نام مذہب ہے . تہذیب ہے رواداری ہے . دین کو چھوڑ کر جو بھی راہ چنی جائے , وہ بربریت ہے , انسانیت کی موت ہے . مگر شاطر لوگوں نے اسے ایک علم قرار دے دیا . علم کی آماجگاہیں اسے باقاعدگی سے پڑھاتی ہیں اور پیشہ ور سیاسی گھرانے اس میں عبور حاصل کرتے ہیں .
تعجب اسوقت ہوتا ہے جب مذہبی قائدین خود کو سیاستدان کہلا کر خوش ہوتے ہیں اور اس مکاری کو اعزاز سمجھتے ہیں .
عوام کو باور کرایا جاتا ہے کہ ہم اس کھیل سے اسلام کے نظام کی منزل تک جانا چاہتے ہیں . جس سفر کا آغاز مکاری سے ہو اس کی منزل اسلام کبھی نہیں ہو گی . کاش ! ہم لوگوں کو سمجھ آ جائے .
ازاد ھاشمی

رسول پاک کے نعلین

" رسول پاک  کے نعلین "
نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم  سے وارفتگی کا اظہار کچھ نعلین رسول کو ماتھے پہ لگا کر کرتے ہیں , کچھ دل کے اوپر سجا کر . اپنی اپنی عقیدت کا اپنا اپنا اظہار اور اپنا اپنا طریقہ ہے . سوال کی گنجائش نہیں کہ وہ کیوں ایسا کرتے ہیں . کرنا چاہئے یا نہیں . محض بحث کو طول دینا لا حاصل  بھی ہے اور تضادات کو ہوا دینا بھی . اس میں دوسری رائے نہیں کہ اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جگہ مل جائے تو یہ ایک بخت کی علامت ہے . اس کے لئے وہ عمل اپنانا زیادہ احسن ہے جو اللہ کے رسول کا اسوہ حسنہ کا حصہ رہا ہے . ہر اس ذات سے محبت کرنا جس سے آپ صل اللہ علیہ وسلم کو محبت تھی , ہر اس شخص سے نفرت کرنا جس  سے آپ کی ذات نالاں تھی . آپ کے معمولات زندگی میں ہمسائے کی خبر گیری بہت اہم تھی . یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنا آپ کا پسندیدہ عمل تھا . غیبت , حق تلفی , دروغ گوئی سے آپ کو نفرت تھی . والدین سے  احسان سے پیش آنے کا ہمیشہ تا کید فرماتے رہے . آپ نے خصوصی طور پر اس بات کا حکم دیا کہ اگر کسی مسلمان کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان کو تکلیف پہنچے تو وہ ہم میں سے نہیں . معاشرتی برائیوں سے روکا بھی اور روکنے کا حکم بھی دیا .
کیا ایسی بے شمار خوبیوں , جن سے آپ کی  ذات پاک آراستہ تھی , ان کی تقلید بھی ہم کرتے ہیں کہ  نہیں . یہ محاسبہ زیادہ اہم ہے . اللہ کے پاک حبیب صل اللہ علیہ وسلم کا قرب پانے کیلئے آپ کی محبت کو دل میں بسانا زیادہ اہم ہے . اس طرف توجہ نہیں کی تو سب ریا ہے , تصنع ہے , بناوٹ ہے اور خود فریبی ہے . ہمارا کردار بولے کہ ہم اللہ کے حبیب کی  اطاعت سے سرشار ہیں , تو اصل کمال یہی ہے . یہی مطلوب و مقصود ہے .
ازاد ھاشمی

ایک رائے

" ایک رائے  "
پاکستانی وہ قوم , جو ستر فیصد ٹیکس ادا کرتی ہے . مگر اڑھائی فیصد زکوات نہیں دیتی . یوں اسلام کے پرچاری , بڑی بڑی علمی سندوں والے علماء اور مفتی , مسالک کیلئے جہاد کرتے دکھائی دیتے نظر آتے ہیں . مگر مجال کوئی بولے کہ زکوات بھی اسی طرح فرض ہے , جسطرح اسلام کے دوسرے ارکان . معیشت پر توجہ دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا دیگر مذہبی معاملات پر . کوئی ایک مسلک آواز اٹھانے کی جرات نہیں کرتا کہ ہم مسلمان ہیں , ہم اسلامی طرز معیشت کے مطابق حکومت کو ادائیگیاں کریں گے . پاکستان پر سڑسٹھ ارب ڈالر قرض ہے , جس پر سود کے ضمن میں ڈیڑھ ارب ڈالر ادا کرنا پڑتا ہے . اگر زکوات کا عمل نافذ ہو تو زرداری اور نواز شریف سے یہ سود ادا ہو جاتا ہے . اس قرض کو ایک سال میں ادا کر دیا جاتا ہے , اگر تمام پاکستانیوں سے اسلامی طریقے سے زکوات لی جائے . میں تو اکنامکس نہیں جانتا , جو اکنامکس جانتے ہیں , اسکی چھان پھٹک کر کے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں . زمیندار سے عشر لیا جائے تو سیاست کے کتنے شوقین جاگیر دار اربوں روپے کا عشر دیں گے جو اسوقت ایک کوڑی ٹیکس نہیں دیتے . اس سے فصلوں کی پیداوار میں اللہ برکت بھی ڈالے گا اور ہم خوراک میں خود کفیل بھی ہو جائیں گے . مولویوں کی جائیدادیں بھی زکوات کے عمل میں آ جائیں گی اور جو صرف چندہ اکٹھا کرنے کو دین , چندہ دینے والے کو جنت کی ضمانت دیتے ہیں . خود بھی جنت میں گھر بنا لیں گے .
ہمیں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کا حصہ بننے کی بجائے اسلامی اقدار کی آواز بلند کرنی چاہئے . اللہ بھی راضی اور ہم بھی خوش رہیں گے .
ازاد ھاشمی

قادیانیوں پر عتاب

" قادیانیوں پر عتاب "
عقیدہ , مذہب , ایمان اور مسلک ہر کسی کی اپنی سوچ اور صوابدید ہے . صحیح اور غلط پر اپنی اپنی تحقیق کا حق ہر کسی کو ہے . سیاسی نمائندے اگر کسی کو کافر قرار دے دیں تو یہ کسی مسلک کی حق تلفی بھی ہے اور زور زبردستی بھی . قادیانیوں کے عقائد پر پورا سیاسی , مذہبی اور سوشل میڈیا متحرک نظر آ رہا ہے . وہ اپنی تنظیم سازی میں , اس حد تک آگے جا چکے ہیں . کہ پوری دنیا میں انکے کردار پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا . انہیں امن کی پہچان  مانا جاتا ہے . تنظیم کے لحاظ سے خلافت کو اصل میں کارفرما دیکھنا ہو تو انکی تنظیم سر فہرست ہے . مجال نہیں کہ کوئی اپنے سربراہ کی بات سے انحراف کرے . اگر ان کے عقائد مسلم دنیا سے متضاد ہیں , کفر ہیں , توہین رسالت کے زمرے میں آتے ہیں . تو عقائد پر مثبت طریقے سے بحث و تمحیص اور مسلمانوں کو اگاہی کا فریضہ ادا کرنا مناسب ہے یا کندھے پہ کلہاڑی رکھ لینا موزوں ہے . اگر یہ سچ ہے کہ انہوں نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں تو اسکے ثبوت عدالت میں رکھے جائیں , ایجینسیوں کو دئیے جائیں . عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے . عالمی امن کے مذاکروں میں ان کو بلایا جاتا ہے , سنا جاتا ہے اور تسلیم کیا جاتا ہے . یہ سب اس کردار کی وجہ سے ہے , اس شائستگی کی وجہ سے ہے , جو ان لوگوں نے اپنا رکھی ہے .
مسلمان کی پہچان اسکا کردار ہے . اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے کردار سے کفر کو شکست دی . اس اسوہ کو بھول کر دشنام سازی کی راہ اختیار کر لینے سے قادیانیت کا کیا بگڑا .
پوری دنیا میں انکا نیٹ ورک پھیل رہا ہے . افریقہ , ایشیا , یورپ , آسٹریلیا اور امریکہ میں انکے عبادت خانوں میں  اذان بھی دیتے ہیں اور نماز بھی پڑھتے ہیں . کلمہ پڑھتے ہیں , قران کی تلاوت کرتے ہیں .
کسی ایک خطے میں انکے خلاف کوئی ایک شکایت نہیں . کیا رائے ہے کہ دیکھنے والے اسلام کے قریب تر کسے سمجھیں گے .
" لکم دینکم ولی الدین " کو اختیار کریں . یا پھر ان سے مذاکرے کریں , انہیں سنیں اور انکو سنائیں . یہ اسلام  کی راہ ہے .
اسمبلی کے اندر کردار ساز لوگ ہوں تو انکی رائے تسلیم کی جائے گی . مگر جہاں چور اور لٹیرے بیٹھے ہیں , وہاں کونسی مثبت امید رکھی جا سکتی ہے .
اسلامی فکر سے معاشرے کو سنوارنے کی کوشش میں کوئی آگے نہیں آتا . فرقہ ورانہ آگ بھڑکانے کیلئے ہر کوئی کمر بستہ ہے .
امید کروں گا کہ کفر کا فتوی دینے سے پہلے تحریر کو اسکے سیاق و سباق میں پڑھ لیا جائے .
ازاد ھاشمی

فوج اور فوجی

" فوج اور فوجی "
فوج ایک ایسی دیوار ہوا کرتی ہے , جس کے اس پار دشمن کی نہ تو رسائی ممکن ہوتی ہے اور نہ ہی دشمن اندر کے بھید جان پاتا ہے . کسی بھی ملک کی سالمیت کا انحصار فوج کی قابلیت , حب الوطنی اور اصول ہوتے ہیں . ملک کتنا بھی معاشی بلندیوں پر کیوں نہ ہو , فوج کے بغیر ریت کا گھروندا ہوتا ہے . پاکستان شومئی قسمت سے بیرونی دشمنوں میں گھرا ہوا ملک ہے . دوسری بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ غداری کا پودا بہت سرعت سے اگ آتا ہے . غداروں کی آماجگاہ ہونے کی وجہ سے فوج کی اہمیت اور بھی مسلم ہے . تیسری بڑی خرابی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان نہ صرف نا اہل ہوتے ہیں بلکہ بھوکے کتے سے بھی بد تر حرص کے پروردہ ہوتے رہے ہیں . چوتھی خرابی کہ برادری , خاندانی سیاست نے بیڑہ غرق کر رکھا ہے . پانچویں بڑی خرابی کہ لسانی تعصب عروج پر ہے , مذہبی فرقہ بندی کی انارکی کا ناسور پوری طرح مثبت فکر کو کھا گیا ہے .
اب اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی انتہائی کوشش ہے کہ کسی طرح فوج کا تشخص برباد کر دیا جائے . اور یہ کوشش تسلسل سے جاری و ساری ہے .
اب اس برائی میں کچھ فوجی بھی شامل ہو گئے ہیں . ایک جرنیل بننے تک جو تربیت درکار ہوتی ہے , اسکا فقدان سامنے آنے لگا ہے . سینکڑوں جرنیلوں میں اگر ایک آدھ کرپشن کرتا ہے , یا اپنے اختیارات کو اپنے وسائل کیلئے استعمال کرتا ہے , تو اسکا یہ جرم وطن دشمنی سے کم نہیں . اس کے جرم کی پاداش , عام غدار سے کہیں زیادہ ہونا چاہئے تھی . چہ جائیکہ اس کے جرم پر پردہ ڈال دیا جائے .
فوجی کی اپنی ایک پہچان , اسکی اصول پرستی ہے . جس پر وہ مرنے تک کاربند رہتا ہے . اسکی اولین ترجیح وطن کے خلاف ہر سازش کو کچلنا ہوتی ہے , چہ جائیکہ وہ خود مصلحت اندیش ہو کر سازشوں سے سمجھوتے کرنے لگے . یہ وہ خرابی ہے جو سامنے آنا شروع ہو چکی ہے . جس سے فوج کی وہ قدر نہیں رہی جو ہوا کرتی تھی . سیاست کا چسکا , جرنیلی کا زعم اور امیر بننے کا خواب بھی فوجیوں کی کمزوری بن گیا ہے .
تعجب  ہوتا ہے جب فوج کے کرتا دھرتا سیاسی میدان والوں  جیسی چالبازیاں کرنے لگتے ہیں . بیانات سے سومنات کا مندر برباد کر دیتے ہیں , عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہوتا . امن کی فاختہ اڑاتے ہیں مگر وہ فاختہ بم باندھے قوم کے پرخچے اڑاتی رہتی ہے .  فوجی کے ذاتی کردار کو فوج کا کردار بننے سے روکنا ہو گا . ورنہ خاکی وردی اور کالی وردی کی ایک سی پہچان بن جائیگی . ڈی آئی جی پولیس اور چیف آف آرمی کو ایک جیسا سمجھنے کا رحجان تقویت پکڑ رہا ہے .
ازاد ھاشمی

منکر اور کافر

" منکر اور کافر "
حکم ربی ہوا , فرشتوں کی سرداری پر بیٹھے ہوئے , فرشتوں کی قبا میں ایک جن کو کہ آدم کو سجدہ کرو . اس نے انکار بھی کیا , حجت بھی پیش کی اور دلیل بھی سامنے رکھ دی . اس پر لعین بھی ہو گیا , ابلیس بھی , شیطان بھی اور مردود بھی .
اس نے اللہ کی وحدانیت , عبادت اور ریاضت سے انکار نہیں کیا .
حکم ربی سے انکار کے بعد , تمام عبادت , تمام ریاضت اور تمام نیکیاں اکارت ہو جاتی ہیں . پھر ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے کہ  توبہ کا دروازہ کھٙکھٹایا جائے .
اب ذرا محاسبہ کیا جائے کہ ہم اللہ کے کتنے احکامات سے سر کشی کرتے ہیں . اپنی سرکشی کی کتنی توجیہات پیش کرتے ہیں . کتنے دلائل دیتے ہیں اپنی سر کشی کے جائز ہونے پر . توبہ کیطرف لوٹے بغیر اللہ سے اپنی دعاوں کی قبولیت بھی مانگتے ہیں . اور دعوی بھی کرتے ہیں کہ ہم اللہ کی پسندیدہ امت سے ہیں . دعوی کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں .
ایک زانی اللہ کے حکم کی سرتابی کرتا ہے , ایک شرابی اللہ کے حکم سے بغاوت کرتا ہے , ایک جواری اللہ کے حکم کا انکار کرتا ہے . پھر بھی خود کو مسلمان کہنا , کس حد تک جائز ہے . پھر کفر کیا ہے , منکر کون ہے .
اللہ کی حاکمیت کو مانتے ہیں , مگر اسکی حدود سے عملی طور پر منکر ہیں . جو خود شیطان کیطرح سرکش ہے , شیطان کی پیروی کرتا ہے , وہ دوسروں کو فروعی مسائل پر کافر کہنے سے دریغ نہیں کرتا . کیا اسے اللہ سے مکر کرنا نہیں کہیں گے .
  اللہ نے حکم دیا کہ میری رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو . کیا ہم نے اس حکم سے انحراف نہیں کیا . اللہ نے فرمایا کہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جاو . مگر ہم صرف نماز پڑھ کے , حج کر کے , روزہ داری کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے اطاعت کا حق ادا کر دیا . اطاعت تب ہے جب ہر حکم ربی کو لاگو کر لیا جائے , نہیں تو اللہ کے ساتھ مکر ہے .
ازاد ہاشمی

جرم اور سزا

" جرم اور سزا "
ایک مسلمان کیلئے ہر وہ عمل جرم ہے , جس سے احکامات ربی کی سرکشی اور سرتابی کی جائے , جس سے معاشرتی زندگی میں فساد پھیلتا ہو اور جو اسوہ رسول صل اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے متضاد ہو . ایسے تمام جرائم کی اللہ نے حدود واضع کر رکھی ہیں . تمام اسلامی سزائیں , اس  امر کی یقین دہانی ہے کہ جرم کو روکنا اصل مقصد ہے . جرم کا مرتکب کوئی بھی ہو , سزا اسکا مقدر ہے . کوئی عذر , کوئی حالت اور کوئی رتبہ و مقام ان سزاوں میں تخفیف نہیں کر سکتا . سزا میں ڈھیل دینے , صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے اور نظریہ ضرورت کے مطابق مجرم کی اعانت کرنا , براہ راست جرم کی پشت پناہی ہے . یہی وہ اسباب ہیں , جس کی بنا پر تمام مروجہ قوانین جرائم روکنے میں ناکام ہیں . وکلاء کی چابکدستی مجرموں کو پیشہ ور جرائم کا سرغنہ بنا دیتی ہے . پولیس , جج اور دیگر ایجنسیاں ان جرائم کی افزائش کر رہی ہیں , جس سے بدامنی , عدم تحفظ اور معاشرتی امن مخدوش ہو گیا ہے . مجرم کو ملنے والی سزا , متاثرہ اشخاص کے حقوق کا تحفظ ہے , اور یہی حکمران کی ذمہ داری ہے کہ ہر شخص کو اسکے بنیادی حقوق دے اور اسکے جان , مال اور عزت کا تحفظ کرے . جن قوموں سے عدل کی یہ کیفیت چھن جاتی ہے وہ قومیں جلد یا بدیر تباہ ہو جاتی ہیں . آفات ارضی و سماوی کا نشانہ بن جاتی ہیں . بھوک اور افلاس ایسی قوموں کا  مقدر ہو جایا کرتا ہے . کچھ ایسا ہی ہمارے ساتھ ہو رہا ہے . مورد الزام کون . یہ کبھی فیصلہ نہیں ہو سکا . اس کا جواب اگر ہے تو صرف اسلامی حدود و قیود میں . جرم کی سزا کا جو پیمانہ اللہ نے مقرر کر دیا ہے , وہی انصاف ہے وہی عدل .
ازاد ھاشمی

حل کیا ہے

" حل کیا ہے "
الجھن یہ ہے کہ یہ لوٹ مار  , کرپشن کا رحجان اور قیادت کا بحران کیسے حل ہو . اسکا حل کیوں سمجھ نہیں آ رہا . بڑے بڑے لیڈر بھی آئے , فوجی جرنیل بھی زور لگا چکے . نہ وطن میں بہتری آئی نہ غریب کے دن سدھرے . نہ ظالم کا ہاتھ رکا اور نہ مظلوم کی داد رسی ہوئی . جن پہ غداری کے الزام لگے وہ میدان میں اسی طرح کلکاریاں بھر ہے ہیں . عوام روز بروز سیاسی شعور کے نام پر سڑکوں پہ آتے رہے , مگر برادری سسٹم نہ توڑ سکے . سیاست پیشہ بن گئی , اقتدار تجارت ہو گیا . آرڈر آرڈر کے ہتھوڑے چلانے والے قاضی بدمعاشوں کی غلامی کرنے لگے . ملا نے الگ الگ دکانیں سجا لیں . سکھ اور چین کا سندیسہ روایت بن کر رہ گیا . جمہوریت کی دیوی نے مسلمانوں کے دلوں پر راج کر لیا .
حل کیا ہے .
یہ سوال وہ کرنے لگے , دانشوری جن کی باندی ہوا کرتی تھی . بہت آسان حل ہے , مگر سوچنے والوں کے لئے , فکر والوں کیلئے اور حقیقت میں حل ڈھونڈھنے والوں کیلئے . وہ حل ہے . کائنات کے خالق کا قانون اور کائنات کے سرور کا راستہ . جسے ملا نے ابہام کا شکار کر رکھا ہے .
قران کے فیصلے , رسول صل اللہ علیہ وسلم کا طریق .
دستور قران اور قائد آقا و ملجا .
مجال نہیں کہ برائی جڑ پکڑ سکے .
اب سوال یہ ہے کہ کون ہے جو اس طریق کے علاوہ ہر طریق سے بغاوت کرے . کون ہے جو اپنی سوچ کا احتساب کرے . کون ہے جو اس عمل کو اپنا لے . بس یہی واحد حل ہے .
ازاد ہاشمی

مشروب نہیں زہر

مشروب نہیں زہر
لمبے عرصے تک استعمال سے معدے کی جھلی کو نقصان‘ ہائی بلڈپریشر اور شوگر کی بیماری میں زیادتی ہوجاتی ہے۔ ٭ حاملہ عورت میں ان مشروبات کا استعمال بچے کی جسمانی بناوٹ میں خرابی کے علاوہ معذور بچوں کی پیدائش کا سبب بن سکتا ہے
میں کوک پئیوں گا‘ مجھے پیپسی چاہیے‘ اس قسم کے جملے آپ کو اکثر سننے کو ملیں گے۔ ان مشروبات کی کسی بوتل میں اگر اُکھڑا ہوا دانت یا ناخن ڈال دیا جائے تو دو دن میں گل کر اور دو ہفتے میں اندر حل ہوجائے گا جبکہ یہی دانت‘ ہڈیاں اور ناخن انسان کے مرنے کے بعد ہزارہا سال تک محفوظ حالت میں مل سکتے ہیں۔ صحت کیلئے حد درجہ خطرناک ہونے کے باوجود کیا وجہ ہے کہ بچے دیوانہ واران مشروبات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
اس مطالبے کی وجہ ان کمپنیوں کی طرف سے انتہائی سحرانگیز اور گمراہ کن اشتہار بازی ہے جس میں معصوم بچے مشہور کرکٹرز، فلم سٹارز اور من پسند ہیروئوں کو انتہائی جذباتی انداز میں یہ مشروب پیتے ہوئے دیکھ کر ان کے انداز میں ان کی نقالی کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ چکاچوند ننھے منے بچوں کو مرعوب کرکے ان مشروب کا عادی بنا ڈالتی ہیں۔
ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ہم آدھا منافع اس بات پر خرچ کرنے کیلئے تیار ہیں کہ عوام کوئی اور مشروب مانگنے کی بجائے پیپسی یا کوک کا نام لے کر مشروب طلب کریں۔ ظاہر ہے اس اشتہار بازی کا خرچ استعمال کرنے والے ہی کی جیب سے پورا کیا جاتا ہے۔پیپسی یا کوک کیا ہے؟ یہ مشروب جن چیزوں کا مرکب ہیں شاید انہیں باریک انگریزی میں ڈھکن کے اندر ملاحظہ کرسکیں۔ یہ کیمیائی مادے درج ذیل ہیں:۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ
قدرت اس زہریلی گیس کو جو خون کے ایک فضلے کی مانند ہے سانس کے ذریعے پھپھڑوں سے باہر نکالتی ہے لیکن پیپسی اور کوکاکولا میں پانی میں اس گیس کو گزار کر جذب کیا جاتا ہے جسے ہم منہ کے ذریعے اپنے معدے میں اتار دیتے ہیں اس گیس کو پانی میں گزارنے کے فعل سے کاربالک بنتا ہے اور ان مشروبات کی تیزابیت کا درجہ 3.4 ہوتا ہے یعنی انسانی جسم کی تیزابیت سے تین یا چار درجے تیز۔ اس درجے کی تیزابیت ہڈیوں اور دانتوں کو گھول کر رکھ دیتی ہے۔ انسانی ہڈیاں 30 سال کے بعد بننا بند ہوجاتی ہیں یعنی انسانی ڈھانچہ ہونے کی وجہ سے ہمارے انسانی نظام اور معدے پر دوچند بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ ایک تیزابیت کی وجہ سے اور دوسرا مشروب کے درجہ حرارت کی وجہ سے جو عموماً 0 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے جبکہ جسم کا درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ اس فرق کو ملانے کیلئے معدے کو فاضل کام کرنا پڑتا ہے۔ کھانے کے دوران ان مشروبات کے استعمال سے ہاضمے کے مددگار کیمیائی مادے تحلیل ہوکر معدے پر مزید بوجھ ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے معدہ جلد ہی جواب دے جاتا ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر معدے میں گیسیں اور دیگر زہریلے مادے بنتے ہیں جو انتڑیوں میں جذب ہوکر جسم کو وقت سے پہلے بوڑھا کردیتے ہیں۔
فاسفورک ایسڈ
اس کا تیزابی مادہ ہمارے جسم کی ہڈیوں اور دانتوں سے کیلشیم کے مادے کا اخراج کرتا ہے۔ مسلسل استعمال سے ہڈیوں کی شکست وریخت ہونے کی وجہ سے ہڈیوں کا درد‘ کمر کا درد اور بعض اوقات معمولی چوٹ سے ہڈیوں کا ٹوٹ جانا عام علامت ہے۔ اس بیماری کو ہڈیوں کی کمزوری کہا جاتا ہے۔
کیفین
یہ اعصابی نظام کو تحریک دینے والی نشہ آور دوا ہے جس کے استعمال سے آدمی وقتی طور پر بیدار‘ تازہ دم اور خوشی محسوس کرسکتا ہے۔ پانچ چھ گھنٹے میں اس کا اثر ختم ہونے پر کمزوری‘ سستی‘ اضمحال اور بوریت محسوس کرتا ہے۔
کیفین کے زیادہ استعمال سے ہیجان‘ بے چینی‘ رعشہ‘ دل کی تیز دھڑکن کے ساتھ دل کی چال میں تبدیلی آسکتی ہے۔ سردرد کے ساتھ دردوں تک کی نوبت آسکتی ہے۔ کیفین کی مقدار عام بوتل میں 35 سے 50 ملی گرام تک جبکہ ڈیڑھ لیٹر کی بوتل میں 200 ملی گرام تک موجود ہوتی ہے۔
سوڈیم بینزوئیٹ
یہ مضر کیمیائی مادہ مشروبات کو سڑنے سے روکتا ہے لیکن اس کاکثرت سے استعمال ہائی بلڈپریشر کا باعث بنتا ہے۔
ایتھائی لین گلائی کول
یہ مشہور اینٹی فریز ہے جو گاڑیوں میں پانی کو جمنے سے بچانے کیلئے ڈالا جاتا ہے۔ یہ سنکھیا سے ملتا جلتا آہستہ عمل کرنے والا زہر ہے جس کے نتیجے میں اگر ایک گھنٹے میں چار لیٹر کولا مشروب پینے سے موت واقع ہوسکتی ہے۔ دو ڈھائی لیٹر پینے سے بے ہوشی طاری ہوسکتی ہے۔
رنگدار مادے
سرخ امارنتھ اور برائون بورڈیکس قابل ذکر ہیں۔ جو تحقیقات کے مطابق کینسر کا باعث بنتے ہیں اور انسانی صحت کیلئے مضر اثرات رکھتے ہیں۔
پیپسی اور کولا کے عمومی نقصانات
ذہنی صحت پر اثر سے بچے کو ضدی بناڈالتے ہیں ماں باپ کو تنگ کرنا اور آپس میں مارکٹائی کارجحان زیادہ ہوجاتا ہے اور ذہانت میں کمی آجاتی ہے۔
٭ بچوں کی جسمانی صحت پر اثر کرکے پہلی صورت میں بظاہر موٹا بچہ لیکن اندرونی طور پر کمزور اور سست جبکہ دوسری صورت میں بھوک کے مارے جانے سے پیلی رنگت کا لاغر بچہ جس کی آنکھوں کے گرد حلقے اور چہرے پر مردنی ہوگی۔
٭ ان مشروبات کا کثرت سے استعمال جگر کے امراض کا باعث بنتا ہے جو کہ اس مرض کی الکحل مشروبات کے بعد دوسری بڑی وجہ ہے۔
٭ لمبے عرصے تک استعمال سے معدے کی جھلی کو نقصان‘ ہائی بلڈپریشر اور شوگر کی بیماری میں زیادتی ہوجاتی ہے۔ شوگر کے مریضوں کیلئے ڈائیٹ کولا بھی حد درجہ مضر اثرات رکھتا ہے۔
٭ حاملہ عورت میں ان مشروبات کا استعمال بچے کی جسمانی بناوٹ میں خرابی کے علاوہ معذور بچوں کی پیدائش کا سبب بن سکتا ہے جس کی شرح ہمارے معاشرے میں بڑھ رہی ہے۔
متبادل صحت مند مشروبات
دودھ کے مشروبات سادہ یا ذائقہ دار‘ مثلاً الائچی اور بادام پستے کی کترن کے ساتھ مشروبات٭ ادرک اور شہد کے ساتھ٭ کھجور کے مرکب کے ساتھ٭ ملک شیک‘ آم‘ کیلا‘ سیب‘ لسی سادہ یا ذائقہ دار٭ خشخاش بادام کے ساتھ٭ ٹھنڈے پانی کے مشروبات٭ سکنجبین گُڑ‘ لیموں اور نمک کیساتھ٭ آلو بخارے اور املی کا شربت٭ تخم ملنگا اور گوند کتیرا٭ دیگر مشروبات مثلاً شربت الائچی‘ شربت بزوری وغیرہ٭ تازہ جوسز مثلاً گاجر کا جوس‘ سیب اور گاجر کا جوس‘ انار‘ سبز قہوہ۔
اگر آپ کے بیت الخلا کا نکاس بند ہوجائے تو رات پیپسی یا کوکاکولا کی لیٹر یا ڈیڑھ لیٹر والی بوتل ڈال دیں۔ صبح فلش کریں تو نکاس کھل چکا ہوگا۔
منقول