" فتوے اور ایمان "
کل سوشل میڈیا پر ایک عالم دین کی گفتگو سننے کا اتفاق ہوا . محترم سے سوال پوچھا گیا کہ
" کیا آپ کے خیال میں شیعہ مسلمان ہیں یا کافر "
کیا دلیل تھی محترم کے پاس . فرماتے ہیں کہ
"پوری دنیا کے مفتی , اہلحدیث , اہل سنت اور دیوبندی اس فتوے کے بارے میں متفق ہیں کہ شیعہ کافر ہیں , تو پھر کیا شک باقی ہے انکے کافر ہونے میں . "
گویا اگر مفتی اکٹھے ہو کر , یا مجتہد اجتہاد کر کے , یا علماء ایک ساتھ مل بیٹھ کے فتوی دے دیں کہ عشاء کی نماز اب فجر کے وقت ہوا کرے گی تو یہی طریقہ رائج کرنا اسلام ہو گا ورنہ کفر . فتوے ایک عدالتی فیصلے کی طرح ہوتے ہیں , جس میں مفتی اپنے علم و فکر کے ساتھ , اپنے عقائد کے معتبر لوگوں کی تحریروں سے اخذ کئے گئے نتائج کو فیصلے کی شکل دیتا ہے . بس یہی وہ پیچیدگی ہے جس بنا پر صرف شیعہ نہیں , بلکہ سارے مسالک کافر قرار دئے جا چکے ہیں . پھر یہی سارے ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے بیٹھ کر کسی ایک مسلک کو کلی کافر قرار دے ڈالتے ہیں . حالانکہ ایمان اور کفر کی سند صرف خالق حقیقی کی پاک اور بلیغ کتاب ہے یا پھر اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وسلم کی ذات . یہ محققین , مفسرین , مفتی , مجتہد اور علماء کو اختیار نہیں کہ وہ کسی مسلک پر حد لگا دیں کہ وہ کافر ہے .
شیعہ کیوں کافر ہیں . ان سے کیا عناد ہے . علی کرم اللہ وجہہ کی محبت , آل رسول صل اللہ علیہ وسلم سے وارفتگی کو کفر کا نام دینا , صرف ایک ضد ہے . اور یہ ضد آل معاویہ , اموی اور عباسیہ حکمرانوں کی تقلید کے سوا کچھ نہیں . ایمان اور کفر کی حدیں قران میں واضع ہیں , کوئی ابہام نہیں . لازم نہیں کہ کسی مکتب فکر کے کسی مفتی کا فتوی مانا جائے . اور کوئی بھی فتوی حد نہیں . یہ ہر کسی کا اپنا اپنا فکر اور تحقیق ہے . تحقیق کے پہلو منفی بھی ہو سکتے ہیں .
علماء کو انتشار کی سوچ کو روکنا ہو گا . مثبت فکر اپنانا ہو گی . اگر ایسا نہ ہوا تو ہمارا دین مذاق بن جائے گا . یہ مسالک کی لڑائی , کفر کی راہ ہموار کر دے گی .
آزاد ھاشمی
Wednesday, 1 November 2017
فتوے اور ایمان
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment