" ایمان اور عمل "
ایک شخص نماز باقاعدگی سے ادا کرتا ہے , روزے میں کوتاہی بھی نہیں کرتا , حج کا فرض بھی پورا کرتا ہے . مگر ان تمام فرائض کے ساتھ گناہ کبیرہ کا مرتکب بھی ہے , پیمانے میں بھی جھول مارتا ہے , یتیم کا مال بھی کھا جاتا ہے , سوال کرنے والے کو دھتکارتا بھی ہے , غیبت کا شوق بھی پورا کرتا ہے ...
ایسے شخص کے ایمان کے بارے میں کیا رائے دی جا سکتی ہے . اسکے ایمان پر کیا دلیل ہو گی . اسکی نمازیں , روزے اور حج اسکے ایمان کی مکمل دلیل ہو گی . ہر گز نہیں . اللہ نے جتنے بھی احکامات انسان پر فرض کئے , سب کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی فلسفہ تھا . اور وہ تھا انسان کی اصلاح . جب اصلاح ہی مفقود ہے تو عبادات لا حاصل ہیں . حکم ربی سے انکار عزازیل کو شیطان بنا دیتا ہے . تو گناہ کبیرہ کا ارتکاب بھی اللہ کے حکم سے انکار ہی ہے اور اطاعت سے سرکشی بھی . کیسے سوچ لیا جاتا ہے کہ گناہ کبیرہ کے ساتھ بخشش مل جائے گی .
آجکل سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا موضوع " تعظیم رسالت اور توہین رسالت " ہیں . تعظیم رسالت ہر مسلمان پر اسی طرح فرض ہے جسطرح اللہ کی وحدانیت پر ایمان . توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والوں کو شدت سے روکنا بھی ایمان کا حصہ ہے . دیکھنا یہ ہے تعظیم رسالت کا عمل ہمارے کردار سازی میں بھی شامل ہے کہ نہیں . کیونکہ محض حب رسول کے نعرے مارتے پھرنا , دیواروں پہ اشتہار لگاتے پھرنا . سوشل میڈیا پر جہاد کرتے رہنا کافی نہیں . اصل تعظیم رسول یہ ہے کہ آپ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی ہر ممکن کوشش کریں . اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وسلم , مکمل اخلاق کی تصویر ہیں . پھر مخالف عقائد اور مذاہب کو گالیاں دینا , طرح طرح کے نام دینا کونسی تعلیم ہے . اصلاح اخلاقیات کی محتاج ہوا کرتی ہے . متشدد سوچ فساد کی بنیاد بنتی ہے . اللہ کے حبیب ص کو جسطرح آزار پہنچائے گئے , اور آپ نے جس تحمل سے کفر کی نفی کی . یہی تعلیم اختیار کرنا اسوہ حسنہ کی پیروی ہے اور یہی تعظیم ہے .
ازاد ھاشمی
Wednesday, 1 November 2017
ایمان اور عمل
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment