" شرمین جی ! کیسا فخر "
جب انسان کے ذہن میں فخر سما جائے تو اکثر تکبر کی شکل اختیار کر لیتا ہے . ایمان کی خوبی سے محروم لوگوں کو جب کوئی گورا سراہ دیتا ہے تو ہم سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم دنیا کی الگ مخلوق ہیں . کتنے ہی نام اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ ارسطو اور افلاطون کے پایہ کے فلاسفر بن گئے ہیں . انہوں نے انسانیت کی خدمت کا حق ادا کر دیا ہے . کفر تو ہر اس شخص کا مداح ہے جو اسلام کے خلاف کوئی کام کرے , اسلامی اقدار کی تضحیک کرے , اپنے اجداد کا مذاق اڑائے , اپنے لوگوں کو پتھر کے زمانے کے لوگ کہے , اپنی کسمپرسی کا اشتہار پھیلائے . ایسے لوگوں کے سینوں پہ تمغے سجانے میں طاغوت ذرہ برابر دیر نہیں کرتا . ادہر ہم عقل کے اندھے , ایسے بے شرموں کو ہیرو بنا ڈالتے ہیں . میڈیا اپنی دوکان پر ان لوگوں کو سجا لیتا ہے .
ایسے فلاسفر تو طاغوت کی دوکان میں سجے ہوئے بکاو مال ہوتے ہیں . ان جسم فروش طوائفوں سے بھی بدتر جو جھروکوں میں سج دھج کر بیٹھی گاہک کا انتظار کرتی ہیں .
اس محترم خاتون نے بھی اپنے وطن کی مٹی کو رسوائی کی شکل دی , ان لوگوں کے سچے جھوٹے عیب کوٹھے پہ چڑھائے کہ بدبودار معاشرے کے لوگوں کو مزہ آگیا . بس یہی کیا نا شرمین جی نے . اپنے لوگوں سے اتنی نفرت کہ ایک فرینڈ ریکویسٹ پہ کسی گھر کا چولہا بجھا دیا . اس پر بھی ایک فلم بناو تو مانیں . کاش اپنی بہن کو سمجھایا ہوتا کہ سوشل میڈیا پہ سج دھج کے بیٹھو گی تو کوئی بھی سیٹی مارے بجائے گا . ناراضگی کیسی , سیٹی پہ غور مت کرو . بہن سے یہ بھی پوچھ لو کہ صرف ایک ہی ریکویسٹ تھی یا اور بھی ہیں . سب کے چولہے بجھا دو . ایک تمغہ اور سجا لو .
ازاد ھاشمی
Wednesday, 1 November 2017
شرمین جی ! کیسا فخر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment