Wednesday, 1 November 2017

حل کیا ہے

" حل کیا ہے "
الجھن یہ ہے کہ یہ لوٹ مار  , کرپشن کا رحجان اور قیادت کا بحران کیسے حل ہو . اسکا حل کیوں سمجھ نہیں آ رہا . بڑے بڑے لیڈر بھی آئے , فوجی جرنیل بھی زور لگا چکے . نہ وطن میں بہتری آئی نہ غریب کے دن سدھرے . نہ ظالم کا ہاتھ رکا اور نہ مظلوم کی داد رسی ہوئی . جن پہ غداری کے الزام لگے وہ میدان میں اسی طرح کلکاریاں بھر ہے ہیں . عوام روز بروز سیاسی شعور کے نام پر سڑکوں پہ آتے رہے , مگر برادری سسٹم نہ توڑ سکے . سیاست پیشہ بن گئی , اقتدار تجارت ہو گیا . آرڈر آرڈر کے ہتھوڑے چلانے والے قاضی بدمعاشوں کی غلامی کرنے لگے . ملا نے الگ الگ دکانیں سجا لیں . سکھ اور چین کا سندیسہ روایت بن کر رہ گیا . جمہوریت کی دیوی نے مسلمانوں کے دلوں پر راج کر لیا .
حل کیا ہے .
یہ سوال وہ کرنے لگے , دانشوری جن کی باندی ہوا کرتی تھی . بہت آسان حل ہے , مگر سوچنے والوں کے لئے , فکر والوں کیلئے اور حقیقت میں حل ڈھونڈھنے والوں کیلئے . وہ حل ہے . کائنات کے خالق کا قانون اور کائنات کے سرور کا راستہ . جسے ملا نے ابہام کا شکار کر رکھا ہے .
قران کے فیصلے , رسول صل اللہ علیہ وسلم کا طریق .
دستور قران اور قائد آقا و ملجا .
مجال نہیں کہ برائی جڑ پکڑ سکے .
اب سوال یہ ہے کہ کون ہے جو اس طریق کے علاوہ ہر طریق سے بغاوت کرے . کون ہے جو اپنی سوچ کا احتساب کرے . کون ہے جو اس عمل کو اپنا لے . بس یہی واحد حل ہے .
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment