Wednesday, 1 November 2017

ایک رائے

" ایک رائے  "
پاکستانی وہ قوم , جو ستر فیصد ٹیکس ادا کرتی ہے . مگر اڑھائی فیصد زکوات نہیں دیتی . یوں اسلام کے پرچاری , بڑی بڑی علمی سندوں والے علماء اور مفتی , مسالک کیلئے جہاد کرتے دکھائی دیتے نظر آتے ہیں . مگر مجال کوئی بولے کہ زکوات بھی اسی طرح فرض ہے , جسطرح اسلام کے دوسرے ارکان . معیشت پر توجہ دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا دیگر مذہبی معاملات پر . کوئی ایک مسلک آواز اٹھانے کی جرات نہیں کرتا کہ ہم مسلمان ہیں , ہم اسلامی طرز معیشت کے مطابق حکومت کو ادائیگیاں کریں گے . پاکستان پر سڑسٹھ ارب ڈالر قرض ہے , جس پر سود کے ضمن میں ڈیڑھ ارب ڈالر ادا کرنا پڑتا ہے . اگر زکوات کا عمل نافذ ہو تو زرداری اور نواز شریف سے یہ سود ادا ہو جاتا ہے . اس قرض کو ایک سال میں ادا کر دیا جاتا ہے , اگر تمام پاکستانیوں سے اسلامی طریقے سے زکوات لی جائے . میں تو اکنامکس نہیں جانتا , جو اکنامکس جانتے ہیں , اسکی چھان پھٹک کر کے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں . زمیندار سے عشر لیا جائے تو سیاست کے کتنے شوقین جاگیر دار اربوں روپے کا عشر دیں گے جو اسوقت ایک کوڑی ٹیکس نہیں دیتے . اس سے فصلوں کی پیداوار میں اللہ برکت بھی ڈالے گا اور ہم خوراک میں خود کفیل بھی ہو جائیں گے . مولویوں کی جائیدادیں بھی زکوات کے عمل میں آ جائیں گی اور جو صرف چندہ اکٹھا کرنے کو دین , چندہ دینے والے کو جنت کی ضمانت دیتے ہیں . خود بھی جنت میں گھر بنا لیں گے .
ہمیں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کا حصہ بننے کی بجائے اسلامی اقدار کی آواز بلند کرنی چاہئے . اللہ بھی راضی اور ہم بھی خوش رہیں گے .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment