Saturday, 15 September 2018

یزید کی موت پہ اختلاف کیوں

" یزید کی موت پہ اختلاف کیوں "
یزید کی موت کے بارے میں تین روایات ہیں ۔
١- کہ وہ بندر کے ساتھ کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گرا اور اسکی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔ اس سے اسکے حلق سے جو آواز نکلتی تھی وہ خنزیر کی آواز سے مشابہ تھی ۔
٢- کہ اسے پیٹ کا موذی مرض لگا ، جس سے اسکی آنتیں گل سڑ گئیں ، پیٹ میں کیڑے پڑ گئے اور اسے پیاس لگتی تو زخموں میں شدت سے چبھن ہوتی اور اگر پانی پی لیتا تو بستر پر تڑپنے لگتا ۔ چبھن مزید شدید ہو جاتی تو چیخنے لگتا۔
٣ ۔ کہ اسکا کسی رومن عورت پر دل آگیا تھا ، وہ عورت اسے ناپسند کرتی تھی ، موقع پا کر اسے تنہائی میں ملنے گیا اس نے زہر آلود خنجر سے حملہ کیا تو زہر کیوجہ سے جسم سڑنے لگا اور اسی سے یزید کی موت ہوئی ۔ 
  سوال یہ ہے کہ یزید کی موت پہ اختلاف کیوں ہے یعنی موت کی ذیادہ روایات کیوں ہیں ؟
ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ بحیثیت خلیفہ شاہی طریقے سے تدفین ہوتی ، کیونکہ یہی شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ انکی منشاء تھی ۔ یزید کی حکومت میں کوئی اسلامی طرز حکومت نہیں تھا ، قیصر و کسریٰ کا طرز اور بود و باش تھی ۔ پھر ایسا کیوں  ہوا اور اسے دارلحکومت میں دفن کی بجائے اس جگہ دفن کیا گیا جہاں اسکے ننھیال کا علاقہ تھا اور جو مضافات میں تھا ۔ موت کی تینوں روایات غضب الہیٰ کی نشاندہی کرتی ہیں ۔ بنو امیہ نہیں چاہتے تھے کہ اسکی بے بسی کا عالم عام مسلمانوں کی نظر سے گذرے اسلئیے اسے دارلحکومت سے نکال کر مضافات میں رکھا گیا ۔ یزید جس عذاب سے گذر رہا تھا ، تینوں اموات میں انتہائی دردناک ہے ۔ روایت یہ بھی ہے کہ جب وہ درد کی شدت سے چیختا تھا تو اسکی آواز خنزیر کیطرح سنائی دیتی تھی ۔
بنو امیہ نے نہ صرف تاریخ کی تحریف کی بلکہ آج جو احادیث یزید کو جنتی ثابت کرنے کیلئے پیش کی جاتی ہیں ، یہ بھی اموی دور کی ہیں ۔  اسلام پر تحقیقی اور تخریبی مواد بھی اسی دور میں اکٹھا کیا گیا ۔ آل رسولؐ سے تعلق رکھنے والے امام بھی عتاب کا شکار اسی دور میں رہے اور ان تمام کو شہید بھی اسی لئے کیا گیا کہ بنو امیہ کی منشاء کے مطابق فقہ و فلسفہ دین کا رخ موڑا جا سکے ۔ موت کی یہ روایات جو ہم تک پہنچی ہیں ، اتفاق ہے کہ آج تک  یزید کے حامی کوئی ایسی روایت نہیں بنا سکے جس میں ثابت کر سکیں کہ یزید سکون کی موت مرا ۔  ایسی روایت نہ بننے کی وجہ یہ  سوال بھی ہے کہ اگر یزید سکون کی موت مرا تو اسے " حوارین " میں دفن کیوں کیا گیا ۔ ایک گمنام کونے میں قبر کیوں بنائی گئی ۔
یہ اسکے جرم کی سزا تھی جو اللہ نے اسکے لئے مقرر کی تھی ۔ تاریخ گواہ ہے کہ صرف یزید ہی نہیں ، وہ تمام لوگ جنہوں نے کربلا میں ظلم کئے ، اسی طرح ذلت کی موت مرے اور آج کونوں کھدروں میں دفن ہیں ۔ کسی کا نشان معتبر نہیں ۔
آزاد ھاشمی
١٥ ستمبر ٢٠١٨

Friday, 14 September 2018

یزید کے لٹیرے

" یزید کے لٹیرے "
اسلام امن و آشتی کا پیامبر دین ، اپنے دفاع یا دین کے دفاع میں لڑی جانے والی جنگوں میں بھی ،  فتوحہ علاقوں اور شکست خوردہ دشمن سے بھی ہر ممکن بھلائی کے سلوک کا درس دیتا ہے ۔ آپؐ کی زندگی میں مشرکین اور کفار کے ساتھ بیشمار غزوات اور سرایہ ہوئے ، ان لوگوں سے ہوئے جو بد ترین طریقے سے آپؐ کو آزار پہنچاتے رہے ، آپؐ  نے در گذر کی ایک ایسی مثال قائم کی ، جو اسلامی تعلیمات کو ہر دوسرے مذہب پر ممتاز کرتی ہے ۔ کربلا کو جنگ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ جنگ لڑائی کے متوازن ارادوں کا نام ہے ۔  یہ یکطرفہ جارحیت تھی ، جبر تھا جو یزید اپنے کینہ اور عداوت اور حکمرانی کے استحکام کیلئے کر رہا تھا ۔
امام حسینؑ کی شہادت کے بعد
یزید کی فوج نے شہدا کربلا کے جسموں کی جس طرح توہین کی وہ رزالت کی انتہا تھی ۔ یزیدی یہ سب اس آل سے کر رہے تھے ، جس کے نانا کا کلمہ پڑھتے تھے ۔ جن پر نماز میں درود بھیجتے تھے ۔
کم ظرفی کی انتہا اسوقت ہوئی ، جب انہوں نے اس لٹے ہوئے قافلہ کی ہر چیز لوٹنا شروع کی ۔
حتی کہ امامؑ کے مبارک  پر موجود ہر چیز لوٹ کر لے گئے؛ قیس بن اشعث اور بحر بن کعب نے آپ کی قمیض ، اسود بن خالد اودی نے آپ کے نعلین‌، جمیع بن خلق اودی نے آپ کی تلوار ، اخنس بن مرثد نے آپ کا عمامہ، بجدل بن سلیم نے آپ کی انگوٹھی اور عمر بن سعد نے آپ کا زرہ بھی لوٹ لیا ۔ اس بات کا بھی احترام نہیں کیا کہ آپ کا مبارک جسم ننگا ہو جائے ، اتنا بھی نہیں سوچا کہ بے کفن جسم پر قمیض تو رہنے دی جاتی ۔
اس کے بعد ملعونوں  نے خیموں پر حملہ کیا اور ان میں موجود تمام سامان لوٹ لیا اور اس کام میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے رہے۔ شمر امام سجادؑ کو قتل کرنے کی خاطر دشمن کے ایک گروہ کے ساتھ خیموں میں داخل ہوا لیکن حضرت زینبؑ اس کام میں رکاوٹ بنیں۔ خیموں میں تھا ہی کیا ۔ زر و زیور اس آل کی تمنا ہی نہیں تھی ۔ چٹائیوں پر سونے والوں کی اولاد تو زمین پر سو رہی تھی ۔ چادریں بچی تھیں ، یزید کے لٹیروں نے بیبیوں کے سروں سے وہ بھی چھین لیں ۔
آزاد ھاشمی
١٣ ستمبر ٢٠١٨

یزید کی موت اور مدفن

" یزید کی موت اور مدفن "
کربلا میں جو ہوا ، اس پر نہ تاریخ میں اختلاف ہے ، نہ حقائق میں تضاد  ۔ وہ جن کو آل رسولؐ سے زیادہ آل امیہ سے محبت ہے ، وہ جو بغض علیؑ اور حب معاویہ سے سرشار ہیں اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے ، کہ کربلا میں آل رسولؐ اور انکے ساتھیوں پر پانی بند کیا گیا ۔ امام حسینؑ اور ساتھیوں کے جسموں کو گھوڑوں کے قدموں سے پامال کیا گیا ۔ پردہ دار بیبیوں کی چادریں چھینی گئیں ۔ سینکڑوں میل کی مسافت اس آل رسولؐ کو رسیوں میں باندھ کر ہر شہر کے ہر بازار میں تماشا کیا گیا ۔ قرآن کی رو سے یہ فسق ہے اور فاسق پر جنت کے دروازے بند ہیں ۔ یزید کے جنتی ہونے کا جو بھی جتن کر لیا جائے اللہ کے طے کردہ قانون سے اسکے فسق کی نفی نہیں کی جا سکتی ۔
یزید کی موت کیسے ہوئی ، وہ کہاں دفن ہے؟ وہ امیر المومنین کہلاتا تھا ، اس شہر میں دفن کیوں نہ ہوا ، جہاں اسکا تخت حکومت تھا ؟ یہ وہ چند سوال ہیں جو اسی دنیا میں اسکے مکافات عمل کی نشاندہی کرتے ہیں ۔  تاریخ میں اسکے مرنے کی ایک وجہ یہ بیان ہوتی ہے کہ وہ کسی پیٹ کے مرض کا شکار ہوا ۔ پانی پیتا تو شدید تکلیف محسوس کرتا نہ پیتا تو بھی تکلیف میں ہوتا ۔ مرتے وقت اسکی حالت یہ تھی کہ اس سے ناگوار بدبو آتی تھی ۔
دوسری روایت یہ ہے کہ اسکے پالتو بندر نے اس خچر کو برانگیختہ کر دیا جس پر بندر سواری کرتا تھا ، یزید نے خچر کو قابو کرنا چاہا اور اپنے گھوڑے سے گر گیا ، جس سے اسکی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور حوارین میں اسی تکلیف میں مر گیا ۔
حوارین میں کیوں دفن کیا گیا ، یہ اسکی مجبوری تھی کہ اس کی کربناک موت عام لوگوں سے چھپی رہے ۔
آج کتنے لوگ جانتے ہیں کہ یزید کی قبر کس حال میں ہے اور اس کی شہنشاہت کا انجام کیا ہوا ۔ اسکے اپنے بیٹے نے  موت سے پہلے جب یزید نے اسے تخت خلافت دینا چاہا تو اس نے انکار کر دیا ۔ یزید اس کرب سے تڑپنے لگا کہ بستر مرگ پر چیختا جاتا اور ایڑیاں رگڑتا جاتا ۔
یزید کی عمر اڑتیس یا انتالیس سال تھی جب اسے کربناک موت نے دبوچ  لیا ۔
آزاد ھاشمی
١٤ ستمبر ٢٠١٨

شمر بن جوشن

"شمر بن ذی الجوشن "
امام حسینؑ کی شہادت کی عظمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جن لوگوں نے  بھی آپ پر ستم ڈھائے تاریخ کے اعتبار سے انکی نسل میں کوئی نہ کوئی نقص ضرور تھا ۔ اکثریت وہ تھی جن کے اجداد فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے ۔
شَمِر، کی کنیت "ابو سابغہ" تھی۔ تابعین میں سے تھا اور قبیلہ ہوازن کی شاخ بنو عامر بن صعصعہ کے رؤساء میں شمار ہوتا تھا اور ضباب بن کلاب کی نسل سے تھا۔ بظاہر شمر ایک عبرانی لفظ ہے جس کی معنے افسانہ سرا، شب نشینی میں مصاحب  ہے۔   (ہم ہمارے ہاں کے مروجہ القاب میں " بھانڈ اور بھڑوا کہہ سکتے ہیں ۔ )
شمر کا باپ  "جوشن بن ربیعہ" تھا۔ ذوالجوشن نے اسلام قبول کرنے کے سلسلے میں رسولؐ اللہ کی دعوت کو وقعت نہ دی لیکن فتح مکہ میں جب مسلمان مشرکین پر فتح مند ہوئے تو اس نے (بہت سے دوسروں کی مانند) اسلام قبول کیا۔ شمر کی ماں کا کردار معیوب تھا ۔
اسی نے مسلم بن عقیل کی شہادت کے اسباب مہیا کیے، عاشورہ کے دن جنگ کی آگ بھڑکا دی، عمر بن سعد کے میسرے کا امیر تھا، امام حسین کو اسی نے شہید کیا، خیام پر حملہ کیا اور امام سجاد کو شہید کرنے کی کوشش کی۔
یہ تھا ایک کردار ، جو یزید کی فوج کے ہراول دستوں میں شامل تھا ۔
آزاد ھاشمی
١٤ ستمبر ٢٠١٨

Thursday, 13 September 2018

کلونجی

اصلی کلونجی کی پہچان

کلونجی انتہائ مفید دوا ہے اور بے شمار نسخوں میں استعمال ہوتی ہے. لیکن کیا کیجئے کے ظالموں نے اس مفید دوا کی جگہ بھی دو نمبر اشیا فروخت کرنا شروع کر دی ہیں جس کی وجہ سے نسخے یا دوا سے فائدہ نہیں ہوتا۔ اصلی کلونجی کی پہچان یہ ہے کہ اس کا دانہ نیچے سے موٹا اور اوپر سے پتلا ہوتا ہے۔ تین کونے ہوتے ہیں، رنگ سیاہ ہوتا ہے اور بازار میں پیاز کے بیج کلونجی کے بجائے لوگ فروخت کرتے ہیں، دیکھ کر کلونجی خریدئیے۔سب سے اہم شناخت یہ ہے کہ کلونجی کے بیج کے تین کونے ہوتے ہیں جبکہ تخم پیاز کا سرا قدرے گول ہوتا ہے۔
پیاز کے تخم شکل میں تکونے سے ہوتے ہیں۔رنگت سیاہ اور مزہ تلخ ہوتا ہے۔
بعض لوگ اس کو کلونجی سمجھ لیتے ہیں۔ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ کلونجی کا بیج چھوٹا ہلکا اور پھیکا ہوتا ہے۔جبکہ تخم پیاز موٹا وزنی اور تلخ ہوتا ہے۔
کلونجی ایک قسم کی گھاس کا بیج ہے۔ اس کا پودا سونف سے مشابہ، خود رو اور تقریباََ سَوا فٹ بلند ہوتا ہے۔کلونجی کی فصل حاصل کرنے کے لئے اس کی باقاعدہ کاشت کی جاتی ہے۔ اس کے پھول زردی مائل، بیجوں کا رنگ سیاہ اور شکل پیاز کے بیجوں سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ انہیں پیاز کا بیج سمجھتے ہیں۔ اصلی کلونجی کی پہچان یہ ہے کہ اگر اسے سفید کاغذ میں لپیٹ کر رکھیں تو اس پر چکنائی کے داغ لگ جاتے ہیں۔ہر شاخ کے اوپر سیاہ دانے داربیج ہوتے ہیں۔ اسی بیج کے حصول کے لئے بھارت، بنگلہ دیش، ترکی، وغیرہ میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ کلونجی کے ان بیجوں کی خصوصی مہک ہوتی ہے۔ اسے ادویات کے علاوہ کھانے اور اچار وغیرہ میں بھی
استعمال کیا جاتا ہے

حضرت ابو ہریرہ ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کلونجی میں موت کے سواہر مرض کا علاج ہے (بخاری، ابن ماجہ، مسند احمد) آپ خود بھی کلونجی کو شہد کے شربت کے ساتھ ملا کر استعمال کیا کرتے تھے۔ قدیم اطباءکلونجی اور اس کے بیجوں کے استعمال سے خوب واقف تھے۔ وہ کلونجی کے بیج کو معدے اور پیٹ کے امراض مثلاََ ریاح، گیس کا ہونا، آنتوں کا درد، نسیان، رعشہ، دماغی کمزوری، فالج اور افزائش دودھ کے لئے استعمال کراتے تھے۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کلونجی میں موت کے سواہر مرض کا علاج ہے (بخاری، ابن ماجہ، مسند احمد) آپ خود بھی کلونجی کو شہد کے شربت کے ساتھ ملا کر استعمال کیا کرتے تھے۔ قدیم اطباءکلونجی اور اس کے بیجوں کے استعمال سے خوب واقف تھے۔ وہ کلونجی کے بیج کو معدے اور پیٹ کے امراض مثلاََ ریاح، گیس کا ہونا، آنتوں کا درد، نسیان، رعشہ، دماغی کمزوری، فالج اور افزائش دودھ کے لئے استعمال کراتے تھے۔
کلونجی ایک قسم کی گھاس کا بیج ہے۔ اس کا پودا سونف سے مشابہ، خود رو اور تقریباََ سَوا فٹ بلند ہوتا ہے۔کلونجی کی فصل حاصل کرنے کے لئے اس کی باقاعدہ کاشت کی جاتی ہے۔ اس کے پھول زردی مائل، بیجوں کا رنگ سیاہ اور شکل پیاز کے بیجوں سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ انہیں پیاز کا بیج سمجھتے ہیں۔ اصلی کلونجی کی پہچان یہ ہے کہ اگر اسے سفید کاغذ میں لپیٹ کر رکھیں تو اس پر چکنائی کے داغ لگ جاتے ہیں۔ہر شاخ کے اوپر سیاہ دانے داربیج ہوتے ہیں۔ اسی بیج کے حصول کے لئے بھارت، بنگلہ دیش، ترکی، وغیرہ میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ کلونجی کے ان بیجوں کی خصوصی مہک ہوتی ہے۔ اسے ادویات کے علاوہ کھانے اور اچار وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
شعبہ طب میں اسے مصفی دوائی کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔کلونجی کے بیجوں میں فاسفورس، فولاد، اور کاربو ہائڈریٹ کے مرکبات شامل ہوتے ہیں۔کلونجی کی کیمیاوی تجزیے سے معلوم ہو ا اس میں پیلے رنگ کا مادہ کیروٹین پایا جاتا ہے جو جگر میں پہنچ کر وٹامن اے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ان کے علاوہ بھی بہت سے ایسے مرکبات کلونجی میں پائے جاتے ہیں، جو نظام انہظام کے لےے مفید ہیں۔یہ بولی امرض کو دور کرتا ہے۔یہ جسم کی قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے علاوہ ہر قسم کے امراض کے علاج میں معاون ہے۔ کلونجی کے تیل میں ساٹھ فیصد لینو لیٹک ترشہ (Linoletic Acid) اور تقریباََ ۱۲ فیصد Lipase کیمیاوی مادہ پایا جاتا ہے۔ یہ گرم درجہ حرارت میں جسم کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کلونجی میں پائے جانے والے خصوصی مادے Saponin Vlatile Oil اورNigelline پائے جاتے ہیں جو مختلف بولی امراض میںکارگر ہوتے ہیں۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کلونجی کو اپنی غذا میں شامل کرو کہ یہ موت کے سوا تمام امراض کے علاج کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مختلف امراض میں کلونجی کے تیل کی استعمال کی ترکیب حسب ذیل ہے۔
دمہ، کھانسی اور الرجی: ان امراض سے نجات کے لئے ایک کپ گرم پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل چالیس روز تک استعمال کریں۔ سرد اشیاءکھانے سے پرہیز کریں۔
ذیابطیس (شوگر) : ایک کپ قہوہ (کالی چائے)نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔روغنی خوراک بالخصوص تلی ہوئی اشیا کھانے سے پرہیز کریں۔اگر ذیابطیس کے لئے پہلے سے کوئی دوائی کھا رہے ہوں تو اسے جاری رکھیں۔ البتہ بیس روز بعد خون میں شوگر کا لیول چیک کروائیں۔ اگر معمول کے مطابق پائیں تو ادویہ کا استعمال بند کرکے اس نسخہ کو چالیس روز تک جاری رکھیں۔ مکمل شفا کے بعد نسخہ کا استعمال بند کردیں۔
دل کادورہ : ایک کپ گرم پانی میں ایک چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دوبار دس دن تک استعمال کریں۔ دس دن کے بعد مزید دس دن یومیہ ایک مرتبہ استعمال کریں۔
پولیو اور لقوہ : ایک کپ گرم پانی میں ایک چمچہ شہد، نصف چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دوبار استعمال کریں۔ بچوںکو گرم پانی میں دو چمچے دودھ اور تین قطرے کلونجی کا تیل ملا کر دن میں تین مرتبہ پلائیں۔ علاج۴۰ دن تک جاری رکھیں۔
جوڑوں کا درد: ایک چمچہ سرکہ، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچہ شہد ملا کر صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل استعمال کریں۔
بد ہضمی، گیس، پیٹ کا درد: ایک چمچہ سرکہ میںنصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دوبار پئیں۔ موٹاپا دور کر نے کے لئے بھی یہی نسخہ کا آمد ہے۔
آنکھوں کے امراض: آنکھوں کا سرخ ہونا، پانی بہنا، کمزوری بصارت وغیرہ کی صورت میںایک کپ گاجر کے عرق میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پئیں۔ یہ علاج چالیس روز تک جاری رکھیں، اچار اور بینگن سے پرہیز کریں۔
امراض مستورات (لیکوریا، پیٹ میں درد، کمر درد) : دو گلاس پانی میں دس گرام پودینے کے پتے ابال لیں۔ پانی الگ کر کے اس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج چالیس روز تک جاری رکھیں، اچار ، بیگن، انڈے اور مچھلی سے پرہیز کریں۔ اگر معمول سے زائد عرصہ تک ماہواری رُک جائے توایک کپ گرم پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچہ شہد ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔علاج ایک ماہ تک جاری رکھیں۔ آلو، بینگن سے پرہیز کریں۔
یادداشت میں کمی : یاد داشت میں اضافہ کے لئے ایک کپ پانی میں دس گرام پودینے کے پتے ابال لیں۔ اس پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دوبار پئیں۔ یہ علاج بیس روز تک جاری رکھیں۔
دردہ گردہ : 250 گرام کلونجی کے بیج کو پیس کر ایک کپ شہد میں اچھی طرح ملا لیں۔ دو چمچہ اس آمیزہ کونصف پیالی پانی میں ملا کر اس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں ایک بار پئیں۔علاج کو بیس روز تک جاری رکھیں۔:
عام جسمانی کمزوری : نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل میں ایک چمچہ شہد ملا کر دن میں ایک مرتبہ استعمال کرنے سے عام کمزوری اور اس کا باعث بننے والے دیگر امراض دور ہوجاتے ہیں۔
دردِ سر: پیشانی اورکانوں کے قریب کلونجی تیل سے مالش کے علاوہ نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل دن میں دو بار پئیں۔
بلند فشار خون : گرم چائے یا کافی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ڈال کر دن میں دوبار استعمال کریں۔ اسی کے ساتھ روزانہ دو جوے لہسن بھی استعمال کریں۔
بالو ںکا گرنا : نیبو کے عرق سے سر کی اچھی طرح مالش کریں۔۱۵ منٹ کے بعد بالوں کو شیمپو سے دھو کراچھی طرح خشک کریں۔ پھر پورے سر پر کلونجی کے تیل کی مالش کریں۔ ایک ہفتہ تک روزانہ کے علاج سے بالوں کا گرنا بند ہوجاتا ہے
عام بخار: آدھے کپ پانی میں نصف چمچہ نیمبو کا عرق اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دوبار پئیں۔بخار اترنے تک یہ نسخہ جاری رکھیں اور چاولوں سے پرہیز کریں۔
گردے میں پتھری : ایک پیالی گرم پانی میں دو چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دوبار صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل پئیں۔ ٹماٹر اور پالک اور لیمن سے پرہیز کریں۔
کانوں میں درد، پیپ کا بہنا ،سماعت میں کمی: کلونجی کے تیل کو گرم کرکے ٹھنڈا کر لیں۔ متاثرہ کان میں دو قطرے ڈالیں۔
دانتوں کے امراض: دانتوں کی کمزوری، دانتوں سے خون نکلنے، ناگوار بو آنے یا مسوڑھوں کے سوج جانے کی صورت میںایک پیالی دہی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کرصبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل کھا لیں۔
کثرتِ احتلام: مردوں میں کثرت احتلام کی صورت میں ایک پیالی سیب کے جوس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج ۱۲ روز تک جاری رکھیں اور گرم مسالہ والے کھانوں سے پرہیز کریں
خون کی کمی (انیمیا) : پودینہ کے پتوں کی ایک شاخ کو پانی میں اُبال کر ایک پیالی جوس بنائیں۔ نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل پئیں۔ یہ نسخہ ۱۲دن تک استعمال کریں۔
یرقان (پیلیا) : ایک پیالی دودھ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل ایک ہفتہ تک پئیں۔
کھانسی: ایک پیالی گرم پانی میں دو چمچے شہد اورنصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات کھانے کے بعد استعمال کریں۔علاج دو ہفتہ تک جاری رکھیں، ٹھنڈی چیزوں سے پرہیز کریں۔
حملہ قلب (ہارٹ اٹیک) : دل کے والو کی بندش، سانس لینے میں دقت، ٹھنڈا پسینہ اور دل پر دباؤ کی صورت میں ایک پیالی بکری کا دودھ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے سے قبل استعمال کریں۔ یہ علاج۱۲ دن تک جاری رکھیں۔
زچگی: بچہ کی پیدائش کے بعد ذہنی کمزوری، تھکاوٹ اور اخراجِ خون جیسے امراض میں ایک پیالی کھیرے کے جوس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے سے قبل استعمال کریں۔ یہ علاج ۴۰ دن تک جاری رکھیں۔
پیٹ میں کیڑے: ایک چمچہ سرکہ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں تین بار صبح ناشتہ سے قبل ، دوپہراور رات میں استعمال کریں۔ یہ علاج ۱۰دن تک جاری رکھیں۔
جوڑوں کا درد: ایک چمچہ سرکہ اور دو چمچہ شہد میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار استعمال کریں۔ جوڑوں کی تِل کے تیل سے مالش بھی کریں۔۱۲ دن تک گیس آور خوراک سے پرہیز کریں۔
جسمانی صحت: صحت کو برقرار رکھنے کے لئے ایک کلو گرام گندم کے آٹے میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر روٹی بنائیں اور کھائیں۔ ان شاءاللہ صحت برقرار رہے گی۔
چہرہ اور جلد کی شادابی کے لئے: دو بڑے چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور نصف چائے کا چمچہ زیتون کا تیل اچھی طرح ملاکر صبح اور شام چہرہ پر۰۴ دن تک لگائیں۔
بواسیر: ایک چمچہ سرکہ اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملاکر بواسیر کی جگہ پر دن میں دوبار لگائیں۔
ماہواری میں بے ترتیبی: ایک چمچہ شہد اور نصف چمچہ کلونجی کا تیل ملاکر صبح ناشتہ سے قبل اور رات میں دو ہفتہ تک پئیں۔
بے خوابی: آرام دہ نیند کے لئے رات کھانے کے بعدنصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ایک چمچہ شہد میں ملا کر پئیں۔
سستی : چست رہنے کےلئے روزانہ صبح ناشتہ سے قبل نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل دو چمچہ شہد کے ساتھ استعمال کریں۔
شیرِمادر: ماں کے دودھ میں اضا فہ کے لئے ایک پیالی دودھ میں دو قطرے کلونجی تیل ڈال کرصبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے پیشتر پئیں۔
درد معددہ : ہر قسم کے دردہ معدہ کو رفع کرنے کے لئے میٹھے سنگترہ کے ایک گلاس جوس میں دو چمچہ شہد اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دوبار پئیں۔
جوڑوں کے درد، کمر درد، گردن میں درد: دو عدد خشک انجیرکھا کر ایک پیالی دودھ میں چار قطرے کلونجی کا تیل ڈال کر پئیں اور اس کے بعد دو گھنٹہ تک کچھ نہ کھائیں۔ یہ علاج دو ماہ تک جاری رکھیں ۔آلو اور ٹماٹر سے پرہیز کریں۔
رحم کے مسائل: بچہ دانی کے مختلف امراض میں نصف گڈی پودینہ کا عرق، ۲ چمچہ مصری کا سفوف میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اچھی طرح ملاکر صبح ناشتہ سے قبل استعمال کریں۔ علاج ۴۰ دن تک جاری رکھیں۔
دانتوں میں درد: سوتے وقت روئی کے پھاہے کو کلونجی کے تیل میں گیلا کرکے متاثرہ حصہ میں رکھ دیں۔
کانوں کی تکالیف کے لئے: ایک چائے کے چمچہ کلونجی کے تیل کو ایک بڑے چمچ زیتون کے تیل میں ملا کر اچھی طرح گرم کر لیں۔ پھر ٹھنڈا کرکے سوتے وقت اس کے دو تین قطرے کامنوں میں ڈال لیں۔ فوری افاقہ ہوگا۔
جگر و معدہ کے امراض: دو سَو گرام شہد میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اچھی طرح ملاکر اس آمیزہ کا نصف صبح ناشتہ سے قبل اور نصف شام میں استعمال کریں۔ ایک ماہ تک اس نسخہ کو استعمال کریں اور ترش اشیاءسے پرہیز کریں۔
مٹاپا: نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل میں دو چمچہ شہد نیم گرم پانی میں حل کرکے دن میں دوبار پئیں چاول سے پرہیز کریں
ہکلانا، تتلانا : نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچے شہد اچھی طرح ملاکر اسے زبان کے اوپر دن میں دوبار رکھیں۔
خشکی: دس گرام کلونجی کا تیل، تیس گرام زیتون کا تیل اور تیس گرام منہدی سفوف کو اچھی طرح ملاکر تھوڑا سا گرم کریں۔ ٹھندا ہونے پر اسے بالوں کی جڑوں میں لگائیں۔

( تحریر: یوسف ثانی ، بشکریہ ماہنامہ اردو ڈائجسٹ لاہور، غذائیات نمبر،مئی2011ء )